بدھ, ستمبر 23, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Jahazi Media – Latest News, Articles & Insights
  • ہوم
  • جمعیت علمائے ہند
  • اسلامیات
  • زبان و ادب
  • متفرق مضامین
    • All
    • جاوید اختر بھارتی
    • دیگر مضامین
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    راشٹرواد(01)

    راشٹرواد(8) راشٹرواد کا ہندو ورژن

    وندے ماترم کی مخالفت پر ماتم کا مقصد

    جبری نظام اور فاشسٹ ملک میں بدل چکا بھارت

    راشٹرواد(01)

    راشٹر واد (5) جمعیت علمائے ہند کے قیام کا پس منظر اور اس کا متحدہ راشٹرواد کا نظریہ

    راشٹرواد(01)

    راشٹرواد (3) (3) ہندستان کو آزاد کرانے کے لیے متحدہ قومیت کی راہ اختیار کرنا

    راشٹرواد(01)

    راشٹرواد(02) ہندستانی مسلمانوں کا راشٹرواد

    یمن: ایک صدی سے ہندی مسلمانوں کا تاریخی رشتہ

    یمن: ایک صدی سے ہندی مسلمانوں کا تاریخی رشتہ

    بھارت، انسانیت و روحانیت کی تلاش میں

    زبان سکھانے والی نصابی کتاب کیسے لکھیں

    درس گاہوں کے ماحول کی نفسیاتی ترتیب

    درس گاہوں کے ماحول کی نفسیاتی ترتیب

    مولانا سلمان بجنوری صاحب استاذ دارالعلوم دیوبند

    اماموں کی تربیت پر جمعیت علمائے ہند کا ایک صدی قبل کا فیصلہ اور حضرت بجنوری نقشبندی دامت برکاتہم کی جامع رہ نمائی

    Trending Tags

    • Golden Globes
    • Mr. Robot
    • MotoGP 2017
    • Climate Change
    • Flat Earth
  • اہم خبریں
    • All
    • اتر پردیش
    • دہلی
    • دیگر ریاستیں
    راشٹرواد(01)

    راشٹرواد (6) ہندستانیوں کی قومیت کی مختلف تشریحات

    عورت کا وقار، قانون کی تعبیر اور انصاف کا امتحان

    اردو کے لیے دروازہ کب کھلے گا؟

    جمعیت علماء بلاک بسنت رائے کی گاؤں گاؤں مثالی مسجد مہم کی تیسری کڑی سہوڑہ میں

    جمعیت علماء بلاک بسنت رائے کی گاؤں گاؤں مثالی مسجد مہم کی تیسری کڑی سہوڑہ میں

    دھپرا کی مسجد میں فجر کے بعد اصلاحی نشست، آئندہ بدھ سے مستقل درس قرآن شروع کرنے کا عزم

    دارالمصنفین کی مطبوعات کے بارے میں ایک سوال

    آپ کی پوری زندگی عورتوں کے ساتھ رحمت ،شفقت، حسن سلوک اور نگہداشت کا روشن نمونہ ہے:مولانا سہیل ندوی

    بھارت چھوڑو تحریک” کا سبق – صرف ماضی کی یاد نہیں، حال کی رہنمائی بھی ہےایم. ڈبلیو. انصاری (آئی.پی. ایس) ریٹائرڈ، ڈی. جی

    قانون کو ہاتھ میں لینے کی کسی کو اجازت نہیں، قصورواروں کو فوری گرفتار کیا جائے: جمعیۃ علماء جھارکھنڈ

    قانون کو ہاتھ میں لینے کی کسی کو اجازت نہیں، قصورواروں کو فوری گرفتار کیا جائے: جمعیۃ علماء جھارکھنڈ

    وندے ماترم کو قانونی لزوم دینا مذہبی و آئینی آزادی پر حملہ ہےآل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ

  • ترجمہ و تفسیر قرآن کریم
    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    Trending Tags

