ہفتہ, فروری 14, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Jahazi Media – Latest News, Articles & Insights
  • ہوم
  • جمعیۃ علماء ہند
  • اسلامیات
  • زبان و ادب
  • مضامین
    • All
    • جاوید اختر بھارتی
    • دیگر مضامین
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    جناب منورزماں سر کی نصیحت آموز باتیں

    جناب منورزماں سر کی نصیحت آموز باتیں

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    استھانواں کے محسن اعظم الحاج سید تقی الدین استھانوی مرحوم

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    مولانا سید سلیمان اشرف بہاری ۔۔حالات زندگی سے متعلق چند اہم اطلاعات

    مولانا حکیم الدین صاحب قاسمی

    مولانا حکیم الدین صاحب قاسمی

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    اپنی اپنی بولیاں سب بول کر اڑجائیں گی

    غالب نامہ کا متن

    تحریک ریشمی رومال خط نمبر تین

    غالب نامہ کا متن

    تحریک ریشمی رومال کا خط نمبر دو

    غالب نامہ کا متن

    تحریک ریشمی رومال کا پہلاخط

    غالب نامہ کا متن

    غالب نامہ کا متن

    تحریک ریشمی رومال کے خدو خال

    Trending Tags

    • Golden Globes
    • Mr. Robot
    • MotoGP 2017
    • Climate Change
    • Flat Earth
  • اہم خبریں
    • All
    • اتر پردیش
    • دہلی
    • دیگر ریاستیں
    باشندگان بہار سے ایک دردمندانہ و مخلصانہ اپیل و گزارش

    سابق چیف الیکشن کمیشن آف انڈیا  سے جہازی مکالمات

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    آؤ نسل کو سنواریں، مستقبل بنائیں

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    بھارت کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کا کردار: سیمینار اختتام پذیر

    باشندگان بہار سے ایک دردمندانہ و مخلصانہ اپیل و گزارش

    بہار کا فیصلہ — کانگریس کیلئے سخت پیغام

    مفتی اعظم ہند پر سیمنار 21-22نومبر کو نئی دہلی میں

    مفتی اعظم ہند پر سیمنار 21-22نومبر کو نئی دہلی میں

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کے 34ویں فقہی سمینار کی روداد

    مولانا محمود مدنی کو ملا صدارت کا چارج۔ٹرم  2024-2027 کا ہوا آج سے آغاز، 29 اکتوبر 2027ء تک کے لیے صدر منتخب

    مولانا محمود مدنی کو ملا صدارت کا چارج۔ٹرم 2024-2027 کا ہوا آج سے آغاز، 29 اکتوبر 2027ء تک کے لیے صدر منتخب

    وقف ایکٹ کے خلاف جدو جہد جاری رہے گی

    وقف ایکٹ کے خلاف جدو جہد جاری رہے گی

    16 نومبر 2025 کو مسلم پرسنل لاء بورڈ کا عظیم الشان اجلاس ہوگا

    16 نومبر 2025 کو مسلم پرسنل لاء بورڈ کا عظیم الشان اجلاس ہوگا

  • غزل
  • ترجمہ و تفسیر قرآن
    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    Trending Tags

    • Sillicon Valley
    • Climate Change
    • Election Results
    • Flat Earth
    • Golden Globes
    • MotoGP 2017
    • Mr. Robot
  • ہوم
  • جمعیۃ علماء ہند
  • اسلامیات
  • زبان و ادب
  • مضامین
    • All
    • جاوید اختر بھارتی
    • دیگر مضامین
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    جناب منورزماں سر کی نصیحت آموز باتیں

    جناب منورزماں سر کی نصیحت آموز باتیں

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    استھانواں کے محسن اعظم الحاج سید تقی الدین استھانوی مرحوم

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    مولانا سید سلیمان اشرف بہاری ۔۔حالات زندگی سے متعلق چند اہم اطلاعات

    مولانا حکیم الدین صاحب قاسمی

    مولانا حکیم الدین صاحب قاسمی

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    اپنی اپنی بولیاں سب بول کر اڑجائیں گی

