ہفتہ, اکتوبر 24, 2026
  • Login
  • Register
No Result
View All Result
NEWSLETTER
جہازی میڈیا۔۔۔ نظریوں کا نیٹ ورک
  • ہوم
  • جمعیت علمائے ہند
  • اسلامیات
  • زبان و ادب
  • متفرق مضامین
    • All
    • جاوید اختر بھارتی
    • دیگر مضامین
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
     آل انڈیا مسلم پرسنل لائ بورڈ کے پہلے اجلاس کی کارروائی رپورٹ

     آل انڈیا مسلم پرسنل لائ بورڈ کے پہلے اجلاس کی کارروائی رپورٹ

    قاضی سید کمال الدین ثانی رح: جن کی نسبت سے صاحب پور کمال آباد ہے

    قاضی سید کمال الدین ثانی رح: جن کی نسبت سے صاحب پور کمال آباد ہے

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    ملک میں مہنگائی اور بے روزگاری کے اچھے دن!

    طریقہ تعلیم پر اہل حدیث عالم کا نظریہ

    متحدہ قومیت پر اہل حدیث عالم مولانا عبد الوہاب آروی کا نظریہ

    اجلاس اور تجاویز

    محمد یاسین جہازی

    مسئلہ آسام اور جمعیت علمائے ہند

    وندے ماترم کی مخالفت پر ماتم کا مقصد

    بھارت میں فرقہ وارانہ اتحاد و انتشار کی راہ

    راشٹرواد(01)

    راشٹرواد

    راشٹرواد(01)

    راشٹرواد (15)۔ جہازی فارمولے

    Trending Tags

    • Golden Globes
    • Mr. Robot
    • MotoGP 2017
    • Climate Change
    • Flat Earth
  • اہم خبریں
    • All
    • اتر پردیش
    • دہلی
    • دیگر ریاستیں
     آل انڈیا مسلم پرسنل لائ بورڈ کے پہلے اجلاس کی کارروائی رپورٹ

    ریس کورس مسجد کو انہدامی نوٹس غیر قانونی اور غیر دستوری ہے: آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈبی جے پی حکومتوں کے دور میں مساجد اور مدارس کو نشانہ بنانے کی کارروائیاں انتہائی تشویشناک ہیں

    آل انڈیا مسلم پرسنل لائ بورڈ کے پہلے اجلاس کی کارروائی رپورٹ

    وہی تنظیم قائم رہتی ہے، جو وقت کے ساتھ ہم آہنگ ہوتی ہے

    تو ہم کہہ دیں گے کہ یہ ملک ہندو اسٹیٹ بن گیا ہے

    تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ کے خلاصے سے اہم اقتباسات

    راشٹرواد(01)

    راشٹرواد (14)۔ ملک دو راہے پر آگے کا راستہ کیا؟

    شیخ محمد محسن تِرہُتی رح اور ان کی تصنیف الیانع الجنى فی اسانید الشیخ عبد الغنی (تاریخ، تعارف اور تجزیہ)

    شیخ محمد محسن تِرہُتی رح اور ان کی تصنیف الیانع الجنى فی اسانید الشیخ عبد الغنی (تاریخ، تعارف اور تجزیہ)

    راشٹرواد(01)

    راشٹر واد(13) قیام پاکستان کی مخالفت کیو ں کی گئی؟

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    بھارت میں ہندو تہذیب وثقافت کی بالادستی کی جنگ 

  • ترجمہ و تفسیر قرآن کریم

    تھورنا ڈائک(Edward Thorndike)  کا قانون تعلیم

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    Trending Tags

    • Sillicon Valley
    • Climate Change
    • Election Results
    • Flat Earth
    • Golden Globes
    • MotoGP 2017
    • Mr. Robot
  • ہوم
  • جمعیت علمائے ہند
  • اسلامیات
  • زبان و ادب
  • متفرق مضامین
    • All
    • جاوید اختر بھارتی
    • دیگر مضامین
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
     آل انڈیا مسلم پرسنل لائ بورڈ کے پہلے اجلاس کی کارروائی رپورٹ

     آل انڈیا مسلم پرسنل لائ بورڈ کے پہلے اجلاس کی کارروائی رپورٹ

    قاضی سید کمال الدین ثانی رح: جن کی نسبت سے صاحب پور کمال آباد ہے

    قاضی سید کمال الدین ثانی رح: جن کی نسبت سے صاحب پور کمال آباد ہے

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    ملک میں مہنگائی اور بے روزگاری کے اچھے دن!

