مولانا عبدالحلیم صاحب صدیقی قائم مقام ناظم و ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند
دنیا کے تمام مذاہب- جن میں آسمانی تعلیم کا شائبہ تک بھی ہے- اس اصل پر متفق ہیں کہ انسان کو ہر قسم کی غلامی سے آزاد رہنا چاہیے۔ انبیائے مرسلین کی بعثت کا منشا بھی یہی تھا کہ جو انسان خدا کی آزادی جیسی سب سے بڑی نعمت سے محروم کر دیے گئے ہوں، ان کو غلامی سے نجات دلائیں؛بلکہ سچ پوچھیے تو انسان کی غلامی و آزادی ہی کا مسئلہ ایک ایسا مسئلہ ہے، جس کو دین الٰہی کا معیار کہا جاسکتا ہے، جس مذہب میں جس قدر آزادی کی تعلیم ہو، اسی قدر وہ مذہب دین الٰہی (جس کا دوسرا نام دین اسلام ہے) سے قریب ہوگا۔ اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَ اللّٰہِ الْاِسْلاَمَ۔ جو دین آزادی کی روح سے محروم ہو، اس کی تعلیمات فلسفۂ آزادی سے معرا ہوں ،وہ ہرگز ہرگز دین الٰہی نہیں ہوسکتا۔ اور نہ خدا کے نزدیک وہ معتبر و مقبول ہوگا۔ وَ مَنْ یَّتَّبِعْ غَیْرَ الْاِسْلاَمِ دِیْنًا فَلَنْ یُّقْبَلَ مِنْہُ وَھُوَ فِی الْاٰخِرَۃِ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ اورآزادی کا مدار عقیدۂ توحید پر ہے، جس کا صاف اور کھلا ہوا مفہوم یہ ہے کہ انسان صرف ایک خدا کی (جو اُن کا اور سارے جہان کا پیدا کرنے والا اور پالنے والا ہے) عبودیت و غلامی کا اقرار کرے اور تنہا اس خدا کی عبادت کرے۔ اس کا یقین رکھے کہ موت، زندگی، نفع، نقصان؛ سب اس کے قبضہ میں ہے۔ ڈر ہو، تو خدا کا۔ جو کچھ مانگنا ہو، تو اس خدا سے مانگے۔ خدا کے سوا نہ کسی سے دبے، نہ ڈرے اور نہ کسی کی غلامی کو گوارا کرے۔
یہ ہی وہ عقیدہ ہے، جس پر خدا کے دین اسلام کی عمارت قائم ہے اور اس عقیدہ کے تسلیم کرنے والے خاکی انسان ارباب علم و معرفت خدا کے قدوسی فرشتوں کے دوش بدوش ہیں۔ شَھِدَ اللّٰہُ اَنَّہٗ لاَ اِلٰـہَ اِلاَّ ھُوَ وَالْمَلٰٓئِکَۃُ وَ اُولُو الْعِلْمِ قَائِمًا بِالْقِسْطِ۔
یوں تو پورا نظام عالم اور اس زنجیر کی ہر ہر کڑی اور اس کڑی کا ایک چھوٹے سے چھوٹا جزوخدا کی وحدانیت پر برہان قطعی ہے۔ سَنُرِیْھِمْ اٰیٰتِنَا فِی الْاٰفَاقِ وَ فِی اَنْفُسِھِمْ حَتّٰی یَتَبَیَّنَ لَھُمْ اَنَّہُ الْحَقُّ۔ یہاں تک کہ خود انسان کا وجود اپنے اندر بے شمار دلائل توحید رکھتا ہے: وَ فِی الْاَرْضِ اٰیٰتٌ لِّلْمُوْقِنِیْنَ وَ فِیْ اَنْفُسِکُمْ اَفَلاَ تُبْصِرُوْنَ۔لیکن تدبر و تفکر کو کام میں لاکر کائنات کے ایک ایک ذرہ سے اللہ سبحانہٗ کی وحدانیت سمجھنا صرف علما کا کام ہے: وَتِلْکَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُھَا لِلنَّاسِ وَ مَا یَعْقِلُھَا اِلاَّ الْعٰلِمُوْنَ ۔یہ ہی وجہ ہے کہ اہل علم کے سینے خدائے جبار کے جلال وجبروت سے معمور ہیں۔ اور ان کے قلوب خدا کی خشیت و خوف کا مسکن و ماویٰ ہوتے ہیں۔ اِنَّمَا یَخْشَی اللّٰہَ مِنْ عِبَادِہِ الْعُلَمَائُ۔
یہ چند خصوصیات ہیں، جو علماکی مقدس جماعت کو عام مسلمانوں سے ممتاز کرتی ہیں اور انبیائے مرسلین کی نیابت و وراثت کا مستحق قرار دیتی ہیں۔ اَلْعُلَمَائُ وَرَثَۃُ الْاَنْبِیَائُ۔
علما کی حیثیت اور منزلت شرعیہ