    غالب نامہ کا متن

    تحریک ریشمی رومال خط نمبر تین

    غالب نامہ کا متن

    تحریک ریشمی رومال کا خط نمبر دو

    غالب نامہ کا متن

    تحریک ریشمی رومال کا پہلاخط

    غالب نامہ کا متن

    غالب نامہ کا متن

    تحریک ریشمی رومال کے خدو خال

    Trending Tags

    • Golden Globes
    • Mr. Robot
    • MotoGP 2017
    • Climate Change
    • Flat Earth
  • اہم خبریں
    • All
    • اتر پردیش
    • دہلی
    • دیگر ریاستیں
    باشندگان بہار سے ایک دردمندانہ و مخلصانہ اپیل و گزارش

    سابق چیف الیکشن کمیشن آف انڈیا  سے جہازی مکالمات

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    آؤ نسل کو سنواریں، مستقبل بنائیں

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    بھارت کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کا کردار: سیمینار اختتام پذیر

    باشندگان بہار سے ایک دردمندانہ و مخلصانہ اپیل و گزارش

    بہار کا فیصلہ — کانگریس کیلئے سخت پیغام

    مفتی اعظم ہند پر سیمنار 21-22نومبر کو نئی دہلی میں

    مفتی اعظم ہند پر سیمنار 21-22نومبر کو نئی دہلی میں

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کے 34ویں فقہی سمینار کی روداد

    مولانا محمود مدنی کو ملا صدارت کا چارج۔ٹرم  2024-2027 کا ہوا آج سے آغاز، 29 اکتوبر 2027ء تک کے لیے صدر منتخب

    مولانا محمود مدنی کو ملا صدارت کا چارج۔ٹرم 2024-2027 کا ہوا آج سے آغاز، 29 اکتوبر 2027ء تک کے لیے صدر منتخب

    وقف ایکٹ کے خلاف جدو جہد جاری رہے گی

    وقف ایکٹ کے خلاف جدو جہد جاری رہے گی

    16 نومبر 2025 کو مسلم پرسنل لاء بورڈ کا عظیم الشان اجلاس ہوگا

    16 نومبر 2025 کو مسلم پرسنل لاء بورڈ کا عظیم الشان اجلاس ہوگا

  • غزل
  • ترجمہ و تفسیر قرآن
    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    Trending Tags

    • Sillicon Valley
    • Climate Change
    • Election Results
    • Flat Earth
    • Golden Globes
    • MotoGP 2017
    • Mr. Robot
No Result
View All Result
Jahazi Media – Latest News, Articles & Insights
No Result
View All Result
Home مضامین

پریم بنام پرستش

by Md Yasin Jahazi
دسمبر 22, 2025
in مضامین
0
تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟
0
SHARES
22
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