    طریقہ تعلیم پر اہل حدیث عالم کا نظریہ

    متحدہ قومیت پر اہل حدیث عالم مولانا عبد الوہاب آروی کا نظریہ

    اجلاس اور تجاویز

    محمد یاسین جہازی

    مسئلہ آسام اور جمعیت علمائے ہند

    وندے ماترم کی مخالفت پر ماتم کا مقصد

    بھارت میں فرقہ وارانہ اتحاد و انتشار کی راہ

    راشٹرواد(01)

    راشٹرواد

    راشٹرواد(01)

    راشٹرواد (15)۔ جہازی فارمولے

    Trending Tags

    • Golden Globes
    • Mr. Robot
    • MotoGP 2017
    • Climate Change
    • Flat Earth
  • اہم خبریں
    • All
    • اتر پردیش
    • دہلی
    • دیگر ریاستیں
     آل انڈیا مسلم پرسنل لائ بورڈ کے پہلے اجلاس کی کارروائی رپورٹ

    ریس کورس مسجد کو انہدامی نوٹس غیر قانونی اور غیر دستوری ہے: آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈبی جے پی حکومتوں کے دور میں مساجد اور مدارس کو نشانہ بنانے کی کارروائیاں انتہائی تشویشناک ہیں

    آل انڈیا مسلم پرسنل لائ بورڈ کے پہلے اجلاس کی کارروائی رپورٹ

    وہی تنظیم قائم رہتی ہے، جو وقت کے ساتھ ہم آہنگ ہوتی ہے

    تو ہم کہہ دیں گے کہ یہ ملک ہندو اسٹیٹ بن گیا ہے

    تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ کے خلاصے سے اہم اقتباسات

    راشٹرواد(01)

    راشٹرواد (14)۔ ملک دو راہے پر آگے کا راستہ کیا؟

    شیخ محمد محسن تِرہُتی رح اور ان کی تصنیف الیانع الجنى فی اسانید الشیخ عبد الغنی (تاریخ، تعارف اور تجزیہ)

    شیخ محمد محسن تِرہُتی رح اور ان کی تصنیف الیانع الجنى فی اسانید الشیخ عبد الغنی (تاریخ، تعارف اور تجزیہ)

    راشٹرواد(01)

    راشٹر واد(13) قیام پاکستان کی مخالفت کیو ں کی گئی؟

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    بھارت میں ہندو تہذیب وثقافت کی بالادستی کی جنگ 

  • ترجمہ و تفسیر قرآن کریم

    تھورنا ڈائک(Edward Thorndike)  کا قانون تعلیم

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    Trending Tags

    • Sillicon Valley
    • Climate Change
    • Election Results
    • Flat Earth
    • Golden Globes
    • MotoGP 2017
    • Mr. Robot
No Result
View All Result
جہازی میڈیا۔۔۔ نظریوں کا نیٹ ورک
No Result
View All Result
Home متفرق مضامین

اقتدار کی منتقلی سے حکمرانی کے امتحان تککرناٹک میں نئی قیادت کے سامنے سیاسی استحکام اور سماجی توازن کا چیلنج

by Admin
جون 7, 2026
in متفرق مضامین
0
حضرت مولانا عبداللہ مغیثیؒ ایک عہد ساز شخصیت
0
SHARES
6
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

