مولانا عبدالحمید نعمانی
عالمی منظر نامے میں بھارت کہاں ہے اور اسے وشو بنانے کا عملی طریقہ کیا ہو سکتا ہے؟یہ وقت کا اہم سوال ہے, لیکن اسے فرقہ پرستی کے خطرناک بڑھتے ہوئے رجحان نے بڑی حد تک بے معنی اور ناقابل توجہ بنا دیا ہے، فرقہ وارانہ تفریق و تقسیم اور کئی طرح کے داخلی انتشار و افتراق کی وجہ سے آگے کی طرف دیکھتے ہوئے ملک کی تعمیر و ترقی کا جذبہ پروان چڑھنے کے بجائے، انتقام و بدلہ لینے کا نفرت انگیز جذبے کو پیدا کرنے اور اسے بڑھانے پر زیادہ زور و توجہ دی جا رہی ہے، اس سے ملک کے ایک بڑے حصے میں منفی ذہن بننے کے ساتھ اپنے سے اختلاف رکھنے والوں سے بدلہ لینے کی آگ، جسے قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال، لوگوں خصوصا نوجوانوں میں برابر جلتے ہوئے دیکھنا چاہتے ہیں کا دائرہ گزرتے دنوں کے ساتھ بڑھتا جا رہا ہے، برسوں پہلے ونائک دامودر ساورکر نے” پرتی شودھ ” (انتقام ) کے نام سے ایک کتاب لکھی تھی، اسے پھر گزشتہ دنوں دہلی کے ایک فرقہ پرست اشاعتی ادارے نے شائع کیا ہے، اس کتاب نے ماضی میں ایک خاص حلقے خصوصا ہندوتو وادی عناصر کو بری طرح متاثر کیا تھا، 2014 کے بعد ایسے افراد کی تعداد میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے، ملک کے بدلتے مخصوص حالات میں مذہب و سیاست کے نام پر ایسے افراد تیزی سے سامنے آئے اور برابر آتے جا رہے ہیں جنہوں نے فرقہ پرستی اور ہندوتو کو ایک منافع بخش کاروبار میں بدل دیا ہے، اس سلسلے میں تفوق قائم کرنے کو لے کر باہمی چپقلش و کشمکش بڑھتی جا رہی ہے، اسی کا حصہ ملک کے چار معروف مٹھوں کے شنکر آچاریوں کی دیگر سے مقابلہ آرائی ہے، رام جنم بھومی مندر اور دیگر ہندوتو وادی تحریکات اور سرگرمیوں اور ان سے وابستہ افراد کی اکثریت، بی جے پی، آر ایس ایس کے حلقے سے تعلق رکھتی ہے، دوسری طرف امبیڈکر واد نے برہمن وادی ہندوتو کے سامنے کئی طرح کے ایسے چلینجیز کھڑے کر دیے ہیں جن سے برہمن وادی نظام حیات، ورن آشرم دھرم اور چار طبقاتی نظام بری طرح زد میں آ گیا ہے، اس سے تمام تفوق پسند عناصر گھبراہٹ و تشویش میں مبتلا ہو گئے ہیں، شنکر آچاریہ سوامی اویمکتیشورنند بھی یہ کہتے نظر آ رہے ہیں کہ اسلام خطرہ تو ہے لیکن امبیڈکر واد سب سے بڑا خطرہ ہے، سوامی اننت جیسے لوگ تو غصے میں یہاں تک کہہ رہے ہیں کہ امبیڈکر دھرم مخالف کے ساتھ، ملک مخالف بھی تھے، اس سوچ سے پورے ملک خصوصا بی جے پی اقتدار والی ریاستوں میں بدلہ لینے کی ذہنیت بری طرح پروان چڑھ رہی ہے، اس بدلہ لینے کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ گاندھی جی اور ان کا فکر و عمل ہے لہذا ان کو مین اسٹریم سے الگ تھلگ کرنے کے لیے ہر سطح پر کوششیں کی جا رہی ہیں، ان کو پاکستان حامی، مسلم نواز قرار دینے کے ساتھ ہندو سبھا