    • Sillicon Valley
    • Climate Change
    • Election Results
    • Flat Earth
    • Golden Globes
    • MotoGP 2017
    • Mr. Robot
  • ہوم
  • جمعیت علمائے ہند
  • اسلامیات
  • زبان و ادب
  • متفرق مضامین
    • All
    • جاوید اختر بھارتی
    • دیگر مضامین
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    راشٹرواد(01)

    راشٹرواد(8) راشٹرواد کا ہندو ورژن

    وندے ماترم کی مخالفت پر ماتم کا مقصد

    جبری نظام اور فاشسٹ ملک میں بدل چکا بھارت

    راشٹرواد(01)

    راشٹر واد (5) جمعیت علمائے ہند کے قیام کا پس منظر اور اس کا متحدہ راشٹرواد کا نظریہ

    راشٹرواد(01)

    راشٹرواد (3) (3) ہندستان کو آزاد کرانے کے لیے متحدہ قومیت کی راہ اختیار کرنا

    راشٹرواد(01)

    راشٹرواد(02) ہندستانی مسلمانوں کا راشٹرواد

    یمن: ایک صدی سے ہندی مسلمانوں کا تاریخی رشتہ

    یمن: ایک صدی سے ہندی مسلمانوں کا تاریخی رشتہ

    بھارت، انسانیت و روحانیت کی تلاش میں

    زبان سکھانے والی نصابی کتاب کیسے لکھیں

    درس گاہوں کے ماحول کی نفسیاتی ترتیب

    درس گاہوں کے ماحول کی نفسیاتی ترتیب

    مولانا سلمان بجنوری صاحب استاذ دارالعلوم دیوبند

    اماموں کی تربیت پر جمعیت علمائے ہند کا ایک صدی قبل کا فیصلہ اور حضرت بجنوری نقشبندی دامت برکاتہم کی جامع رہ نمائی

    Trending Tags

    • Golden Globes
    • Mr. Robot
    • MotoGP 2017
    • Climate Change
    • Flat Earth
  • اہم خبریں
    • All
    • اتر پردیش
    • دہلی
    • دیگر ریاستیں
    راشٹرواد(01)

    راشٹرواد (6) ہندستانیوں کی قومیت کی مختلف تشریحات

    عورت کا وقار، قانون کی تعبیر اور انصاف کا امتحان

    اردو کے لیے دروازہ کب کھلے گا؟

    جمعیت علماء بلاک بسنت رائے کی گاؤں گاؤں مثالی مسجد مہم کی تیسری کڑی سہوڑہ میں

    جمعیت علماء بلاک بسنت رائے کی گاؤں گاؤں مثالی مسجد مہم کی تیسری کڑی سہوڑہ میں

    دھپرا کی مسجد میں فجر کے بعد اصلاحی نشست، آئندہ بدھ سے مستقل درس قرآن شروع کرنے کا عزم

    دارالمصنفین کی مطبوعات کے بارے میں ایک سوال

    آپ کی پوری زندگی عورتوں کے ساتھ رحمت ،شفقت، حسن سلوک اور نگہداشت کا روشن نمونہ ہے:مولانا سہیل ندوی

    بھارت چھوڑو تحریک” کا سبق – صرف ماضی کی یاد نہیں، حال کی رہنمائی بھی ہےایم. ڈبلیو. انصاری (آئی.پی. ایس) ریٹائرڈ، ڈی. جی

    قانون کو ہاتھ میں لینے کی کسی کو اجازت نہیں، قصورواروں کو فوری گرفتار کیا جائے: جمعیۃ علماء جھارکھنڈ

    قانون کو ہاتھ میں لینے کی کسی کو اجازت نہیں، قصورواروں کو فوری گرفتار کیا جائے: جمعیۃ علماء جھارکھنڈ

    وندے ماترم کو قانونی لزوم دینا مذہبی و آئینی آزادی پر حملہ ہےآل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ

  • ترجمہ و تفسیر قرآن کریم
    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    Trending Tags

    • Sillicon Valley
    • Climate Change
    • Election Results
    • Flat Earth
    • Golden Globes
    • MotoGP 2017
    • Mr. Robot
No Result
View All Result
Jahazi Media – Latest News, Articles & Insights
No Result
View All Result
Home متفرق مضامین