از: عبدالحلیم منصور

نہیں ہے نا امید اقبال اپنی کشتِ ویراں سےذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت کے زرخیز ہے ساقیکرناٹک کی سیاست ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں محض حکومت نہیں بدلی بلکہ ریاست کے سیاسی، سماجی اور نظریاتی مستقبل سے متعلق کئی بنیادی سوالات بھی نئے سرے سے جنم لے چکے ہیں۔ بظاہر یہ سدارامیا سے ڈی کے شیوکمار تک اقتدار کی منتقلی ہے، لیکن حقیقت میں یہ تبدیلی اس سے کہیں زیادہ گہری اور دور رس اہمیت کی حامل ہے۔ یہ ایک ایسے سیاسی دوراہے کی نشاندہی کرتی ہے جہاں سماجی انصاف، اقلیتوں کی نمائندگی، پسماندہ طبقات کے حقوق، فرقہ وارانہ ہم آہنگی، معاشی استحکام اور کانگریس کے مستقبل کی سیاست ایک دوسرے سے جڑ کر سامنے آ رہے ہیں۔تقریباً تین برس قبل جب کانگریس نے کرناٹک میں تاریخی کامیابی حاصل کی تھی تو اس کامیابی کو صرف ایک انتخابی جیت نہیں سمجھا گیا تھا۔ یہ دراصل اس سماجی اتحاد کی کامیابی تھی جسے سدارامیا نے اپنی "اہندا” سیاست کے ذریعے برسوں میں مضبوط کیا اور جسے ڈی کے شیوکمار نے اپنی غیر معمولی تنظیمی صلاحیت، سیاسی حکمت عملی اور زمینی رابطوں کے ذریعے اقتدار تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ اسی لیے آج جب اقتدار کی باگ ڈور باضابطہ طور پر ڈی کے شیوکمار کے ہاتھوں میں آ چکی ہے تو اصل سوال یہ نہیں کہ نیا وزیراعلیٰ کون ہے، بلکہ یہ ہے کہ کیا وہ اس سماجی اور سیاسی اتحاد کو برقرار رکھ سکیں گے جس نے کانگریس کو اقتدار تک پہنچایا تھا؟سدارامیا اور ڈی کے شیوکمار صرف دو افراد نہیں بلکہ کانگریس کے اندر دو مختلف سیاسی اسالیب اور دو مختلف عوامی امیجز کی نمائندگی کرتے ہیں۔ سدارامیا ایک ایسے سیاست دان کے طور پر جانے جاتے ہیں جو اپنے خیالات کے اظہار میں غیر معمولی بے باکی رکھتے ہیں۔ ان کی سیاست کا مرکز سماجی انصاف، پسماندہ طبقات اور اقلیتوں کے حقوق رہے ہیں۔ دوسری جانب ڈی کے شیوکمار ایک ایسے رہنما ہیں جو سیاسی توازن، تنظیمی مہارت اور زمینی حقیقتوں کے مطابق حکمت عملی ترتیب دینے کی صلاحیت کے لیے مشہور ہیں۔ وہ نپی تلی گفتگو کرتے ہیں، سیاسی اشاروں اور پیغامات کی اہمیت کو بخوبی سمجھتے ہیں اور غیر ضروری محاذ آرائی سے گریز کرتے ہیں۔دونوں رہنماؤں کے درمیان ایک اور نمایاں فرق مذہبی شناخت کے حوالے سے بھی دیکھا جاتا ہے۔ سدارامیا کی شخصیت میں سیکولر ازم اور سماجی انصاف کا رنگ نمایاں تھا، جبکہ ڈی کے شیوکمار اپنی مذہبی وابستگیوں اور روحانی رجحانات کو کبھی چھپاتے نہیں۔ وزارتِ اعلیٰ سنبھالنے کے بعد ان کے اقدامات، مذہبی رسومات میں شرکت اور مختلف مذہبی شخصیات سے قربت اسی پہلو کو اجاگر کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سیاسی مبصرین کی ایک بڑی تعداد کا خیال ہے کہ بی جے پی کے لیے ڈی کے شیوکمار کو "ہندو مخالف” یا "اقلیت نواز” قرار دے کر وہ سیاسی فائدہ حاصل کرنا آسان نہیں ہوگا جو ماضی میں بعض مواقع پر حاصل کیا جاتا رہا ہے۔یہ پہلو محض علامتی اہمیت نہیں رکھتا بلکہ آنے والے برسوں کی سیاست پر براہ راست اثر انداز ہو سکتا ہے۔ بعض مبصرین یہاں تک رائے رکھتے ہیں کہ اگر سدارامیا مزید دو برس اقتدار میں رہتے تو بی جے پی کے لیے سیاسی حملوں کی گنجائش نسبتاً زیادہ موجود رہتی، لیکن ڈی کے شیوکمار کی آمد نے سیاسی مقابلے کی نوعیت ہی بدل دی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بی جے پی کے اندر بھی ریاستی سطح پر نئی حکمت عملی اور نئی قیادت کی ضرورت پر غور و فکر شروع ہو چکا ہے۔