تجاویز: آٹھواں فقہی سیمینار
مجلس تحقیقات شرعیہ ندوة العلماء، لکھنؤ
مورخہ: 28-29 / اکتوبر 2026ء کو مجلس تحقیقات شرعیہ ندوۃ العلماء کا آٹھواں دو روزہ فقہی سیمینار دارالعلوم ندوۃ العلماء کے علامہ حیدر حسن خاں ٹونکی ہال میں منعقد ہوا، جس میں پورے ملک سے بڑی تعداد میں علماء اور اصحاب افتاء نے شرکت کی اور غور و خوض اور تبادلہ خیالات کے بعد درج ذیل تین موضوعات پر اتفاق رائے سے تجاویز منظور ہوئیں۔
تجاویز بابت: ڈیجیٹل پلیٹ فارم اور افیلیٹ مارکیٹنگ سے حاصل ہونے والی آمدنی کا شرعی حکم
موجودہ دور میں آن لائن ذرائع سے آمدنی کے مختلف طریقے سامنے آئے ہیں، جن میں افیلیٹ مارکیٹنگ اور ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے ذریعہ حاصل ہونے والی آمدنی خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔
افیلیٹ مارکیٹنگ میں کوئی فرد یا ادارہ کسی کمپنی کی مصنوعات یا خدمات کی تشہیر کے بدلے کمیشن حاصل کرتا ہے۔ اسی طرح سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز جیسے ویب سائٹس، یوٹیوب، انسٹا گرام اور فیس بک وغیرہ پر بنائے گئے چینل اور صفحات پر کمپنیوں کے اشتہارات چلائے جاتے ہیں، جن کا معاوضہ سوشل میڈیا کے مالکان کمپنیوں سے وصول کرتے ہیں، اور اس کا کچھ حصہ چینل اور صفحات بنانے والے افراد کو ایک ضابطہ کے مطابق ادا کرتے ہیں۔
آن لائن آمدنی کے ان دونوں طریقوں کے شرعی حکم کی بابت مجلس تحقیقات شرعیہ ندوۃ العلماء لکھنؤ کے آٹھویں فقہی سیمینار میں غور و خوض کیا گیا اور درج ذیل فیصلے کئے گئے:
(الف) افیلیٹ مارکیٹنگ (Affiliate Marketing) سے حاصل ہونے والی آمدنی
(1) افیلیٹ مارکیٹنگ جس میں مارکیٹر کمپنی کے سامان یا خدمات کی تشہیر کرتا ہے، اور کمپنی سے حاصل شدہ لنک کو اپنے پیج یا سائٹ پر لگا کر صارفین کو کمپنی تک پہنچاتا ہے، اور اس کے عوض مارکیٹر کو کمپنی کی جانب سے کمیشن ملتا ہے، معاملہ کی یہ صورت تجارت کے شرعی اصولوں کی پابندی کے ساتھ درست ہے۔
(2) افیلیٹ مارکیٹنگ میں معاملہ کی یہ صورت بھی درست ہوگی کہ مارکیٹر کے الگ الگ عمل کے ساتھ علاحدہ علاحدہ اجرت وابستہ کی جائے، مثلاً صرف لنک پر کلک کرنے پر ایک متعین اجرت رکھی جائے، اور کلک کے بعد خریداری مکمل ہونے پر دوسری متعین اجرت رکھی جائے۔
(3) افیلیٹ مارکیٹنگ میں کمپنی کے ساتھ اس طرح معاملہ کرنا درست ہے کہ فروختگی کی مختلف مقداروں پر علاحدہ شرح سے کمیشن دیا جائے گا لیکن یہ ضروری ہے کہ معاملہ کی شکل پوری طرح واضح اور متعین ہو۔
