ملاحظات،
مولانا عبدالحمید نعمانی صاحب
یہ بات آج تک نا قابل فہم بنی ہوئی ہے کہ ایک خالص شرکیہ ہندوتو وادی حمدیہ گیت، وندے ماترم کو کانگریس نے راشٹریہ گیت بنا کر پارٹی پروگرام کا حصہ کیوں بنایا، ؟کانگریس کی کچھ سرگرمیوں کو دیکھتے ہوئے سر سید اور دیگر کئی سارے لوگ اسے ہندو پارٹی سمجھتے ہوئے مخالفت کرتے تھے، تاہم زیادہ تر غالب حالات و معاملات کے پیش نظر اسے مشترکہ عوامی، غیر فرقہ وارانہ پارٹی سمجھتے ہوئے اس میں شرکت و معاونت کی تائیدو حمایت بھی کرتے تھے ،ایسے افراد میں مولانا رشید احمد گنگوہی رح اور علامہ شبلی نعمانی رح وغیرہ بھی شامل ہیں، کانگریس کے قیام سے بہت پہلے برٹش سامراج کے خلاف، ملک میں کئی قسم کی تحریکات آزادی چل چکی تھیں، ان ہی تحریکات میں سے بنگال میں مسلم فقیروں اور ہندو سنیاسیوں کی مشترکہ تحریک بھی تھی، مسلم بنگال حکومتوں کے علاوہ سراج الدولہ کی حکومت سے بھی ہندو اکثریت کو کوئی شکایت و ناراضی نہیں تھی، ہندو مسلم میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی قائم تھی لیکن 1757 کی جنگ پلاسی کے بعد سے بنگال میں انگریزوں کے تسلط و غلبے کے ساتھ صورت حال بڑی تیزی سے بدلتی چلی گئی اور برٹش سامراج کی طرف سے سماج میں ہندو مسلم تقسیم و تفریق کو "تقسیم کرو اور حکومت کرو” کی پالیسی کے تحت بڑھاوا دیا جانے لگا، اس سے عام اکثریتی ہندو سماج کے برعکس مبینہ بھدر، اشرافی طبقے کے افراد میں مسلم مخالف و معاندت کا ذہن بڑی تیزی سے پروان چڑھنے لگا، بعد کے دنوں میں بنکم چٹرجی جیسے ہندوتو وادی بری طرح سامراجی طاقتوں کے زیر اثر آگئے، انھوں نے برٹش مخالف، ہندو سنیاسیوں اور مسلم فقیروں کی مشترکہ جدوجہد کو فرقہ وارانہ رنگ دے کر، قائم ہندو مسلم فرقہ وارانہ ہم آہنگی و اتحاد کو درہم برہم کرنے کا کام کیا، برٹش سامراج کو تقویت پہچانے اور اپنے مفادات و مقاصد کے حصول کے لیے ہر وہ کام کیا جو برطانوی حکومت کو مطلوب و مقصود تھا، اس پر بنکم چٹرجی کی پوری زندگی کی تمام سرگرمیاں شاہد ہیں، وہ اور ان کے والد دونوں برٹش حکومت اور ایسٹ انڈیا کمپنی میں وفادار ملازم ،ڈپٹی کلکٹر تھے، بنگال میں درگا، کالی کے نام پر بنے ماحول میں راجا رام موہن رائے کے نظریہ وحدت الہ کو نظرانداز کر کے اتنا آگے نکل گئے کہ بنگال کو درگا کا روپ دے کر اس کے حضور میں وندے ماترم کا حمدیہ گیت نذر کر دیا، یہ غیر اللہ پرستی اور شرکیہ اعمال و مراسم برہمن وادی سماج کے لیے کوئی انہونی اور نئی بات نہ پہلے تھی نہ بعد میں اور نہ اب ہے، درگا اور دیگر دیوی دیوتاؤں کے تصور کے تحت اپنے معبود کے لیے، حمدیہ گیت، وندے ماترم لکھنا گانا، مسلم سماج کے لیے کوئی زیادہ مسئلہ نہیں ہے، مسئلہ اس سے مسلم سماج کو جوڑنے کی کوشش ہے، 1875 میں وندے ماترم، پوری طرح بنگال کی دھرتی کو درگا کا روپ دے کر لکھے گیت کا پورے بھارت کے راشٹر گیت اور انگریزوں کے خلاف تحریک آزادی سے کوئی تعلق نہیں نہیں ہے، البتہ وندے ماترم گیت کے متن کے بین السطور سے کچھ کچھ محسوس ہوتا