ہفتہ, مارچ 21, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Jahazi Media – Latest News, Articles & Insights
  • ہوم
  • جمعیۃ علماء ہند
  • اسلامیات
  • زبان و ادب
  • مضامین
    • All
    • جاوید اختر بھارتی
    • دیگر مضامین
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    عید کی رات آئیے کچھ خاص کرتے ہیں

    عید کی رات آئیے کچھ خاص کرتے ہیں

    ایران اسرائیل امریکہ جنگ میں کس کو کس کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے

    ایران اسرائیل امریکہ جنگ میں کس کو کس کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے

    وندے ماترم کی مخالفت پر ماتم کا مقصد

    بھارت کی فرقہ وارانہ تقسیم کی مہم

    بجٹ، بیانیہ اور حقیقت کرناٹک میں اقلیتوں کے نام پر سیاست یا حقائق کی تحریف؟

    بجٹ، بیانیہ اور حقیقت کرناٹک میں اقلیتوں کے نام پر سیاست یا حقائق کی تحریف؟

    وندے ماترم کی مخالفت پر ماتم کا مقصد

    ہندوتو کی سمت اور رفتار

    نتیش کمار کا راجیہ سبھا کا رخ: اقتدار سے فاصلہ یا نئی حکمت عملی!

    نتیش کمار کا راجیہ سبھا کا رخ: اقتدار سے فاصلہ یا نئی حکمت عملی!

    فلسطین کی غلامی سے اسرائیل کے ناپاک وجود تک ہندستانی مسلمانوں کی جدوجہد

    فلسطین کی غلامی سے اسرائیل کے ناپاک وجود تک ہندستانی مسلمانوں کی جدوجہد

    آج یوم تاسیس تحریک تبلیغ ہے

    اولیاء اللہ کے مشن: حاجی نور الحسن مرحوم کی یاد میں

    آج یوم تاسیس تحریک تبلیغ ہے

    ڈیجیٹل محبت، آن لائن کھیل اور کم سن ذہنایک خاموش سماجی بحران کی دستک

    آج یوم تاسیس تحریک تبلیغ ہے

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی اور ترک موالات کا آغاز کیسے ہوا؟

    Trending Tags

    • Golden Globes
    • Mr. Robot
    • MotoGP 2017
    • Climate Change
    • Flat Earth
  • اہم خبریں
    • All
    • اتر پردیش
    • دہلی
    • دیگر ریاستیں
    آج یوم تاسیس تحریک تبلیغ ہے

    مبارک پور کی ایک پرنور شب: اہلِ دل کی صحبت میں

    باشندگان بہار سے ایک دردمندانہ و مخلصانہ اپیل و گزارش

    سابق چیف الیکشن کمیشن آف انڈیا  سے جہازی مکالمات

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    آؤ نسل کو سنواریں، مستقبل بنائیں

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    بھارت کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کا کردار: سیمینار اختتام پذیر

    باشندگان بہار سے ایک دردمندانہ و مخلصانہ اپیل و گزارش

    بہار کا فیصلہ — کانگریس کیلئے سخت پیغام

    مفتی اعظم ہند پر سیمنار 21-22نومبر کو نئی دہلی میں

    مفتی اعظم ہند پر سیمنار 21-22نومبر کو نئی دہلی میں

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کے 34ویں فقہی سمینار کی روداد

    مولانا محمود مدنی کو ملا صدارت کا چارج۔ٹرم  2024-2027 کا ہوا آج سے آغاز، 29 اکتوبر 2027ء تک کے لیے صدر منتخب

    مولانا محمود مدنی کو ملا صدارت کا چارج۔ٹرم 2024-2027 کا ہوا آج سے آغاز، 29 اکتوبر 2027ء تک کے لیے صدر منتخب

    وقف ایکٹ کے خلاف جدو جہد جاری رہے گی

    وقف ایکٹ کے خلاف جدو جہد جاری رہے گی

  • غزل
  • ترجمہ و تفسیر قرآن
    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    Trending Tags

    • Sillicon Valley
    • Climate Change
    • Election Results
    • Flat Earth
    • Golden Globes
    • MotoGP 2017
    • Mr. Robot
  • ہوم
  • جمعیۃ علماء ہند
  • اسلامیات
  • زبان و ادب
  • مضامین
    • All
    • جاوید اختر بھارتی
    • دیگر مضامین
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    عید کی رات آئیے کچھ خاص کرتے ہیں

