پیر, جولائی 6, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Jahazi Media – Latest News, Articles & Insights
  • ہوم
  • جمعیۃ علماء ہند
  • اسلامیات
  • زبان و ادب
  • مضامین
    • All
    • جاوید اختر بھارتی
    • دیگر مضامین
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    اقوام متحدہ کی فلسطین رپورٹ میں لرزہ خیز انکشافات

    اقوام متحدہ کی فلسطین رپورٹ میں لرزہ خیز انکشافات

    حضرت مولانا عبداللہ مغیثیؒ ایک عہد ساز شخصیت

    دھرمستھلا، کراس ووٹنگ اور قیادت کا بحرانکرناٹک کی سیاست آخر کس سمت بڑھ رہی ہے؟

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    بنگلہ دیش اور جمعیت علمائے ہند کا تاریخی کردار

    اہلِ مدارس کے لیے تعلیمی ایجوکیشن پالیسیز میں اہم فارمولے

    احوال و کوائف اور تعارف حضرت مولانا مفتی محمد شوکت علی صاحب بھاگلپوری دامت برکاتہم شیخ الحدیث : دار العلوم سعادتِ دارین ستپون ، ضلع : بھروچ ، گجرات

    بھارت فرقہ پرستی اور تعصب کی تباہی کے دہانے پر

    وندے ماترم کی مخالفت پر ماتم کا مقصد

    بے نقاب ہوتا ہندوتو کا چہرہ

    جنود ربانی کے مقاصد اور مناصب

    تحریکِ ریشمی رومال: معاونین و ہمدردان کی ایک تاریخی فہرست

    حضرت مولانا عبداللہ مغیثیؒ ایک عہد ساز شخصیت

    اقتدار کی منتقلی سے حکمرانی کے امتحان تککرناٹک میں نئی قیادت کے سامنے سیاسی استحکام اور سماجی توازن کا چیلنج

    Trending Tags

    • Golden Globes
    • Mr. Robot
    • MotoGP 2017
    • Climate Change
    • Flat Earth
  • اہم خبریں
    • All
    • اتر پردیش
    • دہلی
    • دیگر ریاستیں
    جھپنیاں بستی میں گاؤں گاؤں بیداری پروگرام کا دوسرا پروگرام منعقد

    گیروا ندی کے ساحل سے بلند ہوا ذکر و ضرب کا غلغلہ

    گنگا کے پار دو دلوں کا ملاپ — ایک یادگار علمی، فکری اور دعوتی سفر کی داستان

    گنگا کے پار دو دلوں کا ملاپ — ایک یادگار علمی، فکری اور دعوتی سفر کی داستان

    دھپرا بستی میں جمعیت علمائے بسنترائے کے زیر اہتمام “گاؤں گاؤں بیداری پروگرام” میں ایس آئی آر پر رہنمائی

    دھپرا بستی میں جمعیت علمائے بسنترائے کے زیر اہتمام “گاؤں گاؤں بیداری پروگرام” میں ایس آئی آر پر رہنمائی

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    ہندستانی جیل خانوں کے بڑھتے مسائل،توجہ کی ضرورت!

    نوجوانوں کی اصلاح اور بیداری وقت کی اہم ضرورت: مفتی محمد نظام الدین قاسمی

    ہماری نسل نو کے ایمان و تعلیم کے لیے فرشتے نہیں،رسول نہیں ،دہلی مُمبئی کے علما نہیں ، بلکہ ہمیں خود آنا ہوگا

    گاؤں گاؤں بیداری پروگرام سے جنرل سکریٹری جمعیت علمائے گڈا کا حیات افروز پیغام

    گاؤں گاؤں بیداری پروگرام سے جنرل سکریٹری جمعیت علمائے گڈا کا حیات افروز پیغام

    بجٹ، بیانیہ اور حقیقت کرناٹک میں اقلیتوں کے نام پر سیاست یا حقائق کی تحریف؟

    جمعیت علمائے بسنت رائے کا بارھواں ’عوامی بیداری پروگرام‘ سمری میں کامیابی کے ساتھ منعقد؛ نوجوانوں کی فکری و تعلیمی تربیت پر زور

