پیر, جون 15, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Jahazi Media – Latest News, Articles & Insights
  • ہوم
  • جمعیۃ علماء ہند
  • اسلامیات
  • زبان و ادب
  • مضامین
    • All
    • جاوید اختر بھارتی
    • دیگر مضامین
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی

    بھارت فرقہ پرستی اور تعصب کی تباہی کے دہانے پر

    وندے ماترم کی مخالفت پر ماتم کا مقصد

    بے نقاب ہوتا ہندوتو کا چہرہ

    جنود ربانی کے مقاصد اور مناصب

    تحریکِ ریشمی رومال: معاونین و ہمدردان کی ایک تاریخی فہرست

    حضرت مولانا عبداللہ مغیثیؒ ایک عہد ساز شخصیت

    اقتدار کی منتقلی سے حکمرانی کے امتحان تککرناٹک میں نئی قیادت کے سامنے سیاسی استحکام اور سماجی توازن کا چیلنج

    تاریخی مساجد کو مندر میں بدلنے کی مہم

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    ہندوستانی مسلمان اورمناسب حکمت عملی کی ضرورت!

    وندے ماترم کی مخالفت پر ماتم کا مقصد

    زہریلی تاریخ نگاری کا تدارک

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    ملک معاشی ایمرجنسی کی جانب تیزی سے بڑھ رہا ہے؟

    بنگال میں ایس آئی آر :نشانے پر مسلمان!

    Trending Tags

    • Golden Globes
    • Mr. Robot
    • MotoGP 2017
    • Climate Change
    • Flat Earth
  • اہم خبریں
    • All
    • اتر پردیش
    • دہلی
    • دیگر ریاستیں
    یو پی کے علمائے کرام کا جھارکھنڈ کےجامعۃ الہدی میں استقبال

    یو پی کے علمائے کرام کا جھارکھنڈ کےجامعۃ الہدی میں استقبال

    نجات کے حصول کے لئے تین چیزوں پر عمل کرنے کی ضرورت

    جمعیت علمائے ہند کے 106سال مکمل، تاسیس کی مستند کہانی

    جمعیت علمائے ہند کا 6 نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ

    فرقہ وارانہ سیاست کا تاریخی پس منظر اور جمعیت علمائے ہند کا معقول اصولی موقف

    جمعیت علمائے بسنت رائے کے گاؤں گاؤں بیداری پروگرام کے سلسلے میں مفتی محمد نظام الدین کا سمری جامع مسجد میں جمعہ کا خطاب، مشاورتی نشست میں 20 جون کو عوامی بیداری پروگرام کا فیصلہ

    جھارکھنڈ کے ضلع گڈا میں واقع جمعیت علمائے بسنت رائے کی اراکینِ منتظمہ کا اہم مشاورتی اجلاس جامعۃ الہدیٰ جہاز قطعہ میں کامیابی کے ساتھ منعقد’’جمعیت علمائے ہند ہی کیوں؟‘‘، فکری و دستوری تربیت، حالاتِ حاضرہ، نوجوانوں کی رہنمائی اور گاؤں گاؤں بیداری مہم پر جامع غور و خوض

    جمعیت علمائے بسنت رائے کا آٹھواں ”گاؤں گاؤں نوجوانوں اور عوامی بیداری پروگرام“ لیتھا میں کامیابی کے ساتھ

    علماء عوام کے دروازے پر: گاؤں بیداری پروگرام کے سلسلے میں جمنی کولہ میں مشاورتی نشست، 16 جون کی تاریخ طے

    الیکشن میں مسلمانوں کے لئے ترجیحات

    وندے ماترم کو لازمی قرار دینا بنیادی حقوق اور سپریم کورٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی ہے: آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ

    جھپنیاں بستی میں گاؤں گاؤں بیداری پروگرام کا دوسرا پروگرام منعقد

    جمعیت علمائے بسنترائے کی گاؤں گاؤں بیداری مہم جاری موکل چک میں ساتواں’’بیداری پروگرام‘‘ کا کامیاب انعقاد

    نوجوانوں کی اصلاح اور بیداری وقت کی اہم ضرورت: مفتی محمد نظام الدین قاسمی

    جمعیت علمائے بسنت رائے کے زیر اہتمام “گاؤں گاؤں بیداری پروگرام” کے لیے افراد سازی کے مقصد سے تربیتی نشست کا انعقاد