تاہم اقتدار کی منتقلی کے فوراً بعد سامنے آنے والے بعض واقعات نے یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ نئی حکومت کا راستہ اتنا ہموار نہیں جتنا بظاہر دکھائی دیتا ہے۔ قلمدانوں کی تقسیم کے بعد سینئر رہنما رام لنگا ریڈی کی ناراضی اور استعفیٰ نے اس حقیقت کو نمایاں کر دیا کہ حکومت کے آغاز کے ساتھ ہی سیاسی بے چینی اور اندرونی اختلافات کے آثار بھی سامنے آنے لگے ہیں۔ اگرچہ وزیراعلیٰ نے فوری مداخلت کرتے ہوئے ناراض قیادت کو منانے کی کوشش شروع کی، لیکن یہ واقعہ اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ اقتدار حاصل کرنا اور اقتدار کو مستحکم رکھنا دو الگ مرحلے ہیں۔ کانگریس کے اندر مختلف سیاسی و مذہبی دھڑوں، علاقائی توقعات اور شخصی خواہشات کے درمیان توازن برقرار رکھنا ڈی کے شیوکمار کے لیے ابتدائی اور اہم ترین امتحانات میں سے ایک ہوگا۔مسلمانوں کے نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو اقتدار کی یہ تبدیلی امید اور تشویش دونوں پہلو اپنے ساتھ لائی ہے۔ ایک طرف قانون ساز کونسل کے انتخابات میں مسلم امیدواروں کو نظر انداز کیے جانے، کابینہ کی ابتدائی تشکیل میں مناسب نمائندگی نہ ملنے اور داؤنگیرے ضمنی انتخاب کے بعد پیدا ہونے والی ناراضی نے بے چینی کو جنم دیا، تو دوسری طرف بعض فیصلوں کو مثبت اشارے کے طور پر بھی دیکھا گیا ہے۔راجیہ سبھا کے لیے منصور علی خان کی نامزدگی، پریانک کھرگے کو اہم ذمہ داری دینا اور بی کے ہری پرساد جیسے تجربہ کار اور دوٹوک موقف رکھنے والے رہنما کو ریاستی کانگریس کی قیادت سونپنا ایسے فیصلے ہیں جنہوں نے سیکولر اور اقلیتی حلقوں میں ایک حد تک اعتماد پیدا کیا ہے۔ خصوصاً بی کے ہری پرساد کی تقرری محض ایک تنظیمی فیصلہ نہیں سمجھی جا رہی۔ وہ ان چند کانگریسی رہنماؤں میں شمار ہوتے ہیں جو اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھ کر بھی سچ بولنے کی روایت رکھتے ہیں۔ کئی مواقع پر انہوں نے اپنی ہی پارٹی کی حکومت کو آئینہ دکھایا، عوامی مسائل کی نشاندہی کی اور سیاسی مصلحتوں کے بجائے اصولی مؤقف اختیار کیا۔ اسی لیے ان کی تقرری کو کانگریس کے اندر نظریاتی توازن اور سیکولر شناخت کے استحکام کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔اسی طرح وزارت میں بطور وزیر داخلہ پریانک کھرگے کی موجودگی بھی ایک اہم سیاسی پیغام رکھتی ہے۔ فرقہ وارانہ سیاست، نفرت انگیز بیانیوں اور جمہوری اداروں پر دباؤ کے خلاف ان کا واضح مؤقف کسی سے پوشیدہ نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بحیثیت وزیر داخلہ ان کی تقرری نے نہ صرف مسلمانوں بلکہ دلتوں، پسماندہ طبقات اور سماجی انصاف کے حامی حلقوں میں بھی امید پیدا کی ہے کہ نئی حکومت آئینی اقدار اور شہری آزادیوں کے تحفظ کے معاملے میں زیادہ فعال کردار ادا کرے گی۔مسلمانوں کی توقعات صرف سیاسی نمائندگی تک محدود نہیں ہیں۔ گزشتہ برسوں میں حجاب تنازعہ، نفرت انگیز تقاریر، معاشی بائیکاٹ کی مہمات، گاؤ رکھشا کے نام پر ہراسانی، نصابی تبدیلیاں اور مختلف فرقہ وارانہ تنازعات نے اقلیتوں کے اندر عدم تحفظ کے احساس کو گہرا کیا ہے۔ اگرچہ کانگریس حکومت کے دوران مجموعی ماحول میں نسبتاً بہتری دیکھی گئی، لیکن اقلیتوں کا ایک بڑا طبقہ اب بھی محسوس کرتا ہے کہ محض بیانات اور علامتی فیصلوں سے آگے بڑھ کر مضبوط انتظامی اور قانونی اقدامات کی ضرورت ہے۔