اتوار, فروری 8, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Jahazi Media – Latest News, Articles & Insights
  • ہوم
  • جمعیۃ علماء ہند
  • اسلامیات
  • زبان و ادب
  • مضامین
    • All
    • جاوید اختر بھارتی
    • دیگر مضامین
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی

    عدالت (مراد آباد) میں حضرت شیخ الاسلام کا بیان

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    شعبان

    شودروں کے زمرے میں، مسلمانوں کو ڈالنے کی مہم

    باب اول در بیان انجام مداہنت

    جامعۃ الہدیٰ جہاز قطعہ کی تاریخ

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    توہین رسالت کے مجرمین کے  خلاف کرنے کےضروری کام

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    زمانہ بدل گیا

    نشہ کی حقیقت اور اس کا علاج اسلامی تعلیمات کی روشنی میں

    لمحہ مسرت میں افسردگی

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    رحم مادرمیں بیٹی کے نام ماں کا خط

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    قیام اسرائیل اور قرآن (ایک شرعی تجزیہ)

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    قصہ درد سناتے ہیں کہ مجبور ہیں ہم

    Trending Tags

    • Golden Globes
    • Mr. Robot
    • MotoGP 2017
    • Climate Change
    • Flat Earth
  • اہم خبریں
    • All
    • اتر پردیش
    • دہلی
    • دیگر ریاستیں
    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    آؤ نسل کو سنواریں، مستقبل بنائیں

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    بھارت کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کا کردار: سیمینار اختتام پذیر

    باشندگان بہار سے ایک دردمندانہ و مخلصانہ اپیل و گزارش

    بہار کا فیصلہ — کانگریس کیلئے سخت پیغام

    مفتی اعظم ہند پر سیمنار 21-22نومبر کو نئی دہلی میں

    مفتی اعظم ہند پر سیمنار 21-22نومبر کو نئی دہلی میں

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کے 34ویں فقہی سمینار کی روداد

    مولانا محمود مدنی کو ملا صدارت کا چارج۔ٹرم  2024-2027 کا ہوا آج سے آغاز، 29 اکتوبر 2027ء تک کے لیے صدر منتخب

    مولانا محمود مدنی کو ملا صدارت کا چارج۔ٹرم 2024-2027 کا ہوا آج سے آغاز، 29 اکتوبر 2027ء تک کے لیے صدر منتخب

    وقف ایکٹ کے خلاف جدو جہد جاری رہے گی

    وقف ایکٹ کے خلاف جدو جہد جاری رہے گی

    16 نومبر 2025 کو مسلم پرسنل لاء بورڈ کا عظیم الشان اجلاس ہوگا

    16 نومبر 2025 کو مسلم پرسنل لاء بورڈ کا عظیم الشان اجلاس ہوگا

    جنگل کا قانون

    جنگل کا قانون

  • غزل
  • ترجمہ و تفسیر قرآن
    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    Trending Tags

    • Sillicon Valley
    • Climate Change
    • Election Results
    • Flat Earth
    • Golden Globes
    • MotoGP 2017
    • Mr. Robot
  • ہوم
  • جمعیۃ علماء ہند
  • اسلامیات
  • زبان و ادب
  • مضامین
    • All
    • جاوید اختر بھارتی
    • دیگر مضامین
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی

    عدالت (مراد آباد) میں حضرت شیخ الاسلام کا بیان

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    شعبان

    شودروں کے زمرے میں، مسلمانوں کو ڈالنے کی مہم

    باب اول در بیان انجام مداہنت

    جامعۃ الہدیٰ جہاز قطعہ کی تاریخ

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    توہین رسالت کے مجرمین کے  خلاف کرنے کےضروری کام

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    زمانہ بدل گیا

    نشہ کی حقیقت اور اس کا علاج اسلامی تعلیمات کی روشنی میں

    لمحہ مسرت میں افسردگی

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    رحم مادرمیں بیٹی کے نام ماں کا خط