    گیارھواں گاؤں گاؤں بیداری پروگرام میں مدنی مسجد ہوئی نورانی

    گیارھواں گاؤں گاؤں بیداری پروگرام میں مدنی مسجد ہوئی نورانی

    نوجوانوں نے لیا ریل کے بجائے ری یل زندگی گزارنے کا عہد

    نوجوانوں نے لیا ریل کے بجائے ری یل زندگی گزارنے کا عہد

  • غزل
  • ترجمہ و تفسیر قرآن
    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    Trending Tags

    • Sillicon Valley
    • Climate Change
    • Election Results
    • Flat Earth
    • Golden Globes
    • MotoGP 2017
    • Mr. Robot
  • ہوم
  • جمعیۃ علماء ہند
  • اسلامیات
  • زبان و ادب
  • مضامین
    • All
    • جاوید اختر بھارتی
    • دیگر مضامین
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    اقوام متحدہ کی فلسطین رپورٹ میں لرزہ خیز انکشافات

    اقوام متحدہ کی فلسطین رپورٹ میں لرزہ خیز انکشافات

    حضرت مولانا عبداللہ مغیثیؒ ایک عہد ساز شخصیت

    دھرمستھلا، کراس ووٹنگ اور قیادت کا بحرانکرناٹک کی سیاست آخر کس سمت بڑھ رہی ہے؟

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    بنگلہ دیش اور جمعیت علمائے ہند کا تاریخی کردار

    اہلِ مدارس کے لیے تعلیمی ایجوکیشن پالیسیز میں اہم فارمولے

    احوال و کوائف اور تعارف حضرت مولانا مفتی محمد شوکت علی صاحب بھاگلپوری دامت برکاتہم شیخ الحدیث : دار العلوم سعادتِ دارین ستپون ، ضلع : بھروچ ، گجرات

    بھارت فرقہ پرستی اور تعصب کی تباہی کے دہانے پر

    وندے ماترم کی مخالفت پر ماتم کا مقصد

    بے نقاب ہوتا ہندوتو کا چہرہ

    جنود ربانی کے مقاصد اور مناصب

    تحریکِ ریشمی رومال: معاونین و ہمدردان کی ایک تاریخی فہرست

    حضرت مولانا عبداللہ مغیثیؒ ایک عہد ساز شخصیت

    اقتدار کی منتقلی سے حکمرانی کے امتحان تککرناٹک میں نئی قیادت کے سامنے سیاسی استحکام اور سماجی توازن کا چیلنج

    Trending Tags

    • Golden Globes
    • Mr. Robot
    • MotoGP 2017
    • Climate Change
    • Flat Earth
  • اہم خبریں
    • All
    • اتر پردیش
    • دہلی
    • دیگر ریاستیں
    جھپنیاں بستی میں گاؤں گاؤں بیداری پروگرام کا دوسرا پروگرام منعقد

    گیروا ندی کے ساحل سے بلند ہوا ذکر و ضرب کا غلغلہ

    گنگا کے پار دو دلوں کا ملاپ — ایک یادگار علمی، فکری اور دعوتی سفر کی داستان

    گنگا کے پار دو دلوں کا ملاپ — ایک یادگار علمی، فکری اور دعوتی سفر کی داستان

    دھپرا بستی میں جمعیت علمائے بسنترائے کے زیر اہتمام “گاؤں گاؤں بیداری پروگرام” میں ایس آئی آر پر رہنمائی

    دھپرا بستی میں جمعیت علمائے بسنترائے کے زیر اہتمام “گاؤں گاؤں بیداری پروگرام” میں ایس آئی آر پر رہنمائی

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    ہندستانی جیل خانوں کے بڑھتے مسائل،توجہ کی ضرورت!

