جمعہ, مئی 22, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Jahazi Media – Latest News, Articles & Insights
  • ہوم
  • جمعیۃ علماء ہند
  • اسلامیات
  • زبان و ادب
  • مضامین
    • All
    • جاوید اختر بھارتی
    • دیگر مضامین
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    ہندوستانی مسلمان اورمناسب حکمت عملی کی ضرورت!

    وندے ماترم کی مخالفت پر ماتم کا مقصد

    زہریلی تاریخ نگاری کا تدارک

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    ملک معاشی ایمرجنسی کی جانب تیزی سے بڑھ رہا ہے؟

    بنگال میں ایس آئی آر :نشانے پر مسلمان!

    حضرت مولانا عبداللہ مغیثیؒ ایک عہد ساز شخصیت

    ماں جی آخر سوکھی روٹی کون کھاتا ہے

    اسرائیل کا وجود ایک ظلم ہے

    اسرائیل کا وجود ایک ظلم ہے

    باپ کا آشیانہ بکا تب بیٹی کا آشیانہ بسا

    باپ کا آشیانہ بکا تب بیٹی کا آشیانہ بسا

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    حضرت مولانا عبداللہ مغیثیؒ ایک عہد ساز شخصیت

    حضرت مولانا عبداللہ مغیثیؒ ایک عہد ساز شخصیت

    فرقہ وارانہ سیاست کا تاریخی پس منظر اور جمعیت علمائے ہند کا معقول اصولی موقف

    فرقہ وارانہ سیاست کا تاریخی پس منظر اور جمعیت علمائے ہند کا معقول اصولی موقف

    Trending Tags

    • Golden Globes
    • Mr. Robot
    • MotoGP 2017
    • Climate Change
    • Flat Earth
  • اہم خبریں
    • All
    • اتر پردیش
    • دہلی
    • دیگر ریاستیں

    فتنوں کے سدِّ باب میں علماءِ حق کا کردار: امت کی بقا کا ضامن

    اسلام کی بنیاد دوچیزوں پر قائم ہے،عقیدہ توحید،اور نبوت ورسالت:مولاناخالدسیف اللہ رحمانی

    اسلام کی بنیاد دوچیزوں پر قائم ہے،عقیدہ توحید،اور نبوت ورسالت:مولاناخالدسیف اللہ رحمانی

    سمویدا

    حضرت مولانا عبداللہ مغیثیؒ ایک عہد ساز شخصیت

    مدرسہ کے بچوں کو چائلڈ لائن کے حوالے کرنے کی مذمت

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    اتراکھنڈ و گجرات میں منظور یونیفارم سول کوڈ قطعی منظور نہیںآل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ

    آج یوم تاسیس تحریک تبلیغ ہے

    مبارک پور کی ایک پرنور شب: اہلِ دل کی صحبت میں

    باشندگان بہار سے ایک دردمندانہ و مخلصانہ اپیل و گزارش

    سابق چیف الیکشن کمیشن آف انڈیا  سے جہازی مکالمات

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    آؤ نسل کو سنواریں، مستقبل بنائیں

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    بھارت کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کا کردار: سیمینار اختتام پذیر

  • غزل
  • ترجمہ و تفسیر قرآن
    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    Trending Tags

    • Sillicon Valley
    • Climate Change
    • Election Results
    • Flat Earth
    • Golden Globes
    • MotoGP 2017
    • Mr. Robot
  • ہوم
  • جمعیۃ علماء ہند
  • اسلامیات
  • زبان و ادب
  • مضامین
    • All
    • جاوید اختر بھارتی
    • دیگر مضامین
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    ہندوستانی مسلمان اورمناسب حکمت عملی کی ضرورت!

    وندے ماترم کی مخالفت پر ماتم کا مقصد

    زہریلی تاریخ نگاری کا تدارک

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    ملک معاشی ایمرجنسی کی جانب تیزی سے بڑھ رہا ہے؟

    بنگال میں ایس آئی آر :نشانے پر مسلمان!

