محمد یاسین جہازی
جمعیت علمائے ہند کے 106سال مکمل، تاسیس کی مستند کہانی
محمد یاسین جہازی
جنگ عظیم اول میں انگریزوں کا ساتھ دینے کے باوجو د آزادی دینے کے بجائے خلافت اسلامیہ کے خاتمہ اور رولٹ ایکٹ کے نفاذ نے ہندستانیوں اور ہندستانی مسلمانوں کو مشتعل کردیا، جس کے نتیجے میں تحریک ترک موالات اور تحریک خلافت وجود میں آئی۔ پہلی آل انڈیا خلافت کانفرنس کے موقع پر 23/نومبر1919ء کو عشا کی نماز کے بعد کرشنا تھیٹر ہال پتھر والا کنواں دہلی میں جمعیت علمائے ہند کا قیام عمل میں آیا۔ پس منظر اور تاسیس جمعیت کی ایک مختصر مگر جامع اشاریہ پیش خدمت ہے:
ہندستانیوں کی قدیم فطرت بتاتی ہے کہ یہ جنگ و تشدد سے کبھی رام نہیں ہوئے، ان کے دلوں کو پریم و پیار اور عشق و شیفتگی سے ہی فتح کیا جاسکتا ہے۔ سلطان الہند خواجہ معین الدین چشتی اجمیری نور اللہ مرقدہ کے کارنامے اس کے عملی مظاہر ہیں۔
1857ء ہندستان کی قومی اور وطنی تاریخ میں ایک ٹرننگ پوائنٹ کی حیثیت رکھتا ہے؛ کیوں کہ چاہے مسلم سلطنتیں ہوں، یا غیر مسلموں کے راجے راجواڑے؛ اس موڑ پر پہنچ کر سب کی لشکری اور فکری قوتوں نے شکست قبول کرلیا تھا۔اس کے علاوہ کسی مرکزی قیادت کے بغیر صرف جہاد آزادی وطن کے جذبہ سے سرشار عوامی معرکہ کی بات کریں، تو 14/ستمبر 1857ء کو شاملی کی لڑائی آخری کڑی نظر آتی ہے۔ اس جنگ کے پانچ مشہور قائدین میں سے ایک حجۃ الاسلام حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ اس شکست سے تین نتیجے اخذ کرتے ہیں کہ:
۱۔ کسی مرکزی قیادت کے بغیرہندستان سے برطانیہ تک منظم لیڈر شپ پر مشتمل حکومت کا مقابلہ کرنا ممکن نہیں۔
۲۔ محض گھریلو ہتھیار لاٹھی ڈنڈوں سے جدید اسلحہ سے لیس قوم کا مقابلہ نہیں کیا جاسکتا۔
۳۔ غیر تربیت یافتہ عوامی لشکرتربیت یافتہ فوج کا سامنا نہیں کرسکتے۔
چنانچہ اس شکست سے سبق حاصل کرکے جنگ کی حکمت عملی بدلتے ہوئے معرکہ رزم کے بجائے، معرکہ بزم برپا کیا اور 30/مئی 1866ء کو دارالعلوم دیوبند کی بنیاد ڈالی گئی۔اور میدان حریت کے رجال کار تیار کرنے کی تحریک شروع کردی گئی۔
گویا یہیں سے آزادی ہند کے لیے تیروتشدد کے بجائے عدم تشدد اور آئینی تحریکوں کی شروعات ہوتی ہے۔ اور اس واقعہ کے تقریبا تریپن سال بعد جب 23/نومبر1919ء کو جمعیت علمائے ہندکی بنیاد رکھی جاتی ہے، تو اس کے مسلک و مزاج میں یہی قاسمی روح گردش کررہی ہوتی ہے۔
جنگ عظیم اول
جنگ عظیم اول (28/جولائی 1914-11/نومبر 1918ء) کے موقع پر برطانیہ نے تین لوگوں سے تین الگ الگ عدے کیے:
۱۔ مسلمانان عالم سے: خلافت اسلامیہ عثمانیہ اور اماکن مقدسہ: حرمین شریفین کے تحفظ کا۔
۲۔ ہندستانیوں سے: سوراج یعنی آزادی دینے کا عدہ۔
۳۔ صہیونی جماعت سے: فلسطین میں وطن دینے کا وعدہ۔ ان متضاد وعدوں کا نبھانا آسان نہ تھا۔