  • غزل
  • ترجمہ و تفسیر قرآن
    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    Trending Tags

    • Sillicon Valley
    • Climate Change
    • Election Results
    • Flat Earth
    • Golden Globes
    • MotoGP 2017
    • Mr. Robot
  • ہوم
  • جمعیۃ علماء ہند
  • اسلامیات
  • زبان و ادب
  • مضامین
    • All
    • جاوید اختر بھارتی
    • دیگر مضامین
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی

    بھارت فرقہ پرستی اور تعصب کی تباہی کے دہانے پر

    وندے ماترم کی مخالفت پر ماتم کا مقصد

    بے نقاب ہوتا ہندوتو کا چہرہ

    جنود ربانی کے مقاصد اور مناصب

    تحریکِ ریشمی رومال: معاونین و ہمدردان کی ایک تاریخی فہرست

    حضرت مولانا عبداللہ مغیثیؒ ایک عہد ساز شخصیت

    اقتدار کی منتقلی سے حکمرانی کے امتحان تککرناٹک میں نئی قیادت کے سامنے سیاسی استحکام اور سماجی توازن کا چیلنج

    تاریخی مساجد کو مندر میں بدلنے کی مہم

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    ہندوستانی مسلمان اورمناسب حکمت عملی کی ضرورت!

    وندے ماترم کی مخالفت پر ماتم کا مقصد

    زہریلی تاریخ نگاری کا تدارک

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    ملک معاشی ایمرجنسی کی جانب تیزی سے بڑھ رہا ہے؟

    بنگال میں ایس آئی آر :نشانے پر مسلمان!

    Trending Tags

    • Golden Globes
    • Mr. Robot
    • MotoGP 2017
    • Climate Change
    • Flat Earth
  • اہم خبریں
    • All
    • اتر پردیش
    • دہلی
    • دیگر ریاستیں
    یو پی کے علمائے کرام کا جھارکھنڈ کےجامعۃ الہدی میں استقبال

    یو پی کے علمائے کرام کا جھارکھنڈ کےجامعۃ الہدی میں استقبال

    نجات کے حصول کے لئے تین چیزوں پر عمل کرنے کی ضرورت

    جمعیت علمائے ہند کے 106سال مکمل، تاسیس کی مستند کہانی

    جمعیت علمائے ہند کا 6 نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ

    فرقہ وارانہ سیاست کا تاریخی پس منظر اور جمعیت علمائے ہند کا معقول اصولی موقف

    جمعیت علمائے بسنت رائے کے گاؤں گاؤں بیداری پروگرام کے سلسلے میں مفتی محمد نظام الدین کا سمری جامع مسجد میں جمعہ کا خطاب، مشاورتی نشست میں 20 جون کو عوامی بیداری پروگرام کا فیصلہ

    جھارکھنڈ کے ضلع گڈا میں واقع جمعیت علمائے بسنت رائے کی اراکینِ منتظمہ کا اہم مشاورتی اجلاس جامعۃ الہدیٰ جہاز قطعہ میں کامیابی کے ساتھ منعقد’’جمعیت علمائے ہند ہی کیوں؟‘‘، فکری و دستوری تربیت، حالاتِ حاضرہ، نوجوانوں کی رہنمائی اور گاؤں گاؤں بیداری مہم پر جامع غور و خوض

    جمعیت علمائے بسنت رائے کا آٹھواں ”گاؤں گاؤں نوجوانوں اور عوامی بیداری پروگرام“ لیتھا میں کامیابی کے ساتھ

    علماء عوام کے دروازے پر: گاؤں بیداری پروگرام کے سلسلے میں جمنی کولہ میں مشاورتی نشست، 16 جون کی تاریخ طے

    الیکشن میں مسلمانوں کے لئے ترجیحات

    وندے ماترم کو لازمی قرار دینا بنیادی حقوق اور سپریم کورٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی ہے: آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ

    جھپنیاں بستی میں گاؤں گاؤں بیداری پروگرام کا دوسرا پروگرام منعقد

    جمعیت علمائے بسنترائے کی گاؤں گاؤں بیداری مہم جاری موکل چک میں ساتواں’’بیداری پروگرام‘‘ کا کامیاب انعقاد