اسی دوران سدارامیا نے اقتدار سے رخصت ہونے سے قبل ریاستی پسماندہ طبقات کمیشن کی سماجی، معاشی اور تعلیمی سروے رپورٹ کو قبول کرکے ایک اہم بحث نئی حکومت کے سپرد کر دی۔ اس رپورٹ نے سماجی انصاف، نمائندگی، وسائل کی تقسیم اور ریزرویشن کے نظام سے متعلق نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ اگرچہ اس مسئلے کو پورے سیاسی منظرنامے کا واحد محور قرار دینا درست نہیں ہوگا، لیکن اس سے صرفِ نظر کرنا بھی ممکن نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ رپورٹ نئی حکومت کے سامنے موجود کئی بڑے چیلنجز میں سے ایک ہے، اور اس پر اختیار کیا جانے والا مؤقف آنے والے برسوں میں سیاسی توازن پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔تاہم ڈی کے شیوکمار کا اصل امتحان صرف سماجی انصاف کے سوال تک محدود نہیں۔ ان کے سامنے معاشی چیلنجز بھی کم سنگین نہیں ہیں۔ گارنٹی اسکیموں کو برقرار رکھنا، ریاستی مالیات کو متوازن رکھنا، بنگلورو کے بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانا، نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنا، علاقائی عدم توازن کو کم کرنا اور مرکز کے ساتھ تعلقات میں سیاسی وقار اور عملی ضرورت کے درمیان توازن قائم رکھنا ، کارپوریشن اور بلدی اداروں کے علاوہ پنچایت انتخابات کا سامنا ، ایسے مسائل ہیں جن پر ان کی حکومت کا حقیقی جائزہ لیا جائے گا۔یہ بھی حقیقت ہے کہ مسلمانوں، دلتوں، پسماندہ طبقات اور دیگر محروم حلقوں کی توقعات کسی خصوصی رعایت سے متعلق نہیں ہیں۔ وہ صرف آئینی مساوات، منصفانہ نمائندگی، معاشی مواقع، تعلیمی ترقی اور قانون کے یکساں نفاذ کا مطالبہ کرتے ہیں۔ یہی مطالبات دراصل آئین ہند کی روح اور جمہوری سیاست کے بنیادی اصولوں سے ہم آہنگ ہیں۔اسی لیے آج کرناٹک کی سیاست ایک اہم موڑ پر کھڑی ہے۔ اقتدار کی منتقلی کا مرحلہ مکمل ہو چکا ہے، لیکن حکمرانی کا امتحان ابھی شروع ہوا ہے۔ ڈی کے شیوکمار کے سامنے ایک طرف سدارامیا کی سیاسی میراث ہے، دوسری طرف اپنی الگ شناخت قائم کرنے کا چیلنج۔ ایک طرف کانگریس کا روایتی سماجی اتحاد ہے، دوسری طرف بدلتے ہوئے سیاسی حالات۔ ایک طرف اقلیتوں، دلتوں اور پسماندہ طبقات کی امیدیں ہیں، تو دوسری طرف طاقتور سماجی اور سیاسی حلقوں کا دباؤ۔اگر وہ ان تمام متضاد قوتوں کے درمیان توازن قائم کرتے ہوئے سماجی انصاف، معاشی ترقی، فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور آئینی اقدار کے تحفظ کو اپنی حکمرانی کا مرکز بنانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو وہ نہ صرف کانگریس بلکہ کرناٹک کی سیاست میں بھی ایک نئے باب کے معمار ثابت ہو سکتے ہیں۔ لیکن اگر سیاسی مصلحتیں، وقتی مفادات اور طاقت کے روایتی مراکز ان کی ترجیحات پر غالب آ گئے تو سب سے پہلے وہی سماجی اتحاد متاثر ہوگا جس نے کانگریس کو اقتدار تک پہنچایا تھا۔آج ریاست کے مسلمان، دلت، پسماندہ طبقات، نوجوان اور دیگر محروم حلقے کسی رعایت کے نہیں بلکہ انصاف کے منتظر ہیں۔ اور تاریخ کا سبق یہی ہے کہ اقتدار کی اصل طاقت اکثریت کے ووٹوں میں نہیں بلکہ عوام کے اعتماد میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ آنے والے برسوں میں یہی اعتماد ڈی کے شیوکمار حکومت کی کامیابی یا ناکامی کا سب سے بڑا پیمانہ ثابت ہوگا

