پریس ریلیز
جھپنیاں، جہاز قطعہ اور اطراف کی بستیوں میں جمعیت علمائے بسنترائے کے زیر اہتمام بیداری مہم کے سلسلے میں مختلف مساجد اور عوامی مقامات پر خطاب کرتے ہوئے معروف عالم دین مولانا محمد یاسین جہازی قاسمی نے کہا کہ شہری حقوق کے تحفظ اور اپنے وجود کی بقا کے لیے موجودہ دور کے اہم سرکاری مراحل میں حصہ لینا نہایت ضروری ہے۔
انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی جانب سے عموماً تین شماریات کرائے جاتے ہیں :
اول، مردم شماری (Census)، جو ہر دس سال بعد ہوتی ہے تاکہ آبادی کے تناسب سے منصوبہ بندی کی جا سکے۔
دوم، این آر سی (NRC)، جس کے ذریعے ملک کی مجموعی آبادی کا ریکارڈ تیار کیا جاتا ہے۔
سوم، الیکشن کمیشن آف انڈیا کی جانب سے وقتاً فوقتاً ایک عمل انجام دیا جاتا ہے جسے SIR (Special Intensive Revision) کہا جاتا ہے۔
مولانا جہازی نے کہا کہ اگرچہ SIR کا عمل اس سے پہلے بھی ہوتا رہا ہے، لیکن اس مرتبہ اس کی اہمیت غیر معمولی ہو گئی ہے، کیونکہ موجودہ مرحلے میں الیکشن کمیشن اور حکومت کی بدنیتی کے اندیشے ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ایسی صورتِ حال میں SIR کے عمل کو انتہائی سنجیدگی، مکمل بیداری اور درست معلومات کے ساتھ انجام دینا ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ معاملہ محض ایک رسمی کارروائی نہیں بلکہ ہندوستانیوں کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ بن چکا ہے، اس لیے ہر شخص کو چاہیے کہ وہ اس عمل کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کرے۔
انہوں نے عوام کو ہدایت دی کہ جیسے ہی بی ایل او (BLO) کی جانب سے فارم موصول ہو، اسے نہایت احتیاط اور درست معلومات کے ساتھ پُر کریں، جمع کرانے کے بعد رسید (Acknowledgement) ضرور حاصل کریں، اور حتی الامکان اپنے سامنے ہی اسے آن لائن کرا لیں۔معلومات کے لیے عرض ہے کہ جمعیت علمائے بسنترائے کی ایک فعال ٹیم اس سلسلے میں مسلسل عوامی بیداری کے لیے کوشاں ہے اور ہر طرح کی رہنمائی و تعاون کے لیے ہمہ وقت دستیاب ہے۔























