جمعہ, فروری 13, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Jahazi Media – Latest News, Articles & Insights
  • ہوم
  • جمعیۃ علماء ہند
  • اسلامیات
  • زبان و ادب
  • مضامین
    • All
    • جاوید اختر بھارتی
    • دیگر مضامین
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    جناب منورزماں سر کی نصیحت آموز باتیں

    جناب منورزماں سر کی نصیحت آموز باتیں

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    استھانواں کے محسن اعظم الحاج سید تقی الدین استھانوی مرحوم

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    مولانا سید سلیمان اشرف بہاری ۔۔حالات زندگی سے متعلق چند اہم اطلاعات

    مولانا حکیم الدین صاحب قاسمی

    مولانا حکیم الدین صاحب قاسمی

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    اپنی اپنی بولیاں سب بول کر اڑجائیں گی

    غالب نامہ کا متن

    تحریک ریشمی رومال خط نمبر تین

    غالب نامہ کا متن

    تحریک ریشمی رومال کا خط نمبر دو

    غالب نامہ کا متن

    تحریک ریشمی رومال کا پہلاخط

    غالب نامہ کا متن

    غالب نامہ کا متن

    تحریک ریشمی رومال کے خدو خال

    Trending Tags

    • Golden Globes
    • Mr. Robot
    • MotoGP 2017
    • Climate Change
    • Flat Earth
  • اہم خبریں
    • All
    • اتر پردیش
    • دہلی
    • دیگر ریاستیں
    باشندگان بہار سے ایک دردمندانہ و مخلصانہ اپیل و گزارش

    سابق چیف الیکشن کمیشن آف انڈیا  سے جہازی مکالمات

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    آؤ نسل کو سنواریں، مستقبل بنائیں

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    بھارت کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کا کردار: سیمینار اختتام پذیر

    باشندگان بہار سے ایک دردمندانہ و مخلصانہ اپیل و گزارش

    بہار کا فیصلہ — کانگریس کیلئے سخت پیغام

    مفتی اعظم ہند پر سیمنار 21-22نومبر کو نئی دہلی میں

    مفتی اعظم ہند پر سیمنار 21-22نومبر کو نئی دہلی میں

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کے 34ویں فقہی سمینار کی روداد

    مولانا محمود مدنی کو ملا صدارت کا چارج۔ٹرم  2024-2027 کا ہوا آج سے آغاز، 29 اکتوبر 2027ء تک کے لیے صدر منتخب

    مولانا محمود مدنی کو ملا صدارت کا چارج۔ٹرم 2024-2027 کا ہوا آج سے آغاز، 29 اکتوبر 2027ء تک کے لیے صدر منتخب

    وقف ایکٹ کے خلاف جدو جہد جاری رہے گی

    وقف ایکٹ کے خلاف جدو جہد جاری رہے گی

    16 نومبر 2025 کو مسلم پرسنل لاء بورڈ کا عظیم الشان اجلاس ہوگا

    16 نومبر 2025 کو مسلم پرسنل لاء بورڈ کا عظیم الشان اجلاس ہوگا

  • غزل
  • ترجمہ و تفسیر قرآن
    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    Trending Tags

    • Sillicon Valley
    • Climate Change
    • Election Results
    • Flat Earth
    • Golden Globes
    • MotoGP 2017
    • Mr. Robot
  • ہوم
  • جمعیۃ علماء ہند
  • اسلامیات
  • زبان و ادب
  • مضامین
    • All
    • جاوید اختر بھارتی
    • دیگر مضامین
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    جناب منورزماں سر کی نصیحت آموز باتیں

    جناب منورزماں سر کی نصیحت آموز باتیں

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    استھانواں کے محسن اعظم الحاج سید تقی الدین استھانوی مرحوم

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    مولانا سید سلیمان اشرف بہاری ۔۔حالات زندگی سے متعلق چند اہم اطلاعات

    مولانا حکیم الدین صاحب قاسمی

    مولانا حکیم الدین صاحب قاسمی

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    اپنی اپنی بولیاں سب بول کر اڑجائیں گی