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    قیام اسرائیل اور قرآن (ایک شرعی تجزیہ)

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    قصہ درد سناتے ہیں کہ مجبور ہیں ہم

    Trending Tags

    • Golden Globes
    • Mr. Robot
    • MotoGP 2017
    • Climate Change
    • Flat Earth
  • اہم خبریں
    • All
    • اتر پردیش
    • دہلی
    • دیگر ریاستیں
    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    آؤ نسل کو سنواریں، مستقبل بنائیں

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    بھارت کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کا کردار: سیمینار اختتام پذیر

    باشندگان بہار سے ایک دردمندانہ و مخلصانہ اپیل و گزارش

    بہار کا فیصلہ — کانگریس کیلئے سخت پیغام

    مفتی اعظم ہند پر سیمنار 21-22نومبر کو نئی دہلی میں

    مفتی اعظم ہند پر سیمنار 21-22نومبر کو نئی دہلی میں

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کے 34ویں فقہی سمینار کی روداد

    مولانا محمود مدنی کو ملا صدارت کا چارج۔ٹرم  2024-2027 کا ہوا آج سے آغاز، 29 اکتوبر 2027ء تک کے لیے صدر منتخب

    مولانا محمود مدنی کو ملا صدارت کا چارج۔ٹرم 2024-2027 کا ہوا آج سے آغاز، 29 اکتوبر 2027ء تک کے لیے صدر منتخب

    وقف ایکٹ کے خلاف جدو جہد جاری رہے گی

    وقف ایکٹ کے خلاف جدو جہد جاری رہے گی

    16 نومبر 2025 کو مسلم پرسنل لاء بورڈ کا عظیم الشان اجلاس ہوگا

    16 نومبر 2025 کو مسلم پرسنل لاء بورڈ کا عظیم الشان اجلاس ہوگا

    جنگل کا قانون

    جنگل کا قانون

  • غزل
  • ترجمہ و تفسیر قرآن
    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    Trending Tags

    • Sillicon Valley
    • Climate Change
    • Election Results
    • Flat Earth
    • Golden Globes
    • MotoGP 2017
    • Mr. Robot
No Result
View All Result
Jahazi Media – Latest News, Articles & Insights
No Result
View All Result
Home جمعیۃ علماء ہند

 جمعیت علما کی ضرورت اور شرعی حیثیت 

by Md Yasin Jahazi
فروری 8, 2026
in جمعیۃ علماء ہند
0
تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟
0
SHARES
1
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

مولانا عبدالحلیم صاحب صدیقی قائم مقام ناظم و ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند

دنیا کے تمام مذاہب- جن میں آسمانی تعلیم کا شائبہ تک بھی ہے- اس اصل پر متفق ہیں کہ انسان کو ہر قسم کی غلامی سے آزاد رہنا چاہیے۔ انبیائے مرسلین کی بعثت کا منشا بھی یہی تھا کہ جو انسان خدا کی آزادی جیسی سب سے بڑی نعمت سے محروم کر دیے گئے ہوں، ان کو غلامی سے نجات دلائیں؛بلکہ سچ پوچھیے تو انسان کی غلامی و آزادی ہی کا مسئلہ ایک ایسا مسئلہ ہے، جس کو دین الٰہی کا معیار کہا جاسکتا ہے، جس مذہب میں جس قدر آزادی کی تعلیم ہو، اسی قدر وہ مذہب دین الٰہی (جس کا دوسرا نام دین اسلام ہے) سے قریب ہوگا۔ اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَ اللّٰہِ الْاِسْلاَمَ۔ جو دین آزادی کی روح سے محروم ہو، اس کی تعلیمات فلسفۂ آزادی سے معرا ہوں ،وہ ہرگز ہرگز دین الٰہی نہیں ہوسکتا۔ اور نہ خدا کے نزدیک وہ معتبر و مقبول ہوگا۔ وَ مَنْ یَّتَّبِعْ غَیْرَ الْاِسْلاَمِ دِیْنًا فَلَنْ یُّقْبَلَ مِنْہُ وَھُوَ فِی الْاٰخِرَۃِ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ اورآزادی کا مدار عقیدۂ توحید پر ہے، جس کا صاف اور کھلا ہوا مفہوم یہ ہے کہ انسان صرف ایک خدا کی (جو اُن کا اور سارے جہان کا پیدا کرنے والا اور پالنے والا ہے) عبودیت و غلامی کا اقرار کرے اور تنہا اس خدا کی عبادت کرے۔ اس کا یقین رکھے کہ موت، زندگی، نفع، نقصان؛ سب اس کے قبضہ میں ہے۔ ڈر ہو، تو خدا کا۔ جو کچھ مانگنا ہو، تو اس خدا سے مانگے۔ خدا کے سوا نہ کسی سے دبے، نہ ڈرے اور نہ کسی کی غلامی کو گوارا کرے۔

