مولانا عبدالحمید نعمانی صاحب
متنوع روایات و افکار کے حامل بھارت اور فرقہ پرست، تنگ نظر ہندوتو وادی عناصر کی طرف سے بنائے جا رہے بھارت میں کئی اعتبار سے تصادم و تضاد ہے، اگر اصل اور مصنوعی بھارت کے درمیان فرق کرتے ہوئے ہندستان کی اصل روایات کے تنوعات اور کثرت میں وحدت کے فلسفے کو سامنے لانے کی سنجیدہ کوششیں نہیں ہوں گی تو اس کی شناخت اور تصور و تصویر، سب کچھ مسخ ہو کر رہ جائیں گے، اس کا آج کی تاریخ میں شدید خطرہ و خدشہ پیدا ہو گیا ہے، ملک کی اصل شناخت، متنوع روایات پر مبنی رنگا رنگ والے طرز ہائے حیات ہے، جن میں مختلف مذہبی اکائیوں اور سماجی گروپوں کے ہندستانی شامل ہیں، اس سلسلے میں پہلے اور بعد میں شامل ہونے والوں کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے، گزشتہ کچھ عرصے سے جس طرح بھارت کو ہندوتو وادی شناخت دینے کی کوششیں شروع کی گئی ہیں ان کا ملک کی اصل روایات و شناخت اور سناتن فکر و عمل سے کوئی کا بھی کوئی تعلق نہیں ہے، بھارت نے مختلف ادوار میں مختلف روایات و افکار میں ہم آہنگی پیدا کر کے اپنے دامن کو وسیع سے وسیع تر کرنے کا کام کیا ہے، نہ کہ فرقہ پرستی اور تعصب و تنگ نظری کا مظاہرہ کرتے ہوئے تنوعات کو مسترد کر کے اپنے دامن کو تنگ اور محدود سے محدود تر کرنے کا، 2014 میں مرکز میں اقتدار کی تبدیلی کے ساتھ بہت کچھ بدلنے اور ختم کرنے کی عجیب قسم کے ہندستانی تنوعات کے بر خلاف سر گرمیوں کا آغاز ہوا ہے، گاندھی جی کا پسندیدہ بھجن، "ایشور، اللہ تیرو نام”گانے پر ہڑدنگ، ہنگامہ کر کے روک لگانے اور ابھی حال ہی میں اتر کھنڈ کی کئی جگہ ہوٹلوں، دکانوں پر ویج بریانی کے بجائے ویج پلاؤ لکھوایا گیا، اور اس سے پہلے کنبھ میلے میں روایتی شاہی اشنان سے شاہی لفظ نکلوانے کی مہم چلائی گئی تھی، اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ فرقہ پرست عناصر کو بھارت کی متنوع روایات کی قبولیت کا کوئی علم و شعور نہیں ہے، اشنان میں شاہی اشنان،مغل حکمراں اکبر کی توجہ و تعاون سے کنبھ میلے کا موجودہ شکل میں آغاز کرانے کی یاد میں ہوا تھا، ورنہ ہندو سماج میں مسلم دور سے پہلے کنبھ میلے کی موجودہ صورت نہیں تھی، پریاگ راج میں منعقد ہونے والا میلا، اصل میں بدھ مت کے لوگوں خصوصا راجاؤں کا مہا دان میلا تھا، بعد کے دنوں میں دیگر بہت سی چیزوں کی طرح برہمن وادی عناصر نے کنبھ میلے پر بھی اپنا تسلط قائم کر کے اپنا بنانے کی کوشش کی ہے، مندر، مورتی کا تصور بھی ہندو سماج میں بودھ مت سے لیا گیا ہے، برہمن وادی عناصر اپنا کچھ بنانے کے بجائے دیگر کے قائم و بنائے ہوئے ماثر و مقامات اپنے نام سے بدلنے اور ان پر قبضہ کرنے کا ماضی سے حال تک کرتے رہے ہیں، شاہی اشنان سے لفظ شاہی کو نکالنے میں ماضی قریب میں پروان چڑھنے والی فرقہ وارانہ سیاست ذہنیت کا کھلا عمل، دخل ہے، فرقہ پرست ہندوتو وادی عناصر میں اردو، فارسی، عربی الفاظ، جو ہندستانی زبانوں کا حصہ بن چکے ہیں کو نکلوانے کا ذہن بڑی تیزی سے پروان چڑھ رہا ہے، دیگر زبانوں کے متعلق تو کچھ نہ کچھ اختلاف ہے لیکن اردو کے بارے میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ وہ خالصتا بھارت میں پیدا ہوئی اور ارتقا کے مختلف منازل طے کرتے ہوئے حال تک پہنچی ہے، اس کے ترقی و عروج میں مسلمانوں کے ساتھ غیر مسلم ادباء و تخلیق کاروں کا بھی بڑا کردار و عطیہ ہے ،ایک چھوٹے سے گروہ نے مسلمانوں کے ساتھ اسلامی و مسلم شناخت والی دیگر چیزوں کے علاوہ اردو زبان کی تحقیر و تصغیر کرتے ہوئے، اسے ہندستانی زبانوں سے باہر کرنے کی مہم چلا رکھی ہے، گزشتہ دنوں ایک ٹی وی چینل پروگرام میں راقم سطور بھی شامل تھا، اس میں کئی ہندوتو وادی مبینہ دھرم گروؤں نے پردھان منتری اور مکھ منتری کے لیے، وزیراعظم، وزیر اعلی کے الفاظ استعمال کرنے کی مخالفت کی تھی، اس پر سخت تنقید اور ہندستانی تواریخ و روایات سے ناواقف قرار دینے پر اینکر نے بحث کا رخ موڑ کر مبینہ دھرم گروؤں کو بچانے کی کوشش کی تھی، عموما یہ دیکھا جاتا ہے کہ ٹی وی چینلز اور ہندوتو کے نمائندے تاریخی حوالوں کے ساتھ بحث و گفتگو سے گریز کرتے ہوئے ہلہ غلہ کرکے موضوع سے توجہ ہٹانے کی کوشش کرتے ہیں، اس کی وجہ ہندوتو وادیوں کی بہت سی خامیاں اور فکری و عملی بحران اور دعوے کی بنیاد میں من گھڑت باتیں اور کہانیاں ہیں، اس تناظر میں فرقہ پرست ہندوتو وادی عناصر کے مقابلے میں مسلمانوں کا مقدمہ و موقف بہت مضبوط ہے، اس بارے میں ان کو کسی احساس کمتری میں مبتلا ہونے اور اظہار معذرت کے بجائے، اقدامی عمل اور بنیادی سوالات سے کام لینا چاہیے، حالات کے زیادہ دباؤ میں آ کر مداہنت اور توحید کے عمل و عقیدہ کے برخلاف رویہ کے ،آنے والے دنوں میں از حد دوررس اثرات و نتائج مرتب و بر آمد ہوں گے، گزشتہ کچھ عرصے اور حال کے دنوں میں بہت سے مسلم نام والوں کے ہندوتو وادیوں کے ساتھ کھڑے ہونے یا ان سے آگے جا کر برہمن وادی روایات و مراسم کی حمایت و پیروی کی وجہ سے حالات میں جو عدم توازن پیدا ہوا ہے اسے دور کرنا ضروری ہو گیا ہے، یہ عناصر مسلمانوں کے مقدمے کو کمزور کرنے اور بگاڑنے میں ہندوتو وادیوں سے بھی آگے ہیں، اس سلسلے میں مختلف ذرائع ابلاغ سے استفادہ و استعمال بھی وقت کا اہم تقاضا ہے، اسلام اور مسلم مخالف طاقتیں، جہالت و بے خبری پر مبنی بے شمار غلط باتیں پھیلانے کے لیے مختلف ذرائع ابلاغ کا بے تحاشا استعمال کر رہی ہیں، اس کے مد نظر غلط فہمیوں کا ازالہ کرتے ہوئے اصل حقائق اور صحیح باتوں کو متبادل ذرائع ابلاغ کا استعمال کر کے سامنے لانا ضروری ہے، اقتدار کے زیر سایہ جس طرح اسلام اور مسلمانوں ، مساجد و مدارس کے خلاف اقدامات کیے جا رہے ہیں ان کی وجہ سے صورت حال از حد سنگین اور تشویشناک ہو گئی ہے، بہت سے انصاف پسند غیر مسلم بھی کہنے پر مجبور ہو گئے ہیں کہ مسلمانوں اور ان سے منسوب چیزوں کو ختم کر کے ان کو بے چہرہ اور دوم سوم درجے کا شہری بنانے کی راہ ہموار کی جا رہی ہے ،زور زبردستی اپنے عقیدہ و تہذیبی رویے کے بر خلاف ہندوتو وادی افکار و روایات کو اپنانے پر مجبور کیا جا رہا ہے اور یہ سب راشٹر واد اور ہندستانی تہذیب کے نام پر کیا جا رہا ہے، حالاں کہ ہندستانی تہذیب و روایات اور راشٹر واد اور ایک مخصوص کمیونٹی ہندو وبرہمن وادی فکر و عمل، دونوں ہم معنی نہیں ہیں، ہندستانی تہذیب و روایات اور