    عید کی رات آئیے کچھ خاص کرتے ہیں

    ایران اسرائیل امریکہ جنگ میں کس کو کس کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے

    ایران اسرائیل امریکہ جنگ میں کس کو کس کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے

    وندے ماترم کی مخالفت پر ماتم کا مقصد

    بھارت کی فرقہ وارانہ تقسیم کی مہم

    بجٹ، بیانیہ اور حقیقت کرناٹک میں اقلیتوں کے نام پر سیاست یا حقائق کی تحریف؟

    بجٹ، بیانیہ اور حقیقت کرناٹک میں اقلیتوں کے نام پر سیاست یا حقائق کی تحریف؟

    وندے ماترم کی مخالفت پر ماتم کا مقصد

    ہندوتو کی سمت اور رفتار

    نتیش کمار کا راجیہ سبھا کا رخ: اقتدار سے فاصلہ یا نئی حکمت عملی!

    نتیش کمار کا راجیہ سبھا کا رخ: اقتدار سے فاصلہ یا نئی حکمت عملی!

    فلسطین کی غلامی سے اسرائیل کے ناپاک وجود تک ہندستانی مسلمانوں کی جدوجہد

    فلسطین کی غلامی سے اسرائیل کے ناپاک وجود تک ہندستانی مسلمانوں کی جدوجہد

    آج یوم تاسیس تحریک تبلیغ ہے

    اولیاء اللہ کے مشن: حاجی نور الحسن مرحوم کی یاد میں

    آج یوم تاسیس تحریک تبلیغ ہے

    ڈیجیٹل محبت، آن لائن کھیل اور کم سن ذہنایک خاموش سماجی بحران کی دستک

    آج یوم تاسیس تحریک تبلیغ ہے

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی اور ترک موالات کا آغاز کیسے ہوا؟

    Trending Tags

    • Golden Globes
    • Mr. Robot
    • MotoGP 2017
    • Climate Change
    • Flat Earth
  • اہم خبریں
    • All
    • اتر پردیش
    • دہلی
    • دیگر ریاستیں
    آج یوم تاسیس تحریک تبلیغ ہے

    مبارک پور کی ایک پرنور شب: اہلِ دل کی صحبت میں

    باشندگان بہار سے ایک دردمندانہ و مخلصانہ اپیل و گزارش

    سابق چیف الیکشن کمیشن آف انڈیا  سے جہازی مکالمات

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    آؤ نسل کو سنواریں، مستقبل بنائیں

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    بھارت کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کا کردار: سیمینار اختتام پذیر

    باشندگان بہار سے ایک دردمندانہ و مخلصانہ اپیل و گزارش

    بہار کا فیصلہ — کانگریس کیلئے سخت پیغام

    مفتی اعظم ہند پر سیمنار 21-22نومبر کو نئی دہلی میں

    مفتی اعظم ہند پر سیمنار 21-22نومبر کو نئی دہلی میں

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کے 34ویں فقہی سمینار کی روداد

    مولانا محمود مدنی کو ملا صدارت کا چارج۔ٹرم  2024-2027 کا ہوا آج سے آغاز، 29 اکتوبر 2027ء تک کے لیے صدر منتخب

    مولانا محمود مدنی کو ملا صدارت کا چارج۔ٹرم 2024-2027 کا ہوا آج سے آغاز، 29 اکتوبر 2027ء تک کے لیے صدر منتخب

    وقف ایکٹ کے خلاف جدو جہد جاری رہے گی

    وقف ایکٹ کے خلاف جدو جہد جاری رہے گی

  • غزل
  • ترجمہ و تفسیر قرآن
    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    Trending Tags

    • Sillicon Valley
    • Climate Change
    • Election Results
    • Flat Earth
    • Golden Globes
    • MotoGP 2017
    • Mr. Robot
No Result
View All Result
Jahazi Media – Latest News, Articles & Insights
No Result
View All Result
Home قومی و بین الاقوامی

کرناٹک میں قیادت کی خاموش جنگ 

by Md Yasin Jahazi
نومبر 1, 2025
in قومی و بین الاقوامی, مضامین
0
کرناٹک میں قیادت کی خاموش جنگ 
0
SHARES
3
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