ملاحظات: عبدالحمید نعمانی

آر ایس ایس اور دیگر ہندوتو وادی عناصر نے بھارت کو غلط سمت میں لے جانے کی کوشش تیز کر دی ہے، ہندو تہذیب و سنسکرتی اور سناتن روایات کے تحفظ و فروغ کے نام پر ایک طبقہ کی طرف سے برہمن واد کو ملک پر غالب و حاوی کرنے کی ہمیشہ کوشش کی جاتی رہی ہے لیکن ہندوتو اور برہمن واد میں انسانیت و معقولیت اور انسانی مساوات و توقیر کی سدا سے کمی ہونے کی وجہ سے وہ عالمی عقیدہ و طرز حیات کے طور پر انسانی سماج کے لیے کبھی بھی نہ تو قابل توجہ رہا ہے اور نہ فطری اور آزاد کردار کے لحاظ سے زیادہ قابل قبول رہا ہے،
مذکورہ کمزوریوں کی وجہ سے برہمن واد اور ہندوتو کے پیروکار ہمیشہ عدم تحفظ اور فکری و عملی احساس کمتری میں مبتلا رہے ہیں، طبقاتی سوچ پر مبنی نظریہ و عمل میں انسانی سماج کے لیے کوئی خاص کشش و معقولیت نہ ہونے کی وجہ سے ہندوتو اور برہمن وادی عناصر، اپنے نظریہ و عمل کو پھیلانے اور بقا۶ و تحفظ کے لیے، طاقت و اقتدار میں ہونے کی حالت میں زور زبردستی اور اقتدار و طاقت سے دور رہنے کی حالت میں ،مغالطہ، غلط پروپیگنڈا اور سچائی سے پرے جا کر مفروضات کو حقیقت کی شکل دے کر سماج کو اپنے ساتھ رکھنے کی کوشش کرتے رہے ہیں، ان میں جھوٹی اور من گھڑت کہانیوں کا استعمال اور خاص طرح کی ماحول سازی کر کے حالات کو اپنے حق میں کرنے کا کام کرتے رہے ہیں، آج کی تاریخ میں جب کہ مرکزی و ریاستی سطح پر ہندوتو وادی طاقتیں اقتدار میں ہیں تو ایسی سرگرمیاں اور کوششیں، بہت زوروں پر ہیں، وہ الگ الگ عنوانات و موضوعات کو زیر بحث لا کر، اپنے فکر و عمل سے الگ شناخت رکھنے والے باشندوں کے کردار کو ختم کرنے کے لیے کئی قسم کے جتن کرتے نظر آتے ہیں، ایک طویل مدت سے ملک کے مختلف قبائل و ۱قوام کو خود میں جذب و ہضم کرنے میں بآسانی کامیاب رہے ہیں لیکن اسلام اور مسلمانوں کو تمام تر کوششوں کے باوجود، ان کے مخصوص و مستحکم عقائد وطرز حیات رکھنے کی وجہ سے ابھی تک خود میں جذب و تحلیل کرنے میں ناکام رہے ہیں، آر ایس ایس، جن سنگھ، بی جے پی آریا سماج اور دیگر تحریکات سے وابستہ افراد کے لیے، بھارت میں اسلام اور مسلمانوں کی الگ واضح شناخت و کردار، بڑی اذیت اور بے چینی کا بڑا سبب بنا ہوا ہے، اسلام اور مسلمانوں کی بنیادی و ممتاز شناخت، عقیدہ توحید و رسالت اور ان دونوں کے تحت افکار و اعمال ہیں، ان سے الگ کر کے، برہمن وادی نظام شرک کے تحت لانے کے لیے، کئی طرح کی سرگرمیاں، مدت دراز سے جاری ہیں، ان میں اقتدار و طاقت اور ہندو آبادی کی اکثریت کی وجہ سے بہت زیادہ تیزی آئی ہے، وندے ماترم گیت گانے پر زور، قدیم آبا۶و اجداد پر فخر اور درخت، ندی، سمندر، دریا، گائے، دھرتی وغیرہ کی پرستش کی تبلیغ اور اس سے آگے بڑھ کر زور زبردستی اور ملک سے وفاداری کا معیار قرار دینے کی کوششوں کے پس پشت کار فرما مقاصد، بالکل واضح ہیں، ملک کے تمام مذاہب والوں اور مختلف تہذیب و روایات کے حامل باشندوں کو آر ایس ایس کے ذمہ داروں، خصوصا سرسنچالکوں کی طرف سے ہندو اور بھارت کو غیر آئینی طور سے مسلسل ہندو راشٹر قرار دینے کے اعلان و اظہار کا مقصد بالکل واضح ہے، حالاں کہ ہندو، ہندوتو اور ہندو راشٹر کی اصولی حیثیت قطعی مبہم و مجہول اور ہندستانی سماج کے متنوع روایات و افکار کے مد نظر اجنبی، اور مشکوک بلکہ مردود ہے، ہندو راشٹر کا واضح مطلب برہمن و منو وادی راشٹر ہے، ہندوتو ایک محدود معنی میں جارحانہ و منفی فرقہ وارانہ سیاسی نظریہ و عمل ہے، جس میں انسانی و سماجی وحدت کے فقدان کے علاوہ ایک جغرافیائی حدود کے ارضی خطے کے مختلف افکار اور مراسم و روایات کے حامل باشندوں کو انصاف و مساوات کی سطح پر رکھ کر چلنے کی صلاحیت، سرے سے موجود نہیں ہے، ہندوتو وادی اور نظام شرک پر مبنی سماج میں، نظریہ و عقیدہ کے تناظر میں کوئی فیصلہ کن واضح موقف نہیں ہے اور کئی سارے بنیادی معاملات و امور کو لے کر بہت سے بھیانک کنفیوژن ہیں، اس میں پریم اور پرستش، حب الوطنی اور وطن پرستی میں فرق کا فقدان ہے، اسے یہ شعور و آگہی نہیں ہے کہ کسی