محمد یاسین جہازی
ڈاکٹر ابوسلمان شاہ جہاں پوری مرحوم تحریر فرماتے ہیں کہ:
ہندستان چھوڑ دو تحریک کا ریزولیوش پاس ہونے سے کچھ حضرت شیخ الاسلام گرفتار ہوئے اور مراد آباد کی عدالت میں آپ پر مقدمہ چلایا گیا۔ اس مقدمے میں حضرت نے جو تحریری بیان دیا تھا، وہ ابھی تک غیر مطبوعہ ہے۔ اس کا ایک حصہ -جو تحریک آزادی کے سلسلے میں حضرت کے بنیادی افکار سیاسی کا آئینہ دار ہے- الجمعیۃ شیخ الاسلام نمبر کے حوالے سے پیش کیا جاتا ہے۔
(شیخ الاسلام کی سیاسی ڈائری، جلد سوم،ص؍306)
’’انسان کی طبعی بات ہے کہ اس کو اپنے وطن عزیز سے اس قدر محبت ہوتی ہے کہ دوسری جگہوں سے نہیں ہوتی۔ جس سرزمین میں وہ پیدا ہوتا اور پرورش پاتا ہے، خواہ کتناہی تکلیف دینے والا ہو، مگر انسان کو اس کا کانٹا بھی دوسری جگہ کے پھولوں سے اچھ معلوم ہوتا ہے۔ مشہور شعر ہے: ؎
حب الوطن از ملک سلیمان خوشتر
خار وطن از سنبل و ریحان خوشتر
مگر میں جب کہ اسکول میں پڑھتا تھا، تو مجھ کو تاریخ اور جغرافیہ سے خصوصی دل چسپی پیدا ہوئی اور ہندستان کی پرانی تاریخی عظمتوں اور جغرافیائی قدرتی ہمہ گیر برکتوں نے نہایت گہرا اثر کیا اور پھر اہل ہند کی موجودہ بے کسیوں کا اثر روز افزوں ہوتا رہا۔ طالب علمی کے زمانے میں اس احساس میں ترقی ہی ہوتی رہی۔ اس زمانے کے ختم ہونے پر مجھ کو آزاد ممالک عرب، مصر، شام وغیرہ کی سیاحت اور قیام کی نوبت آئی، آزاد ملکوںکے باشندوں ے میل جول اور ان کے اوطان کی حالتوں سے آگاہی حاصل ہوئی، اس نے میری اپنے وطن سے محبت میں اور زیادتی پیدا کر دی اور اس احساس کو نہایت قوی کر دیا کہ آزادی کس قدر ضروری چیز ہے اور بغیر آزادی کے کسی ملک کے باشندے کس قدر بے بس اور اپنے وطن کی قدرتی فیاضیوں سے محروم ہوتے ہیں۔
میں نے دیکھا کہ یورپین، ایشیاتک، افریکن آزاد اقوام کس طرح اپنی آزادی کے گیت گاتی ہیں اور اس کے لیے ہر قسم کی قربانیوں کو ضروری سمجھتی ہیں۔ ان امور کے مشاہدے کی بنا پر مجھ میں وہ قومی جذبات پیدا ہونے ضروری تھے کہ جن کے ہوتے ہوئے میں ہندستان کی محبت اور اس کی آزادی میں بیش از سعی اور جدو جہد میں کسی کو تا ہی کو روانہ رکھوں۔ اس پر یہ طرہ ہوا کہ گورنمنٹ برطانیہ نے مجھ کو میرے آقا حضرت شیخ الہند مولا نا محمود حسن صاحب قدس سرہ العزیز کے ساتھ -جو کہ مسلمانوں میں آزادی ہند کے سب سے بڑے علم بردار تھے- گرفتار کر کے ایک مہینہ ایجپٹ (مصر) میں جیزہ کے سیاسی قید خانے میں رکھا۔ وہاں مصریوں کا آزادی پسند طبقہ مقید تھا۔ اس کے بعد مجھ کو ہمراہیوں کے ساتھ مالٹا بھیجا گیا، جہاں پر آزاد ممالک یوروپیہ اور ایشیاویہ کے چوٹی کے سیاست دان اور فوجی لوگ مقید تھے۔ڈیڑھ ہزار جرمن اور ڈیڑھ ہزار آسٹرین، بلگیرین، ٹرکش، عرب تھے۔ اس کیمپ میں ہم کو بھی چار برس1916ء سے 1920ء تک رکھا گیا۔ ہم آپس میں روزانہ ملتے تھے اور دنیا کے تمام حالات اور تمام ملکوں کا مطالعہ اور بحث کرتے تھے۔ ان امور کا قدرتی طور پر جو کچھ نتیجہ ہونا چاہیے تھا، وہ ہوا اور ضروری تھا کہ ہو۔ 1920 ء جون میں پھر ہم کو ہندستان لایا گیا۔ جب ہم یہاں پہنچے، تو خلافت کی تحریک زوروں پر تھی، جلیاں والا باغ کے واقعات، رولٹ ایکٹ اور مارشل لا وغیرہ کی مختلف جگہوں کی زیادتیوں نے ہندستان کے تمام باشندوں میں کھلبلی ڈال رکھی تھی اور نان کو آپریشن کی تحریک زوروں پر تھی۔ میں اس قدر متأثر ہوچکا تھا کہ میرا عقیدہ ہوگیا تھا کہ فرقہ واری کی تنگ کلیوں سے نکل کر تمام ہندستانی قوم کواور جملہ باشندگان ہند کو آزاد ہونا از بس ضروری ہے۔ میں نے بیرونی ممالک میں مشاہدہ کیا تھا کہ دوسرے ممالک میں ہندستانی، خواہ مسلمان ہوں یا ہندو، سکھ ہوں یا پارسی وغیرہ وغیرہ ؛ایک ہی نظر حقارت سے دیکھے جاتے ہیں اور سب کو نہایت ذلیل غلام کہا جاتا ہے، سب کو ایک ہی قوم دیکھا جاتا ہے اور با لخصوص سپید نسل والے ان سبھوں کو بہت ذلیل جانتے ہیں اور بات بات پر ایسے طعنے اور ذلت آمیز کلمات کہتے اور معاملات کرتے ہیں کہ جن کاتحمل مشکل ہے۔
خلاصہ یہ کہ میں خلافت، کانگریس، جمعیت علما میں داخل ہو گیا اور نان و ائیلنس کو سیاسی عقیدہ بنا کر تحریک ترک موالات (نان کو آپریشن) کو اپنا عملی پروگرام بنا لیا۔ اس بنا پر میں 1919ء سے آج تک کانگریس اور جمعیت علما کا ممبر ہوں اور ان دونوں کے عقیدے میرے سیاسی عقیدے اور ان کے عملی پروگرام میرے دستور العمل ہیں۔ خلافت کی تحریک اگر آج موجود ہوتی، تو میں اس کا بھی ممبر ہوتا۔ میرا قومی اور زور دار سیاسی عقیدہ ہے کہ جس طرح ہر انگریز، ہر فرانسیسی، ہر جرمنی، ہر امریکن، ہر جاپانی ضروری سمجھتا ہے کہ وہ اپنے ان کو آزاد رکھے اور اپنے آپ کو بھی کسی دوسری قوم کا غلام نہ ہونے دے اور ہر قسم کی قربانی کو اس راہ میں کم سمجھے اور اس جدو جہد کو ایک انگلستان کا اور دوسرے ممالک کا باشند ہ اپنا فرض اور اپنے لیے باعث فخر و مباہات سمجھتا ہے؛ بلکہ موت کو اس پر ترجیح دیتا ہے اور اس کے لیے مسٹر چرچل اور دیگر ذمے داران برطانیہ کی تقریر یں اور تحریریں برابر آتی رہتی ہیں، یہی فلسفہ ہندستانی کا بھی ہے اور ہر ہندستانی کا- خواہ وہ کسی مذہب سے تعلق رکھتا ہو- اس کا یہی عقیدہ ہونا چاہیے۔ میں نے اس تحریک آزادی اور باامن جدو جہد میں نہایت سرگرمی کے ساتھ حصہ لیا اور پھر کراچی کے مشہور کیس میں دو برس تک سابرمتی جیل کے اندر نہایت شرافت کے ایام گزارے۔ وہاں سے نکلنے کے بعد بھی برابر میں حسب پروگرام کا نگریس اور جمعیت علما اسی جدوجہد میں مشغول ہوں اور مشغول رہا اور سیکڑوں جلسوں وغیرہ میں تقریریں کیں، متعدد خطبات اور رسالے لکھے، مضامین شائع کرتا رہا۔ اس زمانے میں ،جب کہ جمعیت علما اور کانگریس نے اس جنگ کو ہندستان کے دروازوں تک پہنچتے ہوئے دیکھا اور محسوس کیا کہ کہیں ان ایام میں، جب کہ گورنمنٹ برطانیہ جنگ میں مشغول ہوگی اور اس کی تمام پاور اس کے دشمنوں کے مقابل ہوگی، اندرون ملک بدامنی اور لوٹ مار چوری اور ڈکیتی۔ فرقہ وارانہ لڑائیاں، پرانی دشمنیوںاور خود غرضیوں کے جذبات ظاہر ہو کر کہیں تمام پبلک اور ملک میں ابتری اور ہلاکت نہ پھیلا دیں، ادھر مخالفین برطانیہ اور برطانیہ کی جنگی کارروائیوں کی وجہ سے عام ہندستانیوں کے لیے جو جو مصائب پیش آئیںگے، ان سب کے دور کرنے کے لیے جماعت خدام خلق بنانا ضروری ہے اور سب کو -خواہ کسی جماعت کے آدمی ہوں اور کسی مذہب سے تعلق رکھتے ہوں-منظم ہو جانا از بس لازمی ہے۔ فرقہ وارانہ جذبات اور پرانی دشمنیاں، مختلف عقائد سیاسیہ اور مذہبیہ کو اس وقت بھلا دینا اور سب کو خواہ دیہاتی ہوں، قصبات کے باشندے ہوں، خواہ شہری، منظم ہو جانا لازم ہے۔ اس پروگرام کو اس وقت چلانا اور اس کی تلقین کرنا ضروری قرار دیا گیا تھا۔ میں چند مہینوں سے یہی کام کر رہا ہوں اور اس کی تلقین میں نے بچھراؤں کے اس جلسے میں کی تھی۔ افسوس یہ ہے کہ اس پروگرام کے متعلق جو کچھ میں نے کہا تھا،ر پورٹر نے اس کو یک قلم حذف کر دیا ہے۔ میں نے اپنی تقریر میں ان تمام اعتراضات کو ملحوظ رکھتے ہوئے تقریر کی تھی، جو کہ فرقہ وارانہ جذبات کے بھڑ کانے اورلوگوں کولڑانے کے لیے ناعاقبت اندیش اور خود غرض لوگ کیا کرتے ہیں اور ان تمام امورکو پیش نظر رکھا تھا، جن کی بنا پر با وجود اختلاف عقائد و خیالات متحد اور منظم ہونا ضروری ہو جاتا ہے۔ مثلا کہا جاتا ہے کہ ہندو مسلمانوں میں لڑائی بھڑائی پرانے زمانے سے؛ بلکہ ہمیشہ سے اسی طرح چلی آتی ہے، یا کہا جاتا ہے کہ مذہبی اختلافات اور عقائد کا تقاضہ یہی ہے کہ وہ آپس میں لڑیں۔ کبھی گانے اور بجانے کا مسئلہ پیش کیا جاتا ہے۔ کبھی مختلف مقامات کے بلوے دکھائے جاتے ہیں۔ کبھی ہندوؤں کے مظالم پیش کیے جاتے ہیں۔ کبھی مسلمانوں کے مظالم پیش کیے جاتے ہیں۔
علی ہذا القیاس میں نے وہ ہلاکت آمیز مصیبتیں ،جو کہ ایام جنگ ہندستان میں پیش آنے والی ہیں اور وہ مصائب جو کہ برطانوی حکام کی پالیسیوں سے ہندستان کے باشندوں کو انتہائی فلاکت ؛بلکہ ہلاکت کے گھاٹ اتارچکی ہیں اور ان کا خود انصاف پسند اور انسانیت کے ہمدرد مشہور انگریز اقرار کر رہے ہیں، دکھلا ئیں کہ ایسی مصیبت کے وقت میں از بس ضروری ہو جاتا ہے کہ اپنے جھگڑوں کو چھوڑ دیا جائے اور مشتر کہ مصیبت کو دور کرنے کی انتہائی کوشش عمل میں لائی جائے۔ گاؤں میں آگ لگتی ہے، سیلاب آتا ہے، تو لوگ اپنے پرانے جھگڑوں، نسلی تمیز، اختلاف عقائد کو بھلا دینا ضرور سمجھ کر سب کے سب آگ بجھانے میں لگ جاتے ہیں۔ یہی حال تم لوگوں کا ہونا چاہیے، ہندستان میں بہت سے لوگ ایسے ہیں کہ ہندستانیوں کے موجودہ مصائب کو -جو کہ برطانوی حکام کی غلط پالیسیوں سے پیداہوتے ہیں، جھٹلاتے ہیں اور غافل لوگوں کو دھوکا دے کر کہتے ہیں کہ یہ باتیں چند سر پھروں کی بنائی ہوئی ہیں۔ حال آں کہ واقعہ ایسا نہیں ہے۔ اس لیے میں نے تاریخی شہادتیں( جن میںسے بہت بڑا حصہ مجھ کو یاد بھی ہے اور بہت کثیر حصہ میرے پاس معتبر تاریخوں سے تحریری نوٹ میں ہے )معتبرانگریزوں کے حوالوں سے پیش کی تھیں، ان کے ناموں اور عبارتوں میں خطب عشوا کیا گیا ہے۔ یہ نوٹ میرے پاس موجود ہیں، جن کے مآخذ کو پوری تفصیل کے ساتھ پیش کر سکتا ہوں۔ خلاصہ ان کا ان پالیسیوں پر تنقید کرنا ہے، جو کہ غلط کار برطانوی مدبرین نے ہندستان میں جاری کرکے برطانوی قوم اور برطانوی امپریلزم اور برطانوی تاریخ کو بدنام کیا ہے اور برطانوی رعایا کی بربادی کا سبب بنے ہیں۔ کسی پالیسی اور حکمت عملی اور سسٹم پر تنقید کرنا، اس پر پروٹسٹ اور احتجاج کرنا اس کو پبلک میں پیش کر کے اس کے خطرات کو بتلانا اور اس کے خراب نتائج کو مشہور کرنا نہ قانونا جرم ہے اور نہ اسے گورنمنٹ سے نفرت پھیلانا شمار کیا جاتا ہے۔ ہمیشہ سے انگلستان اور ہندستان میں یہ طرز چلا آتا ہے اور یہ اس زمانے میں از بس ضروری ہے؛ ورنہ کوئی گورنمنٹ اندھیر نگری سے محفوظ نہیں رہ سکتی۔ اس کو سر جان شور،سول میرٹ، ڈبلیو جی پیڈر، سر ولیم ڈگبی، ایس ٹاونشنڈ ، لارڈ سالسبری، لارڈ ولیم بنٹک، بروکس، ایچ ایم ہنڈولن، ایڈورڈ نامسن، لارڈ کینگ، ایچ ایچ ولسن، اے اے بروسل، پیٹر فریمین، ڈبلیو ایس بلنٹ، لارڈ نارتھ بروک، مسٹر سیکڈانلڈ وغیرہ کہتے رہے ہیں۔ یقینا یہ لوگ برطانیہ کے دشمن نہ تھے اور نہ برطانوی قوم، یا حکومت سے نفرت پھیلانے والے تھے۔ ہاں! غلط کار مد برین برطانیہ کو ان کی غلط کاریوں سے روکنا چاہتے تھے، جس کا اقرار آج سر اسٹیفورڈ کرپس اور بہت سے بڑے سمجھ دار انگریز کر رہے ہیں اور وہی غلطیاں آج برطانوی قوم اور برطانوی شہنشاہیت کے لیے انتہائی مشکلات کاباعث بنی ہوئی ہیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ اگرچہ میں کسی ہندستانی شخص سے اپنے وطن کی محبت اور اس کی آزادی کی خواہش اور اس کے لیے حسب مقدرت جد و جہد کرنے میں پیچھے نہیں ہوں؛ مگر یہ اسپیچ محض اتحاد اور منظم ہونے اور امن و امان کو پھیلانے کے لیے کی گئی تھی، جس کو موجودہ بیان ہی سے ہر ایک سمجھ دار؛ بلکہ معمولی سمجھ والا بھی سمجھ سکتا ہے۔ اس کو قابل اعتراض وہی شخص قرار دے سکتا ہے، جو کہ اہل ہند کے اتحاد اور اتفاق کا مخالف ہے اور چاہتاہے کہ ہمیشہ ان میں جوتی پے زار ہوتی رہے، خواہ ان پر کتنے ہی مصائب کیوں نہ آئیں اورکتنے ہی بربادی پیش کیوں نہ آئے، کبھی بھی یہ منظم نہ ہوں اور نہ آپس میں میل جول کریں۔
کیا تعجب کی بات نہیں ہے کہ مجھ کو اتحاد کانفرنس جھنگ مگھیانہ کی صدارت کے لیے سفر کرنے سے روکا گیا اور عین اس تقریر کو -جو کہ اس اتحاد کے لیے کی گئی تھی- باعث اعتراض قرار دیا گیا اور پھر اس تقریر میں -جو میں نے دستور العمل پیش کیا تھا- اس کو حذف کر دیا گیا اور جو نوٹ نقل کیے گئے، اُن کو پورا نہیں لکھا گیا اور نہ ان انگریزوں کے صحیح نام لکھے گئے، جن سے منقول ہیں، نہ ان رسالوں، یا اخباروں کو بتایا گیا، جن میں یہ نوٹ موجود ہیں، نہ ان کی تاریخیں بتائی گئیں، حال آں کہ میری اسپیچ میں یہ سب تھا۔ میری عادت ہے کہ تقریر کرتے ہوئے ان سب چیزوں کا ذکر کیا کرتا ہوں۔ فاضل مجسٹریٹ صاحب نے چوں کہ نمبر گیارہ میں میری جملہ تقریر کا خلاصہ نتیجہ نکالا ہے اور یہ الفاظ تحریر فرمائے ہیں:
’’آپ کی تقریر کے شروع کے حصے میں ایسے جملے استعمال کیے گئے ہیں، جن سے یہ خیال ہوتا ہے کہ انگریزی سرکار ہندو مسلمانوں کے لڑانے کا باعث ہے اور آپ کی کل تقریر سے انگریزی سرکار کی طرف سے نفرت پیدا ہوتی ہے۔‘‘
اس لیے میں مناسب سمجھتا ہوں کہ اولاً جناب کو اسی نمبر کی طرف توجہ دلاؤں، دوسرے ابتدائی دس نمبروں کی تفصیل بعد میں عرض کروں گا اور چوں کہ اس نمبر کے دوحصے ہیں، ایک کا تعلق ابتدائی تقریر سے ہے ،دوسرے کا کل تقریرسے۔ اس لیے میں اس کو دد حصوں الف اور ب میں تقسیم کر کے پہلے حصہ الف کو، پھر حصہ سب کو پیش کروں گا۔
(حصہ الف) جیسا کہ میں پہلے کہہ چکا ہوں کہ خود غرض اور نفاق پھیلانے والے کہتے ہیں کہ (۱) ہندوؤں اور مسلمانوں میں لڑائی بھڑائی ہمیشہ سے چلی آتی ہے۔ (۲) مذہب کا یہی تقاضا ہے۔ (۳) اور نگ زیب مرحوم بہت متعصب بادشاہ تھا، ہندوؤں اور غیر مسلموں پر اس نے مذہب کے تعصب کی بنا پر بہت مظالم کیے ہیں۔ (۴) ان دونوں فرقوں میں کبھی اتفاق نہیں ہو سکتا وغیرہ وغیرہ۔ ان سب اعتراضوں کو دور کرنے اور غلط ثابت کرنے کے لیے میں نے ایک مشہور انگریز سیاح کپتان الگزینڈر ہملٹن کا قول پیش کیا تھا۔ یہ شخص شہنشاہ اورنگ زیب مرحوم کے زمانے میں ہندستان آیا تھا اور یہاں پچیس برس تک مقیم رہ کر اورنگ زیب ہی کے زمانے میں واپس چلا گیا تھا۔ اس نے اپنا سفرنامہ دو جلدوں میں لکھا ہے، چیف جسٹس حیدر آباد دکن نواب مرزا سمیع اللہ بیگ صاحب نے اس سفرنامے کے مختلف مضامین ترجمہ کر کے رسالہ: ’’ ہند عہد اورنگ زیب‘‘ میں شائع کیا ہے۔وہ کہتے ہیں کہ سفر نامہ جلد اول، ص؍127-128میں دربارۂ شہر ٹھٹھہ ملک سندھ کپتان مذکور کہتا ہے:
’’ریاست کا مسلمہ مذہب اسلام ہے، لیکن تعداد میں اگر دس ہندو ہیں، تو ایک مسلمان ہے۔ ہندوؤں کے ساتھ رواداری پورے طور پر برتی جاتی ہے، وہ اپنے بت رکھتے ہیں اور تہواروں کو اسی طرح مناتے ہیں، جیسے کہ اگلے زمانے میں کرتے تھے، جب کہ بادشاہت خود ہندوؤں کی تھی۔ وہ اپنے مردوں کو جلاتے ہیں،لیکن ان کی بیویوں کو اجازت نہیں ہے کہ شوہروں کے مردوں کے ساتھ ستی ہوں۔‘‘ (ہند عہد اور نگ زیب میں، ص؍۷)
شہر سورت کے متعلق کپتان مذکور ص؍162 میں لکھتا ہے کہ:
’’اس شہر میں تخمینا سومختلف مذاہب کے لوگ رہتے ہیں؛ لیکن ان میں کبھی کوئی سخت جھگڑے ان کے اعتقادات وطریقۂ عبادت کے متعلق نہیں ہوتے۔ ہر ایک کو پورا اختیار ہے، جس طرح چاہے، اپنے طریقے سے اپنے معبود کی پرستش کرے۔ صرف اختلاف مذہب کی بنا پر کسی کو تکلیف دینا اور آزار پہنچانا ان لوگوں میں بالکل مفقود ہے۔‘‘
(الجمعیۃ، دہلی۔ شیخ الاسلام نمبر، ص؍12-13)



















