بدھ, نومبر 4, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
جہازی میڈیا۔۔۔ نظریوں کا نیٹ ورک
  • ہوم
  • جمعیت علمائے ہند
  • اسلامیات
  • زبان و ادب
  • متفرق مضامین
    • All
    • جاوید اختر بھارتی
    • دیگر مضامین
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
     آل انڈیا مسلم پرسنل لائ بورڈ کے پہلے اجلاس کی کارروائی رپورٹ

     آل انڈیا مسلم پرسنل لائ بورڈ کے پہلے اجلاس کی کارروائی رپورٹ

    قاضی سید کمال الدین ثانی رح: جن کی نسبت سے صاحب پور کمال آباد ہے

    قاضی سید کمال الدین ثانی رح: جن کی نسبت سے صاحب پور کمال آباد ہے

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    ملک میں مہنگائی اور بے روزگاری کے اچھے دن!

    طریقہ تعلیم پر اہل حدیث عالم کا نظریہ

    متحدہ قومیت پر اہل حدیث عالم مولانا عبد الوہاب آروی کا نظریہ

    اجلاس اور تجاویز

    محمد یاسین جہازی

    مسئلہ آسام اور جمعیت علمائے ہند

    وندے ماترم کی مخالفت پر ماتم کا مقصد

    بھارت میں فرقہ وارانہ اتحاد و انتشار کی راہ

    راشٹرواد(01)

    راشٹرواد

    راشٹرواد(01)

    راشٹرواد (15)۔ جہازی فارمولے

    Trending Tags

    • Golden Globes
    • Mr. Robot
    • MotoGP 2017
    • Climate Change
    • Flat Earth
  • اہم خبریں
    • All
    • اتر پردیش
    • دہلی
    • دیگر ریاستیں
    IMG-20261019-WA0106

    مدرسہ دارالعلوم انوارِ صحابہ، مکتاپور، چندن کیاری، بوکارو: ایک مختصر تعارف اور یادگار حاضری

    جمعیت علمائے ہند کے 106سال مکمل، تاسیس کی مستند کہانی

    جمعیت کے اعلامیہ کاظلم کے آگے نہ جھکنے کا اعلان

     آل انڈیا مسلم پرسنل لائ بورڈ کے پہلے اجلاس کی کارروائی رپورٹ

    ریس کورس مسجد کو انہدامی نوٹس غیر قانونی اور غیر دستوری ہے: آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈبی جے پی حکومتوں کے دور میں مساجد اور مدارس کو نشانہ بنانے کی کارروائیاں انتہائی تشویشناک ہیں

    آل انڈیا مسلم پرسنل لائ بورڈ کے پہلے اجلاس کی کارروائی رپورٹ

    وہی تنظیم قائم رہتی ہے، جو وقت کے ساتھ ہم آہنگ ہوتی ہے

    تو ہم کہہ دیں گے کہ یہ ملک ہندو اسٹیٹ بن گیا ہے

    تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ کے خلاصے سے اہم اقتباسات

    راشٹرواد(01)

    راشٹرواد (14)۔ ملک دو راہے پر آگے کا راستہ کیا؟

    شیخ محمد محسن تِرہُتی رح اور ان کی تصنیف الیانع الجنى فی اسانید الشیخ عبد الغنی (تاریخ، تعارف اور تجزیہ)

    شیخ محمد محسن تِرہُتی رح اور ان کی تصنیف الیانع الجنى فی اسانید الشیخ عبد الغنی (تاریخ، تعارف اور تجزیہ)

  • ترجمہ و تفسیر قرآن کریم

    تھورنا ڈائک(Edward Thorndike)  کا قانون تعلیم

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    Trending Tags

    • Sillicon Valley
    • Climate Change
    • Election Results
    • Flat Earth
    • Golden Globes
    • MotoGP 2017
    • Mr. Robot
  • ہوم
  • جمعیت علمائے ہند
  • اسلامیات
  • زبان و ادب
  • متفرق مضامین
    • All
    • جاوید اختر بھارتی
    • دیگر مضامین
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
     آل انڈیا مسلم پرسنل لائ بورڈ کے پہلے اجلاس کی کارروائی رپورٹ

     آل انڈیا مسلم پرسنل لائ بورڈ کے پہلے اجلاس کی کارروائی رپورٹ

    قاضی سید کمال الدین ثانی رح: جن کی نسبت سے صاحب پور کمال آباد ہے

    قاضی سید کمال الدین ثانی رح: جن کی نسبت سے صاحب پور کمال آباد ہے

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    ملک میں مہنگائی اور بے روزگاری کے اچھے دن!

