عبدالحمید نعمانی
جو عناصر اسلام کے بہ طور دین اور مسلمانوں کے بہ طور امت کے وجود انگیز کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں اور دینی و ملی شناخت کو ختم کرنے کے درپے ہیں، وہ مختلف قسم کے داخلی و خارجی حربے استعمال کرتے ہیں، سب سے کار گر ہتھکنڈا، قبائلی و مسلکی اختلافات کو ابھار کر اپنے مقاصد و عزائم کی تکمیل کرنا ہے اور اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ اسلام و مسلمان مخالف عناصر کو اس میں مختلف مواقع پر کامیابیاں بھی ملی ہیں، اس کے تاریخ میں بے شمار حوالے و نمونے ملتے ہیں، سب سے نمایاں مثال اسپین میں مسلم حکومت کا خاتمہ اور وہاں سے مسلمانوں کا اخراج، قتل و غارت گری، دہشت گردی اور زبردستی مذہب چھوڑنے پر مجبور کرنے اور انتہائی اذیت ناک طریقے سے مسلمانوں کا نسلی صفایا ہے، صلیبی عناصر نے مشنریز اور مستشرقین کے ذریعے اپنی غلط مکروہ کارستانیوں سے دنیا کی توجہ ہٹانے کے مقصد سے اسلام ، مسلمانوں قرآن و رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو ہی انتہائی مکروہ شکل میں پیش کر کے نفرت و دوری کا ماحول بنانے پر پوری توجہ و توانائی صرف کی ہے، قرآن، اسلام اور پیغمبر عالم صلی اللہ علیہ وسلم کو ادھر ادھر کی باتوں کو یہاں وہاں سے جوڑ کر ایسی بھیانک شکل میں پیش کرنے کا سلسلہ شروع کیا گیا کہ مسلم نام والے ایسے افراد بھی الحادی لہر میں شامل ہو گئے جو پرتعیش، اباحیت و آزاد زندگی گزارنے کے خواہاں اور مادی مفادات حاصل کر کے کئی قسم کی امنگیں پوری کرنے کا شوق اور تڑپ رکھتے ہیں، ایسے افراد میں سے کوئی ایک بھی اپنے نظریے اور کائنات اور اس کے خالق و رب کے معاملے میں سنجیدہ و مخلص نظر نہیں آتا ہے، خود اور خدا کو پانے کے لیے اپنے اندر کے فطری سوالات کے جوابات حاصل کرنے کے لیے مطلوبہ کردار ادا نہیں کیا ہے، ملحدین کے اعتراضات و سوالات دنیا میں رونما ہونے والے واقعات کی جذباتی تشریح پر مبنی اور تمسخر آمیز ہوتے ہیں، ایسا وہ واقعات اور سماجی و انسانی مسائل کے حل میں حسب استطاعت اپنا کردار ادا کرنے سے راہ فرار اختیار کر کے تمام تر ذمہ داریاں دیگر پر ڈال کر کنج عافیت میں زندگی گزارنے کے لیے کرتے ہیں، امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری جنگ کے معاملے میں غیر جانبدار رہنے کا کوئی مطلب نہیں ہے، ایسی حالت میں ظالم و جارح اور مظلوم و متاثر کا فرق ختم ہو کر دنیا جنگل راج میں بدل جائے گی، دنیا کے کئی سارے ممالک ایٹمی طاقت بننا چاہتے ہیں، یہ راستہ امریکہ، برطانیہ جیسی بڑی طاقتوں نے ہی ہموار کیا ہے، ترقی پذیر دیگر ممالک کو ایٹمی طاقت بننے سے روکنے کے لیے امریکہ ،اسرائیل سمیت کئی مغربی و یورپی اور ایشیائی ممالک سرگرم عمل ہیں، جب کہ وہ بہ-ذات