بدھ, مئی 6, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Jahazi Media – Latest News, Articles & Insights
  • ہوم
  • جمعیۃ علماء ہند
  • اسلامیات
  • زبان و ادب
  • مضامین
    • All
    • جاوید اختر بھارتی
    • دیگر مضامین
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی

    بنگال میں ایس آئی آر :نشانے پر مسلمان!

    حضرت مولانا عبداللہ مغیثیؒ ایک عہد ساز شخصیت

    ماں جی آخر سوکھی روٹی کون کھاتا ہے

    اسرائیل کا وجود ایک ظلم ہے

    اسرائیل کا وجود ایک ظلم ہے

    باپ کا آشیانہ بکا تب بیٹی کا آشیانہ بسا

    باپ کا آشیانہ بکا تب بیٹی کا آشیانہ بسا

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    حضرت مولانا عبداللہ مغیثیؒ ایک عہد ساز شخصیت

    حضرت مولانا عبداللہ مغیثیؒ ایک عہد ساز شخصیت

    فرقہ وارانہ سیاست کا تاریخی پس منظر اور جمعیت علمائے ہند کا معقول اصولی موقف

    فرقہ وارانہ سیاست کا تاریخی پس منظر اور جمعیت علمائے ہند کا معقول اصولی موقف

    ہندستان فرقہ پرستی کی راہ پر

    وندے ماترم کی مخالفت پر ماتم کا مقصد

    امت مسلمہ پر یلغار

    ایرانی  قیادت کے استحکام کا راز ہے —موزیک سسٹم

    ایرانی  قیادت کے استحکام کا راز ہے —موزیک سسٹم

    Trending Tags

    • Golden Globes
    • Mr. Robot
    • MotoGP 2017
    • Climate Change
    • Flat Earth
  • اہم خبریں
    • All
    • اتر پردیش
    • دہلی
    • دیگر ریاستیں

    سمویدا

    حضرت مولانا عبداللہ مغیثیؒ ایک عہد ساز شخصیت

    مدرسہ کے بچوں کو چائلڈ لائن کے حوالے کرنے کی مذمت

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    اتراکھنڈ و گجرات میں منظور یونیفارم سول کوڈ قطعی منظور نہیںآل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ

    آج یوم تاسیس تحریک تبلیغ ہے

    مبارک پور کی ایک پرنور شب: اہلِ دل کی صحبت میں

    باشندگان بہار سے ایک دردمندانہ و مخلصانہ اپیل و گزارش

    سابق چیف الیکشن کمیشن آف انڈیا  سے جہازی مکالمات

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    آؤ نسل کو سنواریں، مستقبل بنائیں

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    بھارت کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کا کردار: سیمینار اختتام پذیر

    باشندگان بہار سے ایک دردمندانہ و مخلصانہ اپیل و گزارش

    بہار کا فیصلہ — کانگریس کیلئے سخت پیغام

    مفتی اعظم ہند پر سیمنار 21-22نومبر کو نئی دہلی میں

    مفتی اعظم ہند پر سیمنار 21-22نومبر کو نئی دہلی میں

  • غزل
  • ترجمہ و تفسیر قرآن
    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    Trending Tags

    • Sillicon Valley
    • Climate Change
    • Election Results
    • Flat Earth
    • Golden Globes
    • MotoGP 2017
    • Mr. Robot
  • ہوم
  • جمعیۃ علماء ہند
  • اسلامیات
  • زبان و ادب
  • مضامین
    • All
    • جاوید اختر بھارتی
    • دیگر مضامین
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی

    بنگال میں ایس آئی آر :نشانے پر مسلمان!

    حضرت مولانا عبداللہ مغیثیؒ ایک عہد ساز شخصیت

    ماں جی آخر سوکھی روٹی کون کھاتا ہے

    اسرائیل کا وجود ایک ظلم ہے

    اسرائیل کا وجود ایک ظلم ہے

    باپ کا آشیانہ بکا تب بیٹی کا آشیانہ بسا

    باپ کا آشیانہ بکا تب بیٹی کا آشیانہ بسا

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    حضرت مولانا عبداللہ مغیثیؒ ایک عہد ساز شخصیت