    نوجوانوں کی اصلاح اور بیداری وقت کی اہم ضرورت: مفتی محمد نظام الدین قاسمی

    ہماری نسل نو کے ایمان و تعلیم کے لیے فرشتے نہیں،رسول نہیں ،دہلی مُمبئی کے علما نہیں ، بلکہ ہمیں خود آنا ہوگا

    گاؤں گاؤں بیداری پروگرام سے جنرل سکریٹری جمعیت علمائے گڈا کا حیات افروز پیغام

    گاؤں گاؤں بیداری پروگرام سے جنرل سکریٹری جمعیت علمائے گڈا کا حیات افروز پیغام

    بجٹ، بیانیہ اور حقیقت کرناٹک میں اقلیتوں کے نام پر سیاست یا حقائق کی تحریف؟

    جمعیت علمائے بسنت رائے کا بارھواں ’عوامی بیداری پروگرام‘ سمری میں کامیابی کے ساتھ منعقد؛ نوجوانوں کی فکری و تعلیمی تربیت پر زور

    گیارھواں گاؤں گاؤں بیداری پروگرام میں مدنی مسجد ہوئی نورانی

    گیارھواں گاؤں گاؤں بیداری پروگرام میں مدنی مسجد ہوئی نورانی

    نوجوانوں نے لیا ریل کے بجائے ری یل زندگی گزارنے کا عہد

    نوجوانوں نے لیا ریل کے بجائے ری یل زندگی گزارنے کا عہد

  • غزل
  • ترجمہ و تفسیر قرآن
    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    Trending Tags

    • Sillicon Valley
    • Climate Change
    • Election Results
    • Flat Earth
    • Golden Globes
    • MotoGP 2017
    • Mr. Robot
No Result
View All Result
Jahazi Media – Latest News, Articles & Insights
No Result
View All Result
Home اسلامیات

انصاف پسند اور مظلوم برادرانِ وطن کے ساتھ مل کر جدوجہد

by Admin
مئی 15, 2026
in اسلامیات
0
الیکشن میں مسلمانوں کے لئے ترجیحات
0
SHARES
9
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