(4) مارکیٹر کے لئے جائز نہیں ہے کہ وہ کسی ایسے سامان یا خدمات کی تشہیر کرے جو سود یا فحاشی یا حرام اشیاء پر مشتمل ہوں، ایسی تشہیر پر ملنے والی آمدنی حرام ہوگی۔ اسی طرح سامانوں کی تشہیر میں جھوٹ، دھوکہ اور مبالغہ کے طریقے اختیار کرنا بھی ناجائز ہوگا۔
(5) اگر مارکیٹر حلال اشیاء کی تشہیر کرے، لیکن کمپنی کی مصنوعات میں حلال اور حرام اشیاء دونوں شامل ہوں، اور مارکیٹر کے فراہم کردہ لنک کے ذریعہ حرام اشیاء کی خریداری ہو جائے، تو مارکیٹر اپنی آمدنی میں سے حرام آمدنی کے بقدر حصہ کو بلانیت ثواب صدقہ کر دے۔
(ب) اشتہارات سے حاصل ہونے والی آمدنی
(1) سوشل میڈیا کے کسی پلیٹ فارم پر بنائے گئے صفحہ یا سائٹ پر سوشل میڈیا مالکان اشتہارات چلاتے ہیں، اور صفحہ یا سائٹ ہولڈر کو کمیشن ادا کرتے ہیں، شرعی ضوابط کی پابندی کے ساتھ کمیشن کی یہ آمدنی درست ہوگی۔
(2) اپنے صفحہ اور سائٹ پر ایسے اشتہارات کی اجازت دینا درست نہیں ہوگا جو حرام مصنوعات اور حرام خدمات سے متعلق ہوں، یا جو اشتہارات شرعی آداب و ضوابط کے خلاف ہوں۔
(3) سوشل میڈیا پر چینل اور سائٹ رکھنے والے افراد کے لئے اگر ممکن ہو تو وہ اپنے چینل اور سائٹ پر ایسے اشتہارات کو بلاک کر دیں جو شرعی اصول و ضوابط کے خلاف ہوں۔
(4) اگر حرام اشیاء پر مبنی غیر اختیاری اشتہارات آ جائیں، تو حرام اشتہارات سے حاصل ہونے والی آمدنی کو بلانیت ثواب صدقہ کر دینا چاہئے۔
تجاویز بابت: ہڈیوں سے بنی اشیاء کے استعمال کا حکم
صنعتی ترقی نے جانوروں کی ہڈیوں اور ان سے بنی مصنوعات کو انسانی زندگی کا حصہ بنا دیا ہے اور ضرورت کے تحت اس کا رواج بھی بڑھتا جا رہا ہے۔ اب کھانے پینے، سامانِ آرائش اور ادویات میں بڑے پیمانے پر اس کا استعمال ہو رہا ہے، اس پس منظر میں مجلس تحقیقات شرعیہ کے آٹھویں سیمینار میں اس پر بحث ہوئی اور درج ذیل تجاویز منظور کی گئیں:
(1) انسان اور خنزیر کے سوا تمام جانوروں کی ہڈیاں پاک ہیں، خنزیر کی ہڈی ناپاک ہے اور انسان کی ہڈی پاک ہے مگر قابل احترام ہونے کی وجہ سے اس کا استعمال جائز نہیں ہے۔
(2) حلال جانور جو شرعی طور پر ذبح کئے گئے ہوں ان کی ہڈیاں خشک ہوں یا تر، پاک ہیں، وہ حلال جانور جو بغیر ذبح کے مر گئے ہوں یا حرام جانور جو مذبوح ہوں یا غیر مذبوح، ان کی تر ہڈیاں ناپاک ہیں، خشک ہڈیاں پاک ہیں، تر ہڈیاں خشک ہو جانے یا اچھی طرح دھوئے جانے کے بعد پاک ہو جاتی ہیں۔
(3) خنزیر کے سوا تمام جانوروں کی ہڈیاں خواہ وہ ذبیحہ ہوں یا میتہ پاک ہیں، اس لئے مخلوط ہونے کی صورت میں بھی پاک ہوں گی اور ان کی خرید و فروخت اور خارجی استعمال جائز ہوگا۔
(4) اگر ظنِ غالب ہو کہ ہڈیوں کے اس مجموعہ میں خنزیر یا انسان کی ہڈیاں بھی ہیں اور ان کی تمیز نہیں ہو رہی ہے تو ان کی خرید و فروخت اور داخلی و خارجی استعمال جائز نہیں ہے۔