    حضرت مولانا عبداللہ مغیثیؒ ایک عہد ساز شخصیت

    فرقہ وارانہ سیاست کا تاریخی پس منظر اور جمعیت علمائے ہند کا معقول اصولی موقف

    فرقہ وارانہ سیاست کا تاریخی پس منظر اور جمعیت علمائے ہند کا معقول اصولی موقف

    ہندستان فرقہ پرستی کی راہ پر

    وندے ماترم کی مخالفت پر ماتم کا مقصد

    امت مسلمہ پر یلغار

    ایرانی  قیادت کے استحکام کا راز ہے —موزیک سسٹم

    ایرانی  قیادت کے استحکام کا راز ہے —موزیک سسٹم

    Trending Tags

    • Golden Globes
    • Mr. Robot
    • MotoGP 2017
    • Climate Change
    • Flat Earth
  • اہم خبریں
    • All
    • اتر پردیش
    • دہلی
    • دیگر ریاستیں

    سمویدا

    حضرت مولانا عبداللہ مغیثیؒ ایک عہد ساز شخصیت

    مدرسہ کے بچوں کو چائلڈ لائن کے حوالے کرنے کی مذمت

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    اتراکھنڈ و گجرات میں منظور یونیفارم سول کوڈ قطعی منظور نہیںآل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ

    آج یوم تاسیس تحریک تبلیغ ہے

    مبارک پور کی ایک پرنور شب: اہلِ دل کی صحبت میں

    باشندگان بہار سے ایک دردمندانہ و مخلصانہ اپیل و گزارش

    سابق چیف الیکشن کمیشن آف انڈیا  سے جہازی مکالمات

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    آؤ نسل کو سنواریں، مستقبل بنائیں

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    بھارت کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کا کردار: سیمینار اختتام پذیر

    باشندگان بہار سے ایک دردمندانہ و مخلصانہ اپیل و گزارش

    بہار کا فیصلہ — کانگریس کیلئے سخت پیغام

    مفتی اعظم ہند پر سیمنار 21-22نومبر کو نئی دہلی میں

    مفتی اعظم ہند پر سیمنار 21-22نومبر کو نئی دہلی میں

  • غزل
  • ترجمہ و تفسیر قرآن
    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    Trending Tags

    • Sillicon Valley
    • Climate Change
    • Election Results
    • Flat Earth
    • Golden Globes
    • MotoGP 2017
    • Mr. Robot
No Result
View All Result
Jahazi Media – Latest News, Articles & Insights
No Result
View All Result
Home قومی و بین الاقوامی

فکر و عمل میں فرقہ واریت کی شمولیت

by Admin
مئی 6, 2026
in قومی و بین الاقوامی
0
0
SHARES
0
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