یہ ہی وہ عقیدہ ہے، جس پر خدا کے دین اسلام کی عمارت قائم ہے اور اس عقیدہ کے تسلیم کرنے والے خاکی انسان ارباب علم و معرفت خدا کے قدوسی فرشتوں کے دوش بدوش ہیں۔ شَھِدَ اللّٰہُ اَنَّہٗ لاَ اِلٰـہَ اِلاَّ ھُوَ وَالْمَلٰٓئِکَۃُ وَ اُولُو الْعِلْمِ قَائِمًا بِالْقِسْطِ۔

یوں تو پورا نظام عالم اور اس زنجیر کی ہر ہر کڑی اور اس کڑی کا ایک چھوٹے سے چھوٹا جزوخدا کی وحدانیت پر برہان قطعی ہے۔ سَنُرِیْھِمْ اٰیٰتِنَا فِی الْاٰفَاقِ وَ فِی اَنْفُسِھِمْ حَتّٰی یَتَبَیَّنَ لَھُمْ اَنَّہُ الْحَقُّ۔ یہاں تک کہ خود انسان کا وجود اپنے اندر بے شمار دلائل توحید رکھتا ہے: وَ فِی الْاَرْضِ اٰیٰتٌ لِّلْمُوْقِنِیْنَ وَ فِیْ اَنْفُسِکُمْ اَفَلاَ تُبْصِرُوْنَ۔لیکن تدبر و تفکر کو کام میں لاکر کائنات کے ایک ایک ذرہ سے اللہ سبحانہٗ کی وحدانیت سمجھنا صرف علما کا کام ہے: وَتِلْکَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُھَا لِلنَّاسِ وَ مَا یَعْقِلُھَا اِلاَّ الْعٰلِمُوْنَ ۔یہ ہی وجہ ہے کہ اہل علم کے سینے خدائے جبار کے جلال وجبروت سے معمور ہیں۔ اور ان کے قلوب خدا کی خشیت و خوف کا مسکن و ماویٰ ہوتے ہیں۔ اِنَّمَا یَخْشَی اللّٰہَ مِنْ عِبَادِہِ الْعُلَمَائُ۔

 یہ چند خصوصیات ہیں، جو علماکی مقدس جماعت کو عام مسلمانوں سے ممتاز کرتی ہیں اور انبیائے مرسلین کی نیابت و وراثت کا مستحق قرار دیتی ہیں۔ اَلْعُلَمَائُ وَرَثَۃُ الْاَنْبِیَائُ۔