    طریقہ تعلیم پر اہل حدیث عالم کا نظریہ

    متحدہ قومیت پر اہل حدیث عالم مولانا عبد الوہاب آروی کا نظریہ

    اجلاس اور تجاویز

    محمد یاسین جہازی

    مسئلہ آسام اور جمعیت علمائے ہند

    وندے ماترم کی مخالفت پر ماتم کا مقصد

    بھارت میں فرقہ وارانہ اتحاد و انتشار کی راہ

    راشٹرواد(01)

    راشٹرواد

    راشٹرواد(01)

    راشٹرواد (15)۔ جہازی فارمولے

    Trending Tags

    • Golden Globes
    • Mr. Robot
    • MotoGP 2017
    • Climate Change
    • Flat Earth
  • اہم خبریں
    • All
    • اتر پردیش
    • دہلی
    • دیگر ریاستیں
    IMG-20261019-WA0106

    مدرسہ دارالعلوم انوارِ صحابہ، مکتاپور، چندن کیاری، بوکارو: ایک مختصر تعارف اور یادگار حاضری

    جمعیت علمائے ہند کے 106سال مکمل، تاسیس کی مستند کہانی

    جمعیت کے اعلامیہ کاظلم کے آگے نہ جھکنے کا اعلان

     آل انڈیا مسلم پرسنل لائ بورڈ کے پہلے اجلاس کی کارروائی رپورٹ

    ریس کورس مسجد کو انہدامی نوٹس غیر قانونی اور غیر دستوری ہے: آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈبی جے پی حکومتوں کے دور میں مساجد اور مدارس کو نشانہ بنانے کی کارروائیاں انتہائی تشویشناک ہیں

    آل انڈیا مسلم پرسنل لائ بورڈ کے پہلے اجلاس کی کارروائی رپورٹ

    وہی تنظیم قائم رہتی ہے، جو وقت کے ساتھ ہم آہنگ ہوتی ہے

    تو ہم کہہ دیں گے کہ یہ ملک ہندو اسٹیٹ بن گیا ہے

    تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ کے خلاصے سے اہم اقتباسات

    راشٹرواد(01)

    راشٹرواد (14)۔ ملک دو راہے پر آگے کا راستہ کیا؟

    شیخ محمد محسن تِرہُتی رح اور ان کی تصنیف الیانع الجنى فی اسانید الشیخ عبد الغنی (تاریخ، تعارف اور تجزیہ)

    شیخ محمد محسن تِرہُتی رح اور ان کی تصنیف الیانع الجنى فی اسانید الشیخ عبد الغنی (تاریخ، تعارف اور تجزیہ)

  • ترجمہ و تفسیر قرآن کریم

    تھورنا ڈائک(Edward Thorndike)  کا قانون تعلیم

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    Trending Tags

    • Sillicon Valley
    • Climate Change
    • Election Results
    • Flat Earth
    • Golden Globes
    • MotoGP 2017
    • Mr. Robot
No Result
View All Result
جہازی میڈیا۔۔۔ نظریوں کا نیٹ ورک
No Result
View All Result
Home متفرق مضامین

پریم بنام پرستش

by Md Yasin Jahazi
دسمبر 22, 2025
in متفرق مضامین
0
تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟
0
SHARES
27
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