    غالب نامہ کا متن

    تحریک ریشمی رومال خط نمبر تین

    غالب نامہ کا متن

    تحریک ریشمی رومال کا خط نمبر دو

    غالب نامہ کا متن

    تحریک ریشمی رومال کا پہلاخط

    غالب نامہ کا متن

    غالب نامہ کا متن

    تحریک ریشمی رومال کے خدو خال

    Trending Tags

    • Golden Globes
    • Mr. Robot
    • MotoGP 2017
    • Climate Change
    • Flat Earth
  • اہم خبریں
    • All
    • اتر پردیش
    • دہلی
    • دیگر ریاستیں
    باشندگان بہار سے ایک دردمندانہ و مخلصانہ اپیل و گزارش

    سابق چیف الیکشن کمیشن آف انڈیا  سے جہازی مکالمات

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    آؤ نسل کو سنواریں، مستقبل بنائیں

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    بھارت کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کا کردار: سیمینار اختتام پذیر

    باشندگان بہار سے ایک دردمندانہ و مخلصانہ اپیل و گزارش

    بہار کا فیصلہ — کانگریس کیلئے سخت پیغام

    مفتی اعظم ہند پر سیمنار 21-22نومبر کو نئی دہلی میں

    مفتی اعظم ہند پر سیمنار 21-22نومبر کو نئی دہلی میں

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کے 34ویں فقہی سمینار کی روداد

    مولانا محمود مدنی کو ملا صدارت کا چارج۔ٹرم  2024-2027 کا ہوا آج سے آغاز، 29 اکتوبر 2027ء تک کے لیے صدر منتخب

    مولانا محمود مدنی کو ملا صدارت کا چارج۔ٹرم 2024-2027 کا ہوا آج سے آغاز، 29 اکتوبر 2027ء تک کے لیے صدر منتخب

    وقف ایکٹ کے خلاف جدو جہد جاری رہے گی

    وقف ایکٹ کے خلاف جدو جہد جاری رہے گی

    16 نومبر 2025 کو مسلم پرسنل لاء بورڈ کا عظیم الشان اجلاس ہوگا

    16 نومبر 2025 کو مسلم پرسنل لاء بورڈ کا عظیم الشان اجلاس ہوگا

  • غزل
  • ترجمہ و تفسیر قرآن
    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    Trending Tags

    • Sillicon Valley
    • Climate Change
    • Election Results
    • Flat Earth
    • Golden Globes
    • MotoGP 2017
    • Mr. Robot
No Result
View All Result
Jahazi Media – Latest News, Articles & Insights
No Result
View All Result
Home مضامین دیگر مضامین

اپنی اپنی بولیاں سب بول کر اڑجائیں گی

by Md Yasin Jahazi
فروری 13, 2026
in دیگر مضامین
0
تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟
0
SHARES
0
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