    نوجوانوں کی اصلاح اور بیداری وقت کی اہم ضرورت: مفتی محمد نظام الدین قاسمی

    جمعیت علمائے بسنت رائے کے زیر اہتمام “گاؤں گاؤں بیداری پروگرام” کے لیے افراد سازی کے مقصد سے تربیتی نشست کا انعقاد

  • غزل
  • ترجمہ و تفسیر قرآن
    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    Trending Tags

    • Sillicon Valley
    • Climate Change
    • Election Results
    • Flat Earth
    • Golden Globes
    • MotoGP 2017
    • Mr. Robot
No Result
View All Result
Jahazi Media – Latest News, Articles & Insights
No Result
View All Result
Home مضامین دیگر مضامین

بھارت فرقہ پرستی اور تعصب کی تباہی کے دہانے پر

by Admin
جون 15, 2026
in دیگر مضامین, قومی و بین الاقوامی, مضامین
0
0
SHARES
1
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

مولانا عبدالحمید نعمانی صاحب

متنوع روایات و افکار کے حامل بھارت اور فرقہ پرست، تنگ نظر ہندوتو وادی عناصر کی طرف سے بنائے جا رہے بھارت میں کئی اعتبار سے تصادم و تضاد ہے، اگر اصل اور مصنوعی بھارت کے درمیان فرق کرتے ہوئے ہندستان کی اصل روایات کے تنوعات اور کثرت میں وحدت کے فلسفے کو سامنے لانے کی سنجیدہ کوششیں نہیں ہوں گی تو اس کی شناخت اور تصور و تصویر، سب کچھ مسخ ہو کر رہ جائیں گے، اس کا آج کی تاریخ میں شدید خطرہ و خدشہ پیدا ہو گیا ہے، ملک کی اصل شناخت، متنوع روایات پر مبنی رنگا رنگ والے طرز ہائے حیات ہے، جن میں مختلف مذہبی اکائیوں اور سماجی گروپوں کے ہندستانی شامل ہیں، اس سلسلے میں پہلے اور بعد میں شامل ہونے والوں کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے، گزشتہ کچھ عرصے سے جس طرح بھارت کو ہندوتو وادی شناخت دینے کی کوششیں شروع کی گئی ہیں ان کا ملک کی اصل روایات و شناخت اور سناتن فکر و عمل سے کوئی کا بھی کوئی تعلق نہیں ہے، بھارت نے مختلف ادوار میں مختلف روایات و افکار میں ہم آہنگی پیدا کر کے اپنے دامن کو وسیع سے وسیع تر کرنے کا کام کیا ہے، نہ کہ فرقہ پرستی اور تعصب و تنگ نظری کا مظاہرہ کرتے ہوئے تنوعات کو مسترد کر کے اپنے دامن کو تنگ اور محدود سے محدود تر کرنے کا، 2014 میں مرکز میں اقتدار کی تبدیلی کے ساتھ بہت کچھ بدلنے اور ختم کرنے کی عجیب قسم کے ہندستانی تنوعات کے بر خلاف سر گرمیوں کا آغاز ہوا ہے، گاندھی جی کا پسندیدہ بھجن، "ایشور، اللہ تیرو نام”گانے پر ہڑدنگ، ہنگامہ کر کے روک لگانے اور ابھی حال ہی میں اتر کھنڈ کی کئی جگہ ہوٹلوں، دکانوں پر ویج بریانی کے بجائے ویج پلاؤ لکھوایا گیا، اور اس سے پہلے کنبھ میلے میں روایتی شاہی اشنان سے شاہی لفظ نکلوانے کی مہم چلائی گئی تھی، اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ فرقہ پرست عناصر کو بھارت کی متنوع روایات کی قبولیت کا کوئی علم و شعور نہیں ہے، اشنان میں شاہی اشنان،مغل حکمراں اکبر کی توجہ و تعاون سے کنبھ میلے کا موجودہ شکل میں آغاز کرانے کی یاد میں ہوا تھا، ورنہ ہندو سماج میں مسلم دور سے پہلے کنبھ میلے کی موجودہ صورت نہیں تھی، پریاگ راج میں منعقد ہونے والا میلا، اصل میں بدھ مت کے لوگوں خصوصا راجاؤں کا مہا دان میلا تھا، بعد کے دنوں میں دیگر بہت سی چیزوں کی طرح برہمن وادی عناصر نے کنبھ میلے پر بھی اپنا تسلط قائم کر کے اپنا بنانے کی کوشش کی ہے، مندر، مورتی کا تصور بھی ہندو سماج میں بودھ مت سے لیا گیا ہے، برہمن وادی عناصر