بدھ, اگست 26, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Jahazi Media – Latest News, Articles & Insights
  • ہوم
  • جمعیت علمائے ہند
  • اسلامیات
  • زبان و ادب
  • متفرق مضامین
    • All
    • جاوید اختر بھارتی
    • دیگر مضامین
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی

    ریاضی کی تدریس کے نفسیاتی طریقے

    پیرنٹنگ

    پیرنٹنگ

    بچوں کو کھیل کھیل میں تعلیم کے 27 طریقے: سید الملت حضرت مولانا محمد میاں صاحب نور اللہ مرقدہ

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    بھارت کی موجودہ حکومت،ایسٹ انڈیا کمپنی کی راہ پر!

    محمد یاسین جہازی

    تدریس کے 35 جدید طریقے

    ایجوکیشن کمیشن اور مدارسِ اسلامیہ

    ایجوکیشن کمیشن اور مدارسِ اسلامیہ

    نسلِ جدید

    آج یوم تاسیس تحریک تبلیغ ہے

    حضرت العلامہ معین الدین اجمیری رحمۃ اللہ علیہ

    سابق چیف الیکشن کمیشن آف انڈیا  سے جہازی مکالمات

    جناب منورزماں سر کی نصیحت آموز باتیں

    جناب منورزماں سر کی نصیحت آموز باتیں

    Trending Tags

    • Golden Globes
    • Mr. Robot
    • MotoGP 2017
    • Climate Change
    • Flat Earth
  • اہم خبریں
    • All
    • اتر پردیش
    • دہلی
    • دیگر ریاستیں

    بھارت چھوڑو تحریک” کا سبق – صرف ماضی کی یاد نہیں، حال کی رہنمائی بھی ہےایم. ڈبلیو. انصاری (آئی.پی. ایس) ریٹائرڈ، ڈی. جی

    قانون کو ہاتھ میں لینے کی کسی کو اجازت نہیں، قصورواروں کو فوری گرفتار کیا جائے: جمعیۃ علماء جھارکھنڈ

    قانون کو ہاتھ میں لینے کی کسی کو اجازت نہیں، قصورواروں کو فوری گرفتار کیا جائے: جمعیۃ علماء جھارکھنڈ

    وندے ماترم کو قانونی لزوم دینا مذہبی و آئینی آزادی پر حملہ ہےآل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ

    اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کا ایک سہ روزہ سمر کیمپ کا افتتاحی پروگرام

    اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کا ایک سہ روزہ سمر کیمپ کا افتتاحی پروگرام

    مہاراشٹر میں یکساں سول کوڈ کے نفاذ کی مخالفت کی جائے گی: مولانا حلیم اللہ قاسمی

    مہاراشٹر میں یکساں سول کوڈ کے نفاذ کی مخالفت کی جائے گی: مولانا حلیم اللہ قاسمی

    بسنت رائے میں ” گلوبل ٹریول” حج و عمرہ دفتر کا شاندار افتتاح

    بسنت رائے میں ” گلوبل ٹریول” حج و عمرہ دفتر کا شاندار افتتاح

    آج یوم تاسیس تحریک تبلیغ ہے

    فرقہ پرستوں کا ایک اہم اعتراض اور اس کا جواب

    آج یوم تاسیس تحریک تبلیغ ہے

    ہماری مساجد کی تعمیر ہماری ذمہ داری

    عورت کا وقار، قانون کی تعبیر اور انصاف کا امتحان

    عورت کا وقار، قانون کی تعبیر اور انصاف کا امتحان

  • ترجمہ و تفسیر قرآن کریم
    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    Trending Tags

    • Sillicon Valley
    • Climate Change
    • Election Results
    • Flat Earth
    • Golden Globes
    • MotoGP 2017
    • Mr. Robot
  • ہوم
  • جمعیت علمائے ہند
  • اسلامیات
  • زبان و ادب
  • متفرق مضامین
    • All
    • جاوید اختر بھارتی
    • دیگر مضامین
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی

    ریاضی کی تدریس کے نفسیاتی طریقے

    پیرنٹنگ

    پیرنٹنگ

    بچوں کو کھیل کھیل میں تعلیم کے 27 طریقے: سید الملت حضرت مولانا محمد میاں صاحب نور اللہ مرقدہ

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    بھارت کی موجودہ حکومت،ایسٹ انڈیا کمپنی کی راہ پر!