۔haleemmansoor@gmail.com

Admin

Admin

Next Post
الیکشن میں مسلمانوں کے لئے ترجیحات

مردم شماری میں حصہ لینا قومی ومذهبی فریضه

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

منتخب کردہ

اکیسویں صدی سے دیار حبیب صلی اللہ علیہ وسلم (سعودی عرب) سے ہندستانی مسلمانوں کے روابط

اکیسویں صدی سے دیار حبیب صلی اللہ علیہ وسلم (سعودی عرب) سے ہندستانی مسلمانوں کے روابط

2 مہینے ago

نئی زبان سکھانے کے نفسیاتی اور فطری طریقے

2 مہینے ago

مقبول

  • ارشاد انصاری: میرے محسن، میرے استاد اور اردو کے خاموش خادم

    جدید دور میں اساتذہ کی پیشہ ورانہ ترقی: خود مختار اور بنیادی سطح سے بااختیار بنانے کا ماڈل

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • عربی زبان سیکھنے کی اہمیت اور مسلمانوں کی غیر عربی زبانوں کو لاطینی حروف میں لکھنے کے خطرات

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • تدریس کے اصول یا کلیات” (Maxims of Teaching)

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • 360ڈگری تشخیص کیا ہے

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • چھ سات سال کے بچوں کو زبان سکھانے کا طریقہ

    0 shares
    Share 0 Tweet 0

ہم سے جڑیے

ہمارا خبری نامہ حاصل کریں

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetuer adipiscing elit. Aenean commodo ligula eget dolor.
SUBSCRIBE

زمرہ جات

اہم روابط

  • رجسٹر
  • لاگ ان کریں
  • Entries feed
  • Comments feed
  • WordPress.org

ہمارے بارے میں

جہازی میڈیا باشعور افراد کی ایک ایسی تحریک ہے، جو ملت اسلامیہ کی نشاۃ ثانیہ کے لیے اپنی فکری و عملی خدمات پیش کرنے کے لیے عہدبند ہوتے ہیں۔ اس لیے ہر وہ شخص اس تحریک کا ممبر بن سکتا ہے، جو اس نظریہ و مقصد سے اتفاق رکھتا ہے۔

  • ہمارے بارے میں
  • قوائد و ضوابط
  • کاپی رائٹس
  • پرائیویسی پالیسی
  • رابطہ

© 2025 Jahazi Media Designed by Mehmood Khan 9720936030.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password? Sign Up

Create New Account!

Fill the forms below to register

All fields are required. Log In

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • ہوم
  • اسلامیات
  • جمعیت علمائے ہند
  • زبان و ادب
  • قومی و بین الاقوامی
  • اہم خبریں
    • دہلی
    • اتر پردیش
    • کرناٹک
    • مہاراشٹر
  • غزل
  • متفرق مضامین
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • دیگر مضامین
  • ترجمہ و تفسیر قرآن کریم

© 2025 Jahazi Media Designed by Mehmood Khan 9720936030.