پہلے دونوں وعدوں کے ایفا کی لالچ میں ہندستانیوں؛ بالخصوص مسلمانوں نے جنگ عظیم اول میں برطانیہ کا ساتھ دیتے ہوئے کثیر تعداد میں فوجیوں اور مال سے امداد کی۔
استنبول کے سرکاری ریکارڈز کے مطابق(کل آٹھ لاکھ، ستاسی ہزار) مسلمانوں نے جنگ میں شرکت کی۔(تحریک خلافت، میم کمال اوکے، ص/65۔ مترجم نثار احمد اسرار، قائد اعظم اکیڈمی پاکستان سنہ اشاعت: 1991ء)
مسئلہئ خلافت اور جشن صلح، ص/3 کے مطابق تقریبا گیارہ لاکھ افراد نے جنگ عظیم میں حصہ لے کر انگریزوں کی طرف سے انھیں ترکیوں سے جاکر لڑے، جو خود خلافت اسلامیہ کے تحفظ کے لیے لڑ رہے تھے۔
عجیب فیصلہ
واقعی یہ عجیب فیصلہ تھا، جسے شیخ الہندؒنے دوسرے اجلاس عام منعقدہ 19تا 21/نومبر1920ء کے خطبہئ صدارت میں ”تلخ ترین روحانی ذائقہ“ قرار دیتے ہوئے سخت غلطی بتایا ہے۔ اور حضرت مولانا ابوالکلام آزاد ؒ نے گناہ عظیم کے ارتکاب سے تعبیر کیا ہے۔
ترک موالات
انگریزوں نے سوراج دینے کے بجائے، ہندستانیوں کی غلامی میں مزید اضافہ کرنے والا قانون رولٹ ایکٹ نافذ کردیا، جس کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرتے ہوئے، گاندھی نے جی الٹی میٹم دیا کہ 24/فروری 1919تک اس قانون کو واپس نہیں لیا گیا، تو ہم ستیہ گرہ شروع کردیں گے، چنانچہ 30/ مارچ 1919ء سے تحریک کے آغاز کا اعلان کیا گیا۔ اسی بل کے خلاف ہندستان کی مختلف جگہوں کی طرح13/اپریل1919ء کو جلیان والا باغ میں بھی احتجاجی اجلاس ہورہا تھا، جس پر جنرل ڈائر کے حکم سے گولی چلا دی گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے لوگ خاک و خون میں تڑپتے نظر آئے۔اس کی تحقیقات کے لیے ہنٹر کمیٹی بنائی گئی، تو گاندھی جی نے اس تحریک کو واپس لے لیا۔ اور فضا میں ایک خاموشی سی چھا گئی۔
خلافت کانفرنس
بعد الفتح 30/اکتوبر1918ء کو روف بے وزیر بحریہ ترکی اور برطانوی وزیر البحر کالتھراپ کے دستخطوں سے ایک عارضی صلح ہوئی، جو بعد میں 10/ اگست 1920ء کو بدنامِ زمانہ معاہدہ: معاہدہئ سیورے میں تبدیل ہوگیا۔جس کی رو سے خلافت اسلامیہ کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا گیا۔
اسی عارضی صلح کی خوشی کا اظہار کرنے کے لیے 12تا 16/دسمبر 1919کو برطانوی حکومت ہند نے جگہ جگہ جشن منانے کا فیصلہ کیا، جس کے خلاف غم و غصہ کے اظہار کے لیے 18/ستمبر1919ء کو آل انڈیا مسلم کانفرنس کے نام سے ایک عظیم الشان اجلاس لکھنو میں ہوا، جس کی تجویز نمبر۶ میں 17 / اکتوبر1919ء کو پورے ملک میں عام ہڑتال کرکے یوم خلافت منانے کا اعلان کیا۔ اور اسی اجلاس میں یوم خلافت کے منتظمین کی طرف سے جشن صلح میں شرکت نہ کرنے کا مشورہ دیا گیا۔
بعد ازاں 3/نومبر1919ء کو مولانا فضل الحسن حسرت موہانی کی صدارت میں ایک اجلاس ہوا، جس میں گاندھی جی نے خلافت کانفرنس کی حمایت کا اعلان کیا۔ گاندھی جی نے کہا کہ اکیس کروڑ ہندوں کو آٹھ کروڑ مسلمانوں کے ساتھ مل کرچلنا ہے۔لہذا جو رنج مسلمانوں کا ہے، وہ ہندوں کا بھی ہے۔