    محمد یاسین جہازی

    تدریس کے 35 جدید طریقے

    ایجوکیشن کمیشن اور مدارسِ اسلامیہ

    ایجوکیشن کمیشن اور مدارسِ اسلامیہ

    نسلِ جدید

    آج یوم تاسیس تحریک تبلیغ ہے

    حضرت العلامہ معین الدین اجمیری رحمۃ اللہ علیہ

    سابق چیف الیکشن کمیشن آف انڈیا  سے جہازی مکالمات

    جناب منورزماں سر کی نصیحت آموز باتیں

    جناب منورزماں سر کی نصیحت آموز باتیں

    Trending Tags

    • Golden Globes
    • Mr. Robot
    • MotoGP 2017
    • Climate Change
    • Flat Earth
  • اہم خبریں
    • All
    • اتر پردیش
    • دہلی
    • دیگر ریاستیں

    بھارت چھوڑو تحریک” کا سبق – صرف ماضی کی یاد نہیں، حال کی رہنمائی بھی ہےایم. ڈبلیو. انصاری (آئی.پی. ایس) ریٹائرڈ، ڈی. جی

    قانون کو ہاتھ میں لینے کی کسی کو اجازت نہیں، قصورواروں کو فوری گرفتار کیا جائے: جمعیۃ علماء جھارکھنڈ

    قانون کو ہاتھ میں لینے کی کسی کو اجازت نہیں، قصورواروں کو فوری گرفتار کیا جائے: جمعیۃ علماء جھارکھنڈ

    وندے ماترم کو قانونی لزوم دینا مذہبی و آئینی آزادی پر حملہ ہےآل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ

    اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کا ایک سہ روزہ سمر کیمپ کا افتتاحی پروگرام

    اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کا ایک سہ روزہ سمر کیمپ کا افتتاحی پروگرام

    مہاراشٹر میں یکساں سول کوڈ کے نفاذ کی مخالفت کی جائے گی: مولانا حلیم اللہ قاسمی

    مہاراشٹر میں یکساں سول کوڈ کے نفاذ کی مخالفت کی جائے گی: مولانا حلیم اللہ قاسمی

    بسنت رائے میں ” گلوبل ٹریول” حج و عمرہ دفتر کا شاندار افتتاح

    بسنت رائے میں ” گلوبل ٹریول” حج و عمرہ دفتر کا شاندار افتتاح

    آج یوم تاسیس تحریک تبلیغ ہے

    فرقہ پرستوں کا ایک اہم اعتراض اور اس کا جواب

    آج یوم تاسیس تحریک تبلیغ ہے

    ہماری مساجد کی تعمیر ہماری ذمہ داری

    عورت کا وقار، قانون کی تعبیر اور انصاف کا امتحان

    عورت کا وقار، قانون کی تعبیر اور انصاف کا امتحان

  • ترجمہ و تفسیر قرآن کریم
    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    Trending Tags

    • Sillicon Valley
    • Climate Change
    • Election Results
    • Flat Earth
    • Golden Globes
    • MotoGP 2017
    • Mr. Robot
No Result
View All Result
Jahazi Media – Latest News, Articles & Insights
No Result
View All Result
Home اسلامیات

عورت فطرت کے آئینے میں

by Md Yasin Jahazi
فروری 13, 2026
in اسلامیات
0
عورت فطرت کے آئینے میں
0
SHARES
16
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