(5) اگر ہڈیوں میں انسان یا خنزیر کی ہڈیاں ہونے کا ظنِ غالب نہ ہو صرف شبہ ہو تو ان ہڈیوں کی خرید و فروخت جائز ہوگی، اور خارجی استعمال بھی جائز ہوگا۔
(6) خنزیر کے سوا تمام جانوروں کی ہڈیوں کو زیورات، قلم، چوڑی، چاقو کے دستے اور کنگھی وغیرہ بنانے کے لئے استعمال کرنا جائز ہے، اگر ان میں خنزیر یا انسان کی ہڈی ہونے کا احتمال ہو تو ظنِ غالب کا اعتبار ہوگا۔ ایسی صورت میں ان کی خرید و فروخت اور استعمال جائز نہیں ہوگا۔
(7) ہڈی سے بنے ہوئے ایسے مجسمے جن میں شکل و صورت واضح ہو، ان کی خرید و فروخت اور ان کو بطورِ آرائش و زینت گھروں میں رکھنا جائز نہیں ہے۔ خنزیر اور انسان کے سوا دیگر جانوروں کی ہڈیوں سے بنے ہوئے سامانِ آرائش گھر میں رکھنا جائز ہے۔
(8) استحالہ کی حقیقت یہ ہے کہ کسی چیز میں ایسی تبدیلی ہو جائے کہ اس کے بنیادی اوصاف باقی نہ رہیں، اگر پروسیس اور میڈیکل ٹریٹمنٹ سے ہڈی کے بنیادی اوصاف بدل جاتے ہیں تو اس سے استحالہ ہو جائے گا۔
(9) ہڈی سے بنے ہوئے جلاٹین میں اگر ہڈی کے بنیادی اوصاف بدل جاتے ہیں اور اس کا مکمل استحالہ ہو جاتا ہے تو جلاٹین کو مٹھائی، آئس کریم اور دیگر کھانے کی اشیاء میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔
(10) انسان اور خنزیر کے سوا دیگر جانوروں کی ہڈیوں کے سفوف سے بنائے ہوئے برتن کا استعمال اور خرید و فروخت جائز ہے۔
(11) ہڈی کی راکھ (Bone Ash) یعنی ہڈی کی راکھ سے بنائے ہوئے برتن کا استعمال اور خرید و فروخت جائز ہے۔
(12) اگر کوئی متبادل موجود نہ ہو تو علاج کی ضرورت سے آدمی اور خنزیر کے سوا دیگر جانوروں کی ہڈیوں کے پاؤڈر کو دوا میں استعمال کرنے کی گنجائش ہے۔ اسی طرح دانتوں کو جوڑنے یا دانتوں کو بھرنے میں ہڈی کے ذرات کے استعمال میں کوئی حرج نہیں ہے۔
(13) میڈیکل تعلیم کے لئے جانوروں کے ڈھانچوں کی خرید و فروخت اور ان کا استعمال جائز ہے، مگر انسانی ڈھانچوں کی خرید و فروخت اور ان کا استعمال جائز نہیں ہے بشرطیکہ دیگر مصنوعی ذرائع سے میڈیکل تعلیم کی یہ ضرورت پوری ہو جاتی ہو۔
تجاویز بابت: زمینوں کی خرید و فروخت سے متعلق اہم مسائل
(1) زمین کے مالک اور کمپنی کے درمیان ہونے والا یہ ایگریمنٹ کہ زمین کا مالک متعینہ رقم لینے کے بعد کمپنی سے زمین خریدنے والے کو براہِ راست رجسٹری کرتا رہے گا، اور اگر مدتِ متعینہ میں تمام پلاٹس فروخت نہ ہو سکے یا اس کی متعینہ رقم ادا نہ ہو سکی تو ایگریمنٹ کو ختم کرنے اور از سر نو قیمت متعین کرنے اور ایگریمنٹ کی تجدید کرنے کا اختیار ہوگا، معاملہ کی یہ صورت درست ہے۔