کے گوتم کھٹر جیسے لوگ ان کو مسلم زمین دار کی اولاد قرار دیتے ہیں، منریگا کا نام بدلنے میں بھی کہیں نہ کہیں بدلہ لینے کی ذہنیت اور تطہیری عمل کا جذبہ کام کرتا نظر آ رہا ہے، تقسیم وطن کے عمل میں ساورکر اور ان کے پیروکاروں میں یہ احساس تیزی سے پروان چڑھ رہا ہے کہ جناح پاکستان بنا کر اپنے مقاصد میں کامیاب ہو گئے ہیں لیکن ہماری منزل، برہمن وادی حکومت، ہندوتو راشٹر ابھی دور ہے، ان کو لگتا ہے کہ اس راہ میں، ملک کی اقلیتیں مسلم، عیسائی، سکھ وغیرہ اور دلت اور محنت کش طبقات بڑی رکاوٹ ہیں، لہذا ان کو کنارے لگانا ضروری ہے، لیکن دقت یہ ہے کہ ہندوتو وادیوں کے پاس بہتر نظام حکومت و حیات کا کوئی اچھا قابل قبول نمونہ و خاکہ نہیں ہے، منفی و فرقہ وارانہ ماحول بنا کر مختلف قسم کی غول بندی اور بھیڑ تنتر تو بنایا جا سکتا ہے لیکن مہذب مساوی نظام حکومت و حیات، بالکل امر دیگر ہے، ساورکر نے” ہندوتو "نامی کتاب میں کچھ مفروضات کو پیش کیا ہے، لیکن ان کے فکر و عمل میں ایک مہذب و پر امن سماج کی تشکیل و تعمیر کے لیے کوئی خاص رہ نمائی و روشنی نہیں ملتی ہے، اشتعال انگیزی کے ساتھ شدت پسندی اور تخریبی رجحان، ساورکر کی زندگی پر بری طرح حاوی نظر آتا ہے، ہندستانی سماج کے تناظر میں گاندھی، نہرو پٹیل، ڈاکٹر امبیڈکر، ساورکر، ڈاکٹر ہیڈ گیوار، گرو گولولکر اور مولانا آزاد رح، مولانا مدنی رح، محمد علی جناح، جیسے مخالف و متصادم کرداروں کے مختلف جہات و زاویے سے مطالعے و جائزے کی از سر نو ضرورت شدت سے محسوس ہوتی ہے، اس سے بھارت کے وسیع تر تناظر میں بہتر افہام و تفہیم کی راہ ہموار ہو گی، دونوں طرح کے موافق و متصادم شخصیات کے متضاد کردار سے فرقہ وارانہ ہم آہنگی، سیکولر نظام حکومت، جمہوریت، ہندو مسلم راشٹر ،برہمن واد، ہندوتو، تشدد، عدم تشدد، اکثریت و اقلیت کے درمیان تعلقات کی نوعیت کی تصویریں بھی سامنے آئیں گی اور بھارت کے عوام کو ان کے انتخاب و انکار کی آزادی ملے گی، موجودہ حالات میں بے تحاشا پروپیگنڈے کے گرد و غبار کی وجہ سے اس قدر اندھیرا چھا گیا ہے کہ عام آدمی کے علاوہ خواص کی بڑی تعداد کو بھی چہرے کی شناخت میں خاصی دقتوں کا سامنا ہے، یہ سب ہندو وقار و عظمت کی بازیابی و واپسی اور ہندوتو اور سناتن دھرم و سنسکرتی کے تحفظ و بقا۶ کے نام پر کیا جا رہا ہے، حالاں کہ قدیم دور سے آج سے کچھ عرصے پہلے کی تاریخ و روایت میں سناتن دھرم کے نام سے کسی دھرم، خصوصا معروف ہندو دھرم کا کوئی ذکر نہیں ملتا ہے، جس طرح نئی نئی باتوں کو یا کچھ مدت پہلے کے مراسم و روایات کو ہندو مت کا حصہ بنا کر سامنے لایا گیا اور آئے دن لایا جاتا ہے، وہ اس کی صریح تردید و تکذیب ہے کہ ہندوتو وادیوں کے بتائے و بیان کردہ فکر و عمل کا سناتن دھرم سے کوئی تعلق ہے، سناتن دھرم، بہ طور