محمد یاسین جہازی
ہندستان میں بسنے والے لوگوں کی قومیت کے بارے میں مختلف شخصیات نے مختلف تشریحات پیش کی ہیں،جس سے اس کے حب الوطنی کا معیار طے کیا جاتا ہے۔ اس تحریر میں ان سب کا احاطہ مقصود نہیں، البتہ صرف انھی شخصیات کے نظریات کا اختصار پیش کیا جا رہا ہے، جن کے نظریات نے ہندستانی سیاست میں انقلابی تبدیلی پیدا کی ہے۔ چوں کہ جمعیت علمائے ہند ایک ملک گیر تنظیم ہے اور اس کے نظریات کو عالمی سطح پر ہندستانی مسلمانوں کے نظریات کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، اس لیے جمعیت علمائے ہند کے پلیٹ فارم سے پیش کیے گئے اہم نظریات کو یہاں اختصار کے ساتھ پیش کیا جا رہا ہے۔
(2)سرسید احمد خان — جداگانہ قومیت
سرسید احمد خان نے 1867 کے اردو-ہندی تنازع کے پس منظر میں کہا تھا کہ ہندو اور مسلمان ایک قوم نہیں بن سکتے۔
(2)مولانا شبیر احمد عثمانی — وطن کا تحفظ
مولانا شبیر احمد عثمانی نے 19 تا 21 نومبر 1920 کے جمعیت علمائے ہند کے دوسرے سالانہ اجلاس میں فرمایا کہ وطن پرستی اور قوم پرستی اسلامی اصطلاح نہیں، شاید یورپ سے لی گئی ہیں؛ لیکن اپنی قوم اور وطن کا تحفظ ہمارے فرائض سے خارج نہیں۔ جو ملک مسلمانوں کے زیرِ اقتدار آ چکا ہو، اس کے ایک چپے کے دفاع کے لیے تمام اہلِ اسلام پر دفاع فرض ہو جاتا ہے۔
(3)جمعیت علمائے ہند — متحدہ قومیت
جمعیت علمائے ہند نے 29 دسمبر 1923 کو منعقد پانچویں اجلاس عام کی تجویز نمبر 5 میں کہا کہ
جمعیت علمائے ہند کا یہ اجلاس ہر ایسی کارروائی کو جو ملکی اتفاق و اتحاد کی بنیادیں کمزور کرے نفرت کی نظر سے دیکھتا ہے اور ایسے لوگوں کو جو متحدہ قومیت ہند کو نقصان پہنچائیں اور متزلزل کریں نہ صرف وطن بلکہ قوم و ملت کا دشمن سمجھتا ہے ۔
اسی طرح 23 مارچ 1940 کو مسلم لیگ نے قرارداد لاہور منظور کی، جو قرارداد پاکستان سے مشہور ہوئی،تو اس کے جواب میں جمعیت اور دیگر قوم پرور جماعتوں نے 27 تا 30 اپریل 1940 کو منعقد کانفرنس میں اعلان کیا کہ ہندستان اپنی جغرافیائی حدود کے ساتھ ایک متحدہ ملک ہے جو تمام باشندوں کی مشترکہ ملکیت ہے اور اس کے چپے چپے میں مسلمانوں کی ملکیت اور شعائر موجود ہیں۔ اس کی تجویز نمبر چھ میں کہا گیا کہ ہندستان کو ہندو ہندستان اور مسلم ہندستان میں تقسیم کرنا ناقابل عمل اور مسلمانوں کے لیے مضر ہے اور اس سے برطانوی سامراج کو فائدہ پہنچے گا۔
(4)مولانا محمد سجاد — اسلامی قومیت
ابو المحاسن مولانا محمد سجاد: نے 11 تا 16 جنوری 1925 کے چھٹے اجلاس میں وطنی فدویت کو مہلک مرض قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ اسلامی قومیت کی بنیاد کلمہ لا الٰہ الا اللہ پر ہے، جغرافیہ پر نہیں۔
(5)مولانا سید سلیمان ندوی — وطن سے محبت اور قومیت
حضرت مولانا سید سلیمان ندوی نے 11 تا 14 مارچ 1926 کے ساتویں اجلاس میں فرمایا کہ نسل، وطن اور زبان کی بنیاد پر یورپی طرز کی قوم پرستی جاہلیت کی عصبیت ہے، لیکن وطن سے محبت اور اس کی آزادی کے لیے جدوجہد ہر مسلمان کا فرض ہے۔ نیز پین اسلامزم اور نیشنلزم ایک ساتھ ممکن ہیں۔
(6)مولانا احمد سعید — وطن میں اشتراک
سبحان الہند حضرت مولانا احمد سعید ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند نے اپریل 1930 میں میرٹھ کے بیس ہزار کے اجتماع میں خطاب کرتے ہوئے فرمایا: ’’تمہارا مذہب انگریز اور ہندو دونوں سے الگ ہے، لیکن قومیت اور وطن میں تم ہندو کے شریک ہو، انگریز تمہارا ہم وطن نہیں۔‘‘
(7)علامہ محمد اقبال — مسلم خود مختاری
علامہ محمد اقبال نے 29 دسمبر 1930 کے خطبۂ الٰہ آباد میں پنجاب، سرحد، سندھ اور بلوچستان پر مشتمل خود مختار ریاست کی تجویز پیش کی۔ کیوں کہ وہ خالص مذہبی بنیاد پر قومیت کی تعمیر کا نظریہ رکھتے تھے۔
(8)مولانا حسین احمد مدنی — متحدہ وطنی قومیت
حضرت مولانا حسین احمد مدنی نے 7 جنوری 1938 کو باڑہ ہندو راؤ، دہلی میں فرمایا کہ موجودہ زمانے میں قومیں اوطان سے بنتی ہیں۔ بعد میں متحدہ قومیت اور اسلام میں میثاقِ مدینہ کی مثال دیتے ہوئے واضح کیا کہ ہندستان کے تمام باشندے بحیثیتِ وطن ایک قوم بن کر بیرونی اقتدار کے خلاف متحد رہیں، جب کہ ہر مذہب اپنے عقائد میں آزاد رہے۔ اگست 1938 کی جون پور کانفرنس میں بھی اسی متحدہ قومیت کی وضاحت کی کہ باشندگانِ ہند مذہبی اختلاف کے باوجود بحیثیتِ ہندستانی مشترک قومیت رکھتے ہیں۔ 7 تا 9 جون 1940 کے بارہویں اجلاس میں فرمایا کہ باشندگانِ ہند بحیثیتِ ہندستانی ایک اشتراک رکھتے ہیں جو مذہبی اختلاف کے باوجود باقی رہتا ہے، جیسے آگ لگنے پر پورے گاؤں والے مل کر اسے بجھاتے ہیں۔
(9)مولانا سید عبدالحق مدنی — متحدہ قومیت کی وضاحت
مولانا سید عبدالحق مدنی نے 3 تا 6 مارچ 1939 کے گیارہویں اجلاس میں فرمایا: ’’ہم اس کے حامی ہیں کہ ہندستان کے تمام باشندے بیرونی اقوام کے مقابلے میں ہندستانی کہلائیں اور یہی متحدہ قومیت ہے، لیکن ہم برداشت نہیں کر سکتے کہ یہ ہمارے مذہبی عقائد پر اثر ڈالے۔‘‘
راشٹرواد کا ہندو ورژن
جاری۔۔۔۔



