ملاحظات

مولانا عبدالحمید نعمانی

انصاف کا تقاضا ہے کہ انصاف ہوتا ہوا نظر بھی آنا چاہیے، برعکس نظر آنے کا مطلب صاف ہے کہ کچھ نہ کچھ گڑ بڑ ہے، اپنی قوم، قبیلے کی صحیح حمایت اور اس کے حقوق و اختیارات کے تحفظ کے لیے جدوجہد کرنا نہ تو تعصب ہے اور نہ فرقہ پرستی بلکہ بے جا و ناجائز معاملے میں بھی، دیگر کے حقوق و مفادات کو نظرانداز کر کے اپنی کمیونٹی کے ساتھ کھڑا ہونا، خالص تعصب و فرقہ پرستی ہے، اسے تاریخ میں شامل کر کے حال و مستقبل کی نسلوں کو تخریب و فساد کی راہ پر ڈال دینا، ایک انسانیت دشمن عمل ہے، یہ آج کی تاریخ میں مختلف سطحوں پر بہت کچھ کیا جا رہا ہے، اس جانب داری و فرقہ واریت کے اثرات ہر شعبہ زندگی میں نظر آتے ہیں، اس نے انصاف اور عدالتی فیصلے کے پیمانے کو بھی ادھر ادھر جھکانے کا کام کیا ہے، قانون کی آنکھوں پر پٹی بندھے ہونے کا مطلب ہے کہ کسی کی منھ دیکھی فیصلہ نہیں ہوگا کہ قانون کی نظر میں سب برابر ہیں لیکن کبھی کبھار ایسا ہوتا نظر نہیں آتا ہے، ملک کی کئی عدالتوں کے مختلف فیصلوں میں ایسا نظر آتا ہے، خلق خدا حیران ہے کہ یہ کیا ہو رہا ہے، یہ صرف ہندو مسلم فرقے تک محدود نہیں ہے بلکہ کسی حلقے سے ہونے نہ ہونے پر منحصر ہوتا ہے، حلقے کے باہر کے ہندو اور غیر مسلم بھی دوہرے پیمانے و معیار کی زد میں آ جاتے ہیں اور یہ کوئی ایک شعبہ حیات تک محدود نہیں ہے، بلکہ مختلف شعبہ ہائے حیات میں بھی دوہرے معیار کی کارفرمائی صاف صاف نظر آتی ہے، ہندو مسلم کے نام پر سرکاری عملے کی طرف سے اقدامات میں بھید بھاؤ کھلی آنکھوں دیکھا جا سکتا ہے، یہ گزشتہ کچھ برسوں سے بہت زیادہ نظر آ رہا ہے، بی جے پی اقتدار والی ریاستوں میں تو ہندوتو کے نام پر فرقہ پرستی کی ایک لہر سی چل پڑی ہے، حلقے کے اندر اور باہر والے افراد کے سلسلے میں بھید بھاؤ میں ہندو مسلم کی تفریق تک محدود نہیں ہے بلکہ ایک ہی کمیونٹی کے افراد اور پارٹیاں بھی کھلی تفریق کی شکار ہیں، اس سے انصاف کا عمل اور سیکولر، جمہوری کردار بری طرح متاثر ہو جاتا ہے، ریاستوں کے انتخابات میں پارٹی لیڈروں کی شمولیت اور ان کی طرف سے حمایت و مخالفت تو سمجھ میں آتی ہے لیکن وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کا پارٹی بن کر سامنے آنا اور سرکاری سہولیات و مراعات کا فائدہ اٹھا کر پارٹی امید وارں کی حمایت اور دوسرے کی مخالفت، سمجھ سے پرے ہے، اس نے جمہوری نظام کو بری طرح متاثر کیا ہے اور ملک کی گاڑی ایک غلط پٹری پر چل پڑی ہے، وزیراعظم وغیرہ کا فرقہ واریت کو ہوا دینے کا مطلب ہے کہ ملک کو فساد کی راہ پر ڈال دینا، آج کی تاریخ میں یہی کچھ ہو رہا ہے، اس پر سوچا جانا چاہیے، وزیراعظم وغیرہ تو سب کا ہوتا ہے اس پد(منصب )و پوزیشن کو نظرانداز کے وزیراعظم و وزیر داخلہ وغیرہ بھی کھلے عام فرقہ واریت کو موقع بہ موقع ہوا دے کر سماج میں فرقہ پرستی کا زہر اور نفرت و عداوت کی آب یاری کرتے رہتے ہیں، دیکھا دیکھی دوسرے، تیسرے درجے اور دیگر لیڈر، کارکن و رضا کار بھی مسلمانوں اور اسلام کے خلاف اشتعال انگیزی کر کے نمبر بڑھوانے اور چھوٹے سے بڑا لیڈر بننے کے خبط میں مبتلا ہو جاتے ہیں، آر ایس ایس اور بی جے پی کے حلقے سے باہر کے ہندوتو وادی عناصر بھی مسلمانوں اور اسلام کے خلاف بڑھ چڑھ کر اشتعال انگیزی کر کے عام ہندوؤں کو اپنے ساتھ لا کر کاروبار حیات چلاتے نظر آتے ہیں، اس معاملے میں اتنے آگے نکل گئے ہیں کہ آر ایس ایس اور بی جے پی میں بھی ان کو کمی نظر آتی ہے، یتی نرسنہا نند جیسے لوگوں کا کا کہنا ہے کہ آر ایس ایس اور بی جے پی والے بھی مسلم نوازی کی راہ پر چل رہے ہیں اور ان پر پاگل پن سوار ہے، آج کے تیز رفتار ذرائع ابلاغ کے دور میں یہ ذہنیت وسیع پیمانے پر لوگوں کے سامنے آرہی ہے، اس معاملے میں مسلم سماج اپنی صحیح باتیں بھی سماج کے سامنے پیش کرنے میں بہت پیچھے ہے، اس میں کام کرنے والے نیوز