راشٹر واد، ملک کے تمام باشندوں کے مشترک معاملے ہی قرار پا سکتے ہیں، فرقہ وارانہ تقسیم و تفریق اور ہندوتو وادی جارحانہ خیالات و مراسم کو ہندستانی قومیت و وطنیت، قرار دینا سراسر دھونس دھاندلی اور آئین کی عطا کردہ آزادی کے خلاف عمل ہے، یہ کھلے طور سے مسلم لیگ کے دعوے، دوقومی نظریہ اور جناح کے الزامات کو صحیح اور تقسیم ہند کے مخالف مجاہدین آزادی کے متحدہ قومیت و ہندستان کے حامی رہ نماؤں، گاندھی، نہرو، آزاد، مدنی وغیرہم کے موقف و مسلک کو غلط ٹھہراتے کی کوشش ہے، اس سلسلے میں من گھڑت کہانیوں اور مفروضہ بیانیے کو تاریخی حقائق باور کرانے کی مذموم کی جا رہی ہے، یوگی جیسے لیڈروں جن کو ہندستانی متنوع روایات و افکار کا زیادہ علم و شعور نہیں ہے کے فرقہ وارانہ و جانبدارانہ بیانات کو بھارت کے مین اسٹریم کا حصہ باور کراکر اس کے چہرے کو داغ دار کرنے کا کام کیا جا رہا ہے، وہ بہ ذات خود ریاست اور ملک کے تمام باشندوں کا سربراہ و نمائندہ جتلانے کے بجائے، جارح ہندوتو کے نمائندے کے طور پر پیش کرنے کا کام کر رہے ہیں، وہ مسلسل ایک کمیونٹی کو نشانہ بنا رہے ہیں، مسلم کمیونٹی کو ٹھیک کرنے کے لیے ٹھوک دینے کے حق میں نظر آتے ہیں، اس سے اس خدشے و خیال کو تقویت مل رہی ہے کہ ملک میں دو قسم کے قوانین چل رہے ہیں، یہ حالات اکھنڈ بھارت کے تصور و دعوے کو بے معنی بنا رہے ہیں، ہندستانی بن جانے والوں اور ملک کے دیگر باشندوں میں مذہب و فرقہ کی بنیاد پر فرق کرنا، پوری طرح فرقہ پرستی اور متحدہ قومیت و متحدہ بھارت کے تصور و نظریہ کے خلاف ہے، یہی کچھ ہندوتو وادی طاقتیں اور جناحی و لیگی سوچ کے فرقہ پرست کر رہے ہیں، مسلم، غیر مسلم جو بھی اور جس شکل میں بھی بھارت میں آئے اور یہاں رہنے کا فیصلہ کر کے ہندستانی ہو گئے اور جو ان سے پہلے آئے یا اصلا بھارت کے باشندے ہیں، ان کے درمیان بھید بھاؤ کرنا، اکھنڈ و مستحکم بھارت کو کمزور اور توڑنے والا عمل و رویہ ہے، یہ ہندستانی روایات اور تاریخی رفتار و تصور سے پوری طرح متصادم ہے، دیگر خصوصا مختلف طبقات کی شکل میں بھارت آنے والے مسلمانوں اور اسلام قبول کر کے ان کا حصہ بن جانے والے مسلمانوں کو ہندستانی تاریخ کے کسی دور میں غیر ملکی سمجھ کر، انگریزوں کی طرح، آزادی وطن کی کوئی عوامی تحریک نہیں چلی، چلائی گئی، اس تناظر میں آج کی تاریخ میں فرقہ پرست ہندوتو وادی عناصر کی طرف سے ہندستانی مسلمانوں کے متعلق جو الگ قسم کا بیانیہ سیٹ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، اس کی کوئی جڑ بنیاد نہیں ہے، یہ سراسر شر و فساد پسندی ہے، ماضی میں اقتداری تفوق کے لیے اہل اقتدار حکمراں طبقات میں جو جنگیں ہوئیں، ان کو فرقہ وارانہ رنگ دے کر جو خاص طرح کا ماحول بنایا جاتا ہے، اس سے ملک کی غلط تصویر و تاریخ بن رہی ہے، یہ بہ قول اینی بیسینٹ، "بھارت کے فرزند بن جانے والے اور رشتہ اخوت "کو توڑنے کی مذموم سعی و عمل ہے،( India A nation صفحہ 18،اشاعت اول )آج کا بھارت اسی فرقہ پرستی اور تعصب و تنگ نظری کی زد میں ہے، اس سے بھارت کو کیسے نکالا جائے، یہ سوال، ہر محب وطن ہندستانی کے سامنے ہونا چاہیے،



