کی پرستش کے لیے، اس میں کن خصوصیات و شرائط ہونے چاہئیں، مریادا پرشوتم اور معبود ہونے کے درمیان کیا تضاد ہے، جو قابل پرستش و معبود ہوگا وہ مخلوق و مریادا پرشوتم نہیں ہو گا اور جو آدرش و مریادا پرشوتم ہوگا وہ قابل پرستش و معبود نہیں ہو سکتا ہے، پریم تو سب سے کیا جا سکتا ہے، لیکن پرستش سب کی نہیں کی جا سکتی ہے، معبود کے لیے خالق و رب اور قہار بہ یک وقت ہونا ضروری ہے، وطن محبوب ہے نہ کہ معبود ،اس کے لیے اس کے باشندوں میں حب الوطنی کا جذبہ ہونا ،ایک لازمی و فطری ہے، جس کا وجود، مخلوق و محتاج ہو وہ معبود و قابل پرستش نہیں ہو سکتا ہے، آر ایس ایس والے خصوصا کلیدی عہدوں پر فائز سر سنچالک ڈاکٹر بھاگوت اور جنرل سیکرٹری دتاتریہ ہوسبالے، تسلسل کے ساتھ یہ کہتے رہے ہیں کہ ہم تمام مذاہب والوں کے طریق عبادات کے اختلافات و آزادی کو تسلیم کرتے ہیں لیکن اس کے برخلاف مطالبات کیے جاتے رہے ہیں، ہندستان ،تمام مذاہب اور مختلف عقائد و روایات کے حامل باشندوں کا ملک ہے نہ کہ کسی ایک کمیونٹی کا، لیکن دیگر ہندوتو وادی عناصر کے علاوہ آر ایس ایس اور اس کے سربراہ ڈاکٹر بھاگوت برابر بھارت کو ہندو راشٹر اور اس کے تمام باشندوں کو ہندو قرار دینے پر مصر و بہ ضد ہیں، ابھی حال ہی میں چند( 19/دسمبر 2025) دنوں پہلے اندور میں ڈاکٹر بھاگوت نے پھر یہ غیر آئینی دعوٰی و اعلان کیا
” بھارت ہندو راشٹر اور یہاں رہنے والا ہر شخص ہندو ہے، جو ہندستانی ہیں ان کے آبا۶واجداد سب اسی سرزمین سے ہیں، اس لیے سب ہندو کہلائیں گے”
ڈاکٹر بھاگوت کے دعوٰی اور اعلان و بیان میں کئی قسم کی خامیاں اور علم و حقیقت کے برخلاف باتیں ہیں، وہ یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ آدمی کی شناخت و نام عقیدہ و عمل سے قائم و موسوم ہوتا ہے، نسلی آبا۶واجداد کی نسبت سے نہیں، نسلی نسبت و تعلق ایک ناقابل تبدیل حقیقت ہے، یہ عقیدہ و عمل کی تبدیلی سے ختم یا تبدیل نہیں ہو سکتی ہے، اسلام قبول کرنے والی بہت سے برادریوں نے ہندستانی نسبت و تعلق کو برقرار رکھا ہے، مثلا پٹیل، تیاگی وغیرہ، اس کے باوجود ان کی شناخت اسلامی و مسلم والی ہے، وہ یقینی طور سے ہندی و ہندستانی ہیں نہ کہ ہندو، سکھ، عیسائی، یہودی، پارسی، آدی واسی وغیرہم، ہندو شناخت سے وابستگی کے خلاف ہیں، جو بہت سے قبائل، ہندستان میں آ کر اس کا حصہ ہو گئے ہیں کو ہندو قرار دینے کا مطلب ہے کہ ان کی اپنی شناخت ختم کر کے ہندوتو وادی سماج میں جذب و تحلیل کرنے کے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش ہے، اسی کا حصہ آر ایس ایس کے جنرل سیکرٹری دتاتریہ ہوسبالے کا یہ مشورہ نما ادعائی بیان ہے
” ہندو مذہب سب سے اعلی ہے اور بھارت میں مسلمانوں کو ماحولیاتی وجوہ کی بناء پر درختوں، دریاؤں اور سورج کی بھی پوجا کرنا چاہیے، اس میں کوئی حرج نہیں ہے، یہ روایات فطرت کے تحفظ اور اجتماعی بہبود سے جڑی ہوئی ہیں”
ظاہر ہے کہ عبادت و بندگی کے لیے جس سماج کے پاس کوئی اصول و معیار ہی نہ ہو، اس کے لیے عمل شرک اختیار کرنے میں حرج ہو گا، بندگی و عبادت کے معاملے میں ہندوتو وادی سماج، مسلمانوں کے لیے سرے سے نمونہ و قابل توجہ نہیں ہے، ہوسبالے صاحب بھی نظام شرک والے سماج کی عام بیماری اور کنفیوژن میں مبتلا نظر آتے ہیں، ایسا لگتا ہے کہ ان کو اسلام اور مسلمانوں کے عقیدہ توحید اور تصور وحدت الہ کی ذرا بھی جانکاری نہیں ہے، کائنات کی تمام اشیاء کے متعلق اسلام کا واضح تصور ہے کہ وہ انسانوں کے لیے خادم کی حیثیت رکھتی ہیں نہ کہ معبود کی کہ ان کی پوجا کی جائے، سورج، درخت، دریا، ندی سے احترام و لحاظ کا تعلق ہے نہ کہ بندگی کا، نظام شرک والے سماج کا المیہ یہ ہے کہ وہاں پریم اور پرستش اور احترام و عبادت کا فرق مٹ گیا ہے، جس کی وجہ سے وہ بھیانک بھٹکاؤ کا شکار ہو گیا ہے، خالق و رب کے سوا کی پرستش، انسانی عظمت کے منافی ہے، یہ گرو نانک، کبیر، راجا رام موہن رائے، دیا نند سرسوتی وغیرہم نے بھی کہا ہے، اس بھٹکاؤ کو دور کرنے کے لیے سنجیدہ بحث و گفتگو کی ضرورت ہے،