خود ایٹمی طاقت ہیں اور بے تحاشا تباہ کن ہتھیاروں کے ذخائر اور طاقت کا استعمال اپنے مفادات کے حصول و تحفظ اور ترقی پذیر کمزور ممالک کو محکوم و ماتحت بنائے رکھنے کے لیے کرتے ہیں، ان کی یہ جارحانہ سرگرمیاں، غنڈہ گردی دوسری تیسری دنیا کے ممالک کے اقتدار اعلی کو ختم کر کے وحشیانہ حدود میں داخل ہو جاتی ہیں، یہ آئے دن ہوتا ہے، بھارت جیسے بڑے ملک کو بھی امریکہ ذلیل اور دبائے رکھنے کے لیے کئی طرح کے حربے استعمال کرتا ہے، یہی کچھ دیگر ممالک کے علاوہ عرب ممالک میں بھی برسوں سے جاری ہے، اسی کے پیش نظر مارچ 1966 میں مولانا مودودی نے رابطہ عالم اسلامی کے اجلاس میں امریکہ و روس پر منحصر ہونے کے بجائے خود مکتفی ہونے کی طرف متوجہ کیا تھا، لیکن تھوڑی بہت ایران و ترکی کو چھوڑ کر کسی ملک نے توجہ نہیں دی، ایران ویسے بھی اپنے جغرافیائی حدود اور خود کے وسائل کے لحاظ سے تھوڑی ٹیڑھی کھیر ہے، وہ تمام تر پابندیوں کو جھیلتے ہوئے اپنے مقاصد و اہداف کے پیش نظر امریکہ، اسرائیل کے علی الرغم ایک الگ ہی راہ پر گامزن ہے، اس کے یقینی طور پر کچھ مخصوص مقاصد و اہداف ہیں، اس کی طرف سے صدام حسین کے زوال کے بعد عراق، شام اور آس پاس کے عرب ممالک میں جاری مہمات سے کئی عرب ممالک خوف زدہ رہے ہیں، ایسی حالت میں شیعہ، سنی اختلافات کے تناظر میں باہمی اعتماد بحالی کی بڑی ضرورت ہے، امریکہ، اسرائیل کے مکروہ توسیع پسندانہ عزائم و مقاصد کے پیش نظر، فلسطین کے تناظر میں ایران اور عرب ممالک اور ترکی وغیرہ کا ایکا، جارحیت کو روکنے کے لیے بھی ضروری ہے، برصغیر، مغربی ایشیا و مشرق وسطی اور ناوابستہ ممالک، بھارت وغیرہ کے درمیان اتحاد و یک جہتی، وقت کا اہم تقاضا ہے، اس سلسلے میں مسلم، غیر مسلم اور مسلکی اختلافات ، کوئی زیادہ معنی نہیں رکھتے ہیں، اس سلسلے میں جارح و ظالم اور مظلوم و متاثر ہونے کے حوالے سے معاملات کو دیکھنا ہی معتدل و منصفانہ رویہ ہے، آج کے بدلتے سماجی، سیاسی و اقتصادی حالات میں کافر و مومن یا دارالاسلام و دارالحرب کی اصطلاح میں سوچنا قطعی بے معنی ہے، بھارت میں بھی فرقہ پرست ہندوتو وادی عناصر، ایران و مسلم ممالک کے مقابلے میں جس طرح امریکہ و اسرائیل کے ساتھ کھڑا کر کے اسلام اور مسلمانوں کو نشانہ بناتے ہوئے اظہار مسرت کرتے نظر آتے ہیں وہ سراسر فساد ذہن اور فرقہ پرستی و تنگ نظری کی علامت ہے، اسی کے تحت وہ جاہل مبینہ ایکس مسلم کو اپنے کندھوں، آنکھوں پر بٹھائے، اٹھائے گھوم رہے ہیں مسلم سماج سے ایسے خارج عناصر کا اسلام اور مسلمانوں کے خلاف استعمال کر کے جو مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، اس میں قابل ذکر کامیابی ملنے کا کوئی زیادہ امکان نہیں ہے، جاہل و بے علم مبینہ ایکس مسلم جس طرح اسلام ،پیغمبر