فرقہ واریت کی زد میں تعلیم اور مسلمانوں کا غیر محفوظ مستقبل

by Md Yasin Jahazi
جنوری 16, 2026
in متفرق مضامین
0
علی گڑھ تحریک اور برصغیر کے مسلمانوں کی فکری و تعلیمی بیداری
0
SHARES
23
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

شمس آغاز ایڈیٹر،دی کوریج

9716518126

shamsaghazrs@gmail.com

تعلیم کسی بھی سماج کی فکری بنیاد، اخلاقی تربیت اور معاشی ترقی کا ایک مضبوط ستون سمجھی جاتی ہے۔ یہ محض روزگار کے حصول کا ذریعہ نہیں بلکہ انسانی شعور کی بیداری، سماجی ہم آہنگی اور جمہوری اقدار کے فروغ کا مؤثر وسیلہ بھی ہے۔ کسی بھی ملک کی ترقی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہاں تعلیم تک رسائی کس حد تک منصفانہ، مساوی اور غیر جانب دار ہے۔ ہندوستان جیسے کثیر مذہبی، کثیر لسانی اور کثیر تہذیبی ملک میں تعلیم کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ یہی وہ شعبہ ہے جہاں مختلف شناختیں باہم مل کر مشترکہ قومی شعور تشکیل دے سکتی ہیں۔ تاہم یہ ایک حقیقت ہے کہ حالیہ برسوں میں تعلیم کا شعبہ بھی سماجی تقسیم کے اثرات سے مکمل طور پر محفوظ نہیں رہا، اور بعض مواقع پر تعلیمی معاملات تنازع کا شکار ہوتے دکھائی دیے ہیں۔آئینِ ہند مساوات، انصاف اور غیر امتیازی سلوک کے اصولوں کے تحت تمام شہریوں کو یکساں حقوق فراہم کرتا ہے۔ آئینی روح کا تقاضا ہے کہ ریاست مذہب، ذات، زبان یا شناخت کی بنیاد پر کسی قسم کا امتیاز نہ کرے اور عوامی ادارے مکمل غیر جانب داری کے ساتھ اپنے فرائض انجام دیں۔ تعلیمی اداروں کی بنیادی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ میرٹ، اہلیت اور قانون کو واحد معیار بنائیں۔ لیکن جب تعلیمی فیصلے ان اصولوں کے بجائے دیگر دباؤ یا عوامل کے زیرِ اثر آنے لگیں تو اس کا اثر براہِ راست سماج کے کمزور اور پسماندہ طبقات پر پڑتا ہے، جن کے لیے تعلیم تک رسائی پہلے ہی محدود ہوتی ہے۔گزشتہ چند برسوں کے دوران بعض ایسے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں جن میں تعلیمی اداروں، خصوصاً پیشہ ورانہ اور اعلیٰ تعلیم کے مراکز، کے حوالے سے تنازعات سامنے آئے۔ کہیں داخلہ پالیسیوں پر سوال اٹھائے گئے، کہیں نصاب پر اختلاف ظاہر کیا گیا اور کہیں انتظامی فیصلوں پر اعتراض کیا گیا۔ ان معاملات میں تشویش کی بات یہ رہی کہ بعض اوقات بحث کا محور تعلیمی معیار یا قانونی تقاضوں کے بجائے طلبہ کی سماجی یا مذہبی شناخت بن گئی، جس سے تعلیم کے غیر جانب دار کردار پر سوالات پیدا ہوئے۔اسی تناظر میں کشمیر میں واقع ماتا ویشنو دیوی میڈیکل کالج کی بندش کا معاملہ ایک نہایت سنگین اور علامتی مثال کے طور پر سامنے آیا، جس نے نہ صرف ملک کے مختلف حلقوں بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی تشویش کو جنم دیا۔ بین الاقوامی میڈیا میں شائع ہونے والی رپورٹس کے مطابق نومبر میں شروع ہونے والے پانچ سالہ ایم بی بی ایس پروگرام کے پہلے بیچ میں مجموعی طور پر پچاس طلبہ نے داخلہ لیا تھا، جن میں بیالیس مسلمان، سات ہندو اور ایک سکھ طالب علم شامل تھا۔ ان میں مسلمان طلبہ کی اکثریت کا تعلق کشمیر سے بتایا گیا۔رپورٹس کے مطابق جب یہ بات منظرِ عام پر آئی کہ داخلہ لینے والے طلبہ میں مسلمانوں کی تعداد نمایاں ہے تو کالج کے حوالے سے مختلف سطحوں پر ردِعمل دیکھنے میں آیا۔ بعد ازاں بعض انتظامی اور دیگر عوامل کی بنیاد پر کالج کو بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں زیرِ تعلیم طلبہ کا تعلیمی مستقبل غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہو گیا۔