ملاحظات: عبدالحمید نعمانی

آر ایس ایس اور دیگر ہندوتو وادی عناصر نے بھارت کو غلط سمت میں لے جانے کی کوشش تیز کر دی ہے، ہندو تہذیب و سنسکرتی اور سناتن روایات کے تحفظ و فروغ کے نام پر ایک طبقہ کی طرف سے برہمن واد کو ملک پر غالب و حاوی کرنے کی ہمیشہ کوشش کی جاتی رہی ہے لیکن ہندوتو اور برہمن واد میں انسانیت و معقولیت اور انسانی مساوات و توقیر کی سدا سے کمی ہونے کی وجہ سے وہ عالمی عقیدہ و طرز حیات کے طور پر انسانی سماج کے لیے کبھی بھی نہ تو قابل توجہ رہا ہے اور نہ فطری اور آزاد کردار کے لحاظ سے زیادہ قابل قبول رہا ہے،
مذکورہ کمزوریوں کی وجہ سے برہمن واد اور ہندوتو کے پیروکار ہمیشہ عدم تحفظ اور فکری و عملی احساس کمتری میں مبتلا رہے ہیں، طبقاتی سوچ پر مبنی نظریہ و عمل میں انسانی سماج کے لیے کوئی خاص کشش و معقولیت نہ ہونے کی وجہ سے ہندوتو اور برہمن وادی عناصر، اپنے نظریہ و عمل کو پھیلانے اور بقا۶ و تحفظ کے لیے، طاقت و اقتدار میں ہونے کی حالت میں زور زبردستی اور اقتدار و طاقت سے دور رہنے کی حالت میں ،مغالطہ، غلط پروپیگنڈا اور سچائی سے پرے جا کر مفروضات کو حقیقت کی شکل دے کر سماج کو اپنے ساتھ رکھنے کی کوشش کرتے رہے ہیں، ان میں جھوٹی اور من گھڑت کہانیوں کا استعمال اور خاص طرح کی ماحول سازی کر کے حالات کو اپنے حق میں کرنے کا کام کرتے رہے ہیں، آج کی تاریخ میں جب کہ مرکزی و ریاستی سطح پر ہندوتو وادی طاقتیں اقتدار میں ہیں تو ایسی سرگرمیاں اور کوششیں، بہت زوروں پر ہیں، وہ الگ الگ عنوانات و موضوعات کو زیر بحث لا کر، اپنے فکر و عمل سے الگ شناخت رکھنے والے باشندوں کے کردار کو ختم کرنے کے لیے کئی قسم کے جتن کرتے نظر آتے ہیں، ایک طویل مدت سے ملک کے مختلف قبائل و ۱قوام کو خود میں جذب و ہضم کرنے میں بآسانی کامیاب رہے ہیں لیکن اسلام اور مسلمانوں کو تمام تر کوششوں کے باوجود، ان کے مخصوص و مستحکم عقائد وطرز حیات رکھنے کی وجہ سے ابھی تک خود میں جذب و تحلیل کرنے میں ناکام رہے ہیں، آر ایس ایس، جن سنگھ، بی جے پی آریا سماج اور دیگر تحریکات سے وابستہ افراد کے لیے، بھارت میں اسلام اور مسلمانوں کی الگ واضح شناخت و کردار، بڑی اذیت اور بے چینی کا بڑا سبب بنا ہوا ہے، اسلام اور مسلمانوں کی بنیادی و ممتاز شناخت، عقیدہ توحید و رسالت اور ان دونوں کے تحت افکار و اعمال ہیں، ان سے الگ کر کے، برہمن وادی نظام شرک کے تحت لانے کے لیے، کئی طرح کی سرگرمیاں، مدت دراز سے جاری ہیں، ان میں اقتدار و طاقت اور ہندو آبادی کی اکثریت کی وجہ سے بہت زیادہ تیزی آئی ہے، وندے ماترم گیت گانے پر زور، قدیم آبا۶و اجداد پر فخر اور درخت، ندی، سمندر، دریا، گائے، دھرتی وغیرہ کی پرستش کی تبلیغ اور اس سے آگے بڑھ کر زور زبردستی اور ملک سے وفاداری کا معیار قرار دینے کی کوششوں کے پس پشت کار فرما مقاصد، بالکل واضح ہیں، ملک کے تمام مذاہب والوں اور مختلف تہذیب و روایات کے حامل باشندوں کو آر ایس ایس کے ذمہ داروں، خصوصا سرسنچالکوں کی طرف سے ہندو اور بھارت کو غیر آئینی طور سے مسلسل ہندو راشٹر قرار دینے کے اعلان و اظہار کا مقصد بالکل واضح ہے، حالاں کہ ہندو، ہندوتو اور ہندو راشٹر کی اصولی حیثیت قطعی مبہم و مجہول اور ہندستانی سماج کے متنوع روایات و افکار کے مد نظر اجنبی، اور مشکوک بلکہ مردود ہے، ہندو راشٹر کا واضح مطلب برہمن و منو وادی راشٹر ہے، ہندوتو ایک محدود معنی میں جارحانہ و منفی فرقہ وارانہ سیاسی نظریہ و عمل ہے، جس میں انسانی و سماجی وحدت کے فقدان کے علاوہ ایک جغرافیائی حدود کے ارضی خطے کے مختلف افکار اور مراسم و روایات کے حامل باشندوں کو انصاف و مساوات کی سطح پر رکھ کر چلنے کی صلاحیت، سرے سے موجود نہیں ہے، ہندوتو وادی اور نظام شرک پر مبنی سماج میں، نظریہ و عقیدہ کے تناظر میں کوئی فیصلہ کن واضح موقف نہیں ہے اور کئی سارے بنیادی معاملات و امور کو لے کر بہت سے بھیانک کنفیوژن ہیں، اس میں پریم اور پرستش، حب الوطنی اور وطن پرستی میں فرق کا فقدان ہے، اسے یہ شعور و آگہی نہیں ہے کہ کسی