محمد یاسین جہازی

عورت فطرت کے آئینے میں
خالق ارض و سما نے اپنی تمام مخلوقات کو اپنی اپنی نوع میں دو الگ الگ فطری تقاضے اور مختلف فکری رجحانات ودیعت فرماکر پیدا کیا ہے۔ چنانچہ اگر اس خالق نے پھول بنائے ہیں تو ساتھ ہی کانٹوں کو بھی وجود بخشا ہے۔ دن بنایا ہے تو رات بھی بنائی ہے۔ زمین تخلیق کی ہے تو آسمانوں کو بھی پھیلایا ہے۔ اسی طرح آگ پانی، گرمی سردی، خوشی غم، خوبصورتی بدصورتی، کالا گورا، رنگ بے رنگ وغیرہ وغیرہ۔ نوعِ انسانی میں مرد و عورت کے دو الگ الگ رُوپ، قدرت کے اسی نظام تخلیق کا کرشمہ ہے۔
یہ اختلافی کرشمہ جہاں اس خلاق عالم کے حقیقی خالق ہونے پر واضح دلیل ہے،وہیں اس کائنات کی بوقلمونی ،رنگ برنگی اور زیب و زینت کا راز بھی ہے، کیوںکہ اگر صرف رات کی تاریکی ہوتی، تو دن کے اُجالے کی اہمیت کا کسے پتہ ہونا۔ صرف اگر پھولوں کی خوشبوں سے سارا چمن معطر رہتا، تو کانٹوں کی چبھن سے کون آشنا ہوتا۔ اگر صرف شمع جلاکرتی، تو پروانے کے جل جانے کی لذت کیسے میسر آتی۔ اگر صرف بے رنگی ہوتی، تو قوس و قزح کی رنگینیاں بے معنی نظر آتیں۔ اگر صرف یک رنگی ہوتی، تو تتلیوں کی رنگت بے رغبت ہوجاتی۔ قصہ مختصر اگر ہر مخلوق میں اس کا صنف مخالف نہ ہوتا تو نہ ترنم میں مزہ آتا، نہ سرسنگیت کے لیے راگ راگنی وجود میں آتی، نہ پھولوں میں دل کشی ہوتی، نہ چڑیوں کی چہچہاہٹ باعث خوشی ہوتی، نہ کوئل کی کوک فرحت و انبساط کا سامان بہم پہنچاتی، نہ کوئی دل بے قرار ہوتا، نہ ہی عشق و شیفتگی کا شرارہ اُڑتا، نہ زلف گھٹا بن کر لہراتی، نہ بادل برسنے کی کوشش کرتا، نہ پلکیں جھپکتیں ،نہ کسی کے دل پر قیامت گزرتی، نہ نقاب اُٹھتا اور نہ ہی کسی کے شباب میں آگ لگتی۔ ؎
گلہائے رنگارنگ سے ہے زینتِ چمن
اے ذوقؔ اس جہاں کو ہے زیب اختلاف سے
اللہ تعالیٰ حکیم ہے، اس کا کوئی بھی کام حکمت سے خالی نہیں ہے۔ اس حکیم نے اپنی جملہ مخلوقات کی تمام نوعوں کو جو دو الگ الگ صنفوں میں تقسیم کیا ہے وہ بھی ایک عظیم حکمت پر مبنی ہے۔ انسانوں کو مرد و عورت کی صنفوں میں تقسیم کرکے انھیں اپنی اپنی صنف کے مطابق جسمانی صلاحیت، ساختیاتی شکل و ہیئت، فطری میلان اور زاویۂ فکر دے کر ان کی فطری ذمہ داریوں کو واضح کیا ہے اور ساتھ ہی یہ پیغام بھی دیا ہے کہ زندگی کے میدان میں گاڑی کے دو پہیے کی مانند دونوں ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں اور معاشرتی و مادّی زندگی میں دونوں صنفوں کے لیے الگ الگ طریقۂ کار فطری طور پر متعین کردیے گئے ہیں، جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ اگر دونوں اپنی فطری ذمہ داری سے ہٹ جائیں، تو سماجی و معاشرتی ڈھانچے کا تانابانا بکھر جائے گا اور زندگی کا حقیقی لطف اور چین و سکون غارت ہوجائے گا۔
نوعِ انسانی کی ایک صنف مخالف :عورت ہے، اسے صنف نازک بھی کہا جاتا ہے۔ اس صنفِ نازک کی تاریخ بتاتی ہے کہ کبھی یہ تمام مصیبتوں کا جڑ قرار دی گئی ہے تو کبھی سانپ کا دوسرا روپ سمجھا گیا ہے۔ کبھی برائیوں کی علامت کا نام دیا گیا ہے، تو کبھی گناہوں کا مجمسہ کہہ کر پکاری گئی ہے۔ حیرت کی بات تو یہ ہے کہ خود کو روشن خیال سمجھنے والے کچھ نام نہاد مفکروں نے اسے ذی روح اور شعور و احساس رکھنے والی مخلوق ماننے سے ہی انکار کردیا ہے، جب کہ بعض دیگر مورخوں نے اس کی زندگی کو تسلیم تو کیا ہے، لیکن اس کا فطری مقصد تخلیق کو نظرانداز کرتے ہوئے کہا کہ مرد و عورت دونوں برابر ہیں۔ دونوں میں کسی بھی اعتبار سے کوئی فرق نہیں۔