اس بیان کو لے کر بعض متعصب انگلو انڈین اخبارات بالخصوص لاہور کا سول اینڈ ملٹری گزٹ نے الزام لگایا کہ”خلافت کے مسئلے پر تو مسلمان خاموش ہیں، صرف گاندھی جی شور مچارہے ہیں۔“
اس پر مولانا حسرت موہانی نے جواب دیا کہ میں خود یوم خلافت سے پورے ہندستان کا دورہ کررہا ہوں، جس کی بنیاد پر میں یہ دعوے کے ساتھ کہتا ہوں کہ یہ تمام مسلمانوں کی متفقہ آواز ہے۔“
چنانچہ یہی ثابت کرنے کے لیے یہ خلافت کا مسئلہ گاندھی جی کا نہیں؛ بلکہ تمام مسلمانوں کا متفقہ موقف ہے، ممبئی خلافت کمیٹی کی ہدایت پر دہلی خلافت کمیٹی نے 23/ نومبر1919ء کو خلافت کانفرنس مخصوص بہ اسلام، اور 24/نومبر1919ء کو ہندو مسلم کانفرنس منعقد کرنے کا اعلان کیا۔
جمعیت علمائے ہند کی تاسیس
اس کانفرنس میں چوں کہ مسلمانوں کے سبھی مسالک و مشارب کے علمائے کرام نے شرکت کی تھی، اس لیے اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے، مفتی اعظم ہند ؒ کے حکم سے مولانا احمد سعید صاحب نے اور مولانا عبدالباری فرنگی محلیؒ کے حکم سے مولانا آزاد سبحانی صاحب نے پہلے فردا فردا علمائے کرام سے ملاقات کی اور اور ایک تنظیم بنانے کی دعوت دیتے ہوئے پہلے راز داری کا حلف لینے کے لیے خفیہ حلفیہ میٹنگ میں شرکت کی گذارش کی۔ چنانچہ 23/نومبر1919ء کو فجر کی نماز کے بعد درگاہ سید حسن رسول نما علیہ الرحمہ، جو پچکوئیاں روڈ نئی دہلی میں واقع ہے، پر حاضرہوئے اور راز داری کی قسمیں کھائیں۔
پھر اسی دن 16/دسمبر1919ء کو ہونے والے جشن میں شرکت کے بائیکاٹ کی تجویز اور فتویٰ مرتب کرنے کے لیے، خلافت کانفرنس میں شریک علما کی نشست میں یہ بات بھی اٹھی کہ شرعی رہ نمائی کے لیے مسلمانوں کی ایک مستقل تنظیم ہونی چاہیے۔ چنانچہ اسی دن یعنی 23/نومبر1919ء کو عشا کی نماز کے بعد کرشنا تھیٹر ہال واقع پتھر والا کنواں نئی دہلی میں چھبیس یا ستائیس علمائے کرام سر جوڑ کر بیٹھے اور جمعیت علمائے ہند کی داغ بیل ڈالی۔
آج 23/نومبر 2025 کو اس کی عمر مکمل 106ہوگئی۔ ایک صدی تک کسی تحریک کا پہلی مقبولیت کے ساتھ زندہ رہ جانا اور اپنی ڈگر پر آگے بڑھتے رہنا اس کی عظمت اور اس کے قائدین کی فراست و بصیرت کی کھلی دلیل ہے، جس کے لیے سابقین مرحومین اور موجودہ قائدین؛ بالخصوص قائد جمعیت صدر محترم حضرت مولانا محمود اسعد مدنی صاحب تبریک و تحسین کے مستحق ہیں۔
قائد جمعیت کے شکریے کے سزاوار ہونے کی ایک وجہ تو یہ تھی اور دوسری وجہ یہ ہے کہ جمعیت علما کی ایک صدی سے زائد کی تاریخ میں پہلی شخصیت ہیں، جنھوں نے جمعیت کے تاریخی کردار کو منظر عام پر لانے کا فیصلہ کیا۔ اور عملی تجربے کا راز بتاؤں تو ابھی تک دس فی صد بھی تاریخ منظر عام پر نہیں آپائی ہے۔ لیکن کوشش جاری ہے۔



















