مترجم: محمد یاسین جہازی
این سی ایگ کا سیکشن 5 سے ماخوذ
5.2.1 زبان کا مواد (Content for Language)
زبان کے لیے منتخب کردہ متن کہانیوں اور نظموں کے ساتھ ساتھ مقامی قدرتی اور انسانی ماحول پر مبنی مواد کا ایک اچھا توازن ہونا چاہیے۔ اگرچہ کہانیاں اور نظمیں چھوٹے بچوں کی تخیلاتی اور لسانی صلاحیتوں (imaginative and linguistic capacities) کو نکھارتی ہیں، لیکن نباتات اور حیوانات (flora and fauna) کے ساتھ ساتھ سماجی اور ثقافتی پہلوؤں پر مبنی مواد بچوں کو اپنے اردگرد کی دنیا کو سمجھنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔
مذکورہ بالا متن (Textual Content)
- ابتدائی جماعتوں (early Grades) کے نصابی مواد میں ابتدائی درج کے قارئین (beginning readers) کو معنی اخذ کرنے (meaning-making) میں مدد دینے کے لیے تصاویر اور عکاسیوں کی صورت میں مناسب بصری اشارے (visual cues) ہونے چاہیں۔
- فونٹس (fonts) کا انتخاب کرتے وقت جمالیاتی کشش (aesthetic appeal) میں اضافے کے بجائے بصری پیچیدگی (visual complexity) کو کم کرنے کو ترجیح دی جانی چاہیے۔
- فونٹس (fonts) کا سائز کم از کم 14 پوائنٹ (14-point size) ہونا چاہیے۔
- استعمال ہونے والی ذخیرہ الفاظ (vocabulary) میں جانی پہچانی اور انجان الفاظ کا ایک معقول امتزاج (judicious mix) ہونا چاہیے جو معیاری تحریری شکل (standard written form) کے مقابلے میں بول چال کی زبان (spoken form of language) کے زیادہ قریب ہو (بہت سی ہندوستانی زبانوں میں بول چال اور تحریری شکل کی ذخیرہ الفاظ بالکل الگ ہوتی ہے)۔
مواد کی اقسام (Forms of Content)
- درسی کتب/ورک بکس (Textbooks/Workbooks): اگرچہ جماعت اول میں درسی کتب کا استعمال ہو سکتا ہے، لیکن ان میں بچوں کی فعال شرکت (active engagement) کی گنجائش ہونی چاہیے۔ درسی کتب اور ورک بکس کو ایک دوسرے کی اچھے طریقے سے تکمیل (complement) کرنی چاہیے۔
- بچوں کا ادب (Children’s Literature): بچوں کی جامع خواندگی (comprehensive literacy) والی کلاس روم کے لیے، اچھے اور وافر بچوں کے ادب تک رسائی لازمی ہے۔ اس میں کہانیوں، گیتوں اور مقامی ثقافت کی ادب کی دوسری اقسام کو شامل ہونا چاہیے۔ مثال کے طور پر، کلاس رومز میں گائے جانے والے گیت (sing-along song) کے طور پر بنگلہ زبان کی یہ لوری شامل کی جا سکتی ہے:
| بنگلہ لوری | انگریزی ترجمہ |
|---|---|
| Ghum parani mashi pishi, | Sleeping aunts, |
| Moder bari esho | Come to our house. |
| Khaat nai palang nai | No bed, no bed. |
| Chokh pete bosho | Bring the sleep to our eyes. |
| Bata bhora bhaat debo | I will give you a bowl full of rice, |
| Gaal bhore kheyo | Eat until your cheeks are full. |
| Khokar chokhe ghum nai | There is no sleep in the boy’s eyes, |
| Ghum diye jeyo. | Give him sleep. |
کلاس روم میں بچوں کے ادب کی دلکش نمائش (attractive display) کے ساتھ ایک کتابوں کی الماری (bookshelf) ہونی چاہیے۔ معلم کو اپنے ہفتہ وار منصوبے (weekly plan) کی بنیاد پر مختلف کتابوں کے ساتھ اس نمائش کو تبدیل کرنے میں فعال دلچسپی لینی چاہیے۔
- ورک شیٹس (Worksheets): سادہ ورک شیٹس جنہیں بچے خود چنیں، جن پر کام کریں اور خود مکمل کریں (pick and work on and complete on their own)، بچوں کی خواندگی میں مشق اور تشکیلی جانچ (formative assessment) دونوں کے لیے اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
- مواد (Materials): فلیش کارڈز (Flashcards)، گتے/سینڈ پیپر پر بنے ہوئے اکھرش فارمز (akshara forms)، کھیل، پہیلیاں (puzzles)، اور دیگر سرگرمیوں کے مواد زبان اور خواندگی کی سرگرمیوں کو دلکش اور دلچسپ (engaging and interesting) بنائے رکھتے ہیں۔
- آڈیو ویژول مواد (Audio-Visual Material): اسمارٹ فونز جیسے ڈیجیٹل آلات کی ہمہ وقتی موجودگی (ubiquity) کے ساتھ، اچھے معیار کا آڈیو مواد (audio material) جماعت اول اور دوم کے لیے بہت موثر مواد ثابت ہو سکتا ہے۔ نظمیں، کہانیاں اور دیگر بیانیے (narratives) بچوں کے لیے زبانی زبان کے ان پٹ (oral language input) کا ایک اچھا ذریعہ بن سکتے ہیں۔
گھماؤ، پڑھو اور لکھو! (Roll, Read and Write!)
میں پہلی جماعت کو پڑھاتی ہوں، اور میرے بچے ایک جگہ بیٹھنا بالکل پسند نہیں کرتے۔ لہٰذا، 3 حرفی عام استعمال ہونے والے الفاظ (3-lettered high frequency words) کو پہچاننے، پڑھنے اور لکھنے کی مشق کرنے کے لیے، میں نے "گھماؤ، پڑھو اور لکھو!” (Roll, Read and Write!) کا یہ کھیل ایجاد کیا۔ اس کے لیے مجھے صرف ایک ورک شیٹ، ایک پانسہ (dice)، اور ایک پنسل کی ضرورت ہوتی ہے۔ بچے باری باری پانسہ گھماتے ہیں اور اس نمبر سے ملنے والے لفظ کو پڑھتے ہیں اور ورک شیٹ کے متعلقہ خانے (corresponding box) میں اسے لکھتے ہیں۔
ہم اس وقت تک کھیلنا جاری رکھتے ہیں جب تک کہ وقت کے لحاظ سے پورا کالم یا پورا بورڈ بھر نہ جائے۔ اس سرگرمی کے ذریعے، میں پانسے پر موجود نمبروں کو پہچاننے اور ان کی چিমٹی کی گرفت (pincer grip) کی صلاحیت پر بھی کام کرنے کے قابل ہوتی ہوں۔ یہ ایک سادہ، پرلطف اور دلکش (simple, fun, and engaging) سرگرمی ہے۔
جو ورک شیٹ میں نے ‘the’, ‘is’, ‘at’, ‘he’, ‘she’ کی مشق کے لیے استعمال کی وہ نیچے دی گئی ہے:
(ورک شیٹ کا خاکہ جس میں ہدایات درج ہیں: "پانسہ گھمائیں۔ جو لفظ نمبر سے ملے اسے پڑھیں، پھر اوپر دیے گئے خانے میں لکھیں۔ تب تک پانسہ گھماتے رہیں جب تک کوئی کالم بھر نہ جائے!”)



