اپنا کچھ بنانے کے بجائے دیگر کے قائم و بنائے ہوئے ماثر و مقامات اپنے نام سے بدلنے اور ان پر قبضہ کرنے کا ماضی سے حال تک کرتے رہے ہیں، شاہی اشنان سے لفظ شاہی کو نکالنے میں ماضی قریب میں پروان چڑھنے والی فرقہ وارانہ سیاست ذہنیت کا کھلا عمل، دخل ہے، فرقہ پرست ہندوتو وادی عناصر میں اردو، فارسی، عربی الفاظ، جو ہندستانی زبانوں کا حصہ بن چکے ہیں کو نکلوانے کا ذہن بڑی تیزی سے پروان چڑھ رہا ہے، دیگر زبانوں کے متعلق تو کچھ نہ کچھ اختلاف ہے لیکن اردو کے بارے میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ وہ خالصتا بھارت میں پیدا ہوئی اور ارتقا کے مختلف منازل طے کرتے ہوئے حال تک پہنچی ہے، اس کے ترقی و عروج میں مسلمانوں کے ساتھ غیر مسلم ادباء و تخلیق کاروں کا بھی بڑا کردار و عطیہ ہے ،ایک چھوٹے سے گروہ نے مسلمانوں کے ساتھ اسلامی و مسلم شناخت والی دیگر چیزوں کے علاوہ اردو زبان کی تحقیر و تصغیر کرتے ہوئے، اسے ہندستانی زبانوں سے باہر کرنے کی مہم چلا رکھی ہے، گزشتہ دنوں ایک ٹی وی چینل پروگرام میں راقم سطور بھی شامل تھا، اس میں کئی ہندوتو وادی مبینہ دھرم گروؤں نے پردھان منتری اور مکھ منتری کے لیے، وزیراعظم، وزیر اعلی کے الفاظ استعمال کرنے کی مخالفت کی تھی، اس پر سخت تنقید اور ہندستانی تواریخ و روایات سے ناواقف قرار دینے پر اینکر نے بحث کا رخ موڑ کر مبینہ دھرم گروؤں کو بچانے کی کوشش کی تھی، عموما یہ دیکھا جاتا ہے کہ ٹی وی چینلز اور ہندوتو کے نمائندے تاریخی حوالوں کے ساتھ بحث و گفتگو سے گریز کرتے ہوئے ہلہ غلہ کرکے موضوع سے توجہ ہٹانے کی کوشش کرتے ہیں، اس کی وجہ ہندوتو وادیوں کی بہت سی خامیاں اور فکری و عملی بحران اور دعوے کی بنیاد میں من گھڑت باتیں اور کہانیاں ہیں، اس تناظر میں فرقہ پرست ہندوتو وادی عناصر کے مقابلے میں مسلمانوں کا مقدمہ و موقف بہت مضبوط ہے، اس بارے میں ان کو کسی احساس کمتری میں مبتلا ہونے اور اظہار معذرت کے بجائے، اقدامی عمل اور بنیادی سوالات سے کام لینا چاہیے، حالات کے زیادہ دباؤ میں آ کر مداہنت اور توحید کے عمل و عقیدہ کے برخلاف رویہ کے ،آنے والے دنوں میں از حد دوررس اثرات و نتائج مرتب و بر آمد ہوں گے، گزشتہ کچھ عرصے اور حال کے دنوں میں بہت سے مسلم نام والوں کے ہندوتو وادیوں کے ساتھ کھڑے ہونے یا ان سے آگے جا کر برہمن وادی روایات و مراسم کی حمایت و پیروی کی وجہ سے حالات میں جو عدم توازن پیدا ہوا ہے اسے دور کرنا ضروری ہو گیا ہے، یہ عناصر مسلمانوں کے مقدمے کو کمزور کرنے اور بگاڑنے میں ہندوتو وادیوں سے بھی آگے ہیں، اس سلسلے میں مختلف ذرائع ابلاغ سے استفادہ و استعمال بھی وقت کا اہم تقاضا ہے، اسلام اور مسلم مخالف طاقتیں، جہالت و بے خبری پر مبنی بے شمار غلط باتیں پھیلانے کے لیے مختلف ذرائع ابلاغ کا بے تحاشا استعمال کر رہی ہیں، اس کے مد نظر غلط فہمیوں کا ازالہ کرتے ہوئے اصل حقائق اور صحیح باتوں کو متبادل ذرائع ابلاغ کا استعمال کر کے سامنے لانا ضروری ہے، اقتدار کے زیر سایہ جس طرح اسلام اور مسلمانوں ، مساجد و مدارس کے خلاف اقدامات کیے جا رہے ہیں ان کی وجہ سے صورت حال از حد سنگین اور تشویشناک ہو گئی ہے، بہت سے انصاف پسند غیر مسلم بھی کہنے پر مجبور ہو گئے ہیں کہ مسلمانوں اور ان سے منسوب چیزوں کو ختم کر کے ان کو بے چہرہ اور دوم سوم درجے کا شہری بنانے کی راہ ہموار کی جا رہی ہے ،زور زبردستی اپنے عقیدہ و تہذیبی رویے کے بر خلاف ہندوتو وادی