عالم صلی اللہ علیہ وسلم، قرآن مجید کے خلاف ہرزہ سرائی کر کے اپنی دکان بڑھانے، چلانے میں لگے ہوئے ہیں، اس نے ان کے ساتھ ہندوتو وادیوں کو بھی بے نقاب کرنے کا کام کیا ہے، ان کے اعتراضات و سوالات کوئی نئے نہیں ہیں، ان کے مدلل جوابات مسلم اہل علم و علماء تحریری و زبانی طور سے دے چکے ہیں، یہ مبینہ ایکس مسلم کم تر درجے میں پرانے اعتراضات کی محض جگالی کر رہے ہیں، تاہم عام لوگوں کے ایک محدود حلقے میں اسلام، قرآن مجید اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق برہنہ گفتاری سے ایک اضطراب سا پایا جاتا ہے، یہ سطور لکھنے کے وقت راقم سطور، جھارکھنڈ کے دور دراز کے دیہی علاقے میں ہے، سوشل میڈیا کے سبب غلط شر انگیز باتیں یہاں بھی پہنچ رہی ہیں، اس کے مد نظر اسلام اور مسلمانوں کے خلاف غلط پروپیگنڈا کو پوری طرح نظرانداز کرنا بھی محتاط رویہ قرار نہیں پا سکتا ہے، متعلقہ علاقے کے مسلم اہل علم و علماء کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ غلط باتوں کی تردید و تغلیط کرتے ہوئے صحیح باتوں کو سامنے لائیں، ترک اسلام والحاد کی یہ تحریک، اسلام دشمن طاقتوں کی اعانت و زیر سایہ ایک عالمی تحریک کا حصہ ہے، اس سے جڑے افراد دو قسم کے ہیں، ایک تو کھلے عام صلیبیوں، صیہونیوں اور ہندوتو وادیوں میں شامل ہو گئے ہیں جب کہ دوسری قسم کے لوگ کسی دوسرے مذہب میں شامل ہوئے بغیر، الحاد کی راہ پر گامزن ہیں، امت مسلمہ کے لیے دونوں قسم کے افراد چلینج اور خطرہ ہیں، اس سے مسلم ملت کے اہل علم و علماء اور قائم تعلیمی و فکری ادارے کے سامنے گریز کے بجائے مزاحمت و مقابلہ کی راہ اختیار کرنے کے سوا کوئی اور راستہ نہیں ہے، جیسا کہ شدھی و سنگھٹن کی تحریک کے دور میں کیا گیا تھا، یہودیت ایک نسلی مذہب ہونے کے ناتے اس میں دیگر مذاہب والوں کے لیے شامل ہونے کی نہ تو گنجائش ہے اور نہ اس کی طرف سے شامل ہونے کی دعوت و ترغیب دی جاتی ہے، لیکن ہندوتو اور اہل صلیب کا معاملہ الگ سا ہے، گرچہ دونوں کی اصل فکر و روایت میں دیگر مذاہب والوں کی شمولیت کی بات نہیں ملتی ہے تاہم بہت بعد کے دنوں میں انحراف کرتے ہوئے ان کو مختلف عنوانات سے داخل کرنے کی راہ نکال لی گئی ہے لیکن اسلام کے دعوتی دین ہونے کے تناظر میں اس کے اصل میں ہی اس کا دروازہ، پوری دنیائے انسانیت کے لیے کھلا ہوا ہے، مگر اس میں زور زبردستی کی کوئی گنجائش نہیں ہے، رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کسی نبی و رسول حتی کہ حضرات عیسی و موسی علیہما السلام کی بعث بھی عالمی و عمومی نہیں ہے، رہی بات ہندو، ہندوتو کی تو وہ معروف معنی میں بہ قول ہندوتو وادیوں کے بھی کوئی دین و مذہب نہیں ہے اور نہ کوئی دعوتی فکر و عمل ہے اس میں عالمی و انسانی طرز حیات اور