اس فیصلے پر مختلف آرا سامنے آئیں۔ بعض حلقوں نے اسے انتظامی اقدام قرار دیا، جبکہ بعض مبصرین کے نزدیک اس کے سماجی اثرات زیادہ گہرے تھے۔ تشویش اس بات پر ظاہر کی گئی کہ اگر تعلیمی اداروں کے فیصلوں کو طلبہ کی مذہبی شناخت سے جوڑا جانے لگے تو اس سے آئینی اصولوں، تعلیمی آزادی اور سماجی ہم آہنگی کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ میرٹ کی بنیاد پر داخلہ حاصل کرنے والے طلبہ کے تعلیمی تسلسل کا متاثر ہونا کسی بھی جمہوری معاشرے کے لیے ایک سنجیدہ مسئلہ سمجھا جاتا ہے۔اس واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر مختلف قسم کے ردِ عمل دیکھنے میں آئے، جن میں بعض غیر ذمہ دارانہ تبصروں نے فضا کو مزید حساس بنا دیا۔ ایسے ردِ عمل اس خدشے کو تقویت دیتے ہیں کہ تعلیمی معاملات کو سماجی تقسیم کے تناظر میں دیکھا جانے لگا ہے، جو کسی بھی صحت مند سماج کے لیے مناسب نہیں۔یہ صورتحال مجموعی طور پر اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ تعلیم جیسے حساس اور بنیادی شعبے کو سماجی کشیدگی سے محفوظ رکھنا نہایت ضروری ہے۔ بعض سماجی طبقات پہلے ہی معاشی مسائل، وسائل کی کمی اور دیگر رکاوٹوں کے سبب تعلیمی میدان میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ اگر ان کے لیے دستیاب مواقع بھی غیر یقینی کا شکار ہو جائیں تو یہ مسئلہ مزید سنگین صورت اختیار کر سکتا ہے۔سرکاری اعداد و شمار اور مختلف مطالعات سے یہ بات سامنے آتی رہی ہے کہ بعض طبقات خصوصاً مسلمان تعلیم کے مختلف مراحل میں قومی اوسط سے پیچھے ہیں۔ غربت، معیاری تعلیمی اداروں تک محدود رسائی، اور سماجی عدم تحفظ جیسے عوامل اس پسماندگی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ سرکاری اسکولوں کی کمزور حالت اور نجی اداروں کی بڑھتی ہوئی فیسیں غریب اور متوسط طبقے کے لیے تعلیم کو مزید مشکل بنا دیتی ہیں۔تعلیمی اداروں میں عدم تحفظ کا احساس کسی بھی طالب علم کی ذہنی اور تعلیمی نشوونما پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔ اگر طلبہ خود کو تعلیمی ماحول میں غیر محفوظ یا غیر مطمئن محسوس کریں تو ان کی صلاحیتیں پوری طرح سامنے نہیں آ سکتیں۔ یہی وجہ ہے کہ تعلیم کو ہر قسم کے تعصب اور غیر ضروری تنازعات سے پاک رکھنا نہایت اہم ہے۔تعلیم کو سماجی یا سیاسی کشمکش کا میدان بنا دینا دراصل ملک کے اجتماعی مستقبل کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں تعلیمی ادارے عدم استحکام کا شکار ہوں، وہاں نہ سماجی ہم آہنگی مضبوط ہو سکتی ہے اور نہ ہی علمی ترقی ممکن ہے۔ پسماندگی کا تسلسل اکثر ایسے ہی رویوں کا نتیجہ ہوتا ہے، جہاں مواقع محدود ہو جاتے ہیں اور کامیابیوں کو بھی شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ تعلیم کو ہر قسم کے دباؤ سے آزاد رکھے اور آئینی اصولوں پر مکمل عمل درآمد کو یقینی بنائے۔ تعلیمی ترقی کو کسی ایک طبقے کا مسئلہ نہیں بلکہ قومی ضرورت سمجھا جانا چاہیے، کیونکہ اگر آبادی کا بڑا حصہ تعلیمی طور پر پیچھے رہ جائے تو مجموعی ترقی متاثر ہوتی ہے۔اس لئے تعلیم کو مذہب، سیاست اور نفرت سے بالاتر رکھنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ اگر ہندوستان کو ایک مضبوط، جمہوری اور ترقی یافتہ ملک بنانا ہے تو تعلیم کو مشترکہ قومی سرمایہ سمجھنا ہوگا، نہ کہ کسی ایک شناخت سے جوڑ کر دیکھنا۔ بصورتِ دیگر، تعلیمی اداروں سے جڑے فیصلوں کے منفی اثرات پورے سماج کو متاثر کر سکتے ہیں۔