پورٹل کی ترجیحات الگ ہی قسم کی ہیں، ان پر جو لوگ اظہار خیال کرتے نظر آتے ہیں وہ بھی مسائل کا گہرا مطالعہ کیے بغیر محض پرانی باتوں کو دہراتے نظر آتے ہیں، دوسری طرف پورے ملک میں ہندوتو وادی عناصر ایک دوسرے سے رہ نمائی لے کر نئی نئی تنظیمیں بنا کر فرقہ پرستی کی سرگرمیوں میں لگ جاتے ہیں، اس نے پورے بھارت کو بارود کے ڈھیر پر کھڑا کر دیا ہے، فرقہ پرستی کے جذبے نے لوگوں میں اس قدر نفرت و اشتعال بھر دیا ہے کہ مسلم شناخت دیکھتے ہی وہ خونخوار درندے کی طرح حملہ آور ہو جاتے ہیں، اس کی تازہ مثال مولانا توصیف رضا کو ٹرین میں مار کر پھینک دینے کا معاملہ ہے، کچھ دنوں پہلے ایک پولیس اہلکار نے ٹرین میں مسلم ہونے کے سبب تین مسلمانوں کو گولی مار کر شہید کر دیا تھا، اس طرح کی درندگی ملک کے مختلف مقامات پر دلتوں، آدی واسیوں اور دیگر محنت کش، پس کردہ طبقات کے افراد کے ساتھ بھی کی جاتی ہے لیکن مسلمانوں کے معاملے میں نفرت و غصہ حد سے زیادہ ہے، فرقہ واریت کے واقعات پہلے بھی ہوتے تھے، تقسیم ہند سے پیدا شدہ حالات نے بھارت میں الگ ہی طرح کا فرقہ وارانہ ماحول پیدا کر دیا، جس میں فرقہ پرست ہندوتو وادی عناصر نے بھیانک فرقہ وارانہ فسادات برپا کر کے مسلمانوں کو جانی مالی طور سے ختم یا بے حیثیت و بے وجود کرنے کی تباہ کن مہم چلائی، جہاں مسلم بہت زیادہ اقلیت میں ہے وہاں بہ ذات خود قتل و غارت گری کر کے اسے ختم کرنے کی کوشش کی اور جہاں مسلم آبادی موثر ہے یا برابر سرابر یا اکثریت میں ہے وہاں فرقہ پرست سرکاری عملے، پولیس فورس اور اہلکاروں، افسروں سے ملی بھگت کرکے اسے ختم کرنے کی مہم شروع کی گئی، کسی نہ کسی شکل میں یہ سلسلہ تاہنوز جاری ہے، گزشتہ کچھ عرصے سے گجرات، جمشید پور، جبل پور، بھاگلپور، راوڑ کیلا وغیرہ کی طرح بڑے بڑے فسادات تو نہیں ہو رہے ہیں لیکن دیگر طریقوں، ترکیبوں سے مسلمانوں کو ختم اور دیوار سے لگانے کے مختلف قسم کے جتن کیے جاتے رہے ہیں، ہندو اکثریتی سماج کو الگ الگ طرح سے کھلے اور اشارے میں پیغام دینے کا کام کیا گیا کہ تم بے فکر رہو، ہندو ہردے سمراٹوں کے زیر سایہ چین کی بانسری بجاؤ، ،عیش کرو، رام کو لانے والی سرکاروں میں تو صرف عبدل کو ٹھونکا اور ٹھیک کیا جائے گا، ایسا دیکھنے میں بھی آتا رہتا ہے، لیکن گزرتے دنوں کے ساتھ بہت سے غیر مسلموں کے مختلف طبقات بھی ہندوتو کی یلغار کی زد میں آتے جا رہے ہیں، اب وہ بھی چینچ پکار کرنے لگے ہیں لیکن اس کا کوئی زیادہ اثر نہیں ہو رہا ہے کیوں کہ فیصلہ کن چیزیں عوام کی دسترس سے باہر ہو گئی ہیں، تمام جمہوری اداروں کی آزادانہ رول ختم کر کے ان کو مرکزی اقتدار کے کنٹرول میں کر لیا گیا ہے، معاملات کو ایسے طریقے سے ترتیب و ترکیب سے ملک کے سامنے لایا جا رہا ہے کہ لگتا ہے کہ سب کچھ سسٹم و قانون کے مطابق ہو رہا ہے، اس کی زد سب سے زیادہ محنت کش عوام خصوصا مسلمانوں پر پڑ رہی ہے، ایک مخصوص پس منظر میں ایک دو جگہ مسلمانوں کا ذکر کر کے ذہن کو ان سے جوڑ دیا جاتا ہے یا اشارے میں ان کی طرف متوجہ کر دیا جاتا ہے پھر ہوتی ہے اشتعال انگیزی اور اس پر پر تحسین نعرے بازی، اس سے ہندوتو کے لیے مطلوبہ ماحول تیار ہو جاتا ہے ،جب معاملے عدالتوں، ہائی کورٹ، سپریم کورٹ میں جاتے ہیں تو وہاں سے کہہ دیا جاتا ہے کہ متعلقہ تقاریر کسی خاص طبقہ کے خلاف نہیں ہیں اور نہ وہ تشدد و انتشار کو ہوا دیتی ہیں، سوال یہ ہے کہ کیا عمومی طریقے سے بھی اشتعال انگیزی صحیح ہو سکتی ہے، ؟