علما کی حیثیت اور منزلت شرعیہ

زمانہ پیشیں میں جس طرح انبیائے کرام کو راہِ حق میں مصائب و آلام کا سامنا کرنا پڑا اور قربانیاں پیش کیں، اسی طرح علمائے اسلام کو اعلان حق و تبلیغ احکام میں وہ تکالیف برداشت کرنی ہوں گی؛ ورنہ انبیائے بنی اسرائیل کی شرف مماثلت سے دست بردار ہونا پڑے گا۔ علماء امتی کانبیاء بنی اسرائیل۔ حق کی قیمت ہے، جو ہر زمانہ میں حق پرستوں سے وصول کی گئی تھی۔ پھر علمائے دین اس سے کیوں کر مستثنیٰ سمجھے جاسکتے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوا کہ عالم دین کی حیثیت (خصوصاً جب کہ باطل کا زور ہو، مادی و فانی طاقت خدا کی غیر فانی قوت کے مقابلہ پر اُتر آئے، زمین کے بسنے والے خاکی انسان رب السموات والارض کی بادشاہت میں بغاوت کا جھنڈا بلند کریں) سر فروش داعی اور جاںباز مبلغ کی حیثیت ہے۔ اسی وجہ سے مذہبی سیادت و قیادت بلا شرکت احدے خالص علمائے دین کا حق و فرض شرعی ہے۔

عوام کو علما کی ضرورت

مہمات شرع و ضروریات دین میں علماکی طرف رجوع کرنا اور پھر ان کے فیصلے اور فتاوے کے سامنے سر اطاعت خم کرنا عام مسلمانوں کے فرائض دینی میں داخل ہے۔

 فَسْئَلُوْا اَھْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ بِالْبَیِّنٰتث وَالزُّبُرِ

 اس میں ذرا شک نہیں کہ جو لوگ باقاعدہ علوم شرعیہ کی تحصیل نہیں کرتے،قرآن کریم و حدیث نبوی کے صحیح علم سے بے بہرہ ہیں، وہ کسی حالت میں عوام سے نکل کر ان علما کی صف میں جگہ نہیں پاسکتے، جن کو اوامر و نواہی شرع پر کامل عبور اور مصالح شرعیہ پر بصیرت تامہ حاصل ہے۔ ھَلْ یَسْتَوِی الَّذِیْنَ یَعْلَمُوْنَ وَالَّذِیْنَ لاَ یَعْلَمُوْنَ۔ اگر اندھیرا اُجالا ایک شے نہیں ہے اور ایک اندھے اور آنکھوں والے میں فرق ہے، تو یقینا غیر عالم شخص کسی عالم دین کے مماثل نہیں۔ وَ مَا یَسْتَوِی الْاَعْمٰی وَالْبَصِیْرُ وَلاَ الظُّلُمٰتُ وَ لَا النُّوْر لیکن جس قدر علما کی سطح قیادتِ مذہبی میں عوام سے بلند تر ہے، اسی مناسبت سے اُن کی ذمہ داری نہایت اہم ہے۔ امت اسلامیہ کی بے راہ روی و غلط کاری کا وبال اگر گہری نظر سے دیکھا جائے، تو علماکی فرض ناشناسی و کوتاہی پر آتا ہے۔

رہنمایان ملت کے فرائض

 احکام اسلام اور ان کے متعلقہ جزئیات کا حکم فقہی بیان کردینے سے ختم نہیں ہوجاتے۔ فرائض کا دائرہ اس سے وسیع تر ہے۔ حکم دینے کے بعد اس طاقت کا وجود بھی ضروری ہے، جو ان کے فیصلہ کو نافذ کرے اور احکامِ شرع کی تعمیل کرائے۔ نیز امت میں اس قابلیت کا پیدا کرنا بھی لابدی ہے، جس سے پیشواؤں کی ہدایات پر عمل پیرا ہوسکے؛ ورنہ فقدان استعداد و عدم موافقت حالات کی صورت میں کتاب اللہ و سنت رسول اللہﷺ کی دعوت اور ان کے احکام کا نشر و ابلاغ دراصل قرآن و حدیث کی توہین کے مرادف ہے۔