مختلف ادوار میں عورتوں کے متعلق ان نظریاتی اختلاف کے اثرات براہِ راست ان کی زندگیوں پر پڑے۔ چنانچہ اوّل الذکر نظریے کے تناظر میں اس صنف نازک پر ہر طرح کا ظلم و جبرروا رکھا گیا اور اتنی ستائی گئی کہ اس سے اس کے جینے کا حق بھی چھین لیا گیا، لیکن جب مغربی مورخین نے موخرالذکر نظریہ پیش کرکے عورتوں کی آزادی کا نعرہ لگایا تو وہ اپنی فطری ذمہ داری سے بغاوت پر اُتر آئی اور گھر آنگن کی محفوظ چہاردیواری سے نکل کر محفل محفل بے آبرو پھرنے لگی، اپنے حسن و جوانی کی نمائش اپنی آزادی کا حصہ تصور کرنے لگی، قلعۂ عزت و آبرو :گھر آنگن کو قیدخانہ سمجھنے لگی، زندگی کے ہر میدان میں مردوں کے شانہ بشانہ چلنے کو حالات سے سمجھوتہ اور خود کو مردوں سے کسی چیز میں پیچھے نہ رہنے والی ذات باور کرانے لگی اور تجارتی اشیا کے بجائے خود اپنی شکل و ہیئت کو ہی ایک مارکیٹ کی چیز بناکر دُنیا والوں کے سامنے پیش کیا۔ ؎
پھول جو کونے میں کھل کر رہ گیا، بے کار ہے
پھول وہ ہے جو نگاہوں کے گلے کا ہار ہے
عورت بھی انسان ہے، مرد بھی انسان ہے ۔دونوں صنفوں کے انسان ہونے میں کوئی شک نہیں ہے، اس لیے دونوں کے درمیان فرق کرتے ہوئے ایک صنف کو انسان اور ذی روح ہونے سے خارج ماننا، اس صنف پر صریح ظلم ہے، کیوںکہ مردوں کی طرح عورتیں بھی کھاتی پیتی ہیں، محبت و نفرت کا جذبہ دونوں کے اندر پایا جاتا ہے، افہام و تفہیم کی صلاحیت سے دونوں ہی لیس ہیں، جس طرح کپڑا، مکان، سواری اور زندگی کی دیگر ضروریات مردوں سے متعلق ہیں، اسی طرح یہ سب چیزیں عورت کی زندگی سے بھی وابستہ ہیں، لہٰذا انسانی بنیاد پر فرق و امتیاز کی باتیں کرنا سراسر فضول اور لایعنی ہے۔ البتہ یہ سوال بجا ہے کہ جب دونوں انسان ہیں تو کوئی مرد اور کوئی عورت کیوں ہیں؟ انسانی معاشرہ میں ایسا کیوں نہیں ہے کہ سبھی مرد ہوں یا سبھی صرف عورت ہو، وہ کون سی ضرورت تھی، جس کی بنیاد پر نوعِ انسان کو دو الگ الگ صنفوں میں بانٹ دیا گیا اور کسی کو مرد اور کسی کو عورت بنادیا۔
مرد و عورت کے تخلیقی عمل، فطری عوارضات اور جسمانی ساختیات پر غور کرنے سے بخوبی واضح ہوتا ہے کہ انسانی معاشرے کی بقا و تحفظ اور نسل انسانی کی افزائش کے لیے ان دونوں صنفوں کا وجود انتہائی ناگزیر ہے، جس کے لیے ان دونوں صنفوں کے الگ الگ کردار متعین کردیے گئے ہیں۔ کردار کی یہ تعیین فطری ہے اور خود خالق فطرت نے یہ کردار متعین کیے ہیں۔ عورتوں کو نسل انسانی کی بقا کے لیے بچوں کی تولید، ان کی نشوونما اور ان کی پرورش و پرداخت کے فرائض سپرد کیے گئے ہیں اور ان فرائض کی ادائیگی کے لیے جو صلاحیتیں درکار تھیں فطرت نے انھیں فطری طور پر ودیعت فرمادیا ہے۔ اس کے برعکس مردوں کو انسانی معاشرہ میں ایک نگراں کا رول دیا گیا ہے، اسی کے پیش نظر مضبوط قوتِ ارادی، فکری ہم آہنگی، پختہ عزم و حوصلہ، جدوجہد کی لگن اور کسب معاش کے لیے ضروری صلاحیتیں دی گئی ہیں۔ ان فطری کرداروں کے تناظر میں عورتوں کا رول ایک معاشرہ میں صرف اتنا ہے کہ وہ ماں بنیں، بچوں کی پرورش و پرداخت کریں۔ ایک مثالی معاشرہ کے لیے نونہالانِ نسل کو تیار کریں۔ اگر عورت ایک ماں کے کردار میں ہے تو اسے اپنی ممتا کے فرائض کی ادائیگی میں کوئی جھجک محسوس نہیں کرنی چاہیے۔ اگر عورت بیوی کی شکل میں کسی خاندان کا ایک فرد ہے تو اپنی بے لوث محبت و وفاداری اور لازوال عشق و شیفتگی سے گھر کو جنت نشاں بنانا اس کا لازمی فریضہ ہے۔ اگر عورت کسی کی بہن ہے، تو اپنے گھر کی عزت و آبرو کی حفاظت اپنا نصب العین جانے اور اگر عورت کسی کی بیٹی ہے تو اپنے والدین کی نگاہ میں نورِ نظر بنی رہنا اس کا اصلی معاشرتی رول ہے۔ اسی طرح اگر مرد کسی کا باپ ہے تو اپنے بچوں پر شفقت کے پھول نچھاور کرے، اگر کسی کا بیٹا ہے تو اپنے باپ کے نام کو روشن کرنا اس کا نصب العین ہونا چاہیے، اگر وہ کسی کا شوہر ہے تو اپنی بیوی کی نگاہ میں سب سے اچھا شوہر ثابت ہونا ایک معاشرتی ذمہ داری ہے اور اگر وہ کسی کا داماد ہے تو اپنے متعلقین کی نظر میں مثالی رشتہ دار بننا اس کا معاشرتی و اخلاقی فریضہ ہے۔ اب جس طرح مرد اپنے خاندان کی معاشی اور فطری ذمہ داری ادا کرنے کے لیے نوکری کرتا ہے، ملازمت کو پابندی تصور نہیں کرتا، اسی طرح اگر عورت ماں بنتی ہے، بچوں کی پرورش کرتی ہے، ان پر ممتا کے پھول نچھاور کرتی ہے، اپنے گھر کی محفوظ پناہ گاہ میں رہ کر نونہالان کو ایک مثالی معاشرہ کے لیے بہتر افراد بنانے کی کوشش میں شب و روز مصروف رہتی ہے، جس کے باعث باہر کی زندگی میں قدم نہیں بڑھاپاتی ہے، تو اسے بھی غلامی اور آزادی پر پابندی سے تعبیر نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی اس صنف کے لیے کوئی شرم و عار کی بات ہے۔
جب دونوں صنفیںجدا جدا ہیں، دونوں کا مقصد تخلیق الگ الگ ہے، دونوں کی جسمانی ساختیات، ایک دوسرے سے مطابقت نہیں رکھتیں تو ظاہر ہے کہ معاشرہ میں دونوں کا کردار بھی ایک دوسرے سے مختلف ہوگا، دونوں کا میدانِ کار ایک دوسرے سے جدا ہوں گے۔ اس میں نہ مرد عورت کی جگہ لے سکتا ہے اور نہ ہی عورت مرد کے تمام فرائض کو بحسن و خوبی انجام دے سکتی ہے۔
اس اکیسویں صدی میں سائنس و ٹیکنالوجی میں حیرت انگیز ترقی کے باعث جہاں علوم و فنون، سیاسیات و اقتصادیات، المختصر تمام شعبۂ حیات میں نمایاں تبدیلی رونما ہوئی ہے، وہیں افکار و نظریات اور سوچ و فکر کے زاویے میں بھی زبردست انقلاب آیا ہے۔ آج کا انسان ماضی کے انسانوں کی فکر و نظر کی ہنسی اُڑا رہا ہے، ان کی سادہ طرزِ زندگی آج کے لوگوں کے لیے ناقابل یقین بنتی جارہی ہے۔ یہ اسی فکری انقلاب کا نتیجہ ہے کہ آج کے زمانے کی خود کو ماڈرن سمجھنے والی عورتیں اپنی فطری ذمہ داریوں کو ادا کرنے میں شرم و جھجک محسوس کررہی ہیں، اپنی اصل ذمہ داری کو دقیانوسی اور پراگندہ خیالی سمجھ رہی ہیں اور مردوں کے کردار میں زندگی گزارنے میں خود کو ترقی یافتہ اور روشن خیال تصور کررہی ہیں، جس کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ انسانی معاشرہ تباہ و برباد ہوتا جارہا ہے۔ خاندانی نظام ختم ہوتا جارہا ہے اور لوگوں کی زندگی چین و سکون سے خالی ہوتی جارہی ہے۔ یا درکھنا چاہیے کہ جس طرح پھول کبھی کانٹا نہیں بن سکتا اور نہ ہی کانٹا کبھی پھول کا روپ دھار کر کسی کے لیے کشش کا سامان بہم پہنچا سکتا ہے، اسی طرح عورت خواہ کتنی ہی ماڈرن بن جائے اور اپنی فطری اصولوں سے بغاوت کرنے کی کوشش کرتی ر ہے تاہم زندگی کے حقیقی لطف کے لیے اسے اپنے فطری کردار میں آنا ہوگا اور اسی ذمہ داری کو ادا کرنا نصب العین بنانا ہوگا جس کے لیے وہ پیدا کی گئی ہے۔

