پہلی قسط
محمد یاسین جہازی
حرمین شریفین کے تحفظ میں ہندستانی مسلمانوں کا کردار
پہلی جنگِ عظیم (18/جولائی 1914ئ تا 11/نومبر 1918ئ) کے دوران پورا جزیرہعرب سلطنتِ عثمانیہ کے زیرِ اقتدار تھا، اس لیے تمام ہندستانی مسلمانوں کی واحد نمائندگی کرنے والی جماعت:جمعیت علمائے ہند کے نزدیک خلافتِ عثمانیہ کا تحفظ دراصل حرمین شریفین اور پورے جزیرہ عرب کے تحفظ کے مترادف تھا۔ اگرچہ ہندستانی مسلمانوں نے خلافت کے تحفظ کے وعدے پر برطانیہ کا ساتھ دیا، لیکن جنگ کے خاتمے کے بعد 30/اکتوبر 1918 کی عارضی صلح کے ذریعے سلطنتِ عثمانیہ کو تقسیم کردیا گیا، شریف حسین کو حجاز کا بادشاہ اور امیر فیصل کو عراق کا حکمراں بنا دیا گیا۔
تحفظِ خلافت کی پہلی عظیم تحریک کے دوران 23/نومبر 1919 کو دہلی کے اجلاس میں جمعیت علمائے ہند قائم ہوئی۔ اس نے اپنے پہلے اجلاسِ عام (28، 31/دسمبر 1919ء اور یکمجنوری 1920) میں 12/فروری تا 10/اپریل 1920 لندن میں منعقد ہونے والی صلح کانفرنس میں مسلم وفد بھیجنے کا فیصلہ کیا، مگر اس کے نتیجے میں 10/اگست 1920کو معاہدہ سیورے مرتب ہوا، جس نے خلافتِ عثمانیہ کو ٹکڑوں میں تقسیم کردیا۔ اس پر 6/ستمبر 1920 کو کلکتہ میں جمعیت علمائے ہند نے انگریزی حکومت کے مکمل بائیکاٹ کا فیصلہ کیا اور 8/ستمبر 1920ئ کو ’’متفقہ فتویٰ علمائے ہند‘‘ جاری کرکے ترکِ موالات کو شرعی فریضہ قرار دیا، جس کی بنیاد جزیرہ عرب، مقاماتِ مقدسہ اور خلافت کے تحفظ کو بنایا گیا۔
دوسرے اجلاسِ عام (19، 20، 21/نومبر 1920ئ) میں حکیم محمد اجمل خاں نے خلافتِ عثمانیہ کی تقسیم، مقاماتِ مقدسہ پر غیر مسلم غلبے اور جزیرہعرب میں برطانوی مداخلت کو مسلمانوں کے مذہبی حقوق پر حملہ قرار دیا، جب کہ اسی اجلاس کے صدارتی خطاب میں شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندیؒ نے واضح کیا کہ شریفِ مکہ کی حکومت حقیقی اسلامی حکومت نہیں، اس لیے حجاز، بیت المقدس، عراق اور دیگر مقدس مقامات کو غیر مسلم اثر سے پاک رکھنا مسلمانوں کا دینی فرض ہے۔
تیسرے اجلاسِ عام (18، 19، 20/نومبر 1921) میں مولانا ابوالکلام آزادؒ نے اعلان کیا کہ جزیرہ عرب صرف حجاز تک محدود نہیں بلکہ عراق بھی اس میں شامل ہے، لہٰذا جب تک اس خطے سے برطانوی اثر ختم نہیں ہوگا، مسلمان برطانیہ سے مصالحت نہیں کرسکتے۔
22مارچ 1922 کو مجلسِ عاملہ نے مطالبہ کیا کہ فلسطین، شام، عراق، عرب، حجاز، نجد اور یمن سمیت تمام عرب علاقے خلیفۃ المسلمین سلطانِ ترکی کے زیرِ اقتدار رہیں۔ پھر 18، 19، 20/اکتوبر 1922 کو مجلسِ منتظمہ نے اعلان کیا کہ خلافت کے مذہبی مطالبات میں کسی قسم کی کمی قابلِ قبول نہیں ہوگی۔ بعد ازاں 24 تا 26/دسمبر 1922 کے چوتھے اجلاسِ عام میں مولانا حبیب الرحمن عثمانیؒ نائب مہتمم دارالعلوم دیوبند نے خلافت کے قیام، مقاماتِ مقدسہ کے تحفظ اور جزیرہعرب سے غیر مسلم اقتدار کے خاتمے کو مسلمانوں کا فرض قرار دیا۔
9،10/فروری 1923 کی مجلسِ منتظمہ میں فیصلہ کیا گیا کہ مدینہ منورہ کے تبرکات ترکی سے مدینہ منورہ اس وقت تک واپس نہ کیے جائیں جب تک حجاز خلیفۃ المسلمین کے قابلِ اعتماد اقتدار میں نہ آجائے، اور اسی اجلاس میں حجاز ریلوے کو پوری امتِ مسلمہ کی مشترکہ ملکیت قرار دیتے ہوئے اس کے انتظام کا حق صرف خلیفۃ المسلمین کو دیا گیا۔
(جاری۔۔۔۔۔۔)
@all




















