کوئٹہ انڈیا موومنٹ (Quit India Movement) – 9 اگست 1942(برطانوی حکمراں کتوں کی طرح ہیں، اگر آپ ان کو لات ماریں گے تو وہ آپ کو چاٹیں گے، لیکن اگر آپ ان کو چاٹیں گے تو وہ آپ کو لات ماریں گے۔) — یوسف ظفر مہر علی (3 ستمبر 1903 – 2 جولائی 1950)مکمل سوراج”سائمن کمیشن کا بائیکاٹ / سائمن کمیشن واپس جاؤ”آج جب ہم ‘بھارت چھوڑو’ تحریک کو یاد کر رہے ہیں، تو یہ ضروری ہے کہ ہم اس دن کو محض ایک تاریخی واقعہ نہ سمجھیں، بلکہ اسے حال اور مستقبل کی روشنی میں بھی دیکھیں۔ 8 اگست 1942 کو جب گوالیار ٹینک میدان (ممبئی) میں آل انڈیا कांग्रेस کمیٹی نے "بھارت چھوڑو” کی قرارداد منظور کی، تو شاید کسی نے نہیں سوچا ہوگا کہ یہ دن آنے والے برسوں میں عوامی بیداری، حوصلے اور جدوجہد کی ایک مثال بن جائے گا۔ اگلے ہی روز، 9 اگست کو ملک بھر میں انقلاب کی چنگاریاں پھوٹ پڑیں اور ہر طبقے نے – خواہ وہ کسان ہو، مزدور ہو، طالب علم ہو یا گھریلو خواتین ہوں – آزادی کی جنگ میں حصہ لیا۔قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ اس تحریک کا نعرہ "بھارت چھوڑو” یوسف مہر علی نے دیا تھا، جو اس وقت میئر تھے اور جنہوں نے تحریک آزادی میں مثالی کردار ادا کیا۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ آج کی درسی کتب اور میڈیا ان جیسے بے لوث مجاہدین آزادی کے ناموں سے خالی ہوتے جا رہے ہیں۔ جبکہ ان کے ذکر میں نہ صرف تاریخ کی سچائی چھپی ہے، بلکہ وہ آج بھی نوجوان نسل کو وطن سے محبت، قربانی اور مزاحمت کا سبق دے سکتے ہیں۔بھارت چھوڑو تحریک صرف انگریزوں کے خلاف نہیں تھی، بلکہ یہ ایک عوامی بیداری کی تحریک تھی۔ یہ اس سوچ کے خلاف تھی، جو عوام کو غلامی، خوف اور مایوسی کے اندھیروں میں جکڑنا چاہتی تھی۔ یہی وہ تحریک تھی جس نے ملک گیر سطح پر اتحاد، یگانگت اور مذہبی ہم آہنگی کو فروغ دیا۔ مسلمانوں، ہندوؤں، سکھوں، عیسائیوں – سب نے مل کر یہ لڑائی لڑی۔اس تحریک میں جہاں مہاتما گاندھی، مولانا آزاد، پنڈت نہرو، سبیش چندر بوس اور جے پرکاش نارائن جیسے مجاہدین آزادی شامل تھے، وہیں ارونا آصف علی، سرجنی نائیڈو، حمیدہ طیب جی اور صغرہ خاتون جیسی خواتین کا بھی ناقابل فراموش کردار رہا۔ یہ خواتین اس وقت میدان میں ڈٹی رہیں، جب تمام مرد رہنماؤں کو انگریزوں نے گرفتار کر لیا تھا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تحریک آزادی صرف مردوں کی جدوجہد نہیں تھی، بلکہ اس میں خواتین کا کردار بھی سنگ میل کی حیثیت رکھتا تھا۔آج جب ہم "نئے بھارت” کی بات کرتے ہیں، تو ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ اس بھارت کی بنیاد اتحاد، انصاف اور مساوات پر رکھی گئی تھی۔ مگر افسوس، آج ہم اس ورثے سے دور ہوتے جا रहे ہیں۔ ایک طرف آزادی کی جنگ لڑنے والے گمنام مجاہدین آزادی کے مجسمے بھی مٹتے جا रहे ہیں، اور دوسری طرف وہ عناصر، جو اس تحریک کے مخالف تھے، آج خود کو قوم پرستی کا واحد ٹھیکیدار بنا کر پیش کر رہے ہیں۔