Md Yasin Jahazi

Md Yasin Jahazi

Next Post
مولانا حکیم الدین صاحب قاسمی

مولانا حکیم الدین صاحب قاسمی

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

منتخب کردہ

آج یوم تاسیس تحریک تبلیغ ہے

حضرت العلامہ معین الدین اجمیری رحمۃ اللہ علیہ

1 مہینہ ago
حجۃ الوداع

حج و عمرہ میں اسلامی اصلاحات

4 مہینے ago

مقبول

  • تدریس اطفال میں درس گاہوں کی تزئین کی اہمیت

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • بیسویں صدی سے دیار حبیب صلی اللہ علیہ وسلم سے ہندستانی مسلمانوں کے روابط

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • ریاضی کی تدریس کے نفسیاتی طریقے

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • اکیسویں صدی سے دیار حبیب صلی اللہ علیہ وسلم سے ہندستانی مسلمانوں کے روابط:پندرھویں قسط

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • نئی زبان سکھانے کے نفسیاتی اور فطری طریقے

    0 shares
    Share 0 Tweet 0

ہم سے جڑیے

ہمارا خبری نامہ حاصل کریں

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetuer adipiscing elit. Aenean commodo ligula eget dolor.
SUBSCRIBE

زمرہ جات

اہم روابط

  • لاگ ان کریں
  • Entries feed
  • Comments feed
  • WordPress.org

ہمارے بارے میں

جہازی میڈیا باشعور افراد کی ایک ایسی تحریک ہے، جو ملت اسلامیہ کی نشاۃ ثانیہ کے لیے اپنی فکری و عملی خدمات پیش کرنے کے لیے عہدبند ہوتے ہیں۔ اس لیے ہر وہ شخص اس تحریک کا ممبر بن سکتا ہے، جو اس نظریہ و مقصد سے اتفاق رکھتا ہے۔

  • ہمارے بارے میں
  • قوائد و ضوابط
  • کاپی رائٹس
  • پرائیویسی پالیسی
  • رابطہ

© 2025 Jahazi Media Designed by Mehmood Khan 9720936030.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • ہوم
  • اسلامیات
  • جمعیت علمائے ہند
  • زبان و ادب
  • قومی و بین الاقوامی
  • اہم خبریں
    • دہلی
    • اتر پردیش
    • کرناٹک
    • مہاراشٹر
  • غزل
  • متفرق مضامین
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • دیگر مضامین
  • ترجمہ و تفسیر قرآن کریم

© 2025 Jahazi Media Designed by Mehmood Khan 9720936030.