حالاں کہ اشارے و کنارے بہت واضح ہیں، اگر فیصلے کرنے والے خود کو سماج میں شامل کر کے دیکھیں گے تو سب کچھ بآسانی سمجھ میں آ جائے گا، ظاہر ہے کہ گولی مارو،،،،،کو اور دیس کا غدار، بی جے پی، آر ایس ایس والوں اور ہندوؤں کو تو قرار نہیں دیا گیا ہوگا، اشارہ اور نشانہ بہت واضح ہے، انوراگ ٹھاکر جیسے لوگوں سے سوال کرکے اصل بات تک رسائی بہت زیادہ مشکل نہیں ہے، جس وقت تقریر ہوئی تو اس وقت ماحول پوری طرح ہندو مسلم کشیدگی کا بنا دیا گیا تھا، تم غدار کسے کہہ رہے تھے، ایسا نہیں ہے کہ سپریم کورٹ ججز بھی ایسی باتوں کو نہیں سمجھتے ہیں، بی جے پی لیڈر نشی کانت دوبے نے کچھ دنوں پہلے سپریم کورٹ کے متعلق کہا تھا کہ وہ ملک میں انارکی کے لیے ذمہ دار ہے، اس پر کسی معقول کارروائی کے بجائے لگتا ہے کہ بی جے پی اور ہندوتو وادیوں کے معاملے میں، نشی کانت دوبے جیسے لوگوں کے تنقید و تبصرے سے سپریم کورٹ کے ججز بھی بچنا چاہتے ہیں اور اس طرح کے الزام سے بچنے کے لیے ناقابل فہم فیصلے کیے جاتے ہیں، اس کا اندازہ اس سے ہوتا ہے کہ سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس گوگئ عدالت میں دلت، بدھسٹ ہونے کی بات کرتے تھے، انھوں نے جوتا مارنے والے کے خلاف واجب کارروائی کرنے کے بجائے معاف کر دیا اور ریٹائرڈ ہونے کے بعد دھریندر شاستری کے حضور پہنچ گئے، ایسی حالت میں سناتن اور ہندوتو کے نام پر شدت پسندی اور اشتعال انگیزی کرنے والوں کی حوصلہ افزائی ہوگی کہ نہیں، ؟ انوراگ ٹھاکر کی طرح جتنے لوگ دیگر کو غدار قرار دے کر گولی مارنے کی ترغیب و دعوت دیتے نظر آتے ہیں ان کا ذہن و عمل کس راہ پر گامزن ہو گا، اگر کوئی مسلم یا دیگر پارٹی کا کوئی لیڈر بھی دیس کے غداروں کو گولی مارو ،،،،کو کا نعرہ لگا دے گا تو کیا اس کے کئی معانی نکال کر قابل سزا جرم قرار دینے دیر لگائی جائے گی، اگر نہیں تو ملک میں کیا فرقہ وارانہ ماحول بنے گا، سپریم کورٹ کی طرف سے انوراگ ٹھاکر اور پرویش ورما کو بغیر تنبیہ کے راحت دینے کا مطلب ہے کہ اس طرح کے نعرے اور باتیں قابل اعتراض نہیں ہیں، یہ کوئی بھی لگا اور کہہ سکتا ہے، پرویش ورما نے مسلمانوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ گھروں میں گھس کر عصمت دری اور قتل کریں گے، ظاہر ہے کہ ایسی باتیں اور نعرے قیام امن اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی قائم کرنے کی دعوت و ترغیب کے زمرے میں نہیں آ سکتے ہیں، اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ عدالتوں کے بہت سے فیصلے انصاف و آزادی کے تحفظ کا کام کرتے ہیں جیسا کہ گزشتہ دنوں جمیعتہ علماء ہند کی عرضی کی شنوائی کرتے ہوئے وندے ماترم گیت کو لازمی قرار نہ دینے سے متعلق دیا گیا فیصلہ ہے لیکن کئی سارے فیصلے ایسے بھی ہوتے ہیں جو ناقابل فہم اور لوگوں میں مایوسی پیدا کرتے ہیں اور کئی سارے سوالات چھوڑ جاتے ہیں، گوری لنکیش، کلبرگی، پانسرے، اور نریندر دابھولکر کو گولی مار کر موت کا گھاٹ اتارنے کے الزام میں جو افراد گرفتار ہوئے وہ گزرتے دنوں کے ساتھ بری اور ضمانت پر رہا ہوتے جا رہے ہیں، سوال یہ ہے کہ پھر آن کے قاتل کون ہیں؟قتل ہونا تو طے ہے، بے قصور کو سزا نہیں ہونا چاہیے، اس کو بری کیا جانا چاہیے، لیکن اصل قاتلوں کی گرفتاری اور سزا دلانے کی ذمہ داری کس کی ہے، ؟ابھی حال ہی میں دابھولکر قتل معاملے میں مجرم قرار دیے گئے کو ممبئی ہائی کورٹ نے ضمانت دے دی ہے، اس طرح کی رہائی، راحت اور ضمانت کے اثرات یقینی طور سے اچھے مرتب نہیں ہوں گے اور نہ ہو رہے ہیں، بے قصور کا بری ہونا مسئلہ نہیں ہے بلکہ مسئلہ اصل قاتل کا گرفت میں نہ آنا ،بچ جانا اور متاثرین کو انصاف نہ ملنا ہے، کئی سارے معاملے میں چاہے دیر سے ہی سہی انصاف ملتا ہے لیکن جن معاملے میں انصاف نہیں مل پاتا ہے، مختلف سنگین جرائم کے الزامات میں ماخوذین کی ضمانت و رہائی پر ان کا پھول مالا سے شاندار استقبال کیا جاتا ہے، ایسا عموما بھارت میں ہوتا ہے، ایسے معاملات کے متعلق موثر مکینزم بنانے کی شدید ضرورت سے تو انکار نہیں کیا جا سکتا ہے، انصاف نہ ملنے کی صورت میں بھارت کی الگ قسم کی شبیہ و تاریخ بنے گی، فرقہ وارانہ مسائل میں تو از حد احتیاط کی ضرورت ہے، ان کے سلسلے میں فکر و عمل پر فرقہ واریت کی جھلک، دوررس نتائج کی حامل ہے،