افکار و روایات کو اپنانے پر مجبور کیا جا رہا ہے اور یہ سب راشٹر واد اور ہندستانی تہذیب کے نام پر کیا جا رہا ہے، حالاں کہ ہندستانی تہذیب و روایات اور راشٹر واد اور ایک مخصوص کمیونٹی ہندو وبرہمن وادی فکر و عمل، دونوں ہم معنی نہیں ہیں، ہندستانی تہذیب و روایات اور راشٹر واد، ملک کے تمام باشندوں کے مشترک معاملے ہی قرار پا سکتے ہیں، فرقہ وارانہ تقسیم و تفریق اور ہندوتو وادی جارحانہ خیالات و مراسم کو ہندستانی قومیت و وطنیت، قرار دینا سراسر دھونس دھاندلی اور آئین کی عطا کردہ آزادی کے خلاف عمل ہے، یہ کھلے طور سے مسلم لیگ کے دعوے، دوقومی نظریہ اور جناح کے الزامات کو صحیح اور تقسیم ہند کے مخالف مجاہدین آزادی کے متحدہ قومیت و ہندستان کے حامی رہ نماؤں، گاندھی، نہرو، آزاد، مدنی وغیرہم کے موقف و مسلک کو غلط ٹھہراتے کی کوشش ہے، اس سلسلے میں من گھڑت کہانیوں اور مفروضہ بیانیے کو تاریخی حقائق باور کرانے کی مذموم کی جا رہی ہے، یوگی جیسے لیڈروں جن کو ہندستانی متنوع روایات و افکار کا زیادہ علم و شعور نہیں ہے کے فرقہ وارانہ و جانبدارانہ بیانات کو بھارت کے مین اسٹریم کا حصہ باور کراکر اس کے چہرے کو داغ دار کرنے کا کام کیا جا رہا ہے، وہ بہ ذات خود ریاست اور ملک کے تمام باشندوں کا سربراہ و نمائندہ جتلانے کے بجائے، جارح ہندوتو کے نمائندے کے طور پر پیش کرنے کا کام کر رہے ہیں، وہ مسلسل ایک کمیونٹی کو نشانہ بنا رہے ہیں، مسلم کمیونٹی کو ٹھیک کرنے کے لیے ٹھوک دینے کے حق میں نظر آتے ہیں، اس سے اس خدشے و خیال کو تقویت مل رہی ہے کہ ملک میں دو قسم کے قوانین چل رہے ہیں، یہ حالات اکھنڈ بھارت کے تصور و دعوے کو بے معنی بنا رہے ہیں، ہندستانی بن جانے والوں اور ملک کے دیگر باشندوں میں مذہب و فرقہ کی بنیاد پر فرق کرنا، پوری طرح فرقہ پرستی اور متحدہ قومیت و متحدہ بھارت کے تصور و نظریہ کے خلاف ہے، یہی کچھ ہندوتو وادی طاقتیں اور جناحی و لیگی سوچ کے فرقہ پرست کر رہے ہیں، مسلم، غیر مسلم جو بھی اور جس شکل میں بھی بھارت میں آئے اور یہاں رہنے کا فیصلہ کر کے ہندستانی ہو گئے اور جو ان سے پہلے آئے یا اصلا بھارت کے باشندے ہیں، ان کے درمیان بھید بھاؤ کرنا، اکھنڈ و مستحکم بھارت کو کمزور اور توڑنے والا عمل و رویہ ہے، یہ ہندستانی روایات اور تاریخی رفتار و تصور سے پوری طرح متصادم ہے، دیگر خصوصا مختلف طبقات کی شکل میں بھارت آنے والے مسلمانوں اور اسلام قبول کر کے ان کا حصہ بن جانے والے مسلمانوں کو ہندستانی تاریخ کے کسی دور میں غیر ملکی سمجھ کر، انگریزوں کی طرح، آزادی وطن کی کوئی عوامی تحریک نہیں چلی، چلائی گئی، اس تناظر میں آج کی تاریخ میں فرقہ پرست ہندوتو وادی عناصر کی طرف سے ہندستانی مسلمانوں کے متعلق جو الگ قسم کا بیانیہ سیٹ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، اس کی کوئی جڑ بنیاد نہیں ہے، یہ سراسر شر و فساد پسندی ہے، ماضی میں اقتداری تفوق کے لیے اہل اقتدار حکمراں طبقات میں جو جنگیں ہوئیں، ان کو فرقہ وارانہ رنگ دے کر جو خاص طرح کا ماحول بنایا جاتا ہے، اس سے ملک کی غلط تصویر و تاریخ بن رہی ہے، یہ بہ قول اینی بیسینٹ، "بھارت کے فرزند بن جانے والے اور رشتہ اخوت "کو توڑنے کی مذموم سعی و عمل ہے،( India A nation صفحہ 18،اشاعت اول )آج کا بھارت اسی فرقہ پرستی اور تعصب و تنگ نظری کی زد میں ہے، اس سے بھارت کو کیسے نکالا جائے، یہ سوال، ہر محب وطن ہندستانی کے سامنے ہونا چاہیے،

