سیکشن 5.2
مشمول کے انتخاب کے اصول (Principles of Content Selection)
اگرچہ صلاحیتیں (Competencies) اور سیکھنے کے نتائج (Learning Outcomes) اس بات کی واضح سمت فراہم کرتے ہیں کہ بچوں کے لیے سیکھنے کے تجربات تخلیق کرنے میں کون سا مواد استعمال کیا جائے، لیکن مواد کے انتخاب کے لیے ذہن میں رکھنے کے قابل کئی دیگر امور بھی ہیں۔ ان میں سے چند امور ذیل میں دیے گئے ہیں:
- الف۔ بنیادی مرحلے (Foundational Stage) میں بننے والے تصورات زیادہ تر ادراکی (perceptive) ہوتے ہیں (مثلاً رنگ کو بصری طور پر الگ کرنا) اور عملی ہوتے ہیں (مثلاً ٹین کا ڈھکن کھولنے کے لیے چمچ بطور لیور استعمال کرنا، دکان سے چیزیں خریدنے کے لیے پیسے، لیکن نظریاتی نہیں ہوتے (مثلاً رنگ روشنی کے سپیکٹرم کے طور پر، لیور ایک سادہ مشین کے طور پر، یا پیسے کے تبادلے کے واسطے کے طور پر)۔ ادراکی اور عملی تصورات کے پیچھے چھپے نظریات کی کھوج لگانے کی توقع صرف اسکول کے بعد کے مراحل میں کی جاتی ہے۔ لہذا منتخب کردہ مواد حسیاتی طور پر پرکشش ہونا چاہیے (مثلاً بچے کے حواس کو بیدار کرے، جمالیاتی کشش رکھتا ہو) اور/یا بچے کے تجربات کے تناظر میں عملی طور پر متعلقہ ہو۔
- ب۔ مواد بچوں کے زندگی کے تجربات سے ماخوذ ہونا چاہیے اور اس ثقافتی، جغرافیائی اور سماجی تناظر کی عکاسی کرنی چاہیے جس میں بچہ پنپ رہا ہے اور بڑھ رہا ہے۔ کام کرنے، کھانا پکانے، سفر کرنے، لوک گیتوں اور کہانیوں، تہواروں اور کسی کمیونٹی یا گروہ کی رسومات جیسی روزمرہ کی سرگرمیوں کو بھی باقاعدہ طور پر جاننے اور تجربہ کرنے کی ضرورت ہے۔
- ج۔ مواد کو مانوس سے نامانوس، سادہ سے پیچیدہ، اور خود سے دوسروں کی طرف بڑھنا چاہیے۔ چھوٹے بچے اپنے قریبی ماحول کی چیزوں اور واقعات کو سنبھال سکتے ہیں اور ان میں دلچسپی رکھتے ہیں — وہ چیزیں جن سے وہ خود کو جوڑ سکتے ہیں اور جو سادہ ہوتی ہیں۔ آہستہ آہستہ، مواد زیادہ پیچیدہ ہو سکتا ہے اور اس میں ایسے موضوعات بھی شامل ہو سکتے ہیں جو بچوں کے قریبی ماحول میں نہیں پائے جاتے۔
- د۔ چونکہ ادراکی نشوونما کا مقصد اپنے اردگرد کی دنیا کے بارے میں جاننا اور اپنے ماحول میں کامیابی کے ساتھ خود کو ڈھالنا ہے؛ لہذا مواد کو ایسے موضوعات اور تالیفات (themes) کی عکاسی کرنی چاہیے جو بچوں کو اس قدرتی اور انسانی ماحول سے روشناس کرائیں جس میں وہ بڑھ رہے ہیں اور ترقی کر رہے ہیں، نیز سماجی اور طبعی دنیا، لوگوں، جگہوں، جاندار اور بے جان چیزوں سے واقف کریں۔
- ھ۔ مواد کو ابھرتی ہوئی صلاحیتوں یعنی بچوں کی انفرادی خصوصیات سے منسلک ہونا چاہیے. تمام بچے مختلف ہوتے ہیں اور اپنی رفتار سے سیکھتے ہیں۔ انفرادی بچوں کی مختلف دلچسپیوں کو ایڈجسٹ کرنے اور سرگرمیوں اور تجربات کی متعدد سطحیں فراہم کرنے کے لیے مواد متنوع اور جامع ہونا چاہیے تاکہ یہ بچوں کی صلاحیتوں اور مہارتوں کے لحاظ سے ان کے انفرادی چیلنجوں کا مقابلہ کر سکے۔
- و۔ دقیانوسی تصورات (stereotypes) کو فروغ دینے سے بچنے کے لیے خصوصی احتیاط برتی جانی چاہیے، مثلاً الّو اور سانپ کو برا سمجھنا، یا گہرے رنگ کے لوگوں کو ڈراونا دکھانا، یا ماں کا ہمیشہ کچن سنبھالنا۔
اگلی قسطوں میں بطور مثال، زبان، ریاضی اور آرٹ کی نصابی کتابیں مرتب کرنے کے اصول تحریر کیے جائیں گے۔
این سی ایف سے ماخوذ
مترجم محمد یاسین جہازی




