کی پرستش کے لیے، اس میں کن خصوصیات و شرائط ہونے چاہئیں، مریادا پرشوتم اور معبود ہونے کے درمیان کیا تضاد ہے، جو قابل پرستش و معبود ہوگا وہ مخلوق و مریادا پرشوتم نہیں ہو گا اور جو آدرش و مریادا پرشوتم ہوگا وہ قابل پرستش و معبود نہیں ہو سکتا ہے، پریم تو سب سے کیا جا سکتا ہے، لیکن پرستش سب کی نہیں کی جا سکتی ہے، معبود کے لیے خالق و رب اور قہار بہ یک وقت ہونا ضروری ہے، وطن محبوب ہے نہ کہ معبود ،اس کے لیے اس کے باشندوں میں حب الوطنی کا جذبہ ہونا ،ایک لازمی و فطری ہے، جس کا وجود، مخلوق و محتاج ہو وہ معبود و قابل پرستش نہیں ہو سکتا ہے، آر ایس ایس والے خصوصا کلیدی عہدوں پر فائز سر سنچالک ڈاکٹر بھاگوت اور جنرل سیکرٹری دتاتریہ ہوسبالے، تسلسل کے ساتھ یہ کہتے رہے ہیں کہ ہم تمام مذاہب والوں کے طریق عبادات کے اختلافات و آزادی کو تسلیم کرتے ہیں لیکن اس کے برخلاف مطالبات کیے جاتے رہے ہیں، ہندستان ،تمام مذاہب اور مختلف عقائد و روایات کے حامل باشندوں کا ملک ہے نہ کہ کسی ایک کمیونٹی کا، لیکن دیگر ہندوتو وادی عناصر کے علاوہ آر ایس ایس اور اس کے سربراہ ڈاکٹر بھاگوت برابر بھارت کو ہندو راشٹر اور اس کے تمام باشندوں کو ہندو قرار دینے پر مصر و بہ ضد ہیں، ابھی حال ہی میں چند( 19/دسمبر 2025) دنوں پہلے اندور میں ڈاکٹر بھاگوت نے پھر یہ غیر آئینی دعوٰی و اعلان کیا
” بھارت ہندو راشٹر اور یہاں رہنے والا ہر شخص ہندو ہے، جو ہندستانی ہیں ان کے آبا۶واجداد سب اسی سرزمین سے ہیں، اس لیے سب ہندو کہلائیں گے”
ڈاکٹر بھاگوت کے دعوٰی اور اعلان و بیان میں کئی قسم کی خامیاں اور علم و حقیقت کے برخلاف باتیں ہیں، وہ یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ آدمی کی شناخت و نام عقیدہ و عمل سے قائم و موسوم ہوتا ہے، نسلی آبا۶واجداد کی نسبت سے نہیں، نسلی نسبت و تعلق ایک ناقابل تبدیل حقیقت ہے، یہ عقیدہ و عمل کی تبدیلی سے ختم یا تبدیل نہیں ہو سکتی ہے، اسلام قبول کرنے والی بہت سے برادریوں نے ہندستانی نسبت و تعلق کو برقرار رکھا ہے، مثلا پٹیل، تیاگی وغیرہ، اس کے باوجود ان کی شناخت اسلامی و مسلم والی ہے، وہ یقینی طور سے ہندی و ہندستانی ہیں نہ کہ ہندو، سکھ، عیسائی، یہودی، پارسی، آدی واسی وغیرہم، ہندو شناخت سے وابستگی کے خلاف ہیں، جو بہت سے قبائل، ہندستان میں آ کر اس کا حصہ ہو گئے ہیں کو ہندو قرار دینے کا مطلب ہے کہ ان کی اپنی شناخت ختم کر کے ہندوتو وادی سماج میں جذب و تحلیل کرنے کے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش ہے، اسی کا حصہ آر ایس ایس کے جنرل سیکرٹری دتاتریہ ہوسبالے کا یہ مشورہ نما ادعائی بیان ہے
” ہندو مذہب سب سے اعلی ہے اور بھارت میں مسلمانوں کو ماحولیاتی وجوہ کی بناء پر درختوں، دریاؤں اور سورج کی بھی پوجا کرنا چاہیے، اس میں کوئی حرج نہیں ہے، یہ روایات فطرت کے تحفظ اور اجتماعی بہبود سے جڑی ہوئی ہیں”
ظاہر ہے کہ عبادت و بندگی کے لیے جس سماج کے پاس کوئی اصول و معیار ہی نہ ہو، اس کے لیے عمل شرک اختیار کرنے میں حرج ہو گا، بندگی و عبادت کے معاملے میں ہندوتو وادی سماج، مسلمانوں کے لیے سرے سے نمونہ و قابل توجہ نہیں ہے، ہوسبالے صاحب بھی نظام شرک والے سماج کی عام بیماری اور کنفیوژن میں مبتلا نظر آتے ہیں، ایسا لگتا ہے کہ ان کو اسلام اور مسلمانوں کے عقیدہ توحید اور تصور وحدت الہ کی ذرا بھی جانکاری نہیں ہے، کائنات کی تمام اشیاء کے متعلق اسلام کا واضح تصور ہے کہ وہ انسانوں کے لیے خادم کی حیثیت رکھتی ہیں نہ کہ معبود کی کہ ان کی پوجا کی جائے، سورج، درخت، دریا، ندی سے احترام و لحاظ کا تعلق ہے نہ کہ بندگی کا، نظام شرک والے سماج کا المیہ یہ ہے کہ وہاں پریم اور پرستش اور احترام و عبادت کا فرق مٹ گیا ہے، جس کی وجہ سے وہ بھیانک بھٹکاؤ کا شکار ہو گیا ہے، خالق و رب کے سوا کی پرستش، انسانی عظمت کے منافی ہے، یہ گرو نانک، کبیر، راجا رام موہن رائے، دیا نند سرسوتی وغیرہم نے بھی کہا ہے، اس بھٹکاؤ کو دور کرنے کے لیے سنجیدہ بحث و گفتگو کی ضرورت ہے،