محمد یاسین جہازی

زمانہ طالب علمی کی کاوشیں

اپنی اپنی بولیاں سب بول کر اڑجائیں گی
آج قلم کی روح بے چین ہے، کاغذ کا دل ماتم کناں ہے، خامہ فرسا نمدیدہ ہے ، اس کا چہرہ رنجیدہ، جبیں افسردہ، سر شوریدہ، دل گرفتہ، جاں سوختہ، سوچ و خیال کا سراپا اور غم و اندوہ کا مجسمہ بنا ہوا ہے، اس کے آئینہ فکرو خیال میں ماضی کی یادوں کا لامتناہی سلسلہ جاری ہے ؛ لیکن کیوں؟ ؎
دلِ ناداں ! تجھے ہوا کیا ہے
آخر اس درد کی دوا کیا ہے
قلم کی روح کیا اس لیے بے چین ہے کہ وہ افسانۂ ہجرو فراق کی خامہ فرسائی کررہا ہے ؟ دلِ قرطاس کیا اس لیے ماتم آسا ہے کہ حکایت بر ق خرمن کی منظر آرائی سے کرب و کسک محسوس ہورہی ہے … ہاں! وقت نے گیت ہی ایسا گایا ہے کہ قلم اشک افشانی اور قرطاس احاطۂ دارالعلوم میں بیتے ہوئے لمحات کی کسک بیان کرنے پر مجبور و بے بس ہے۔
ہم طالبان علوم نبویہ کی یہ فطری تمنا ہوتی ہے کہ ہمارے سفر علم کی آخری منزل ’’دارالعلوم دیوبند‘‘ ہو؛ بلکہ شروع ہی سے گلشن قاسمیہ میں بلبل بن کر چہکتے رہیں۔ ؎
چوں طالباں شنیدند از ہر طرف دویدند
باغ و بہار ایں جا، ایں گلشن دوامی
چنانچہ ہم اپنی فطری تمنا کی تکمیل کے لیے عازم دیوبند ہوجاتے ہیں اور شوال میں ’’امتحان داخلہ‘‘ دے کر اپنی تقدیر کے فیصلے کا انتظار کرتے ہیں ، وقت اس عدالت کا منصف اعظم ہوتا ہے، جو بالکل صحیح فیصلہ کرتا ہے ۔ اگر ہم زندگی کے سابقہ لمحات کی قدر کیے ہوئے ہوتے ہیں ، تو منصف اعظم کا فیصلہ ہوتا ہے کہ تمھاری آرزو پوری ہوگی۔ اور اگر سابقہ زندگی کے اوقات کو یوں ہی لاابالی پن اور لایعنی کاموں میں ضائع کیے ہوئے ہوتے ہیں ، تو تقدیر کا شکوہ کرتے ہوئے خائب و خاسر لوٹ جاتے ہیں۔ جب ہماری آرزو پوری ہوجاتی ہے ، تو ہماری خوشیوں کی کوئی انتہا نہیں رہتی اور ہم مسرتوں سے پھولے نہیں سماتے ۔ اس جشن مسرت میں ہم مٹھائیاں تقسیم کرتے ہیں اور پھر عزم مصمم کرتے ہیں کہ دیگر مدرسوں کی زندگی کو جیسے گزار دیا ، گزار دیا؛ لیکن اب دارالعلوم کی زندگی صرف جدوجہد اور سعی پیہم میں گزاریں گے۔ پھر سب اس وعدے کی تکمیل میں مصروف طلب ہوجاتے ہیں ۔ یہاں تک ہم تمام کی دارالعلوم کی ابتدائی زندگی کی کیفیت یہی ہوتی ہے اور ایسی ہی رہتی ہے ۔
لیکن اس موڑ سے آگے صرف میری زندگی تمام ہی طلبا سے الگ راہ اختیار کرلیتی ہے ، ہر ایک کو وسعت طلب کی فکر دامن گیر رہتی ہے اور ناچیز ادنیٰ طلب سے بھی ناآشنا۔ وہ علم و حکمت کے خزانے لوٹنے میں مصروف رہتے ہیں ؛ لیکن بندہ ناتواں علم و حکمت کے حصول ِ ذرہ سے بھی لاپرواہ۔ وہ شب و روز درس و تدریس کی ہر گھڑی کی قدر کرتے ہیں؛ مگر خاکسار ضیاع اوقات کے احساس سے بھی بے حس۔ وہ میدان علم و معرفت میں سبقت کے لیے کوشاں رہتے ہیں ؛ پر احقر ذوق طلب سے بھی انجان۔ وہ اپنی زندگی سنت و شریعت کے سانچے میں ڈھالنے کی کوشش کرتے ہیں ؛ پر ہیچ مداں فکر آراستگی سے ہی بے خبر۔وہ کامیابی کی راہ پر گامزن رہتے ہیں اور نیاز مند بربادی کی راہ پر رواں دواں۔ چنانچہ چھ سال کا لمبا عرصہ گزرگیا اور ناچیز بربادی، بے فکری اور بے ذوقی کی راہ پر سرپٹ دوڑتا رہا ۔ اتنے لمبے عرصے میں کبھی بھی فکر طلب و عمل پیدا نہیں ہوئی ۔ دورۂ حدیث میں قدم رکھا، پھر بھی ذوق طلب نہیں پھڑکا اور جب کہ یہ آخری سال بھی اختتام پذیر ہے ، پھر بھی احساس طلب نہیں۔ بس جو کچھ احساس ہے ، وہ صرف یہ ہے کہ ساحل سمندر پر بھی تشنہ کا تشنہ ہی رہا۔ اب یہاں سے جانا پڑے گا۔ اس چہار دیواری سے باہر قدم رکھنا پڑے گا، جو یہاں کے حالات و ماحول سے یکسر مختلف اور جدا ہے۔
ایک دن کی کہانی ہے کہ احقر اسی خیال ہجرو فراق میں پریشان تھا ، تصورات جدائی سے نڈھال ہوکر سونے کے لیے دارالحدیث کی چھت پر اور گنبد بیضا کے جنوبی حصہ میں بستر ڈال کر لیٹ گیا، چاند رات تھی، تاروں بھرا آسمان تھا، باد سرسرنرم خرام انداز میں چل رہی تھی، بادلوں کی آمد ورفت کا سلسلہ جاری تھا، موسم انتہائی پرکیف اور فضا بے حد خوشگوار تھی ، چاند اور بادل آنکھ مچولی کر رہے تھے، شبنمی قطروں کی دھیمی دھیمی پھواریں دل و دماغ کو معطر کر رہی تھیں، چاند کی کرنیں گنبد بیضا کی رونق میں اضافہ کر رہی تھیں، تصورات کا یہی سلسلہ جاری تھا کہ مجھ پر غنودگی طاری ہوگئی اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ تمام مناظر رفتہ رفتہ نظروں سے اوجھل ہوگئے ۔ چند ہی لمحے بعد آنکھ کھل گئی اور پھر تصورات کا سیلاب امنڈ پڑا اور دل پر عجیب سا احساس ہونے لگا کہ جس طرح رفتہ رفتہ ابھی میری آنکھوں سے یہ گنبد بیضا اوجھل ہوگیا، اسی طرح کسی دن ہمیشہ ہمیشہ کے لیے یہ گنبد بیضا ہماری نظروں سے اوجھل ہوجائے گا اور ہم دیدار کو ترس جائیں گے۔
قصہ مختصر وقت تیزی سے گزرتا رہا۔ ’’بخاری شریف‘‘ مکمل کرادی گئی ۔ شیخ زمن نصیحت فرماچکے۔ دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے گئے ، دعائے سری کا دور تھا ۔ ہر طرف سراسیمگی اور سناٹا چھایا ہوا تھا ، دل کی دھڑکنیں تیز سے تیز تر ہوتی گئیں، قبل از وقت جدائی کی کسک محسوس ہورہی تھی۔ ہم دعا کر رہے تھے ، پر ہماری نظریں شیخ صاحب کی طرف تھیں، خموشی کا یہی عالم تھا کہ شیخ صاحب درد بھری آواز اور ماتم سرا لہجہ میں بول اٹھے کہ ’’ یا اللہ! آپ نے ہمیں یہ امانت سپرد کی تھی، لیکن ہم امانت کا حق ادا نہ کرسکے۔ ائے رحیم! تو معاف فرما۔ یا بار الٰہ! یہ امانت اب تیرے حوالے ہے، تو ان کی کفالت فرما‘‘۔ بس کیا تھا : دارالحدیث آہ و بکا کی چیخ سے گونج اٹھا، ہر شخص کے چہرے پر ہوائیاں اڑنے لگیں، چہروں کا رنگ فق ہوگیا، آنسووں کا سیل رواں ہوگیا، جو تھمتے نہ تھے، کچھ غم فراق کے آنسو تھے تو کچھ غم احساس کے آنسو تھے۔ایک طرف درد فرقت سے تڑپ رہے تھے تو دوسری طرف احساس تہی دامن سے شرمندہ شرمندہ ، ذہن و دماغ پر بس ایک ہی جملہ رقص کر رہا تھا کہ ’الآن کما کان‘ یعنی آٹھ سال پہلے جس جہالت کی حالت میں گھر سے نکلے تھے ، آج آٹھ سال بعد بھی ہماری وہی کیفیت ہے کہ ہاتھ خالی اور علم سے عاری گھر جارہے ہیں۔ علم و فن کا دریا موجزن تھا ؛ لیکن ہائے ہماری بدبختی کہ ہم نے کچھ فائدہ نہیں اٹھایا۔ علم و حکمت کا سیل رواں تھا ؛ لیکن آہ ہماری غفلت! کہ ہم اپنے دامن کو بچاتے ہی رہ گئے۔ مسند درس پر بیٹھنے والے میراث رسول علیہ السلام تقسیم کرتے رہے، لیکن آہ! ہماری شقاوت کہ حصول میراث سے لاپرواہی برتتے رہے۔ مادر علمی کا فیضان عام مسلسل جاری رہا؛ لیکن وائے ہماری نادانی کہ ہم کسب فیض سے باز رہے ۔ دارالعلوم نے اپنی داد و دہش اور عطیہ و بخشش میں کچھ بھی کمی نہ کی؛ لیکن جس کا دست طلب ہی شل ہوگیا ہو اور جو لینا ہی نہ چاہے، تو اس میں دارالعلوم کا کیا قصور؟ آفتاب اپنی شعاعوں سے پوری دنیا کو منور کردیتا ہے ؛ لیکن اگر چمگادڑ کو نظر نہ آئے تو اس میں سورج کا کیا قصور؟ ؎
حسرت سے اس مسافر بے کس پہ روئیے
جو تھک گیا ہو بیٹھ کے منزل کے سامنے
جدائی کی اس گھڑی میں سب کی روح بے چین ، دل کشیدہ، چہرے غم زدہ، جبیں افسردہ اور آنکھیں نمدیدہ ہیں ۔ تمام ساتھی دو ملی و جلی متضاد کیفیتوں میں کشمکش نظر آرہے ہیں ، خیال فراق میں غم کی تصویر بنے ہوئے ہیں، درد و فرقت سے تڑپ رہے ہیں ، احساس جدائی سے مضطرب و بے چین ہیں،کسک فراق سے نالاں وپریشان ہیں، ایک دوسرے کو رخصت کر رہے ہیں، الوداع الوداع کہہ رہے ہیں اور اپنی تقدیر پر شکوہ کناں ہیں کہ آج ہم سے یہ مادر علمی چھوٹ رہا ہے، ہم اپنے اساتذہ کی شفقتوں اور عنایتوں سے محروم ہورہے ہیں ، بزم احباب سے ہمیشہ کے لیے جدا ہورہے ہیں، اب ہم اس طرح کبھی جمع نہیں ہوسکیں گے۔ درس و تدریس کے لمحہ لمحہ کی یاد ہمیں ستائے گی ، ہم ان درودیوار کی دیدار کے لیے ترستے رہیں گے ، یہ دارالحدیث کا گنبد بیضا، مسجد رشید کی حسین میناریں،مسجد چھتہ کی روحانیت، مسجد قدیم کی نورانیت، ساقی کوثر کا مے خانہ ، میکدہ قاسم کا جام و سبو، گہوارۂ طیب، چمن نصیری، قلزم مدنی، مینائے مدراسی، صہبائے سعیدی، بزم قمری، بہار حبیبی، درس نعمتی، بئر زمزم کا پرتو، دار جدید کی پرشکوہ عمارتیں، اس چمن میں بیتے ہوئے لمحات، احاطہ مولسری میں گزری ہوئی زندگی کی صبح و شام، یہاں سے وابستہ سنہری یادیں، شب و روز کے مشاغل، تعلیم وتعلم کے معمولات، پند و وعظ کی قیمتی باتیں، تقریر و تکرار میں گزری ہوئی راتیں، اساتذہ کی نصیحتیں، صدائے قال قال کی باز گشت ، دوست و احباب کے میل ملاپ، یاران ہم نوا کے اجتماع و اختلاف ،باہمی الفت و لگن، آپسی خلش و چپقلش، ایک دوسرے سے روٹھنا منانا، پڑھنا لکھنا، کھیلنا کودنا، رفقا کے ساتھ مستیاں واٹھکھیلیاں، انجمن کی بزم آرائیاں اور احباب کی طرب انگیزیاں ، ان سب کی یادیں ہمیں تڑپائیںگی۔
دوستو ! یہ اجتماع و اختلاف، یہ اتحادو اتفاق، یہ وصال و فراق، یہ جمع و تفریق، یہ جدائی و جفائی، یہ بے کسی و بے بسی، یہ ہماری آمدورفت سب قدرت کی کرشمہ سازیاں ہیں۔ یہاں کسی کو بقا و دوام نہیں۔ خود دنیا کی کیا حقیقت ہے کہ کلی پھول بنی اور مرجھا گئی ، گلاب میں چمک آئی اور ماند پڑگئی، چمبیلی مہکی اور ختم ہوگئی، کنول کھلا اور کمھلا گیا،نرگس شہلا مسکرائی اور خاموش ہوگئی، چمپا میں تازگی آئی اور پژمردگی چھا گئی، بلبل شاخ پر چہکا اور اڑگیا، چاندی آئی اور غائب ہوگئی، سورج طلوع ہوا اور ڈوب گیا، دن رخصت ہوا اور رات کی تاریکی چھاگئی، رات کافور ہوئی اور دن آگیا، صبح ہوئی اور شام ہوگئی۔