Md Yasin Jahazi

Md Yasin Jahazi

Next Post
الیکشن میں مسلمانوں کے لئے ترجیحات

انسان كا قتل ناقابل عفو گناه!

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

منتخب کردہ

تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

کیا مسلمانوں کے اندر اتحاد کی گنجائش ہے؟

4 ہفتے ago
کرناٹک میں قیادت کی خاموش جنگ 

کرناٹک میں قیادت کی خاموش جنگ 

3 مہینے ago

مقبول

  • جناب منورزماں سر کی نصیحت آموز باتیں

    جناب منورزماں سر کی نصیحت آموز باتیں

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • سابق چیف الیکشن کمیشن آف انڈیا  سے جہازی مکالمات

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • استھانواں کے محسن اعظم الحاج سید تقی الدین استھانوی مرحوم

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • مولانا سید سلیمان اشرف بہاری ۔۔حالات زندگی سے متعلق چند اہم اطلاعات

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • پاکی

    0 shares
    Share 0 Tweet 0

ہم سے جڑیے

ہمارا خبری نامہ حاصل کریں

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetuer adipiscing elit. Aenean commodo ligula eget dolor.
SUBSCRIBE

زمرہ جات

اہم روابط

  • لاگ ان کریں
  • Entries feed
  • Comments feed
  • WordPress.org

ہمارے بارے میں

جہازی میڈیا باشعور افراد کی ایک ایسی تحریک ہے، جو ملت اسلامیہ کی نشاۃ ثانیہ کے لیے اپنی فکری و عملی خدمات پیش کرنے کے لیے عہدبند ہوتے ہیں۔ اس لیے ہر وہ شخص اس تحریک کا ممبر بن سکتا ہے، جو اس نظریہ و مقصد سے اتفاق رکھتا ہے۔

  • ہمارے بارے میں
  • قوائد و ضوابط
  • کاپی رائٹس
  • پرائیویسی پالیسی
  • رابطہ

© 2025 Jahazi Media Designed by Mehmood Khan 9720936030.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • ہوم
  • اسلامیات
  • جمعیۃ علماء ہند
  • زبان و ادب
  • قومی و بین الاقوامی
  • اہم خبریں
    • دہلی
    • اتر پردیش
    • کرناٹک
    • مہاراشٹر
  • غزل
  • مضامین
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • دیگر مضامین
  • ترجمہ و تفسیر قرآن

© 2025 Jahazi Media Designed by Mehmood Khan 9720936030.