دھرم، دھرم گرنتھوں، دیگر کسی تاریخی کتاب حتی کہ آج کے سرکاری دستاویز و کاغذ میں بھی درج نہیں کیا گیا ہے اور نہ کیا جاتا ہے، سناتن دھرم و سنسکرتی کا نعرہ، ہندوتو وادیوں کا سراسر مفروضہ اور نیا بیانیہ ہے اور جو بھی نیا اور ایجاد بندہ ہوگا وہ خود بہ خود سناتن(قدیم )کے دائرے و زمرے سے باہر ہو جائے گا، کچھ دنوں پہلے کئی آچاریہ، جے بھگوان گوئل، وشو ہندو پریشد، بی جے پی کے ترجمانوں کے سامنے ایک معروف چینل کے پروگرام میں ہم نے سناتن کے سلسلے میں کئی سوالات و نکات رکھے تھے لیکن ان میں سے کسی کے پاس بھی مذہب و تاریخ، اور زبان و لغت کے حوالے سے کوئی واضح جواب نہیں تھا، آج کی تاریخ میں ہندوتو وادی عناصر، بدلے کے نفرت انگیز جذبے سے، دھرم کے نام پر جوکچھ بھی کر رہے ہیں وہ دھرم نہیں بلکہ سراسر "دھاندلی ” ہے، ویسے بھی برہمن وادی دھرم، جسے بعد میں ہندو دھرم کا نام دے دیا گیا ،انسانی سماج کے لیے، بہ طور دھرم کے، زیادہ باعث توجہ و کشش اور قابل قبول نہیں رہا ہے، وہ دنیا کے کسی ملک میں، دیگر مذاہب ،اسلام بدھ مت، عیسائیت وغیرہ کی طرح، نہیں گیا اور نہ اس کا تبلیغی مذہب و دھرم کی حیثیت سے کوئی تعارف رہا ہے، اسے دعوتی مذہب کا درجہ و مقام کبھی بھی حاصل نہیں تھا اورنہ اب ہے، اس میں وشو گرو اور عالمی مذہب کی اہلیت نہیں ہے، برہمن وادی عناصر نے نے جو لٹریچر مرتب کیا اور سماج بنایا ہے، اس کے حساب سے سارے دیوی دیوتا اور بھگوان صرف بھارت میں پائے جاتے ہیں، سب کا جائے قیام و رہائش، بھارت کی جغرافیائی حدود میں ہے، دھرم کا یہ تنگ و محدود تصور و معنی، کسی بھی سنجیدہ و معقول آدمی کے لیے قابل فہم و اختیار نہیں رہ گیا ہے، دین، دھرم، خدائی و آسمانی ہدایت و پیغام ہے، اسے اپنانے سے آبا۶ و اجداد سے خونی نسبت و رشتہ ختم نہیں ہو جاتا ہے اور اسے ختم کرنے کے لیے اسلام کہتا بھی نہیں ہے، اس کو صحیح طور سے نہ سمجھ پانے کی وجہ سے ہندوتو وادی عناصر،” شدھی اور گھر واپسی ” کی مہم چلائے ہوئے ہیں، اس سلسلے میں یہ کہنا پوری طرح غلط اور جہالت پر مبنی ہے کہ آج کے ہندستانی مسلمانوں کی اکثریت کا تعلق ہندو آبا۶ و اجداد سے یا کچھ دلت دانش وروں کے بہ قول بدھ آبا۶ و اجداد سے ہے، مسلمانوں کو اپنے آبا۶ و اجداد سے نسبت و تعلق سے انکار کب ہے ؟ دین اسلام، مخصوص عقائد اور ان کے تحت مخصوص اعمال و مراسم کی ادائیگی سے عبارت ہے نہ کہ آبا۶ و اجداد سے تعلق و نسبت سے انکار کرنا، اس کی تو سرے سے کوئی ضرورت ہی نہیں ہے، ایسی حالت میں تاریخ میں ہونے والے واقعات اور کاموں کا آج بدلہ لینے کی تبلیغ و ترغیب، سراسر نا سمجھی اور تاریخی شعور و آگہی سے دوری کا کھلا اظہار ہے، سومناتھ پر حملے کے اسباب، تاریخ میں مندرج ہیں، محمود غزنوی تو بھارت کے حصے غزنی سے تعلق رکھتا تھا، ہندو راجے