    حضرت مولانا عبداللہ مغیثیؒ ایک عہد ساز شخصیت

    ماں جی آخر سوکھی روٹی کون کھاتا ہے

    اسرائیل کا وجود ایک ظلم ہے

    اسرائیل کا وجود ایک ظلم ہے

    باپ کا آشیانہ بکا تب بیٹی کا آشیانہ بسا

    باپ کا آشیانہ بکا تب بیٹی کا آشیانہ بسا

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    حضرت مولانا عبداللہ مغیثیؒ ایک عہد ساز شخصیت

    حضرت مولانا عبداللہ مغیثیؒ ایک عہد ساز شخصیت

    فرقہ وارانہ سیاست کا تاریخی پس منظر اور جمعیت علمائے ہند کا معقول اصولی موقف

    فرقہ وارانہ سیاست کا تاریخی پس منظر اور جمعیت علمائے ہند کا معقول اصولی موقف

    Trending Tags

    • Golden Globes
    • Mr. Robot
    • MotoGP 2017
    • Climate Change
    • Flat Earth
  • اہم خبریں
    • All
    • اتر پردیش
    • دہلی
    • دیگر ریاستیں

    فتنوں کے سدِّ باب میں علماءِ حق کا کردار: امت کی بقا کا ضامن

    اسلام کی بنیاد دوچیزوں پر قائم ہے،عقیدہ توحید،اور نبوت ورسالت:مولاناخالدسیف اللہ رحمانی

    اسلام کی بنیاد دوچیزوں پر قائم ہے،عقیدہ توحید،اور نبوت ورسالت:مولاناخالدسیف اللہ رحمانی

    سمویدا

    حضرت مولانا عبداللہ مغیثیؒ ایک عہد ساز شخصیت

    مدرسہ کے بچوں کو چائلڈ لائن کے حوالے کرنے کی مذمت

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    اتراکھنڈ و گجرات میں منظور یونیفارم سول کوڈ قطعی منظور نہیںآل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ

    آج یوم تاسیس تحریک تبلیغ ہے

    مبارک پور کی ایک پرنور شب: اہلِ دل کی صحبت میں

    باشندگان بہار سے ایک دردمندانہ و مخلصانہ اپیل و گزارش

    سابق چیف الیکشن کمیشن آف انڈیا  سے جہازی مکالمات

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    آؤ نسل کو سنواریں، مستقبل بنائیں

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    بھارت کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کا کردار: سیمینار اختتام پذیر

  • غزل
  • ترجمہ و تفسیر قرآن
    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    Trending Tags

    • Sillicon Valley
    • Climate Change
    • Election Results
    • Flat Earth
    • Golden Globes
    • MotoGP 2017
    • Mr. Robot
No Result
View All Result
Jahazi Media – Latest News, Articles & Insights
No Result
View All Result
Home اہم خبریں دیگر ریاستیں

بہار کا فیصلہ — کانگریس کیلئے سخت پیغام

by Md Yasin Jahazi
نومبر 23, 2025
in دیگر ریاستیں
0
باشندگان بہار سے ایک دردمندانہ و مخلصانہ اپیل و گزارش
0
SHARES
8
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