Admin

Admin

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

منتخب کردہ

حجۃ الوداع

حج و عمرہ میں اسلامی اصلاحات

1 مہینہ ago
جھپنیاں بستی میں گاؤں گاؤں بیداری پروگرام کا دوسرا پروگرام منعقد

جمعیت علمائے بسنترائے کی گاؤں گاؤں بیداری مہم جاری موکل چک میں ساتواں’’بیداری پروگرام‘‘ کا کامیاب انعقاد

1 ہفتہ ago

مقبول

  • بھارت فرقہ پرستی اور تعصب کی تباہی کے دہانے پر

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • یو پی کے علمائے کرام کا جھارکھنڈ کےجامعۃ الہدی میں استقبال

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • بے نقاب ہوتا ہندوتو کا چہرہ

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • نجات کے حصول کے لئے تین چیزوں پر عمل کرنے کی ضرورت

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • جمعیت علمائے ہند کا 6 نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ

    0 shares
    Share 0 Tweet 0

ہم سے جڑیے

ہمارا خبری نامہ حاصل کریں

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetuer adipiscing elit. Aenean commodo ligula eget dolor.
SUBSCRIBE

زمرہ جات

اہم روابط

  • لاگ ان کریں
  • Entries feed
  • Comments feed
  • WordPress.org

ہمارے بارے میں

جہازی میڈیا باشعور افراد کی ایک ایسی تحریک ہے، جو ملت اسلامیہ کی نشاۃ ثانیہ کے لیے اپنی فکری و عملی خدمات پیش کرنے کے لیے عہدبند ہوتے ہیں۔ اس لیے ہر وہ شخص اس تحریک کا ممبر بن سکتا ہے، جو اس نظریہ و مقصد سے اتفاق رکھتا ہے۔

  • ہمارے بارے میں
  • قوائد و ضوابط
  • کاپی رائٹس
  • پرائیویسی پالیسی
  • رابطہ

© 2025 Jahazi Media Designed by Mehmood Khan 9720936030.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • ہوم
  • اسلامیات
  • جمعیۃ علماء ہند
  • زبان و ادب
  • قومی و بین الاقوامی
  • اہم خبریں
    • دہلی
    • اتر پردیش
    • کرناٹک
    • مہاراشٹر
  • غزل
  • مضامین
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • دیگر مضامین
  • ترجمہ و تفسیر قرآن

© 2025 Jahazi Media Designed by Mehmood Khan 9720936030.