زمانہ پیشیں میں جس طرح انبیائے کرام کو راہِ حق میں مصائب و آلام کا سامنا کرنا پڑا اور قربانیاں پیش کیں، اسی طرح علمائے اسلام کو اعلان حق و تبلیغ احکام میں وہ تکالیف برداشت کرنی ہوں گی؛ ورنہ انبیائے بنی اسرائیل کی شرف مماثلت سے دست بردار ہونا پڑے گا۔ علماء امتی کانبیاء بنی اسرائیل۔ حق کی قیمت ہے، جو ہر زمانہ میں حق پرستوں سے وصول کی گئی تھی۔ پھر علمائے دین اس سے کیوں کر مستثنیٰ سمجھے جاسکتے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوا کہ عالم دین کی حیثیت (خصوصاً جب کہ باطل کا زور ہو، مادی و فانی طاقت خدا کی غیر فانی قوت کے مقابلہ پر اُتر آئے، زمین کے بسنے والے خاکی انسان رب السموات والارض کی بادشاہت میں بغاوت کا جھنڈا بلند کریں) سر فروش داعی اور جاںباز مبلغ کی حیثیت ہے۔ اسی وجہ سے مذہبی سیادت و قیادت بلا شرکت احدے خالص علمائے دین کا حق و فرض شرعی ہے۔
عوام کو علما کی ضرورت
مہمات شرع و ضروریات دین میں علماکی طرف رجوع کرنا اور پھر ان کے فیصلے اور فتاوے کے سامنے سر اطاعت خم کرنا عام مسلمانوں کے فرائض دینی میں داخل ہے۔
فَسْئَلُوْا اَھْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ بِالْبَیِّنٰتث وَالزُّبُرِ
اس میں ذرا شک نہیں کہ جو لوگ باقاعدہ علوم شرعیہ کی تحصیل نہیں کرتے،قرآن کریم و حدیث نبوی کے صحیح علم سے بے بہرہ ہیں، وہ کسی حالت میں عوام سے نکل کر ان علما کی صف میں جگہ نہیں پاسکتے، جن کو اوامر و نواہی شرع پر کامل عبور اور مصالح شرعیہ پر بصیرت تامہ حاصل ہے۔ ھَلْ یَسْتَوِی الَّذِیْنَ یَعْلَمُوْنَ وَالَّذِیْنَ لاَ یَعْلَمُوْنَ۔ اگر اندھیرا اُجالا ایک شے نہیں ہے اور ایک اندھے اور آنکھوں والے میں فرق ہے، تو یقینا غیر عالم شخص کسی عالم دین کے مماثل نہیں۔ وَ مَا یَسْتَوِی الْاَعْمٰی وَالْبَصِیْرُ وَلاَ الظُّلُمٰتُ وَ لَا النُّوْر لیکن جس قدر علما کی سطح قیادتِ مذہبی میں عوام سے بلند تر ہے، اسی مناسبت سے اُن کی ذمہ داری نہایت اہم ہے۔ امت اسلامیہ کی بے راہ روی و غلط کاری کا وبال اگر گہری نظر سے دیکھا جائے، تو علماکی فرض ناشناسی و کوتاہی پر آتا ہے۔
رہنمایان ملت کے فرائض
احکام اسلام اور ان کے متعلقہ جزئیات کا حکم فقہی بیان کردینے سے ختم نہیں ہوجاتے۔ فرائض کا دائرہ اس سے وسیع تر ہے۔ حکم دینے کے بعد اس طاقت کا وجود بھی ضروری ہے، جو ان کے فیصلہ کو نافذ کرے اور احکامِ شرع کی تعمیل کرائے۔ نیز امت میں اس قابلیت کا پیدا کرنا بھی لابدی ہے، جس سے پیشواؤں کی ہدایات پر عمل پیرا ہوسکے؛ ورنہ فقدان استعداد و عدم موافقت حالات کی صورت میں کتاب اللہ و سنت رسول اللہﷺ کی دعوت اور ان کے احکام کا نشر و ابلاغ دراصل قرآن و حدیث کی توہین کے مرادف ہے۔
پس آج علمائے اسلام کا اہم ترین فرض یہ ہے کہ نظام شرعی کے ماتحت پہلے خود مرکزی طاقت و اجتماعی قوت بہم پہنچائیں اور پھر امت کو مرکز کی دعوت دیں؛ لیکن اس حقیقت کو ایک لمحہ کے لیے بھی فراموش نہ کیا جائے کہ حقیقی رہنمائی اور مقصود اصلاح مسلمانوں کی اس وقت تک محال قطعی ہے، جب تک ہم کو کامل آزادی حاصل نہ ہوجائے۔ استقلال تام ،یا حریت کامل ہی وہ واحد ذریعہ ہے، جو ایک طرف علما کو فرائض کی انجام دہی میں مدد دے گا اور دوسری جانب امت میں قبول و انقیاد کی اہلیت ثابت کرسکتا ہے۔ یہ ہی وہ دعوت الی الخیر ہے، جو فریضۂ امر بالمعروف و نہی عن المنکر سے بھی مقدم سمجھا گیا ہے۔
