ملاحظات
مولانا عبدالحمید نعمانی نعمانی صاحب
گزشتہ کچھ دنوں سے ہندوتو کے نام پر بھارت میں ضرورت سے زیادہ ہی سیاست ہو رہی ہے اور فرقہ وارانہ ماحول بنانے کا کام کیا جا رہا ہے ،ایک پارٹی دوسری پارٹیوں سے اور ایک تنظیم دوسری تنظیموں سے زیادہ ہندوتو کی نمائندہ دکھانے کی کوشش کرتی نظر آتی ہے اور سب کے نشانے پر اقلیتیں خصوصا مسلمان ہوتے ہیں، اصل معاملہ یہ ہے کہ ہندوتو کا نام تمام ہندوتو وادی عناصر اور پارٹیاں، تنظیمیں لیتی ہیں لیکن اس کے متعلق آگے کے سوال کا جواب کسی کے پاس نہیں ہے کہ ہندوتو ہے کیا؟ اس کے نام پر نئی نئی تنظیمیں وجود میں آ رہی ہیں اور پہلے سے قائم پارٹیاں، تنظیمیں ہندوتو کے نام پر سیاسی و سماجی طور سے سماج میں جگہ بنانے اور اپنے اثر و رسوخ کے دائرے کو وسیع کرنے میں لگی ہوئی ہیں لیکن وہ ہندوتو کی تعریف و تشریح پیش کرنے سے پوری طرح قاصر نظر آتی ہیں، جنوری 2026 کے پہلے ہفتے میں مہا راشٹر کے وزیر اعلی دیویندر فڑنویس نے ہندوتو کو بی جے پی کی روح قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہندوتو کی جڑیں مراٹھی سماج میں بہت گہری ہیں، ہندوتو ہماری روح ہے، انھوں نے ہندوتو کی پوجا کی بات کرتے ہوئے کہا کہ شیو سینا(یو بی ٹی ) کے سربراہ ادھو ٹھاکرے نے انتخابی فائدے کے لیے خود کو ہندوتو سے دور کر لیا، جب کہ ہماری حکومت نے بالا صاحب ٹھاکرے کے خواب کو قانون کے مطابق پورا کیا، صرف ووٹوں کے لیے ہندوتو سے دورکرنا اور خاص طبقہ کو راغب کرنا درست نہیں ہے، یہاں ایک خاص طبقہ سے مراد ظاہر ہے کہ مسلمان ہیں، ایک ناتھ شندے نے بھی شیو سینا کو تقسیم کر کے بی جے پی کے ساتھ سرکار بنانے کے سیاسی جواز کے لیے یہی الزام لگایا تھا کہ ادھو ٹھاکرے نے اپنے باپ بالا صاحب ٹھاکرے کے راستے ہندوتو کو چھوڑ کر دوسرے راستے پر جا کر گانگریس، این سی پی وغیرہ سے اتحاد کر لیا ہے، ایسی حالت میں ہمارے لیے اس کے سوا کوئی راستہ باقی نہیں رہ گیا تھا کہ اصلی شیو سینا بنا کر بی جے پی کے ساتھ سرکار بنائی جائے، اسی ہندوتو کی باتیں، بے شمار ہندوتو وادی عناصر، لیڈر اور پیشوا، پہلے بھی کرتے رہے ہیں اور آج بھی کرتے ہیں، ابھی چند دنوں پہلے( 16/1/26) انڈیا اسلامک کلچرل سنٹر میں منعقد ایک مکالمہ بین المذاہب پروگرام میں بھی آر ایس ایس کے گوپال کرشن اور رام لال شریک ہوئے تھے، دونوں نے مسلم دانش وروں کی طرف سے لگائے، اٹھائے الزامات و سوالات کا ازالہ اور واضح جوابات دینے کے بجائے سنگھ کی لائن پر چلتے ہوئے ،مزعومہ تہذیبی راشٹر واد اور ہندوتو کے ارد گرد باتیں کر کے فکر و عمل کا رخ دوسری طرف موڑنے کی کوشش کی ہے، جب کہ مسلم دانش وروں نے اپنے سوالات اور باتیں 2014 سے پیدا شدہ ماحول اور موجودہ حالات کے مد نظر بہت واضح اور دو ٹوک انداز میں کہی ہیں ،سنگھ کے دونوں کلیدی نمائندے نے ایسا واضح جواب اور بگڑتے فرقہ وارانہ حالات اور ان کے لیے ذمہ دار عناصر اور تنظیموں/گروہوں پر کوئی ایسی تنقید و مذمت نہیں کی جس سے فرقہ پرست طاقتوں کی نفرت انگیز وفرقہ وارانہ سرگرمیوں میں کمی آئے یا بند ہونے کی راہ ہموار ہو سکے، گوپال کرشن نے یہ کہہ کر مکالماتی عمل کو ہی مشکوک کر دیا کہ حقیقی مکالمہ وہی ہوتا ہے جس میں سچائی شامل ہو، نیت اور باطنی معاملے سے