بھی مندروں پر حملے کرتے اور ان میں موجود دھن دولت کو لوٹتے تھے، مراٹھوں اور شیوا جی کی تاریخ بھی اس سے خالی نہیں ہے، دائیں بازو کے معروف مورخ، جدو ناتھ سرکار نے بھی اس کی خاصی تفصیلات اپنی تاریخی کتابوں میں دی ہیں، اس سلسلے میں بدلہ لینے کی دعوت، تخریبی ذہنیت کی علامت اور نئے جمہوری بھارت کے کر دار کے منافی ہے، سومناتھ مندر غزنوی حملے کے بعد بھی باقی تھا، اس میں پوجا پاٹ اور مذہبی مراسم کی ادائیگی میں کوئی رکاوٹ نہیں تھی، لہذا اس کو خاص رنگ میں پیش کرنا اور ہزار سالہ جشن منانا، ایک خالص سیاسی مقصد کے تحت انجام دیا جانے والا عمل ہے، کرشن اڈوانی وغیرہ نے تقسیم وطن کے بعد، اکثریتی سماج کو مسلم، مسجد بنام مندر کا عنوان دے کر ایک مخصوص راہ پر ڈال کر، غیر ضروری طور سے فرقہ وارانہ ماحول بنانے کی عمدا کوشش تھی، اسی لیے نہرو نے ایک سیکولر حکومت کے وزیراعظم ہونے کے ناتے، سومناتھ مندر کی تعمیر جدید میں سرکاری شراکت کو غلط بتایا تھا، سومناتھ مندر کی ملکیت پر ہندستانی مسلمانوں کا سرے سے کبھی کوئی دعوٰی نہیں تھا، اس تناظر میں لال کرشن اڈوانی کی سومناتھ تا اجودھیا رتھ یاترا، ہندو جذبات کو مشتعل کرنے کے ان کو بدلہ لینے کے لیے ابھارنے کا مطلب، صرف ایک سیاسی کھیل تھا، جب کہ حقیقتا اجودھیا کی بابری مسجد اور گجرات کے سومناتھ مندر کے درمیان کوئی موافقت اور جوڑ ہی نہیں تھالیکن زور زبردستی دونوں میں فرقہ وارانہ تعلق و رشتہ نکال کر، بدلے کی آگ میں جلتے ہوئے، اس بابری مسجد کو جارحانہ و دہشت گردانہ طریقے سے شہید کر دیا گیا، جس کے متعلق یہ بے بنیاد دعوٰی کیا گیا تھا کہ وہ رام مندر توڑ کر تعمیر کی گئی تھی، جب من گھڑت بیانیے اور کہانیوں کو تاریخ کا درجہ دے کر اسلامی و مسلم معابد و ماثر پر قبضہ کرنے کی مہم جاری کی گئی ہے تو اس کی مزاحمت اور حقیقت کو اجاگر کرنا اور من گھڑت کہانیوں و بیانیے پر سوال اٹھانا اور مزعومہ و مفروضہ دعوے کی تردید، ضروری ہو جاتی ہے،تمام با وسائل مسلم تنظیموں اور اداروں میں تحقیقاتی شعبے قائم کر کے تمام در پیش مسائل و معاملات کو سامنے لانا، وقت کا اہم تقاضا اور ضرورت ہے، اس کے بغیر ہندوتو وادی عناصر کی طرف سے سرکاری، غیر سرکاری دونوں سطح پر، مسلم سماج اور اسلامی شناخت کو مٹانے کی جارہی کوششوں پر روک کا آغاز نہیں ہو سکتا ہے، جب بدلتے بھارت میں بدلہ لینے کے عمل کو مین اسٹریم میں لے آیا گیا ہے تو اس سے بہ خوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ صورت حال کس قدر سنگین ہو گئی ہے، اس کی واضح مثال سنبھل کا معاملہ ہے کہ عدلیہ پر فرقہ پرست انتظامیہ حاوی ہوتی نظر آتی ہے، ایسی صورت حال میں ترجیحی بنیادوں پر توجہ دی کر کام کرنے اورتمام تر ضروری ممکنہ اقدامات، وقت کے متقاضی ہیں،

