آج این سی ای آر ٹی (NCERT) کے نصاب کی کتابوں سے ان تمام شہداء، جنہوں نے اپنی جانوں کی قربانیاں دیں، جیسے ٹیپو سلطان، حیدر علی، سراج الدولہ وغیرہ کا نام و نشان ختم کیا جا रहा ہے، بلکہ ہٹا دیا گیا ہے۔ ابुल کلام آزاد جیسی شخصیت کا نام و نشان بھی یہاں تک کہ کانگریس کے پوسٹروں اور بینروں سے غائب ہو رہا ہے اور یہ جان بوجھ کر کیا جا رہا ہے۔آج ہمیں جناب سنجے سنگھ (آر.ایس) ممبر پارلیمنٹ کی اس تقریر کو یاد رکھنا چاہیے کہ "مسلمانوں اور دلتوں کی آنے والی نسلوں کو تاریخ زیادہ پڑھنی چاہیے اور اپنے مجاہدین آزادی کو یاد رکھنا چاہیے۔”آج تمام سیاسی رہنماؤں سے سوال کیا جانا چاہیے کہ وہ بتائیں:(1) جے ہند،(2) سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا،(3) انقلاب زندہ باد،(4) ماتربھومی بھارت کی جے،(5) ترنگے کی شکل،(6) سرفروش کی تمنا اب ہمارے دل میں ہےوغیرہ نعرے کس نے دیے؟آج ان مجاہدین آزادی کے نام موجودہ نسل کو یاد نہیں ہیں، آنے والی نسلوں کا تو ذکر ہی دور کی بات ہے۔ 15 اگست اور 26 جنوری کو جب سرکاری اشتہار دیے جائیں، تو اس بات کا بھی خیال رکھا جائے کہ مسلم مجاہدین آزادی کو بھی ان میں جگہ دی جائے۔ ان کے ساتھ کسی طرح کا سوتیلا برتاؤ یا امتیاز نہ کیا جائے، جس کا رواج آج کل کچھ زیادہ ہی ہو گیا ہے۔ یہاں تک کہ کئی مسلم مجاہدین آزادی کا کہیں نام و نشان نہیں ہوتا، یہاں تک کہ ان کے یوم پیدائش اور یوم شہادت پر بھی انہیں یاد نہیں کیا جاتا۔یہ یاد رکھنا ہوگا کہ صرف ترنگا لہرانا ہی حب الوطنی نہیں ہے، بلکہ ان اقدار کو زندہ رکھنا بھی ہمارا فرض ہے، جن کے لیے ہمارے بزرگوں نے جیلیں کاٹیں، گولیاں کھائیں اور اپنی جانیں قربان کیں۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم تحریک آزادی کے اصل پیغام کو سمجھیں اور ہر اس طاقت کے خلاف کھڑے ہوں جو ملک کی مشترکہ وراثت، جمہوریت اور آئینی اقدار کو کمزور کرنا چاہتی ہے۔آج جب ہم بھارت چھوڑو تحریک کو یاد کر رہے ہیں، تو آئیے عزم کریں کہ ہم تاریخ کو صرف رٹنے کا موضوع نہیں بنائیں گے، بلکہ اس سے سبق لیں گے۔ ہم ملک کے تمام شہریوں کو مساوی حقوق دینے کے اصول پر قائم رہیں گے۔ ہم ان تمام مجاہدین آزادی کا احترام کریں گے، جنہوں نے ملک کو آزاد کرانے میں قربانیاں دیں اور ہم آنے والی نسلوں کو بھی بتائیں گے کہ آزادی یوں ہی نہیں ملی تھی، اسے قیمت چکلا کر حاصل کیا گیا تھا۔آخر میں، ان لوگوں کو سلام پیش کرتے ہیں جو اس تحریک کا حصہ تھے۔ آج کے نوجوانوں سے گزارش ہے کہ وہ موبائل اسکرین سے نکل کر تاریخ کے صفحات کھولیں، کیونکہ جو قوم اپنا ماضی بھول جاتی ہے، وہ اپنے ورثے کے ساتھ ساتھ اپنا مستقبل بھی کھو دیتی ہے۔نیرنگیِ سیاستِ دوراں تو دیکھیے،منزل انہیں ملی جو شریکِ سفر نہ تھے۔





