(2) معاہدہ کی مدت پوری ہونے پر اگر پوری رقم ادا ہو چکی ہو تو زمین کے مالک کو معاہدہ ختم کرنے کا اختیار نہیں ہوگا۔ اور اگر کچھ رقم باقی ہو تو فریقین ایگریمنٹ میں طے شدہ شرائط کے مطابق عمل کرنے کے پابند ہوں گے۔
(3) زمین کے مشترکہ کاروبار میں سرمایہ فراہم کرنے والوں اور عملی طور پر کام کرنے والوں کے حقوق اور ذمہ داریوں کا تعین معاہدے کے مطابق ہوگا، اور کاروبار سے حاصل ہونے والے نفع کی تقسیم بھی معاہدہ کے مطابق ہی ہوگی۔
(4) ہر شریک مشترکہ کاروبار سے ذاتی ضروریات میں رقم خرچ کرنے کے لیے معاہدہ کا پابند ہوگا۔ معاہدہ میں اس کی صراحت نہ ہونے کی صورت میں اپنی ذاتی ضروریات کے لئے بلا اجازت خرچ کرنا جائز نہیں ہوگا۔
(5) زمین کی خرید و فروخت میں ایک یا دونوں فریق سے کمیشن لینے کا فیصلہ عرف و تعامل کے مطابق کیا جائے گا، اگر عرف میں دونوں فریق سے کمیشن لینے کا رواج ہو یا دلال نے دونوں فریق کے لیے کام کیا ہو، تو دونوں سے کمیشن لینے کی گنجائش ہوگی، بشرطیکہ کسی کو دھوکا نہ دے اور ہر قسم کے کذب و خیانت سے پرہیز کرے۔
(6) دلال کی اجرت متعین نہ ہونے کی صورت میں اجرت کا استحقاق اور اس کی مقدار کا فیصلہ عرف کے مطابق کیا جائے گا۔
(7) زمین کے مالک کا یہ معاملہ کرنا درست ہے کہ دلال اسے ایک متعینہ رقم ادا کرے گا اور اس سے زائد رقم کا وہ خود مالک ہوگا۔
(8) اگر دلال کی ذمہ داری صرف فریقین کو ملانا ہو اور زمین کے کاغذات کی تحقیق اس کے ذمہ نہ ہو تو کاغذات میں خرابی سامنے آنے کی صورت میں بھی وہ اجرت کا مستحق ہوگا۔
(9) اگر کسی معاملہ میں ایک سے زائد دلال شامل ہوں تو کمیشن کا مستحق صرف وہ دلال ہوگا جو معاملہ کو تکمیل تک پہنچائے۔
(10) اگر دلال نے زمین دکھائی یا فریقین کا تعارف کرایا لیکن معاملہ فریقین کے باہمی تعلقات کی بنیاد پر طے پایا، تو دلال کے لئے اجرت کے استحقاق و عدم استحقاق میں عرف کا اعتبار ہوگا۔
(11) اگر ایک ایجنٹ نے دوسرے ایجنٹ کا مالکِ زمین سے تعارف کرایا اور بعد میں معاملہ دوسرے ایجنٹ کے ذریعہ انجام پایا تو پہلا ایجنٹ صرف اپنے عمل کے طے شدہ کمیشن کا مستحق ہوگا، دوسرے ایجنٹ کے فروخت کیے ہوئے پلاٹ میں اسے کمیشن کا حق نہیں ہوگا۔
(12) زمین کی خرید و فروخت میں محض نئے ایجنٹ بنانے یا ماتحت ایجنٹوں کی تعداد بڑھانے کی صورت میں بعد والوں کی خرید و فروخت پر کمیشن وصول کرنا درست نہیں ہے۔
(13) جائز کاروبار میں قابلِ اعتماد شخص کو مضاربت کے طریقے پر رقم دینا درست ہے، اگرچہ کاروبار کی تمام تفصیلات واضح نہ ہوں، بشرطیکہ نفع کی تعیین فیصد کے اعتبار سے کی جائے۔


