وَلْتَکُنْ مِّنْکُمْ اُمَّۃٌ یَّدْعُوْنَ اِلَی الْخَیْرِ وَ یَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْھَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَ اُولٰٓئِکَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ۔(آل عمران:104)صدق اللہ و رسولہ۔
حقیقتاً آزادی ہی تمام نیکیوں اور خوبیوں کا سرچشمہ ہے۔ جو قومیں اس چیز سے محروم ہیں، ان کے لیے دنیا میں نہ کوئی نیکی نیکی اور نہ کوئی خوبی خوبی ۔نہ خدا کی کسی نعمت سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور نہ اس کی رحمت ان پر سایہ فگن ہوتی ہے۔ چوں کہ مقدس اسلام انسانوں کو غلامی سے نجات دلانے کے لیے آیا ہے، اس لیے سب سے پہلے مسلمانوں پر آزادی کے لیے جدوجہد فرض قطعی ہے اور اس فریضہ کا ادا کرنا استیلاء الکفار علی بلاد المسلمین کی صورت میں ڈیڑھ سو برس سے ہندستان کے مسلمانوں پر واجب تھا۔ اب جس وقت کہ خلافت، جزیرۃ العرب و مقامات مقدسہ کو دشمنانِ دین کے تسلط سے پاک کرنا بھی فرض ہوگیا، تو ہمارے پیشوایان مذہب کا ان حالات میں ایک اور صرف ایک فرض ہے؛ وہ فرض یہ ہے کہ علمائے کرام اپنے تمام و کمال ذرائع و اسباب کو حصولِ آزادی کے لیے وقف فرما دیں اور اپنی انفرادی و منتشر طاقت کو ایک مرکز پر لاکر متفقہ طور پر ایک مرتبہ آخری؛ مگر انتہائی کوشش کر کے غلامی کی لعنت کو- جو کم وبیش دو سو سال سے ہمارے گلے کا ہار ہو رہی ہے- دور کردیں۔
علماکی ذمہ داری
اگر اس وقت تساہل و تغافل سے کام لیا، تو اس کا نتیجہ صرف یہ ہی نہ ہوگا کہ ہم ۳۳؍ کروڑ ہندستانی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے غلامی کی زندگی ان تمام ذلتوں اور رسوائیوں کے ساتھ (جن سے انسانیت تو درکنار؛ حیوانیت کو بھی عار آتا ہے) بسر کرنے پر مجبور ہوں گے؛ بلکہ مزید براں ہم بد قسمت مسلمانوں کے لیے اس سے کہیں زیادہ تلخ و ناگوار نتائج پیدا ہونے کا یقین ہوتا ہے۔
(۱) (حاکم بدہن خدانخواستہ) اسلامی شوکت خدا کی اس وسیع زمین کے ہر ہر گوشہ میں تا قیام قیامت دفن کردی جائے گی۔
(۲) تقریباً آٹھ سو سال کی سرزمین ہند (جہاں چھ صدیاں حکمراں کی حیثیت میں گزری ہیں) میں مسلمانوں کی مذہبی زندگی کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ ہوجائے گا۔
(۳) سب سے پہلے خود پیشوا اپنی ناکارہ؛ بلکہ اسلام و مسلمانوں کے حق میں سمّ قاتل حیات کو موت کی صورت میں تبدیل کرنے پر مجبور ہوں گے اور اس طرح علما اور مشائخ اپنی سہل انگاری سے نہایت شرم ناک خود کشی کے مرتکب ہوں گے۔
یہ واضح رہے کہ نتائج و خیمہ کی تمام تر ذمہ داری عند اللہ و عند الناس مقدس جماعت علما کے سر عائد ہوگی۔
حقیقی مسئولیت و اصلی ذمہ داری کو علمائے حق کے ایک گروہ نے محسوس کرتے ہوئے نومبر 1919ء میں بمقام دہلی جمعیت علمائے ہند کا سنگ بنیاد رکھا اور آخر دسمبر1919ء میں بمقام امرتسر میں اجلاس منعقد کیے۔ ان میں ابتدائی مسائل پر غور کر کے چند ایسی مفید تجاویز منظور کیں ،جو قابل عمل ہوسکیں۔(جمعیت علمائے ہند کی دو سالہ روداد بابت 1338-39ھ۔ (1919-20ء)، ص؍3-6۔ مضمون:مولانا عبدالحلیم صاحب صدیقی قائم مقام ناظم جمعیت علمائے ہند)


















