جمعیت علمائے ہند نے ہمارے ملک کی آزادی اور اس کے تحفظ میں جو قربانیاں دی ہیں،اور جوذہنی بالیدگی پید اکی ہے، اسے ملک کا ہر غیر جانب دار طبقہ تسلیم کرتا ہے؛ لیکن قومی زندگی میں کسی تنظیم ،یا جماعت کو اپنی پرانی کامیابیوں پر خوشی کا احساس کرنے سے زیادہ اس بات کی ضرورت ہوتی ہے کہ وہ یہ دیکھے کہ نئے حالات کے تقاضوں میں اس کی کیا جگہ ہے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ زندگی اپنی تیز رفتاری میں آگے بڑھ گئی ہو، اور وہ جماعت اپنے ذہن و دماغ اور احساسات کو ان نئے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں کر پائی ہو۔ جہاں ایسا ہوا، وہیں پہ وہ تنظیم ٹوٹ جاتی ہے، چاہے بہت سے لوگ پھر بھی اس کے پیچھے کیوں نہ چلتے رہیں۔ یہ بپتا ہماری اپنی کا نگریس پر بھی بیتی ہے، جب ہماری وزیر اعظم نے اسے نیا لائحہ¿ عمل دیا اور ملک کی خواہشوں اور تصورات او رامیدوں کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کی، تبھی کانگریس پھر سنبھلی ۔یہ چیز ہر جماعت کو اپنے سامنے رکھنی چاہیے، جمعیت علما کو بھی یہی کوشش کرنی ہوگی کہ وہ جذبات سے کام نہ لے کر صحیح معنوں میں لوگوں کے دلوں کو ٹٹولے اور سماج کی نبض پر ہاتھ رکھے۔ یہ بہت آسان کام ہے اور کوئی بھی کر سکتا ہے۔ کچھ لوگ ایسے مسئلوں کو جن میں جذبات زیادہ اور ذہن کم استعمال ہوتے ہیں، سامنے لا کر اپنے کو لوگوں کی نظر میں محبوب بنانے کی کوشش کرتے ہیں؛ لیکن یہ محبوبیت بڑی مختصر ہوتی ہے۔ اصلی تنظیم وہی ہے، جو وقتی ہنگاموں سے دور مستقل موقف کو سامنے رکھے اور اپنے ماننے والوں کو ایسی رہبری دے، جو ٹھوس اور صحیح طور پر عوام کے مفاد کے مطابق ہو۔ آپ سو چیے کہ آپ اپنی تنظیم کو کس طرح کا موڑ دینا چاہتے ہیں۔ ظاہر ہے جمعیت علما کو پارلیمنٹری سیاست سے کوئی خاص مطلب نہیں ہونا چاہیے۔ یہ بڑی کوتاہ بینی ہوگی اگر مسلمان سیاست میں اپنے اس ہی رویہ کو چلاتے رہے، جس نے ملک کی آزادی سے پہلے سیاست کی فضا کو مسموم کر رکھا تھا۔ یہ زہر ملک کے اندر سے نکل جائے، تو ہی اچھا ہوگا؛ لیکن جمعیت علمائے ہند مسلمانوں کے سماجی، اخلاقی اور ذہنی شعور کو آگے بڑھانے میں بہت مدد دیتی رہی ہے۔ یہ وہ کام ہے، جو اس کو کرنا چاہیے۔
ماخوذ از خطاب جناب فخرالدین علی احمد صاحب وزیر زراعت حکومت ہند، بموقع تئیسواں اجلاس عام منعقدہ 5-6-7؍مئی 1972 جمعیت علمائے ہند
