سِدارامیا کی سیاست، شیوکمار کی حکمت، اور دہلی کا اشارہ

از: عبدالحلیم منصور

؎ یہ جو کہتے ہیں ہوا بدلے گی، اُن سے کہہ دو

تخت بدلنے سے تقدیر نہیں بدلا کرتی

کرناٹک کی سیاست اس وقت ایک عجیب بے قراری میں مبتلا ہے۔ اقتدار کی گلیوں میں ایک نیا لفظ گردش کر رہا ہے — ’’نومبر کا انقلاب‘‘۔ یہ اصطلاح دراصل اقتدار کی منتقلی کی ایک افواہ سے جنم لیتی ہے، جس نے رفتہ رفتہ میڈیا، اپوزیشن اور عوامی گفتگو میں اپنی جگہ بنا لی ہے۔ ریاست کی موجودہ حکومت، جس کی قیادت سِدّارامیا کر رہے ہیں، پچھلے دو برسوں میں عوامی فلاح، سماجی توازن اور سیاسی استحکام کا ایک نیا بیانیہ قائم کرنے میں مصروف رہی ہے۔ لیکن اب جبکہ ان کی حکومت اپنے دورِ اقتدار کے وسطی مرحلے پر ہے، کچھ سیاسی حلقے دعویٰ کر رہے ہیں کہ نومبر کے مہینے میں ایک خاموش تبدیلی رونما ہو سکتی ہے، جسے بعض لوگ “انقلاب” کا نام دے رہے ہیں۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ اس “انقلاب” کی بنیاد نہ عوامی بغاوت ہے، نہ پالیسیوں میں کوئی سخت اختلاف، بلکہ یہ ایک داخلی معاملہ ہے جو اقتدار کی تقسیم اور پارٹی کے اندر طاقت کے توازن سے متعلق ہے۔ کانگریس کے اقتدار میں آنے کے بعد ہی ایک غیر تحریری معاہدے کی خبریں سامنے آئی تھیں کہ اقتدار کے دو برس سِدارامَيا کے پاس رہیں گے، اس کے بعد قیادت نائب وزیرِ اعلیٰ ڈی کے شِیوکمار کے سپرد کی جائے گی۔ اب جب یہ مدت قریب پہنچ گئی ہے، تو کانگریس کے اندر خاموش ہلچل محسوس کی جا رہی ہے۔

سِدارامَيا نے اس تمام تر بحث پر خاموشی اختیار نہیں کی۔ ان کا بیان تھا کہ “نومبر میں کسی انقلاب کی گنجائش نہیں، میں پارٹی کی قیادت کے فیصلے کا پابند ہوں، اور جب تک ہائی کمانڈ چاہے گی، میں وزیرِ اعلیٰ کے طور پر خدمات انجام دیتا رہوں گا۔” یہ بیان بظاہر ان کے اعتماد کا مظہر لگتا ہے، لیکن اس میں ایک سیاسی احتیاط چھپی ہوئی ہے۔ وہ خود کو اقتدار سے وابستہ کسی ضد یا انا کے طور پر پیش نہیں کر رہے، بلکہ پارٹی قیادت کی رائے کو فیصلہ کن حیثیت دیتے ہیں۔ یہ طرزِ عمل ان کی سیاسی بلوغت اور پارٹی نظم و ضبط کے احترام کو ظاہر کرتا ہے۔

دوسری طرف، ڈی کے شیوکمار، جنہیں اس پوری قیاس آرائی کا مرکز مانا جا رہا ہے، نہ تو کسی بیان سے اس “انقلاب” کی تائید کرتے دکھائی دیتے ہیں، نہ تردید۔ ان کی خاموشی بہت معنی خیز ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ شیو کمار اپنی پوزیشن مضبوط کرنے میں مصروف ہیں، مگر پارٹی میں براہِ راست تصادم سے گریز کر رہے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ کرناٹک کی سیاست میں قیادت کی تبدیلی صرف دہلی کے اشارے پر ممکن ہے۔ چنانچہ وہ وقتی صبر اور حکمت کو ترجیح دے رہے ہیں۔

بی جے پی نے اس صورتحال کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کرنے میں دیر نہیں لگائی۔ اپوزیشن کے رہنما آر اشوک نے اعلان کیا کہ “کرناٹک میں نومبر کا انقلاب یقینی ہے، یہ حکومت اندرونی انتشار سے خود ٹوٹنے والی ہے۔” اس بیان نے سیاسی ماحول کو مزید گرما دیا۔ بی جے پی کے لیے یہ محض حکومت پر حملہ نہیں بلکہ عوام میں غیر یقینی اور بدگمانی پیدا کرنے کی ایک حکمتِ عملی ہے۔ وہ جانتی ہے کہ اگر کانگریس کی اندرونی صفوں میں اختلافات نمایاں ہوں تو عوامی تاثر کمزور ہوگا، اور یہی وہ سیاسی خلا ہے جسے وہ بھرنا چاہتی ہے۔