پس آج علمائے اسلام کا اہم ترین فرض یہ ہے کہ نظام شرعی کے ماتحت پہلے خود مرکزی طاقت و اجتماعی قوت بہم پہنچائیں اور پھر امت کو مرکز کی دعوت دیں؛ لیکن اس حقیقت کو ایک لمحہ کے لیے بھی فراموش نہ کیا جائے کہ حقیقی رہنمائی اور مقصود اصلاح مسلمانوں کی اس وقت تک محال قطعی ہے، جب تک ہم کو کامل آزادی حاصل نہ ہوجائے۔ استقلال تام ،یا حریت کامل ہی وہ واحد ذریعہ ہے، جو ایک طرف علما کو فرائض کی انجام دہی میں مدد دے گا اور دوسری جانب امت میں قبول و انقیاد کی اہلیت ثابت کرسکتا ہے۔ یہ ہی وہ دعوت الی الخیر ہے، جو فریضۂ امر بالمعروف و نہی عن المنکر سے بھی مقدم سمجھا گیا ہے۔

وَلْتَکُنْ مِّنْکُمْ اُمَّۃٌ یَّدْعُوْنَ اِلَی الْخَیْرِ وَ یَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْھَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَ اُولٰٓئِکَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ۔(آل عمران:104)صدق اللہ و رسولہ۔

 حقیقتاً آزادی ہی تمام نیکیوں اور خوبیوں کا سرچشمہ ہے۔ جو قومیں اس چیز سے محروم ہیں، ان کے لیے دنیا میں نہ کوئی نیکی نیکی اور نہ کوئی خوبی خوبی ۔نہ خدا کی کسی نعمت سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور نہ اس کی رحمت ان پر سایہ فگن ہوتی ہے۔ چوں کہ مقدس اسلام انسانوں کو غلامی سے نجات دلانے کے لیے آیا ہے، اس لیے سب سے پہلے مسلمانوں پر آزادی کے لیے جدوجہد فرض قطعی ہے اور اس فریضہ کا ادا کرنا استیلاء الکفار علی بلاد المسلمین کی صورت میں ڈیڑھ سو برس سے ہندستان کے مسلمانوں پر واجب تھا۔ اب جس وقت کہ خلافت، جزیرۃ العرب و مقامات مقدسہ کو دشمنانِ دین کے تسلط سے پاک کرنا بھی فرض ہوگیا، تو ہمارے پیشوایان مذہب کا ان حالات میں ایک اور صرف ایک فرض ہے؛ وہ فرض یہ ہے کہ علمائے کرام اپنے تمام و کمال ذرائع و اسباب کو حصولِ آزادی کے لیے وقف فرما دیں اور اپنی انفرادی و منتشر طاقت کو ایک مرکز پر لاکر متفقہ طور پر ایک مرتبہ آخری؛ مگر انتہائی کوشش کر کے غلامی کی لعنت کو- جو کم وبیش دو سو سال سے ہمارے گلے کا ہار ہو رہی ہے- دور کردیں۔

علماکی ذمہ داری

اگر اس وقت تساہل و تغافل سے کام لیا، تو اس کا نتیجہ صرف یہ ہی نہ ہوگا کہ ہم ۳۳؍ کروڑ ہندستانی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے غلامی کی زندگی ان تمام ذلتوں اور رسوائیوں کے ساتھ (جن سے انسانیت تو درکنار؛ حیوانیت کو بھی عار آتا ہے) بسر کرنے پر مجبور ہوں گے؛ بلکہ مزید براں ہم بد قسمت مسلمانوں کے لیے اس سے کہیں زیادہ تلخ و ناگوار نتائج پیدا ہونے کا یقین ہوتا ہے۔

(۱) (حاکم بدہن خدانخواستہ) اسلامی شوکت خدا کی اس وسیع زمین کے ہر ہر گوشہ میں تا قیام قیامت دفن کردی جائے گی۔