Md Yasin Jahazi

Md Yasin Jahazi

Next Post
باب اول در بیان انجام مداہنت

ہندوتو، آگے کا سوال

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

منتخب کردہ

دارالمصنفین کی مطبوعات کے بارے میں ایک سوال

2 ہفتے ago
نیا سال 2025

نیا سال 2025

12 مہینے ago

مقبول

  • راشٹرواد(01)

    راشٹرواد(8) راشٹرواد کا ہندو ورژن

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • تعلیم کے ڈیجیٹل وسائل پر بچوں کے واجبی اور متوازن حقوق

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • جبری نظام اور فاشسٹ ملک میں بدل چکا بھارت

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • راشٹرواد (7 ) راشٹر کی غلامانہ حیثیت بدلنے کے لیے ہندستان کی شرعی حیثیت کا معاملہ

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • راشٹرواد (6) ہندستانیوں کی قومیت کی مختلف تشریحات

    0 shares
    Share 0 Tweet 0

ہم سے جڑیے

ہمارا خبری نامہ حاصل کریں

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetuer adipiscing elit. Aenean commodo ligula eget dolor.
SUBSCRIBE

زمرہ جات

اہم روابط

  • لاگ ان کریں
  • Entries feed
  • Comments feed
  • WordPress.org

ہمارے بارے میں

جہازی میڈیا باشعور افراد کی ایک ایسی تحریک ہے، جو ملت اسلامیہ کی نشاۃ ثانیہ کے لیے اپنی فکری و عملی خدمات پیش کرنے کے لیے عہدبند ہوتے ہیں۔ اس لیے ہر وہ شخص اس تحریک کا ممبر بن سکتا ہے، جو اس نظریہ و مقصد سے اتفاق رکھتا ہے۔

  • ہمارے بارے میں
  • قوائد و ضوابط
  • کاپی رائٹس
  • پرائیویسی پالیسی
  • رابطہ

© 2025 Jahazi Media Designed by Mehmood Khan 9720936030.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • ہوم
  • اسلامیات
  • جمعیت علمائے ہند
  • زبان و ادب
  • قومی و بین الاقوامی
  • اہم خبریں
    • دہلی
    • اتر پردیش
    • کرناٹک
    • مہاراشٹر
  • غزل
  • متفرق مضامین
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • دیگر مضامین
  • ترجمہ و تفسیر قرآن کریم

© 2025 Jahazi Media Designed by Mehmood Khan 9720936030.