سکوں محال ہے قدرت کے کارخانے میں
ثبات اک تغیر کو ہے زمانے میں
تو جب دنیا ہی کو بقا ودوام نہیں ہے ، تو ہم کب تک اس گلشن میں رہتے ؟ زندگی کا اور کتنا حصہ یہاں بتاتے ؟ اور کب تک زندگی کی بہار لوٹتے؟
چلے گا بزم میں جام شراب مشک و بو کب تک
رہیںگے زینت محفل بتان شعلہ رو کب تک
کریں گے بزم قاسم میں سکون آرزو کب تک
ہماری کروفرکب تک رہے گی اور ہم کب تک
یقینا ہمیں یہاں سے کسی دن نکلنا ہی پڑتا اور ہمیں رخت سفر باندھنا ہی پڑتا، آج وہی رخصت کی گھڑی ہے، تو پھر یہ کیسا شکوہ اور کس کا شکوہ؟ یہ کیسا گلہ اور کس کا گلہ؟ یہ کیسا غم اور کس کا غم ؟ یہ کیسی کسک اور کیسا درد؟ یہ کیسی رنجش اور کیسا رونا؟ اور کیوں کر رونا؟ ارے
غم تو غذائے روح ہے اس سے گریز کیا
جس کو ملے، جہاں سے ملے، جس قدر ملے
لہذا چھوڑ دیجیے ان باتوں کو اور فراموش کرجائیے ماضی کی حسین یادوں کو ، جس کو دہراکر ماتم کے سوا کچھ ہاتھ آنے والا نہیں، اگرچہ ؎
یہ سچ کہ سہانے ماضی کے لمحوں کو بھلانا کھیل نہیں
اوراق نظر سے جلووں کی تحریر مٹانا کھیل نہیں
لیکن یہ محبت کے نغمے اس وقت نہ گاؤ رہنے دو
جو آگ دبی ہے سینے میں ، ہونٹوں پہ نہ لاؤ رہنے دو
پس جدائی کی اس جاں سوز گھڑی میں نمناک آنکھوں اور غم ناک چہروں سے نہیں؛ بلکہ انتہائی بہجت و سرور اور ہشاش بشاش چہروں سے ایک دوسرے کو الوداع کہیے اور یہ تسلی دیجیے کہ اگرچہ فی الوقت ہم ایک دوسرے سے بچھڑ رہے ہیں اور جدا ہورہے ہیں اور یہ شعر زبان زد ہے کہ ؎
جہاں خوشبو ہی خوشبو تھی،جہاں نغمے ہی نغمے تھے
وہ گلشن اور وہ یاران غزل خواں یاد آئیں گے
لیکن زندگی کے ہر موڑ پر ، جہاں بھی موقع ملے گا…ان شاء اللہ ملاقات کرتے رہیں گے اور ایک دوسرے سے ملتے رہیں گے۔ ؎
شمع کی لو سے ستاروں کی ضو تک
تمھیں ہم ملیں گے جہاں رات ہوگی
اور اگر زندگی نے وفا نہ کی اور قبل از وصال وفات پاگئے ، تو ان شاء اللہ ایک وقت سایہ عرش میں ضرور ملاقات ہوگی، جس وقت اگرچہ نفسی نفسی کا عالم ہوگا، لیکن ہماری یہ سچی دوستی ضرور کام آئے گی:
الاخلاء یومئذ بعضھم لبعض عدوا الا المتقین۔
علیکم سلام اللہ انی راحل
و عینای من خوف التفرق تدمع
ان نحن عشنا فھو یجمع بیننا
و ان نحن متنا فالقیامۃ تجمع
دل حکایت غم سے لبریز ہے، جی چاہتا ہے کہ یوں ہی ساز غم کو چھیڑتا رہوں اور اشک بہاتا رہوں، لیکن اپنے جذبات کے اس قدر اظہار سے مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں جھوٹا نہ سمجھ لیا جاؤں کہ؎
کہیں دوست تم سے نہ ہوجائیں بد ظن
جتاؤ نہ حد سے محبت زیادہ
اس لیے اپنے جذبات کو ضبط کرنے کی کوشش کرتا ہوں کہ ؎
ان درو دیوار پر حسرت کی نظر کرتے ہیں
خوش رہو اہل چمن ہم تو سفر کرتے ہیں۔