(۲)  تقریباً آٹھ سو سال کی سرزمین ہند (جہاں چھ صدیاں حکمراں کی حیثیت میں گزری ہیں) میں مسلمانوں کی مذہبی زندگی کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ ہوجائے گا۔

(۳)  سب سے پہلے خود پیشوا اپنی ناکارہ؛ بلکہ اسلام و مسلمانوں کے حق میں سمّ قاتل حیات کو موت کی صورت میں تبدیل کرنے پر مجبور ہوں گے اور اس طرح علما اور مشائخ اپنی سہل انگاری سے نہایت شرم ناک خود کشی کے مرتکب ہوں گے۔

یہ واضح رہے کہ نتائج و خیمہ کی تمام تر ذمہ داری عند اللہ و عند الناس مقدس جماعت علما کے سر عائد ہوگی۔

حقیقی مسئولیت و اصلی ذمہ داری کو علمائے حق کے ایک گروہ نے محسوس کرتے ہوئے نومبر 1919ء میں بمقام دہلی جمعیت علمائے ہند کا سنگ بنیاد رکھا اور آخر دسمبر1919ء میں بمقام امرتسر میں اجلاس منعقد کیے۔ ان میں ابتدائی مسائل پر غور کر کے چند ایسی مفید تجاویز منظور کیں ،جو قابل عمل ہوسکیں۔(جمعیت علمائے ہند کی دو سالہ روداد بابت 1338-39ھ۔ (1919-20ء)، ص؍3-6۔ مضمون:مولانا عبدالحلیم صاحب صدیقی قائم مقام ناظم جمعیت علمائے ہند)

Md Yasin Jahazi

Md Yasin Jahazi

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

منتخب کردہ

علی گڑھ تحریک اور برصغیر کے مسلمانوں کی فکری و تعلیمی بیداری

فرقہ واریت کی زد میں تعلیم اور مسلمانوں کا غیر محفوظ مستقبل

3 ہفتے ago
تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

بے تکلف اسلوب

2 ہفتے ago

مقبول

  • تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

     جمعیت علما کی ضرورت اور شرعی حیثیت 

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • عدالت (مراد آباد) میں حضرت شیخ الاسلام کا بیان

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • مولانا سجادصاحبؒ اور جمعیت علمائے ہند

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • آسان انگریز قواعد

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • اهل مدارس كی خدمت میں چند گزارشات

    0 shares
    Share 0 Tweet 0

ہم سے جڑیے

ہمارا خبری نامہ حاصل کریں

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetuer adipiscing elit. Aenean commodo ligula eget dolor.
SUBSCRIBE

زمرہ جات

اہم روابط

  • لاگ ان کریں
  • Entries feed
  • Comments feed
  • WordPress.org

ہمارے بارے میں

جہازی میڈیا باشعور افراد کی ایک ایسی تحریک ہے، جو ملت اسلامیہ کی نشاۃ ثانیہ کے لیے اپنی فکری و عملی خدمات پیش کرنے کے لیے عہدبند ہوتے ہیں۔ اس لیے ہر وہ شخص اس تحریک کا ممبر بن سکتا ہے، جو اس نظریہ و مقصد سے اتفاق رکھتا ہے۔

  • ہمارے بارے میں
  • قوائد و ضوابط
  • کاپی رائٹس
  • پرائیویسی پالیسی
  • رابطہ

© 2025 Jahazi Media Designed by Mehmood Khan 9720936030.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • ہوم
  • اسلامیات
  • جمعیۃ علماء ہند
  • زبان و ادب
  • قومی و بین الاقوامی
  • اہم خبریں
    • دہلی
    • اتر پردیش
    • کرناٹک
    • مہاراشٹر
  • غزل
  • مضامین
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • دیگر مضامین
  • ترجمہ و تفسیر قرآن

© 2025 Jahazi Media Designed by Mehmood Khan 9720936030.