Md Yasin Jahazi

Md Yasin Jahazi

Next Post
الیکشن میں مسلمانوں کے لئے ترجیحات

انسان كا قتل ناقابل عفو گناه!

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

منتخب کردہ

بجٹ، بیانیہ اور حقیقت کرناٹک میں اقلیتوں کے نام پر سیاست یا حقائق کی تحریف؟

بچوں کے سامنے اساتذہ کی طرف سے بولی جانے والی مثبت اور منفی زبان اور اس کے نیک و بد اثرات

2 مہینے ago
جمعیت علمائے ہند کے 106سال مکمل، تاسیس کی مستند کہانی

جمعیت علمائے ہند: قدم بہ قدم: تیسرا سال:1921ء

10 مہینے ago

مقبول

  • تجاویز: آٹھواں فقہی سیمینار مجلس تحقیقات شرعیہ ندوة العلماء، لکھنؤ

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • مدرسہ دارالعلوم انوارِ صحابہ، مکتاپور، چندن کیاری، بوکارو: ایک مختصر تعارف اور یادگار حاضری

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • جمعیت کے اعلامیہ کاظلم کے آگے نہ جھکنے کا اعلان

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • مجلس منتظمہ جمعیت علمائے ہند منعقدہ 30-31/اکتوبر 2026کی جملہ قراردادیں

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • تفسیرِ تھانویؒ کی تعریب کے حوالے سے ایک استفسار

    0 shares
    Share 0 Tweet 0

ہم سے جڑیے

ہمارا خبری نامہ حاصل کریں

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetuer adipiscing elit. Aenean commodo ligula eget dolor.
SUBSCRIBE

زمرہ جات

اہم روابط

  • لاگ ان کریں
  • Entries feed
  • Comments feed
  • WordPress.org

ہمارے بارے میں

جہازی میڈیا باشعور افراد کی ایک ایسی تحریک ہے، جو ملت اسلامیہ کی نشاۃ ثانیہ کے لیے اپنی فکری و عملی خدمات پیش کرنے کے لیے عہدبند ہوتے ہیں۔ اس لیے ہر وہ شخص اس تحریک کا ممبر بن سکتا ہے، جو اس نظریہ و مقصد سے اتفاق رکھتا ہے۔

  • ہمارے بارے میں
  • قوائد و ضوابط
  • کاپی رائٹس
  • پرائیویسی پالیسی
  • رابطہ

© 2025 Jahazi Media Designed by Mehmood Khan 9720936030.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • ہوم
  • اسلامیات
  • جمعیت علمائے ہند
  • زبان و ادب
  • قومی و بین الاقوامی
  • اہم خبریں
    • دہلی
    • اتر پردیش
    • کرناٹک
    • مہاراشٹر
  • غزل
  • متفرق مضامین
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • دیگر مضامین
  • ترجمہ و تفسیر قرآن کریم

© 2025 Jahazi Media Designed by Mehmood Khan 9720936030.