انسانی دین و دستور ہونے کی اہلیت و قوت نہیں ہے، بدھ مت میں یقینی طور سے ایک عالمی طرز حیات کا تصور ہے لیکن ایک الہ و رسالت و آخرت کے واضح تصورات سے عاری ہونے کی وجہ سے وہ ایک فطری و عالمی انسانی دین و دستور بننے کی اہلیت و قوت نہیں رکھتا ہے، وہ کل ملا کر جزوی دنیاوی طرز حیات بن کر رہ جاتا ہے، انسانوں کو ابدی و دائمی حیات و مقام تک لے کر نہیں جا سکتا ہے، اس سلسلے کی تمام ضروری باتوں پر بحث و گفتگو، الامام محمد قاسم نانوتوی رح نے حرف آخر تک پہنچا دیا ہے، اس کے برخلاف اس تعلق سے مولانا نانوتوی رح کے سامنے آریا سماج کے بانی دیا نند سرسوتی اپنے موقف و دعوے کو عقلی و نقلی دلیل سے ثابت نہیں کر سکے، زمان، مادہ وغیرہ کو خالق کائنات کے برابر و مقابل اور اس کے لیے گناہ کو معاف کرنے کی عدم قدرت کا نظریہ پیش کر کے تصور توحید ناقص و بے معنی بنانے کا کام کیا ہے، انسانی سماج خصوصا ہندستانی سماج میں کئی طرح کی جو باتیں زیر بحث آ رہی ہیں ان سے صرف نظر کر کے آگے نہیں بڑھا جا سکتا ہے، مسلم، غیر مسلم دونوں کے سامنے کئی طرح کے قابل توجہ سوالات ہیں، قدر اعلی، انسانی فکر و عمل کی آزادی کے نمایاں ہو کر سامنے آنے کی وجہ سے کئی سارے مذہبی و فقہی اصطلاحات و بیانیے، گزشتہ کئی دہائیوں سے زیر بحث ہیں، ان پر بہت سے مسلم اہل علم نے توجہ دے کر قابل قدر کام کیا ہے، عبدالحمید احمد ابو سلیمان کی، "اسلام اور بین الاقوامی تعلقات "اور مصطفی کیول کی” اسلام اور آزادی فکر،(Islam Without Extreme s)کے مطالعے سے کئی قابل توجہ مسائل ہمارے سامنے آتے ہیں، اس تعلق سے ہندستانی فقہ اکیڈمی کی طرف سے اکتوبر 2012 میں ایک اہم سیمینار جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی میں منعقد ہوا تھا، اس میں پیش کردہ اہم مقالات، اسلام میں تصور آزادی کے نام سے کتابی شکل میں شائع ہو چکے ہیں، اظہار رائے کی آزادی کے حوالے سے اسلام اور مسلمانوں پر سب سے زیادہ یلغار ہوتی ہے، ایسا نہیں ہے کہ مسلم اہل علم اور ادارے کلیتا جمود و غفلت میں ہیں، بس کمی یہ ہے کہ اعتراضات و سوالات کے فراہم کردہ جوابات ،مین اسٹریم اور عمومی دھارے میں شامل نہیں ہو پاتے ہیں، جس کے سبب ہندوتو وادیوں ، ملحدین اور مبینہ ایکس مسلم کی طرف سے عام ذرائع ابلاغ پر گردش کرتے شبہات و اعتراضات، سماج میں جگہ پا جاتے ہیں، اس کے مد نظر وقت کا اہم تقاضا ہے کہ سامنے آنے والے اعتراضات و سوالات کے جوابات و ازالے کے لیے جدید ذرائع ابلاغ کا بھر پور استعمال کیا جائے، وسائل سے لیس مسلم پرسنل لاء بورڈ کے صدر مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کی سرپرستی میں ایک بڑی اچھی عمارت بن چکی ہے، امید ہے کہ آنے والے دنوں میں اس کا بہتر استعمال ہوگا




