Md Yasin Jahazi

Md Yasin Jahazi

Next Post
عورت فطرت کے آئینے میں

عورت فطرت کے آئینے میں

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

منتخب کردہ

بہار الیکشن میں مسلم ووٹنگ بینک کی سیاست۔ مفادپرستی یا مجبوری

3 مہینے ago

قرآن حکیم غیر مسلموں کی نظر میں

4 مہینے ago

مقبول

  • جناب منورزماں سر کی نصیحت آموز باتیں

    جناب منورزماں سر کی نصیحت آموز باتیں

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • سابق چیف الیکشن کمیشن آف انڈیا  سے جہازی مکالمات

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • استھانواں کے محسن اعظم الحاج سید تقی الدین استھانوی مرحوم

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • مولانا سید سلیمان اشرف بہاری ۔۔حالات زندگی سے متعلق چند اہم اطلاعات

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • پاکی

    0 shares
    Share 0 Tweet 0

ہم سے جڑیے

ہمارا خبری نامہ حاصل کریں

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetuer adipiscing elit. Aenean commodo ligula eget dolor.
SUBSCRIBE

زمرہ جات

اہم روابط

  • لاگ ان کریں
  • Entries feed
  • Comments feed
  • WordPress.org

ہمارے بارے میں

جہازی میڈیا باشعور افراد کی ایک ایسی تحریک ہے، جو ملت اسلامیہ کی نشاۃ ثانیہ کے لیے اپنی فکری و عملی خدمات پیش کرنے کے لیے عہدبند ہوتے ہیں۔ اس لیے ہر وہ شخص اس تحریک کا ممبر بن سکتا ہے، جو اس نظریہ و مقصد سے اتفاق رکھتا ہے۔

  • ہمارے بارے میں
  • قوائد و ضوابط
  • کاپی رائٹس
  • پرائیویسی پالیسی
  • رابطہ

© 2025 Jahazi Media Designed by Mehmood Khan 9720936030.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • ہوم
  • اسلامیات
  • جمعیۃ علماء ہند
  • زبان و ادب
  • قومی و بین الاقوامی
  • اہم خبریں
    • دہلی
    • اتر پردیش
    • کرناٹک
    • مہاراشٹر
  • غزل
  • مضامین
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • دیگر مضامین
  • ترجمہ و تفسیر قرآن

© 2025 Jahazi Media Designed by Mehmood Khan 9720936030.