تاہم زمینی سطح پر صورتحال اس بیانیے سے مختلف ہے۔ کرناٹک میں سِدارامَيا حکومت کو عوامی سطح پر کسی بڑی مخالفت کا سامنا نہیں۔ اُن کی متعارف کردہ ’’گارنٹی اسکیمیں‘‘ مثلاً گرہا لکشمی، انا بھاگیا، شکتی اسکیم، اور گرہا جوتی عوام میں بے حد مقبول ہیں۔ یہ اسکیمیں صرف ووٹ کی سیاست نہیں بلکہ متوسط اور غریب طبقات کے لیے حقیقی سہارا بن گئی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ریاست کے دیہی علاقوں میں کانگریس کی مقبولیت برقرار ہے۔ بی جے پی کی طرف سے عائد کردہ کرپشن کے الزامات یا بدانتظامی کے دعوے عوامی سطح پر زیادہ اثر نہیں ڈال پائے ہیں۔ ایسے میں اگر قیادت بدلی گئی تو یہ سوال ضرور اٹھے گا کہ آخر ایسی تبدیلی کی ضرورت کیا تھی؟

سیاسی طور پر دیکھا جائے تو اس وقت قیادت کی تبدیلی پارٹی کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ کیونکہ کانگریس کو مرکز میں ہونے والے انتخابات کے پیشِ نظر ایک متحدہ اور پُر اعتماد چہرے کی ضرورت ہے۔ اگر نومبر میں واقعی تبدیلی ہوتی ہے تو اسے محض داخلی سمجھوتہ نہیں بلکہ کمزوری کی علامت سمجھا جائے گا۔ یہ تصور قائم ہوگا کہ کانگریس اقتدار کے بوجھ سے زیادہ اندرونی کشمکش میں مبتلا ہے۔ اس کے برعکس اگر سِدارامَيا کو مکمل مدت دی جاتی ہے، تو وہ اپنی انتظامی کارکردگی کے بل پر 2028 کے انتخابات کے لیے مضبوط بیانیہ تشکیل دے سکتے ہیں۔

یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ بعض حلقے قیادت کی تبدیلی کے موقع پر “دلت وزیرِ اعلیٰ” کے امکان کو بڑھاوا دے رہے ہیں، تاکہ پارٹی سماجی توازن کے نام پر ایک نیا کارڈ کھیل سکے۔ کچھ تجزیہ نگاروں کے مطابق ملیکارجن کھرگے کی موجودگی نے اس بحث کو مزید تقویت دی ہے، تاہم کھرگے کی موجودہ حیثیت — بطورِ قومی صدر — انہیں ریاستی سیاست سے اوپر کے مقام پر لے گئی ہے۔ ان کی واپسی نہ صرف غیر موزوں بلکہ پارٹی کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔

دوسری طرف مسلمانوں اور اقلیتی طبقات کی نظر اس ساری صورتحال پر بڑی باریکی سے ہے۔ سِدارامَيا حکومت نے اقلیتوں کے تعلیمی وظائف، وقف جائیدادوں کے انتظام، اور سماجی مساوات کے میدان میں کئی مثبت اقدامات کیے ہیں۔ اگر قیادت میں تبدیلی آتی ہے تو ان طبقات کو یہ اندیشہ لاحق ہو سکتا ہے کہ آیا نئی قیادت ان پالیسیوں کو جاری رکھے گی یا ان میں تخفیف ہوگی۔ کانگریس کے لیے اس وقت سب سے بڑی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ قیادت کی تبدیلی سے زیادہ پالیسیوں کے تسلسل پر یقین دہانی کرائے۔

درحقیقت اس وقت جو کچھ “انقلاب” کے نام پر پیش کیا جا رہا ہے، وہ محض اقتدار کی اندرونی کشمکش ہے۔ انقلاب کا مفہوم یہ نہیں کہ ایک چہرہ دوسرے سے بدل جائے۔ انقلاب تب ہوتا ہے جب پالیسی، نظریہ اور سیاسی اخلاقیات میں تبدیلی آئے، جب عوام کی شرکت حقیقی ہو، جب اقتدار کا مرکز عوامی مفاد ہو، نہ کہ چند بااثر چہروں کے درمیان سمجھوتہ۔

