راشٹرواد
(02)
محمد یاسین جہازی
ہندستانی مسلمانوں کا راشٹرواد
ہندستانی مسلمان ہندستان کے مول نواسی ہیں کہ نہیں، یہ سوال اپنی بنیاد میں ایک تاریخی سوال نہیں بلکہ ایک سیاسی فتنہ ہے۔ آزادی کے بعد فرقہ پرست عناصر نے اس سوال کو اس لیے زندہ کیا تاکہ اپنی ماضی کی غلطیوں پر پردہ ڈال سکے اور ہندستانی جمہوریت کی بنیاد کو کمزور کرکے ہندو راشٹر کے تصور کو فروغ دے۔
حقیقت یہ ہے کہ اسلام کے ماننے والوں کے لیے یہ سرزمین اتنی ہی قدیم ہے جتنی خود انسان کی تاریخ۔ مورخ ملت حضرت مولانا سید محمد میاں صاحب دیوبندی نے اپنے رسالے "ہمارا وطن اور اس کی فضیلت” میں اور شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنی نے اپنے رسالے "ہمارا ہندستان اور اس کے فضائل” میں تاریخی حوالوں سے یہ ثابت کیا ہے کہ دنیا کے پہلے انسان حضرت آدم علیہ السلام کا ورود اسی سرزمین پر ہوا۔ اس لیے اس بحث کو ان دونوں کتابوں کے حوالے کرکے ہم اصل موضوع پر آگے بڑھتے ہیں ۔
دیگر مذاہب کے برعکس اسلام میں راشٹرواد کے متعلق واضح حکم موجود ہے ۔ وطن سے محبت اور اس کا تحفظ دونوں ہی شرعی حکم ہیں ۔ ایک مسلمان اس کے خلاف جاہی نہیں سکتا۔
(1 )ہندستان کا دارالاسلام سے داراالحرب بن جانا
یہی وجہ ہے کہ سن 1806 میں دہلی پر قبضے کے بعد انگریزوں نے شاہ عالم کو برائے نام تخت پر بٹھا کر یہ اعلان کیا کہ ملک بادشاہ کا اور حکم انگریز بہادر کا،تو اس ظاہری تقسیم کی وجہ سے اگرچہ بعض علما کو یہ گمان ہوا کہ ہندستان اب بھی دارالاسلام ہے۔ لیکن شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی نے ہجرت اور ترک وطن کا مشورہ دینے کے بجائے انیسویں صدی کی پہلی دہائی میں، جب کہ تخت پر شاہ عالم ثانی متمکن تھے، 1808 یا 1809ء میں ہندستان کو دارالحرب قرار دیتے ہوئے انگریزوں کے خلاف جہاد کا فتویٰ دیا۔ اس فتویٰ کا متن ’’فتاویٰ عزیزی‘‘ جلد اول، صفحات 16-17 میں موجود ہے۔
(2)جہادی آزادی ہند کا دوسرا فتویٰ
اسی طرح دوسرا فتویٰ جہاد شاملی کے عنوان سے مشہور ہے، جو اسی تحفظ وطن اور دفاع وطن کا تسلسل ہے ۔اس استفتا میں کہا گیا کہ جب انگریز دلی پر چڑھ آئے اور اہل اسلام کی جان و مال کا ارادہ رکھتے ہوں تو جہاد فرض ہے یا نہیں۔ اس کے جواب میں مفتی صدر الدین، مولانا نذیر حسین اور دیگر سمیت پینتیس علما نے دستخط کرکے فتویٰ دیا کہ اس شہر والوں پر جہاد فرض عین ہے اور اطراف والوں پر فرض کفایہ۔ یہ فتویٰ پہلے اخبار الظفر دہلی میں شائع ہوا اور پھر 26 جولائی 1857 کی اشاعت میں صادق الاخبار نے اسے نقل کیا۔
اسی فتوے کی بنیاد پر 14 ستمبر 1857 کو شاملی اور تھانہ بھون کی لڑائی لڑی گئی۔ اس جنگ کی ناکامی کے بعد علما پر بے پناہ مظالم ہوئے اور انھیں مجبوراً گوشہ نشینی اختیار کرنی پڑی۔
قصہ مختصر یہ کہ ان دونوں فتاوے کے تناظر میں اسلام کے راشٹرواد کے نظریہ کو سمجھا جاسکتا ہے کہ ترک وطن اور غلامی پر قناعت کے بجائے وطن کی حفاظت مسلمانوں کا مذہبی و شرعی فریضہ ہے۔
(3) ہندستان کو آزاد کرانے کے لیے متحدہ قومیت کی راہ اختیار کرنا
جاری ۔۔۔۔۔
@all






