بسم الله الرحمٰن الرحیم

شمع فروزاں2026.05.15

مولانا خالد سیف الله رحمانی

رسول اللہ ﷺ کی ذات والا صفات کو پوری انسانیت کے لئے عموماً اور اُمت محمدیہ کے لئے خصوصاً اُسوہ ونمونہ بنایا گیا ہے : لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِيْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ (الاحزاب: ۲۱) اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ انسان پر جس طرح کے بھی حالات پیش آئیں آپ ﷺ کی حیاتِ طیبہ میں اس کو نقش راہ اور نمونۂ عمر مل جائے گا ، وہ غالب ہو یامغلوب ، فتح یاب ہو یا شکست سے دو چار ، مالدار ہو یا غریب ، دوستوں کے درمیان ہو یادشمنوں کے درمیان ، اپنوں سے سابقہ ہو یا بیگانوں سے ، ہر جگہ اور ہر حال میں سیرتِ طیبہ اس کے لئے چراغِ راہ اورخضر طریق ہے ، شاید اسی مقصد کے تحت اللہ تعالیٰ نے اپنے اس محبوب ومقبول بندے کو ہرطرح کی آزمائشوں سے گزارا ہے ، اور وہ تمام مصیبتیں جو اس اُمت پر آسکتی ہیں ، ان سب سے آپ کو بھی دو چار کیا گیا ہے ؛ تاکہ جب ایسے حالات پیش آئیں تو مسلمان نورِ نبوت کی رہنمائی سے محروم نہ رہ جائیں اور انھیں کسی اور چراغ سے روشنی مستعار نہ لینی پڑے ۔اس وقت ہندوستان کے مسلمان جس صورت حال سے دو چار ہیں ، اس میں سیرت کے ایک خاص واقعہ کو پڑھنے اوراس سے سبق حاصل کرنے کی ضرورت ہے ، اور وہ ہے ’’حلف الفضول‘‘ کا واقعہ ، واقعہ کا خلاصہ یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو نبی بنائے جانے سے پہلے ایک واقعہ یہ پیش آیا کہ قبیلۂ بنو زبید کے ایک صاحب مکہ آئے اور انھوں نے عاص بن وائل سہمی سے اپنا تجارتی مال فروخت کیا ، عاص نے قیمت کی ادائیگی میں ٹال مٹول شروع کردیا اورظلم وانکار پر اُتر آیا ؛ چنانچہ اس مسافر نے ٹھیک اس وقت جب قریش صحن کعبہ میں بیٹھا کرتے تھے ، بوقیس کی پہاڑی پر چڑھ کر لوگوں کو آواز دی کہ ایک مظلوم شخص کی پونجی لے لی گئی ہے ، ایک ایسے شخص کی جو اپنے وطن اور بال بچوں سے دُور ہے اور حرم محترم کی وادی میں مقیم ہے ، اس طرح کے ظلم و زیادتی کے واقعات مکہ میں پیش آتے رہتے تھے ؛ لیکن اس اجنبی شہر نے کچھ ایسے درد کے ساتھ اپنی فریاد پیش کی کہ قریش کے رحم دل لوگ اس سے متأثر ہوئے بغیر نہ رہے اور قریشِ مکہ کے چند اہم خاندان — بنو ہاشم ، بنو مطلب ، اسد بن عبد العزیٰ ، زہرہ بن کلاب اور تمیم بن مرہ — کی اہم شخصیتیں عبد اللہ بن جدعان کے مکان میں جمع ہوئیں ، اورآپس میں معاہدہ کیا کہ مکہ میں کوئی بھی مظلوم ہو ، خواہ مکہ کا رہنے والا ہو یا مکہ کے باہر سے آیا ہو ، ہم سب مل کر اس کی مدد کریںگے اور ظالم کو حق دینے پر مجبور کریںگے ، اس معاہدہ کا نام ’’حلف الفضول‘‘ رکھا گیا ، یہ نام کیوں رکھا گیا ، اس سلسلہ میں بعض حضرات نے لکھا ہے کہ ’’فضل‘‘ کے معنی زیادتی اور اضافہ کے ہیں اور اس معاہدہ میں یہ بات کہی گئی تھی کہ اگر کسی شخص پر دوسرے کے ذمہ زائد حق باقی ہو تو وہ اس کو دلایا جائے گا ، (المعتصر من المختصر لابن یوسف موسیٰ حنفی: ۲؍۳۷۵) اور بعض حضرات نے نقل کیا ہے کہ اتفاق سے اس معاہدہ میں شریک ہونے والوں میں ’’فضل، فضالہ اور مفضل‘‘ تھے ، یعنی ان تینوں کے نام کا جز ’’فضل‘‘ تھا ؛ اس لئے اس کو ’’حلف الفضول‘‘ یعنی ’’فضل والوں کے معاہدہ‘‘ کا نام دیا گیا ۔ (فتح الباری: ۴؍۴۷۳)` اس معاہدہ کی اس لئے غیر معمولی اہمیت تھی کہ جزیرۃ العرب میں کوئی حکومت قائم نہیں تھی ، لا اینڈ آرڈر کے لئے کوئی باقاعدہ نظام نہیں تھا، عرب کے مختلف قبائل کے درمیان بڑا تعصب اور تعصب کی وجہ سے اپنے خاندان کا تحفظ پایا جاتا تھا ؛ لیکن اگر کوئی کمزور خاندان ہو یا اجنبی لوگ ہوں تو ان کا کوئی پرسانِ حال نہیں ہوتا تھا ، ان حالات میں یہ معاہدہ لا اینڈ آرڈر کو قائم رکھنے اور کمزوروں کو طاقتوروں کے ظلم سے بچانے کی ایک منظم کوشش تھی ، اس کی اہمیت اس لئے بھی تھی کہ اس معاہدہ میں قریش کے تمام قبائل شامل تھے ، اگر چند اشخاص یا کوئی کمتعداد اور کمزور قبیلہ اس کام کو لے کر اُٹھتا تو اس کا کوئی خاص فائدہ نہیں ہوتا ؛ لیکن اتنے سارے کثیر التعداد اور مکہ کے طاقتور خاندانوں کو نظر انداز کردینا کوئی آسان بات نہ تھی ؛ اس لئے اس معاہدہ کی بڑی اہمیت تھی اور اسی لئے یہ معاہدہ لا قانونیت کے ماحول میں امن و امان اورعدل و انصاف قائم رکھنے کی ایک مثبت اور مؤثر کوشش ثابت ہوا، رسول اللہ ﷺ بنفس نفیس اس معاہدہ میں شریک تھے اور اسلام کے غلبہ کے بعد بھی فرمایا کرتے تھے کہ اگر اب بھی مجھے اس کی طرف دعوت دی جائے تو میں اسے قبول کروں گا: لو دُعیتُ بہ الیوم في الإسلام لأجبتہ (فتح الباری: ۴؍ ۴۷۳) اور بعض روایتوں میں ہے کہ مجھے اس معاہدہ سے غائب رہنا پسند نہیں ، اگرچہ اس کے بدلے مجھے سرخ اونٹنیاں مل جائیں ۔ (المعتصر من المختصر: ۲؍۳۷۵)ہندوستان میں اس وقت مسلمان جن حالات سے گزر رہے ہیں اور سیاسی اعتبار سے جس تنہائی کا شکار ہیں ، ان کے لئے سیرت کا یہ واقعہ بہترین پیغام اور ان کی دشواریوں کا حل ہے، حلف الفضول کس ماحول میں قائم کی گئی تھی ؟ ایسے ماحول میں جب ظالموں کو ظلم سے روکنے والی قوت موجود نہیں تھی ، جب مظلوموں کے لئے انصاف حاصل کرنے کا کوئی راستہ نہیں تھا ، جب برائیاں تھیں ؛ لیکن برائیوں کو چیلنج کرنے والی کوئی طاقت نہیں تھی — حلفالفضول کا مقصد کیا تھا ؟ معاشرہ میں انصاف کا قائم کرنا ، کمزوروں کو انصاف دلانا اور ظلم سے بچانا — حلف الفضول کا طریقۂ کار کیا تھا ؟ جمہور کی مدد سے ظالم کا پنجہ تھامنا ، اجتماعی شیرازہ بندی کے ذریعہ قیام عدل کی کوشش کرنا ، چھوٹی چھوٹی طاقتوں کو جمع کرکے ایک بڑی طاقت اس لئے تیار کرنا کہ ظلم کو روکا جائے اور انصاف قائم کیا جائے ۔` ہمارے ملک میں بھی اس وقت یہی صورت حال ہے ، ظلم کا خونی پنجہ اتنا طاقتور ہوچکا ہے کہ علی الاعلان خون کی ہولی کھیلی جاتی ہے ، لوگوں کی املاک لوٹی جاتی ہیں ، عزت و آبرو پامال کی جاتی ہے ، بستیاں اُجاڑی جاتی ہیں اور لاشوں پر چڑھ کر اقتدار کے قلعہ پر قبضہ کرنے کی جد وجہد کی جاتی ہے ، ہونا تو یہ چاہئے کہ لوگ اس صورت حال کو دیکھ کر بے قرار ہوجائیں، ہر زبان ایسے ظالم کو ٹوکے ، ہر ہاتھ ایسے ظالم کو روکے اور ہر آنکھ ان پر غیظ و غضب کی آگ پھینکے ، مگر عملاً صورت حال یہ ہے کہ ظالموں کی حمایت میں نعرے لگائے جارہے ہیں ، ذرائع ابلاغ درندوں کو فرشتہ بناکر پیش کررہے ہیں اور انصاف کے قاتلوں کو ہیرو بنایا جارہا ہے ، ان حالات میں مسلمانوں کے لئے کرنے کا کام یہی ہے کہ وہ یہاں ایک نئی شیرازہ بندی کریں، خود آپس کے اختلاف کو نظر انداز کرکے کم سے کم ایک نکاتی سیاسی ایجنڈے پر متفق ہوجائیں کہ وہ فرقہ پرست سیاسی طاقتوں سے ملک کو بچائیںگے اور ایسی حکمت عملی اختیار کریںگے کہ آنے والے الیکشن میں سیکولر اُمیدوار کامیاب ہوسکے، ملی اتحاد کی اس کوشش کے ساتھ ساتھ کم سے کم تین اور طبقات کو ہمیں جمع کرنا چاہئے، اولاً : دوسری اقلیتوں کو ، خاص کر سکھ اور عیسائی اقلیت کو ، جو ہندوستان کے مختلف علاقوں میں سیاسی اعتبار سے فیصلہ کن حیثیت کی حامل ہیں ۔ دوسرے : دلتوں کو ، جو ہزاروں سال سے مظلومانہ زندگی گزار رہے ہیں اور جن کو اپنے بارے میں یہ اعتراف ہے کہ وہ ہندو نہیں ہیں ، انھیں زبردستی ہندو بنا دیا گیا ہے ، تیسرے : سیکولر برادرانِ وطن کو ؛ کیوںکہ آج بھی ہندو بھائیوں کی اکثریت اس ملک کے فرقہ وارانہ رُخ اختیار کرنے پر فکر مند بھی ہے اور متأسف بھی ، اگر مسلمان ان تینوں گروہوں کو ساتھ لے کر ایک ’حلف الفضول ‘قائم کرنے میں کامیاب ہوجائیں ، ایک ایسا مشترکہ پلیٹ فارم بنائیں جو ہر ظلم کے مقابلہ میں کمر بستہ ہو اور ہر مظلوم کو انصاف دلانے کے لئے اُٹھ کھڑا ہو ، کسی دلت کے ساتھ زیادتی ہو تو پُر امن طریقے پر مسلمان احتجاج کریں اور کسی مسلمان کے ساتھ زیادتی ہوتو اس کے تحفظ کے لئے دلت آگے بڑھیں ، اگر اس طرح کا کوئی پلیٹ فارم قائم کرنے میں مسلمان کامیاب ہوجائیں تو موجودہ حالات میں یہ بہت بڑی کامیابی ہوگی اور بہت سے امراض کا مداوا اور مشکلات کا حل ہوگا ۔رسول اللہ ﷺ نے قیام عدل ، تحفظ اور امن و امان کی بر قراری کے لئے غیر مسلم ابنائے وطن کے ساتھ مختلف معاہدات کئے ہیں ، خود مکہ میں بھی آپ نے اہلِ مکہ سے پیش کش کی تھی کہ بقائے باہم کے اُصول پر مسلمان اور غیر مسلم دونوں سوسائٹی میں مل جل کر رہیں ، قرآن مجید کی سورۂ کافرون میں یہی فارمولہ پیش کیا گیا ہے، پھر مدینہ پہنچتے ہی آپ ﷺ نے مسلمان، یہودی اور مشرک قبائل کے درمیان ایک اہم معاہدہ کرایا ، اس معاہدہ کو قید تحریر میں بھی لایا گیا اور تمام قبائل کے اس پر دستخط لئے گئے، جس کو ’’میثاق المدینۃ‘‘ کہا جاتا ہے اورحلف الفضول کا واقعہ تو آپ ﷺکی نبوت سے پہلے کا ہے ؛ لیکن اس کی جو اہمیت آپ کی نگاہ میں تھی ، اس کا اندازہ اس جملہ سے کیا جاسکتا ہے جو آپ ﷺ نے فرمایا کہ ’’اگر مجھے آج بھی اس کی طرف بلایا جائے تو میں اس کو قبول کروںگا‘‘ گویا یہ ایک وقتی تدبیر اور عارضی حکمت ِعملی نہیں تھی ؛ بلکہ ایک اُصولی فیصلہ تھا ، جو اسلامی تعلیمات کی روح پر مبنی اور اس کے اُصول انصاف کا آئینہ دار تھا ۔اس ملک کو بچانے ، ملک کے دستور اور اس کی جمہوری قدروں کو بچانے اور عدل وانصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لئے نہ صرف اس ملک کی دوسری بڑی اکثریت ہونے کے لحاظ سے بلکہ خیر اُمت ہونے کی حیثیت سے بھی مسلمانوں کا فریضہ ہے کہ وہ حقیر اور وقتی سیاسی مفادات کو نظر میں رکھنے کے بجائے ملک و ملت کے وسیع تر مفادات کو سامنے رکھ کر اس سلسلہ میں پیش قدمی کریں ، اس کوشش میں منصوبہ بندی تو ضرور ہونی چاہئے لیکن اس کی تشہیر نہیں ہونی چاہئے ؛ کیوںکہ ایسے معاملات کی تشہیر سے فائدہ کم اور نقصان زیادہ ہوتا ہے ، اگر موجودہ حالات میں مسلمان بے سمتی کا شکار رہے ، انھوں نے سوچے سمجھے منصوبہ کے مطابق اپنے لئے راہ عمل متعین نہیں کی ، تو اتنے بڑے نقصان کا خطرہ ہے جس کی تلافی دشوار ہوجائے گی ؛ کیوںکہ اس وقت ہمارا ملک ایک دو راہے پر کھڑا ہے : ایک راستہ یہ ہے کہ سیکولر طاقتیں اپنی کمزوری کی وجہ سے فرقہ پرست طاقتوں کے سامنے گھٹنے ٹیک دیں اور گویا اپنی شکست کا اعتراف کرلیں ، یہاں تک کہ یہ ملک مستقل طور پر فرقہ پرستی کے راستہ پر چلا جائے ، دوسرا راستہ یہ ہے کہ مسلمان سیکولر عناصر کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کریں ، انھیں طاقت پہنچائیں ، ان کے اندر فرقہ پرستی سے لڑنے کا حوصلہ پیدا کریں اور اس ملک کو ان لوگوں کے رحم و کرم پر نہ چھوڑ دیں ، جو اقتدار کو حاصل کرنے کے لئے انسانی خون کا دریا پار کرنے میں کوئی قباحت نہیں سمجھتے !!= = = _________Khalid Saifullah RahmaniGen.Secretary : Islamic Fiqh Academy,India Director : Al Mahadul A’ali Al Islami Hyderabad.E-mail :ksrahmani@yahoo.comWebsite: www.khalidrahmani.in