مسلمانوں کی سیاسی بیداری، شعوری ووٹ اور نمائندگی کی نئی بنیاد

از: عبدالحلیم منصور

؎ ہم سے پہلے بھی مسافر کئی گزرے ہوں گےکم سے کم راہ کے پتھر تو ہٹاتے جاتےبہار کے حالیہ انتخابی نتائج نے ہندوستانی سیاست کےجسم میں ایک تیز جھٹکا چھوڑا ہے—ایسا جھٹکا جس نے نہ صرف سیاسی جماعتوں کی روایتی سوچ کو چیلنج کیا ہے بلکہ یہ بھی ثابت کر دیا ہے کہ مسلمان اب محض ایک عددی قوت نہیں، بلکہ ایک باشعور اور فیصلہ ساز سیاسی طاقت بن چکے ہیں۔ یہ نتائج کسی ایک ریاست کے انتخابی اعداد و شمار نہیں، بلکہ قومی سطح پر بدلتے سیاسی مزاج اور مستقبل کی سمت کا اعلان ہیں۔ یہ حقیقت پوری قوت سے سامنے آئی ہے کہ مسلمان اب کسی کے سیاسی تابع نہیں رہے، بلکہ ایک منظم اور خودمختار فیصلہ کن قوت کے طور پر ابھر رہے ہیں۔ہندوستان کی حالیہ سیاسی فضا میں جو ہلچل محسوس کی جا رہی ہے وہ صرف انتخابی سرگرمی نہیں بلکہ ایک بڑے ذہنی اور سیاسی انقلاب کا آغاز ہے۔ بہار، مدھیہ پردیش، راجستھان اور تلنگانہ کے تجربات نے یہ حقیقت آشکار کر دی ہے کہ کانگریس اب وہ جماعت نہیں رہی جسے مسلمان اپنی فطری یا مجبوری کی پناہ گاہ سمجھتے تھے۔ ووٹ کا مزاج بدل چکا ہے، سوچ کی ترجیحات تبدیل ہو چکی ہیں، اور سیاسی فیصلوں کے پیمانے نئے ہو چکے ہیں۔ پہلی بار ملک کی سیاسی جماعتوں، خصوصاً کانگریس جیسے روایتی قومی پلیٹ فارم کو اس حقیقت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے کہ ’’محض سیکولر نعرہ‘‘ اور ’’خوف کی سیاست‘‘ اب مسلمانوں کیلئے قابلِ قبول نہیں رہی۔ شعوری ووٹ، سوالات، محاسبہ اور نمائندگی کا مطالبہ اب حقیقت بن چکا ہے۔یہ تبدیلی کسی حادثے کا نتیجہ نہیں، بلکہ دہائیوں کی بےقدری، سیاسی نظراندازی اور نمائندگی کی کمی کے خلاف اجتماعی ردِعمل ہے۔ مسلمانوں نے ہمیشہ کانگریس کو اقتدار تک پہنچایا، لیکن عملی سطح پر وہ نہ فیصلہ سازی میں شامل کیے گئے، نہ پالیسی کے دل میں جگہ دی گئی، اور نہ کل ہند سطح پر انہیں معتبر قیادت فراہم کی گئی۔یہ لمحہ کانگریس کیلئے نہ صرف شدید لمحۂ فکریہ ہے بلکہ مقامِ عبرت بھی—کہ ایک زمانہ تھا جب سترہ سے زائد ریاستوں میں کانگریس کی حکومت تھی، اور آج صورت یہ ہے کہ متعدد ریاستیں جیسے اڈیشہ، دہلی، آندھرا پردیش، ہریانہ، پنجاب اور آسام جہاں کبھی کانگریس کی مستحکم حکمرانی تھی، وہاں آج وہ نہایت کمزور ہوچکی ہے۔ یہ زوال کسی ایک انتخاب کا نتیجہ نہیں، بلکہ دہائیوں کی سیاسی بےحسی، اندرونی انتشار اور زمینی حقیقتوں سے لاتعلقی کا ثمر ہے۔بہار کے مسلم علاقوں میں انتخابی سرگرمی اور سیاسی بیداری میں واضح اضافہ دیکھا گیا۔ متعدد مطالعات کے مطابق مسلم اکثریتی حلقوں میں ماضی کے مقابلے میں ووٹ ڈالنے کی شرح میں تقریباً 12 سے 13 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا—جو اس بات کا اعلان ہے کہ اب ووٹ جذبات پر نہیں، حکمت اور منصوبہ بندی پر ڈالا جا رہا ہے۔اسی تناظر میں سیماچل کے حلقوں میں اے آئی ایم آئی ایم کی پیش قدمی اور کامیابی نے یہ ثابت کیا کہ مسلمان اب ایسے سیاسی متبادل کو ترجیح دیتے ہیں جو ان کی زبان، ان کے مسائل اور ان کے جغرافیائی حالات کی حقیقی نمائندگی کرے۔ یہ تبدیلی واضح اعلان ہے کہ مسلمان اب محض ’’سیکولر دعوؤں‘‘ کے سہارے ووٹ دینے کیلئے تیار نہیں—وہ ایسی قیادت چاہتے ہیں جو ان کیلئے بولے بھی، لڑے بھی اور فیصلہ سازی کی میز پر ان کی موجودگی بھی یقینی بنائے۔اصل مسئلہ یہ ہے کہ کانگریس نے دہائیوں تک مسلمانوں کو صرف انتخابی ضرورت سمجھا، مگر نہ عملی نمائندگی دی اور نہ پالیسی کے دل میں جگہ دی۔ آج بھی کانگریس کے پاس کوئی معتبر، مضبوط، سنجیدہ اور کل ہند سطح پر اعتماد رکھنے والا مسلم چہرہ موجود نہیں—نہ احمد پٹیل جیسا فکری قد، نہ غلام نبی آزاد جیسی سیاسی گرفت، نہ روشن بیگ جیسی زمینی شناخت، اور نہ نئی نسل میں قیادت پیدا کرنے کی کوئی سنجیدہ کوشش۔آج مسلمان کھل کر کہہ رہے ہیں کہ ہم مجبور ووٹر نہیں—بااختیار فیصلہ ساز ہیں ،ہمارے ووٹ کی قیمت ہے—اور ہم اسے ضائع نہیں کریں گے ۔ہم نمائندگی نہیں—شراکت چاہتے ہیں ۔ اگر کانگریس نے مسلم قیادت کو مضبوط نہ کیا، انہیں فیصلہ سازی میں حقیقی حصہ نہ دیا اور نمائندگی کی بحالی کو عملی شکل نہ دی، تو آنے والے انتخابات اس کیلئے تباہ کن ثابت ہوسکتے ہیں۔ بہار کا پیغام یہی ہے کہ آج مسلمان کانگریس کے محتاج نہیں—بلکہ کانگریس مسلمانوں کی محتاج بنتی جا رہی ہے۔راہل گاندھی اور قیادت کو چاہیے کہ وہ یاترا اور ٹوئٹ کی سیاست سے نکل کر زمین کی سیاست کریں، پارٹی ڈھانچے کی اصلاح، شفافیت، میرٹ، مسلم نمائندگی اور زمینی نیٹ ورک کی بحالی پر سنجیدہ توجہ دیں—ورنہ یہ کہانی ختم ہونے میں دیر نہیں لگے گی۔آج مسلمان پوری وضاحت کے ساتھ اعلان کر رہے ہیں کہ‌ ہم سیاسی غلامی نہیں—سیاسی شراکت چاہتے ہیں ۔ اگر کانگریس نے آنکھیں نہ کھولیں، اپنا رویہ نہ بدلا، اور مستقبل کی سیاست میں مسلمانوں کو مساویانہ شریک نہ کیا، تو تاریخ اسے صرف ایک کھوئی ہوئی جماعت کے طور پر یاد کرے گی۔ کانگریس کیلئے سبق صرف ایک ہے یا بدلو—یا بکھرو‌ ؎ جو سمجھتے تھے کہ ان کے سوا کوئی نہیںوقت کہتا ہے کہ ایسا بھی کبھی ہوتا نہیںhaleemmansoor@gmail.com