ہے کہ برٹش سامراج سے پہلے کی مسلم سلطنت اور اس کے مسلم عوام کو لے کر ایک کسک اور بے چینی ہے، تاہم جب بنکم کا ناول آنند مٹھ میں وندے ماترم گیت شامل ہو کر 1882 میں شائع ہوا تو سب راز سر بستہ کھل کر بنکم کو بے نقاب کر گیا کہ وہ انگریزوں کا دوست، حامی اور مسلم حکومت اور مسلم عوام کے شدید مخالف و معاند ہیں، اس کے باوجود 1885 میں قائم کانگریس کے پروگرام میں وندے ماترم کو شامل کرنے کی غلطی کی گئی، دوسری غلطی یہ کی گئی کہ درگا کے حضور پیش ایک خالص ہندو مشرکانہ حمدیہ گیت کو قومی گیت کا درجہ دے دیا گیا، اس سلسلے میں پانچ دہائی پہلے بنگلہ ادب و زبان پر عبور اور بنگلہ تہذیب و تاریخ پر وسیع نظر رکھنے والے ہمارے نانا جان ،محمد علی رح نے بہت اچھا تجزیہ کیا تھا، انھوں نے اصل بنگلہ زبان میں آنند مٹھ کا مطالعہ کر کے تجزیہ پیش کیا تھا کہ وندے ماترم گیت کو کانگریس پارٹی کے پروگرام میں شامل کرنے میں یقینی طور سے ہندوتو وادی فرقہ وارانہ ذہنیت کا دخل ہے، اس کی بعد مختلف اشاعتی اداروں مختلف زبانوں میں شائع آنند مٹھ اور دیگر موضوعات پر دستیاب لٹریچر کے مطالعے سے تائید و تصدیق بھی ہو گئی کہ نانا جان رح کے تجزیے و تبصرے میں بہت دم ہے، وہ یہ بھی کہتے تھے کہ جب خطہ ارض بنگال کو درگا کا روپ دے کر اس کے حضور وندے ماترم گیت نذر ہے تو پس منظر سے کاٹ کر اس کے چند بند نکال کر قومی گیت کا درجہ دینے کا کوئی جواز نہیں ہے، اس سے اہل توحید مسلمانوں وغیرہ کو مستثنٰی قرار دینا چاہیے تھا، ورنہ ظاہر ہے کہ یہ سراسر مسلم سماج کو شرک کی راہ پر ڈالنے کی ذہنیت ہے، قومیت و وطنیت کے نام پر ہندوتو وادی سماج میں تحلیل و جذب کرنے کا عمل ہے، گرچہ تنازعہ کے بعد وندے ماترم گیت سے درگا وغیرہ والے بند نکال دیے گئے تاہم تقسیم وطن سے پیدا شدہ مخصوص حالات بتاتے ہیں کہ آنے والے دنوں میں ہندوتو وادی برہمنی افکار و روایات کو خاص طور سے مسلمانوں پر لادنے کا عمل تیز کیا جائے گا، ہندو مہا سبھا اور آر ایس ایس وغیرہ کا قیام ہمارے سامنے ہوا ہے، ان کی ذہنیت کوئی راز نہیں ہے، گولولکر ہم سے چھوٹا ہونے کے باوجود ہم سے پہلے اس دنیا سے چلا گیا لیکن وہ اپنی باتوں اور تحریروں سے فرقہ پرستی کے ایسے پودے لگا گیا ہے جو گزرتے دنوں کے ساتھ تناور بس بریکچھ(زہریلا درخت )بن جائیں گے، تم یہ ضرور دیکھو گے، ہم نے 1946،47اور جبلپور، راوڑ کیلا وغیرہ کے بھیانک فسادات دیکھے ہیں، حالات کے دباؤ میں اور اپنے مفادات عاجلہ کے لیے بہت سے مسلم نام والے اقتداری گروہ کے ساتھ کھڑے ہو جائیں گے، نانا جان کی یہ پیشن گوئی، آج ہم اپنی سے سچ ہوتی ہوئی دیکھ رہے ہیں، وہ اور ہماری دادی کے سگے بھائی دادا اہرام جو سنسکرت اور حساب کے ماہر تھے، دونوں وندنا کے اصل معنی استتی(حمد و ثناء ) اور پوجا، پرستش کرتے تھے، وندے ماترم کا معنی، اے ماں ہم تیری حمد و ثناء یعنی پوجا کرتے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ کوئی بھی وندنا، جذبہ بندگی و پرستش سے خالی نہیں ہو سکتی