Admin

Admin

Next Post
کمال مولا مسجد کو مندر قرار دینے کا فیصلہ

کمال مولا مسجد کو مندر قرار دینے کا فیصلہ

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

منتخب کردہ

الیکشن میں مسلمانوں کے لئے ترجیحات

حقیقی گھر کی طرف واپسی

3 مہینے ago
حج کی فرضیت کا بیان 

مباحات احرام کا بیان

2 مہینے ago

مقبول

  • جھپنیاں بستی میں گاؤں گاؤں بیداری پروگرام کا دوسرا پروگرام منعقد

    گیروا ندی کے ساحل سے بلند ہوا ذکر و ضرب کا غلغلہ

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • گنگا کے پار دو دلوں کا ملاپ — ایک یادگار علمی، فکری اور دعوتی سفر کی داستان

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • دھپرا بستی میں جمعیت علمائے بسنترائے کے زیر اہتمام “گاؤں گاؤں بیداری پروگرام” میں ایس آئی آر پر رہنمائی

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • ہندستانی جیل خانوں کے بڑھتے مسائل،توجہ کی ضرورت!

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • اقوام متحدہ کی فلسطین رپورٹ میں لرزہ خیز انکشافات

    0 shares
    Share 0 Tweet 0

ہم سے جڑیے

ہمارا خبری نامہ حاصل کریں

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetuer adipiscing elit. Aenean commodo ligula eget dolor.
SUBSCRIBE

زمرہ جات

اہم روابط

  • لاگ ان کریں
  • Entries feed
  • Comments feed
  • WordPress.org

ہمارے بارے میں

جہازی میڈیا باشعور افراد کی ایک ایسی تحریک ہے، جو ملت اسلامیہ کی نشاۃ ثانیہ کے لیے اپنی فکری و عملی خدمات پیش کرنے کے لیے عہدبند ہوتے ہیں۔ اس لیے ہر وہ شخص اس تحریک کا ممبر بن سکتا ہے، جو اس نظریہ و مقصد سے اتفاق رکھتا ہے۔

  • ہمارے بارے میں
  • قوائد و ضوابط
  • کاپی رائٹس
  • پرائیویسی پالیسی
  • رابطہ

© 2025 Jahazi Media Designed by Mehmood Khan 9720936030.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • ہوم
  • اسلامیات
  • جمعیۃ علماء ہند
  • زبان و ادب
  • قومی و بین الاقوامی
  • اہم خبریں
    • دہلی
    • اتر پردیش
    • کرناٹک
    • مہاراشٹر
  • غزل
  • مضامین
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • دیگر مضامین
  • ترجمہ و تفسیر قرآن

© 2025 Jahazi Media Designed by Mehmood Khan 9720936030.