Tags: بہار
Md Yasin Jahazi

Md Yasin Jahazi

Next Post
تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

بھارت کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کا کردار: سیمینار اختتام پذیر

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

منتخب کردہ

تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

خلاصہ تحریک آزادی ہند اور جمعیت علمائے ہند

4 مہینے ago
دعا مومن کا ہتھیار ہے لیکن پیش قدمی بھی ضروری ہے!

دعا مومن کا ہتھیار ہے لیکن پیش قدمی بھی ضروری ہے!

7 مہینے ago

مقبول

  • اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    ہندوستانی مسلمان اورمناسب حکمت عملی کی ضرورت!

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • فتنوں کے سدِّ باب میں علماءِ حق کا کردار: امت کی بقا کا ضامن

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • جامع مسجد مولانا کمال الدین دھار کے بارے میں چند ضروری تاریخیں

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • قربانی میں اسلامی اصلاحات

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • کمال مولا مسجد کو مندر قرار دینے کا فیصلہ

    0 shares
    Share 0 Tweet 0

ہم سے جڑیے

ہمارا خبری نامہ حاصل کریں

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetuer adipiscing elit. Aenean commodo ligula eget dolor.
SUBSCRIBE

زمرہ جات

اہم روابط

  • لاگ ان کریں
  • Entries feed
  • Comments feed
  • WordPress.org

ہمارے بارے میں

جہازی میڈیا باشعور افراد کی ایک ایسی تحریک ہے، جو ملت اسلامیہ کی نشاۃ ثانیہ کے لیے اپنی فکری و عملی خدمات پیش کرنے کے لیے عہدبند ہوتے ہیں۔ اس لیے ہر وہ شخص اس تحریک کا ممبر بن سکتا ہے، جو اس نظریہ و مقصد سے اتفاق رکھتا ہے۔

  • ہمارے بارے میں
  • قوائد و ضوابط
  • کاپی رائٹس
  • پرائیویسی پالیسی
  • رابطہ

© 2025 Jahazi Media Designed by Mehmood Khan 9720936030.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • ہوم
  • اسلامیات
  • جمعیۃ علماء ہند
  • زبان و ادب
  • قومی و بین الاقوامی
  • اہم خبریں
    • دہلی
    • اتر پردیش
    • کرناٹک
    • مہاراشٹر
  • غزل
  • مضامین
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • دیگر مضامین
  • ترجمہ و تفسیر قرآن

© 2025 Jahazi Media Designed by Mehmood Khan 9720936030.