کرناٹک کی موجودہ صورتحال میں ایسا کوئی عوامی یا نظریاتی طوفان نہیں جو انقلاب کہلانے کے لائق ہو۔ اس وقت جو کچھ ہے، وہ ایک منظم اور محتاط سیاسی کھیل ہے — جس میں ہر فریق اپنی باری کے انتظار میں ہے۔ نومبر کی آمد سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ آیا کانگریس اس بحث سے نکل کر ریاستی استحکام، اقتصادی اصلاحات اور عوامی فلاح پر توجہ برقرار رکھتی ہے یا نہیں۔

سِدارامَيا کے لیے سب سے بہتر راستہ یہی ہے کہ وہ اپنی مدت مکمل کریں، انتظامی کامیابیوں کو مضبوط کریں، اور انتخابات سے قبل پارٹی کو ایک واضح سمت میں لے جائیں۔ اگر قیادت کا معاملہ واقعی ناگزیر ہوا تو اسے جمہوری مشاورت کے ذریعے انجام دینا ہی دانشمندی ہوگی۔ بصورتِ دیگر، یہ سارا عمل عوام کے اعتماد پر کاری ضرب ثابت ہو سکتا ہے۔

کرناٹک کی سیاست کا مزاج ہمیشہ سے پیچیدہ رہا ہے۔ یہاں اتحاد اور انشقاق، اقتدار اور قربانی، سب ایک ہی کہانی کے مختلف باب ہیں۔ آج کا سوال یہ نہیں کہ نومبر میں انقلاب آئے گا یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ آیا ریاست میں اقتدار عوامی اعتماد کے ساتھ آگے بڑھے گا یا پھر سیاست ایک بار پھر ذاتی مفادات کے گرد گھومتی رہے گی۔

؎ سیاست کے تماشے میں کردار بدلتے رہتے ہیں

پردہ وہی رہتا ہے، منظر بدل جاتے ہیں

haleemmansoor@gmail.com

Md Yasin Jahazi

Md Yasin Jahazi

Next Post
باشندگان بہار سے ایک دردمندانہ و مخلصانہ اپیل و گزارش

باشندگان بہار سے ایک دردمندانہ و مخلصانہ اپیل و گزارش

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

منتخب کردہ

آئی لو محمد۔۔ بٹ!!

آئی لو محمد۔۔ بٹ!!

6 مہینے ago
وندے ماترم کی مخالفت پر ماتم کا مقصد

وندے ماترم کی مخالفت پر ماتم کا مقصد

1 مہینہ ago

مقبول

  • سرور کائنات ﷺ کی عید

    سرور کائنات ﷺ کی عید

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • عید کی رات آئیے کچھ خاص کرتے ہیں

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • مبارک پور کی ایک پرنور شب: اہلِ دل کی صحبت میں

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • ایران اسرائیل امریکہ جنگ میں کس کو کس کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • بھارت کی فرقہ وارانہ تقسیم کی مہم

    0 shares
    Share 0 Tweet 0

ہم سے جڑیے

ہمارا خبری نامہ حاصل کریں

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetuer adipiscing elit. Aenean commodo ligula eget dolor.
SUBSCRIBE

زمرہ جات

اہم روابط

  • لاگ ان کریں
  • Entries feed
  • Comments feed
  • WordPress.org

ہمارے بارے میں

جہازی میڈیا باشعور افراد کی ایک ایسی تحریک ہے، جو ملت اسلامیہ کی نشاۃ ثانیہ کے لیے اپنی فکری و عملی خدمات پیش کرنے کے لیے عہدبند ہوتے ہیں۔ اس لیے ہر وہ شخص اس تحریک کا ممبر بن سکتا ہے، جو اس نظریہ و مقصد سے اتفاق رکھتا ہے۔

  • ہمارے بارے میں
  • قوائد و ضوابط
  • کاپی رائٹس
  • پرائیویسی پالیسی
  • رابطہ

© 2025 Jahazi Media Designed by Mehmood Khan 9720936030.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • ہوم
  • اسلامیات
  • جمعیۃ علماء ہند
  • زبان و ادب
  • قومی و بین الاقوامی
  • اہم خبریں
    • دہلی
    • اتر پردیش
    • کرناٹک
    • مہاراشٹر
  • غزل
  • مضامین
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • دیگر مضامین
  • ترجمہ و تفسیر قرآن

© 2025 Jahazi Media Designed by Mehmood Khan 9720936030.