ہے، وندے ماترم میں درگا کا لفظ ہونے سے پرستش و پوجا کا معنی متعین ہے، چاہے وندنا کو 17/معانی میں سے کسی بھی معنی میں لیا جائے، اس کے مد نظر، ادھر ادھر کی باتیں کر کے وندے ماترم کو قومی گیت قرار دینا قطعی بے معنی ہے، کثرت الہ کا عقیدہ رکھنے والا سماج اپنے عقیدے کے مطابق عمل کرنے کے لیے آزاد ہے لیکن ایک الہ کی پرستش کا عقیدہ رکھنے والے شہریوں کو، وندے ماترم گیت گانے، پڑھنے کا پابند بنانا، آئین کے خلاف ہے، ملک کے تمام باشندوں کو اپنے مذہب و عقیدہ پر عمل کی آئینی آزادی ہے، یہ سرکاری تقریبات اور تعلیمی اداروں وغیرہ میں قومی ترانہ جن گن من سے پہلے وندے ماترم گیت متروکہ حصے سمیت گانے اور کھڑے ہونے کو لازمی قرار دینے کے حکم نامے سے بری طرح متاثر و مضروب ہوتی ہے، اس پر بجا طور سے، مسلم پرسنل لاء بورڈ، جمعیۃ علماء ہند، امارت شرعیہ وغیرہ نے اعتراض کرتے ہوئے اسے خلاف آئین، جانبدارانہ جبری اقدام قرار دیا ہے ،مولانا ارشد مدنی کی یہ بات مبنی بر حقیقت ہے "وندے ماترم کے مشمولات شرکیہ عقائد پر مبنی ہیں،” ایک خدا کی پرستش پر عقیدہ رکھنے والے مسلمان نہیں گا سکتے ہیں، شرک پر مبنی ایک گیت کو قومی گیت دے کر اسے اہل توحید کو گانے اور کھڑے ہونے کا پابند بنانا ان کو بنیادی عقائد سے ہٹانے کی کوشش ہے، اسے صحیح ٹھہرانے کے لیے یوگی آدتیہ ناتھ، سدھانشو ترویدی اور دیگر ہندوتو وادی عناصر کی طرف سے مسلم ممالک کے وطن کو مادر وطن کے تصور پر مبنی قومی ترانے اور بزرگان دین اور دیگر مسلم شخصیات کے مزارات پر کیے جانے والے اعمال و مراسم کا حوالہ دینا بالکل غلط ہے، قبروں کو سجدہ کرنے کی بات پوری طرح بے بنیاد ہے، فاتحہ پڑھنے کا مطلب صاف ہے کہ صاحب قبر معبود نہیں، بلکہ محتاج دعا و ثواب ہیں، کسی بھی ملک اور مکتب فکر کا مسلمان بزرگان دین اور صاحب قبر کو قابل پرستش نہیں مانتا ہے، چادر، پھول چڑھانے کو تعظیم کا حصہ مانا جاتا ہے، وہ پوجا، پرستش کا حصہ نہیں ہے، زندہ اور گزرچکے بزرگوں کو سجدہ بندگی شرک اور سجدہ تعظیمی بھی حرام ہے، مولانا احمد رضا خان نے بھی بہت وضاحت سے لکھا ہے، مسلم سماج میں احترام اور عبادت میں واضح فرق ہے، ہندو سماج کی طرح دونوں ایک نہیں ہیں، مسلم سماج میں کسی کو قابل احترام سمجھ کر پھول پیش کیا جاتا ہے، جب کہ کثرت پرست سماج میں قابل پرستش سمجھ پھول چڑھایا جاتا ہے، دونوں میں زمین و آسمان سے بھی زیادہ فرق ہے، ہندوتو وادی سماج کو مسلم سماج پر قیاس کرنا ہی بنیادی طور پر غلط ہے، ٹی وی چینلز کے اینکرز بھی بے ایمانی اور مغالطہ بازی سے کام لیتے نظر آتے ہیں، وہ بنکم چٹرجی کو انگریزی حکومت کا ملازم اور ناول میں اسے دوست ماننے اور دشمن نہ ماننے کی تھیوری کا انکار کرتے نظر آتے ہیں، جب کہ یہ سب تاریخ اور حقیقت پر مبنی ہے، اس سلسلے میں وسیع پیمانے پر بحث و گفتگو کر کے یہ ثابت و ظاہر کرنے کی ضرورت ہے کہ وندے ماترم گیت کو لازمی قرار دینے کے پس پشت کیا مقصد کار فرما ہے اور مخالفت پر ماتم کیوں کیا جاتا ہے؟
















