محمد یاسین جہازی
(زمانہ طالب علمی دارالعلوم دیوبند کی ضلعی انجمن :انجمن آئینہ اسلام طلبہ ضلع گڈا جھارکھنڈ کا ماہانہ دیواری پرچہ ــ’’ پرواز‘‘ کی ادارت کی ذمہ داری دی گئی تھی، اسی مناسبت سے لکھی گئی راقم کی پہلی تحریر پیش خدمت ہے۔ یہ تحریر من و عن پیش کی جارہی ہے، کیوں کہ اس میں کوئی بھی تبدیلی ایسی ہی ہوگی جیسے کہ کسی بڑے شخص کے بچپن کی تصویر میں داڑھی اور مونچھ بنادی جائے)
عصر حاضر میں حالات و مسائل اس قدر متنوع ہیں کہ ہر حالت کی تصویر کشی اور ہر مسئلہ کا حل پیش کرنا نہ صرف ناممکن ہے؛ بلکہ قوت بشریہ سے خارج ہے؛ لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں ہونا چاہیے کہ ہم حالات کی اس رسہ کشی کو دیکھ کر شکست کھاجائیں اور ان مسائل کے سامنے اپنے کو درماندہ اور عاجز تسلیم کرلیں۔بلکہ عزم و حوصلہ کا سامان اور شوق کامل کا توشہ لے کر حالات کے مقابلہ کے سفر پر نکل جانا چاہیے ؛ کیوں کہ اگر ہمارے پاس یہ دونوں چیزیں ہوں گی ، تو کائنات کی کوئی شئی ہمارے کنٹرول سے باہر نہیں ہوسکتی۔ ؎
گر حوصلے بلند ہوں اور کامل ہو شوق بھی
وہ کام کونسا ہے جو انساں نہ کرسکے
لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ کام خواہ کتنا ہی آسان کیوں نہ ہو، اگر اس کی تکمیل کی ذمہ داری کسی ناہل اور غیر ذمہ دار شخص کے سپرد کردیا جائے ، تو اس کا انجام یا توبگاڑ کی شکل اختیار کرلے گا یا نقش بربادی کا نمونہ بن جائے گا، جس کے بعد صاحب عمل کو دادو تحسین کچھ اس انداز میں پیش کی جائے گی کہ : نااہل، ناسپاس،غیر ذمہ دار، متساہل، طالب شہرت اور ان جیسے مترادفات اور ہم معنی الفاظ۔
ادارت صرف کام نہیں؛ بلکہ بہت مشکل اور دشوار گزارکام ہے ، جو ہر ایرے غیرے نہیں کرسکتا؛ خاص کر مجھ جیسا نکما، بے ہمت، بے حوصلہ، بے شوق؛ بلکہ بد شوق و بد ذوق، اس فن سے بے بہرہ، ناکارہ، ناواقف اور انجان تو کر ہی نہیں سکتا۔ اگر بمشکل تمام کر بھی لیتا ہے ، تو اس کا انجام وہی سابقہ دونوں شکلوں میں نظر آئے گا۔
اپنی جو حقیقت تھی، وہ آشکارا کردی گئی ، اس میں نہ کسی تصنع کا شبہ کیا جاسکتا ہے اور نہ منفی مدحت طلبی کاالزام لگانے کی گنجائش نکل سکتی ہے ، کیوں کہ عربی کا مقولہ ہے کہ صاحب البیت ادریٰ بما فیہ(گھر والا اپنے گھر کے بارے میں جانتا ہے کہ گھر میں کیا کچھ ہے) اس کے باوجود اگر یہ بارگراں میرے دوش ناتواں پر لاد دیا گیا ہے اور اس کے نہ اٹھاسکنے کے باوجود اٹھانے اور پورے سال لیے پھرنے کا حکم دے دیا گیا ہے ، تو اس کا انجام بھی آپ کے سامنے ہوگا؛ لیکن اگر آپ نے ہمیں سہارا دیا ہے، ہمارے اندر عزم و حوصلہ کی روح پھونکی ہے ، ہماری امنگ و ترنگ میں جلترنگ کا رنگ بھرنے کی دعا دی ہے ، ہماری پیٹھ کو دست شفقت سے تھپتھپایاہے اور آپ تمام ہماری مدد کے لیے کھڑے ہیں ، تو ہم پر امید ہیں کہ ان شاء اللہ ہم اس امتحان میں کامیاب ہوں گے ، اس گھاٹی کو بآسانی پارکرجائیں گے ؛ کیوں کہ ہماری پامردی میں کمزوری آسکتی ہے ، ہمارے حوصلے پست ہوسکتے ہیں ، ہماری گردن اس بوجھ سے خم کھاسکتی ہے اور ہم راہ مطلوب سے ہٹ سکتے ہیں؛ لیکن آپ کی دعا، آپ کی مدد اور آپ کی مسیحائی ہمیں شکست کھانے نہیں دے گی ، ان شاء اللہ تعالیٰ۔ حسبنا اللہ و نعم الوکیل۔





