Admin

Admin

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

منتخب کردہ

قرآن حکیم غیر مسلموں کی نظر میں

7 مہینے ago
آئی لو محمد۔۔ بٹ!!

آئی لو محمد۔۔ بٹ!!

7 مہینے ago

مقبول

  • حج کی فرضیت کا بیان 

    مسائل متفرقہ

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • مسائل نماز و طواف

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • طواف کے ارکان، شرائط، واجبات، مستحبات مکروہات

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • طواف کا بیان

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • مسجد حرام میں نماز پڑھنے کا بیان

    0 shares
    Share 0 Tweet 0

ہم سے جڑیے

ہمارا خبری نامہ حاصل کریں

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetuer adipiscing elit. Aenean commodo ligula eget dolor.
SUBSCRIBE

زمرہ جات

اہم روابط

  • لاگ ان کریں
  • Entries feed
  • Comments feed
  • WordPress.org

ہمارے بارے میں

جہازی میڈیا باشعور افراد کی ایک ایسی تحریک ہے، جو ملت اسلامیہ کی نشاۃ ثانیہ کے لیے اپنی فکری و عملی خدمات پیش کرنے کے لیے عہدبند ہوتے ہیں۔ اس لیے ہر وہ شخص اس تحریک کا ممبر بن سکتا ہے، جو اس نظریہ و مقصد سے اتفاق رکھتا ہے۔

  • ہمارے بارے میں
  • قوائد و ضوابط
  • کاپی رائٹس
  • پرائیویسی پالیسی
  • رابطہ

© 2025 Jahazi Media Designed by Mehmood Khan 9720936030.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • ہوم
  • اسلامیات
  • جمعیۃ علماء ہند
  • زبان و ادب
  • قومی و بین الاقوامی
  • اہم خبریں
    • دہلی
    • اتر پردیش
    • کرناٹک
    • مہاراشٹر
  • غزل
  • مضامین
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • دیگر مضامین
  • ترجمہ و تفسیر قرآن

© 2025 Jahazi Media Designed by Mehmood Khan 9720936030.