بقلم: معاذ حیدر، کلکتہ٢٦/ شعبان ١٤٤٧ھ
دارالعلوم دیوبند کی مساجد میں "مسجدِ قدیم” کو ایک گونہ مرکزیت حاصل ہے، یہاں نماز دوسری دونوں مسجدوں کے مقابلے میں نماز قدرے جلدی کھڑی ہوتی ہے، ہم طلبہ کے عرف میں اس مسجد میں نماز پڑھنے کی عادت بیدار مغزی کی علامت سمجھی جاتی ہے، سردی کے دنوں میں خصوصاً یہاں کی جماعت میں حاضری کے لیے تگ و دو کرنی پڑتی ہے؛ تاکہ بقیہ اوقات میں دوسری مصروفیات بہ سہولت انجام دی جا سکیں۔مسجد کے کل تین حصے ہیں، پہلے حصے میں دو منزلہ مسقف عمارت ہے، جس میں ممبر اور چند صفیں ہیں، پہلی منزل میں بائیں جانب حضرت مہتمم صاحب — دامت برکاتہم — کا مصلّٰی لگتا ہے اور دوسری منزل میں دائیں جانب حضرت مولانا عبدالخالق مدراسی صاحب — دامت برکاتہم — کی کرسی رکھی جاتی ہے، ان حضرات کے وجود کی برکتیں ان کی غیر موجودگی میں محسوس ہوتی ہیں، پہلے حصے میں نماز پڑھنے سے خشوع و خضوع کی کیفیت زیادہ غالب رہتی ہے۔ دوسرا حصہ ایک طویل صحن پر مشتمل ہے، جس کی چھت البسٹر کی ہے اور دونوں جانب رہائشی کمرے ہیں، یہ حصہ گرمی کے موسم میں آرام دہ رہتا ہے، جب کہ موسمِ سرما میں یہاں کچھ دشواری ہوتی ہے، جب سے حضرت مہتمم صاحب -دامت برکاتہم- نے جمعہ کے بیان کا سلسلہ شروع فرمایا ہے، تب سے یہ صحن بہت جلد بھر جاتا ہے، مصلیوں سے معمور صحن کا منظر بڑا ہی پر کیف ہوتا ہے، جس کا اندازہ ابتدائی زمانے میں زیادہ ہوتا تھا۔ مسجد کا مشرقی حصہ بھی دو منزلہ ہے، اوپر دارالافتاء اور نیچے وضوخانہ ہے، یہ وضوخانہ اسی مقام پر تعمیر کیا گیا ہے جہاں پہلے حوض ہوا کرتا تھا، یہاں موسم کی رعایت سے پانی کا نظم رہتا ہے۔ فجر کی نماز کے بعد یہاں تلاوتِ قرآن کا خوش نما ماحول قائم ہو جاتا ہے، عصر کے بعد یہ مسجد خانقاہ کا منظر پیش کرنے لگتی ہے؛ حضرت مہتمم صاحب — دامت برکاتہم — کی مجلس سے حاضرین کو روحانی تسکین حاصل ہوتی ہے۔ عشاء کے بعد یہی مسجد درس گاہ میں تبدیل ہو جاتی ہے، جہاں حضرت الاستاد مفتی اشتیاق احمد صاحب طلبہ کی علمی پیاس بجھاتے ہیں۔ میرے خیال میں یہ مسجد اپنے معمولات اور دینی سرگرمیوں کے اعتبار سے اس دور میں خیر القرون کی مساجد سے مشابہت رکھتی ہے۔

