مکالماتی عمل کو جوڑ دینے کا مطلب صاف ہے کہ آمنے سامنے کی نظر آنے والی کوششوں کو بے معنی قرار دینے کی کوشش جا رہی ہے، اس کے مظاہر بھی آئے دن سامنے آتے رہتے ہیں، گوپال کرشن اور رام لال دونوں نے وشو ہندو پریشد، بجرنگ دل اور دیگر ہندوتو وادی تنظیموں کے قتل و غارت گری اور ہجومی تشدد کے لرزہ خیر واقعات کو آر ایس ایس سے الگ کچھ عناصر کی حرکتیں بتا کر مسلم سماج اور پروگرام میں شامل مسلم دانش وروں کے حقیقت پر مبنی خیالات و تاثرات کو الگ رخ دے دیا، جو سامنے ہے اور جو ہونا چاہیے پر مکالمہ ہونے پر توجہ و توانائی لگانے کے بجائے یہاں وہاں کی باتوں سے مسلم سماج کو جوڑنے کا معنی و مقصد اس کے سوا کچھ نہیں ہو سکتا ہے کہ مکالمہ کے ذریعے فرقہ وارانہ ہم آہنگی، آر ایس ایس کے حق میں نہیں ہے، اس کے پیش نظر فرقہ وارانہ ہم آہنگی ہے بھی نہیں، مکالمہ بین المذاہب، فرقہ وارانہ اتحاد وغیرہ عنوانات و موضوعات پر منعقد کچھ کانفرنسوں، پروگراموں میں شرکت و شمولیت کا واحد مقصد، اپنے برہمن وادی عقائد و روایات کو دیگر مذاہب و مراسم والوں پر لادنا اور عالمی برادری و مسلم ممالک کو یہ پیغام دینا ہوتا ہے کہ ہم سب کو ساتھ لے کر چل رہے ہیں، دیگر سے مکالمہ چلتا رہتا ہے، ہماری طرف سے نفرت و اشتعال انگیزی اور تخریبی سرگرمیاں نہیں ہوتی ہیں اور غلط فہمیوں کو دور کرنے کی کوششیں کرتے ہیں، مساجد و ماثر، مدارس کو نشانہ بنانے اور انہدام کے واقعات آر ایس ایس کی طرف سے نہیں ہوتے ہیں، سنگھ تو تمام تر طریق عبادات کو تسلیم کرتا ہے، ہمارا ہندوتو اور ہندو راشٹر کے قیام کی جدوجہد، سب کو ملا کر ساتھ ساتھ چلنا اور زندگی گزارنا ہے، یہ آر ایس ایس کا چالاکی بھرا ایسا خوب صورت بیانیہ ہے، جس میں دیگر کے وجود اور مذہبی و تہذیبی شناخت کا کوئی معنی نہیں رہ جاتا ہے، سب کو معلوم ہے کہ بی جے پی، وشو ہندو پریشد، بجرنگ دل وغیرہ آر ایس ایس کا حصہ ہیں، ان کو آزاد بتا کر اپنی ذمہ داری سے بچنے کی کوشش، اس کی حکمت عملی کا حصہ ہے، آر ایس ایس کے اشاعتی اداروں سے شائع تحریروں اورتعارفی کتابوں میں وشو ہندو پریشد، بجرنگ دل اور دیگر درجنوں انتہا پسند تنظیموں کو اپنی ذیلی و معاون تنظیموں میں شمار کیا گیا ہے، ابھی حال فی الحال پرگتی میدان میں منعقد عالمی کتاب میلے میں سنگھ کے مرکزی اشاعتی ادارہ سروچی پرکاشن کی شائع کتاب، وشو ہندو پریشد، ایک پریچے، ہم نے حاصل کی، یہ کتاب جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے استاذ ڈاکٹر پرویش کمار نے لکھی ہے، کتاب میں وشو ہندو پریشد اور بجرنگ دل کی بڑی فراخ دلی سے تعریف و تحسین کے ساتھ ان کی” بے مثال خدمات وکارنامے "کی تفصیلات دی گئی ہیں، وشو ہندو پریشد، بجرنگ دل سنگھ کے زیر حکم و ہدایت ماتحت تنظیمیں ہیں، وہ پورے ملک خصوصا بی جے پی کی اقتدار والی ریاستوں میں سناتن اور ہندوتو کے نام پر اسلام اقلیتوں، مسلمانوں، عیسائیوں، دلتوں وغیرہ کے خلاف تخریبی سرگرمیوں، توڑ پھوڑ اور قتل و فساد میں لگی ہوئی ہیں، سنگھ ان کو دہشت گردانہ کارروائیوں اور ہجومی تشدد سے روکتا ہے اور نہ ان پر نام لے کر تنقید و مذمت کرتا ہے، دیگر وہ فرقہ پرست تنظیمیں بھی ہندوتو کے مقاصد و اغراض کے مد نظر سر گرم عمل ہیں جو باقاعدہ آر ایس ایس سے وابستہ نہیں ہیں لیکن باہمی تعاون و اشتراک اور ایک دوسرے کی نظریاتی و عملی حمایت و تائید کرتی ہیں، اسی زمرے میں یتی نرسنہا نند، دچھ چودھری، منا بجرنگی، پنکی چودھری، دھریندر شاستری جیسے سیکڑوں افراد آتے ہیں، ایسے افراد اصل ہندستانی روایات و افکار سے عموما نا بلد اور روحانی و تہذیبی دھارے سے دور و نفور ہیں، ان عناصر کے علاوہ ماضی سے حال تک تقریبا تمام لیڈر و رہ نما ،ہندوتو کی صحیح تعریف و تشریح قاصر و عاجز ہیں، صرف فرقہ وارانہ جہات سے برہمن واد اور فرقہ پرستی پر مبنی فکر و عمل کو بتانے اور اکثریتی سماج کو سیاسی فائدے کے لیے اپنے ساتھ لانے اور جوڑے رکھنے کے مقصد سے ہندوتو، ہندو کے نام و اصطلاح کا استعمال و استحصال کیا جاتا ہے، سپریم کورٹ نے ایک فیصلے میں ہندوتو کو ایک طرز حیات قرار دیتے ہوئے اسے مذہب و دھرم کے زمرے سے باہر کر دیا تھا، ساورکر نے ایک مراٹھا کے نام سے لکھی اپنی کتاب” ہندوتو ” میں ہندو ازم ،ہندو مت کو ہندوتو کا ایک جزو و حصہ قرار دیا ہے، ساورکر کا یہ دعوٰی ہندو دھرم گرنتھوں اور روایات و تواریخ پر مبنی نہیں ہے، بلکہ ان کا اپنا مفروضہ و ایجاد بندہ ہے، حقیقت تو یہ ہے کہ سپریم کورٹ اور ساورکر دونوں کی ہندوتو کی تعریف و تشریح حقیقت پر مبنی نہیں ہے، ہر دین و مذہب اور دھرم کا ایک طرز حیات و نظام ہوتا ہے، اسلام کو بھی ایک مکمل نظام حیات و عقیدہ کہا جاتا ہے، ایک طرز حیات ہونا ہندوتو کی کوئی خصوصیت و شناخت نہیں ہے، تمام تر تحقیقات سے یہ حقیقت سامنے آئی ہے کہ ہندوتو سرے سے کوئی متحدہ طرز حیات و عقیدہ نہیں ہے، اسلام کی طرح اس کے متفق علیہ ارکان و عقائد نہیں ہیں، وہ تہذیبی و فکری و عملی وحدت سے بھی عاری ہے، کیوں کہ بھارت میں کوئی ایک واحد تہذیب و روایت نہیں ہے جیسا کہ ڈاکٹر امبیڈکر نے "برہمن واد کی وجے ” میں لکھا ہے، آر ایس ایس، بی جے پی والوں کی طرف سے بھارت میں کسی واحد تہذیب ہونے کا دعوٰی سراسر مفروضہ اور اس کے تحت بھارت کے تمام باشندوں کو لانے کی جارحانہ کوشش زور زبردستی کا لغو و کار عبث ہے، 19ویں، بیسویں صدی کے ابتدائی و درمیانی سے اب تک ہندوتو کے دو چہرے، فرقہ پرستی اور برہمن واد کے سوا کوئی مثبت کردار سامنے نہیں آیا ہے، بال ٹھاکرے، فڑنویس، شندے اور دیگر لیڈروں نے بھی ہندو فرقہ پرستی کو ہی ہندوتو کا نام دے کر خود کو سامنے لانے اور سیاسی و سماجی تفوق اور اقتصادی و مذہبی بالا تری حاصل کرنے کی سعی کی ہے ،دعوے اور نام کی حد تک، ہندوتو کا نعرہ، اکثریتی سماج کے ایک بڑے حصے کو متاثر کرتا ہے لیکن آگے کے سوال کا جواب، ہندوتو وادیوں کے پاس نہیں ہے، اس پر دیگر محنت کش طبقات کی قیادت خصوصا مسلم قیادت کو خصوصی توجہ و زور دے کر کام کرنا چاہیے، جب تک اس کی طرف سے ہندوتو کیا ہے؟ کا سوال مضبوطی سے مین اسٹریم کا حصہ نہیں بنے گا تب تک بھارت میں متحدہ قومیت اور وطن پر مبنی مثبت راشٹر واد کی راہ ہموار نہیں ہو گی اور نہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف منافع بخش ہندوتو وادی کاروباری سرگرمیوں پر روک لگ سکتی ہے، ہندوتو کے نام پر کسی بھی دعوے پر آگے کا سوال، فرقہ پرستی اور برہمن واد کی تفہیم کی راہ ہموار اور ہندوتو وادیوں کے چہرے کو بے نقاب کرنے کا کام کرے گا،





















