ہندوستان میں علم وتحقیق کی دنیا میں ،بالخصوص علوم اسلامیہ کی خدمت اورقدیم مخطوطات کی تدوین کے حوالہ سے مولانا سید ہاشم ندوی کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ۔وہ ان ممتا ز علماء میں ہیں جن پر ہر اس جگہ کو ناز ہوتا ہے جہاں سے اس کی نسبت ہو،چنانچہ وہ ندوۃ العلماء کے قابل فخر فرزندوں میں ہیں ،اور اپنے وطن کے بھی ،اور دائرۃ المعارف کی تاریخ کا بھی وہ لا زوال حصہ ہیں ،اسی کے ساتھ شہر حیدرآباد کے ان ممتاز علماء میں ہیں جو اس کے لئے سرمایہ فخر ہیں ،اسی لئے عہدا ٓصف جاہی کے علماء کے تذکرہ میں ان کا نام اہمیت سے لیا جاتا ہے۔
مولانا کے والد مولانا سید احسن بن حکیم سید نورالحسن بھی ممتاز عالم وطبیب تھے،اور علامہ سید سلیمان ندوی کے پھوپھی زاد بھائی تھے ۔استھاواں میں ا ن کا خاندان کئی پشتوں سے آباد تھا،مولانا سید احسن نے حضرت مولانا اشرف علی تھانوی سے تعلیم کی تکمیل کی تھی اور ان کے ابتدائی دور کے کانپور کے تلامذہ میں تھے ،اسی دوران انہوں نے حضرت تھانوی کے قرآنی افادات بھی جمع کئے تھے ۔تکمیل تعلیم کے بعد کانپور ہی میں حضرت مولانا سید محمد علی مونگیری سے وابستہ ہوئے اور پھر تازندگی انہیں کے ہوکر رہ گئے ۔تذکرہ علمائے ہندوستان کے مصنف نے ان کے تعارف میں یہی لکھا ہے کہ وہ مولانا محمد علی مونگیری کے دست راست ہیں ۔چنانچہ حضرت مونگیری نے وہاں سے تحفہ محمدیہ نکالا تو اس کی ذمہ داری انہیں کے سپرد ہوئی ،پھر ندوۃ العلماء کی تحریک وجود میں آئی تو اس کی فکر کی اشاعت میں بھی انہوں نے بہت نمایاں حصہ لیا ،ابتدائی مضامین انہیں کے قلم سے نکلے ،ان کی مزید تفصیل ابتدائی اوراق میں گذرچکی ہے۔اخیر میں وہ پٹنہ آگئے تھے اور یہاں مطب قائم کرلیا تھا اور اپنے چچا مولانا سید رحیم الدین استھانوی کے جاری کردہ مشہور اخبار الپنچ کے ذمہ دار ہوگئے تھے ،لیکن پھر جلد ہی شاید ۱۹۰۶ یا ۱۹۰۷ میں وفات پائی ۔
جب ان کی وفات ہوئی تو ان کے اکلوتے صاحبزادے مولانا سید ہاشم شاید ایک دو سال کے تھے ۔کیوں ان کی ولادت ۱۹۰۵ میں اپنے وطن ہی میں ہوئی تھی ۔یتیمی کی حالت میں ان کی نشو ونما ہوئی ،والدہ اور گھر کے بزرگوں کے درمیان نشو ونماپائی اور ابتدائی تعلیم بھی وطن ہی میں حاصل کی ،البتہ ابتدائی دور کے اساتذہ کا علم نہیں ہوسکا ۔اس کے بعد خاندانی روایت کے مطابق دارالعلوم ندوۃ العلماء میں داخل ہوئے ،اور ایک مدت گذار کر وہاں کی علمی وادبی فضا سے مشام جاں کو معطر کرتے رہے ،وہاں کے اساطین وعلماء سے اکتساب علم کیا ۔آخر ۱۹۲۴ میں دارالعلوم سے تکمیل ہوئی ۔اس کے بعد وہ ملک کے مشہورکتب خانہ رضا رامپور سے وابستہ ہوئے،جہاں ان کے علمی ذوق کو دیکھتے ہوئے ان کو تحقیق کی خدمت سپرد کی گئی۔یہیں مولانا کے ذوق علم نے بال وپر نکالے ،خصوصاً مخطوطہ شناسی کا ذوق جو بعد میں ان کا امتیاز بن گیا یہیں پیدا ہوا ۔یہاں تین سال رہ کروہ ملک کے مشہور علمی ادارہ دائرۃ المعارف حیدرآباد چلے گئے ،جو علوم اسلامیہ کی خدمت کے لئے چند سال قبل ہی قائم ہوا تھا ،شاید اس میں علامہ سید سلیمان ندوی نےجو ان کے چچا اور مربی تھے ان کی رہنمائی اور سفارش کی ۔یہاں انہوں نے پوری زندگی گذاردی اور علم وتحقیق کی بے مثال خدمت کی ۔مولانا کا بہت بڑا امتیاز ہے کہ اس وقت جب عام طور پر ندوی فضلا اردو ہی میں لکھتے تھے مولانا نے عربی میں علم وتحقیق کی خدمت کا آغاز کیا ،اور ادبیات کے بجائے علوم اسلامیہ کی خدمت کو اپنا موضوع بنایا ۔چنانچہ رجال وحدیث کی دسیوں کتابیں ان کی تحقیق وتدوین سے شائع ہوئیں ۔اور عربی اور اردو دونوں زبانوں میں ان کے اشہب قلم نے جولانیاں دکھائیں ،لیکن کتب حدیث ورجال کی تحقیق وتصحیح ان کا اہم کارنامہ بلکہ ان کی بہت ہی اہم خدمت ہے جوان کو انفرادیت عطا کرتی ہے۔
مولانا اپنے علمی کاموں کے ساتھ ایک متقی اور پاک باز عالم تھے ۔نماز کے بڑے پابند تھے ،حتی کی جمعہ کی نماز کے لئے مکہ مسجد جو ان کی رہائش گاہ سے بہت دور تھی پیدل جاتے تاکہ بڑی جماعت کے ساتھ جمعہ پڑھنے کا ثواب حاصل ہو ۔اس کے علاوہ بے ضرر انسان تھے ،کسی کو ان سے کوئی شکایت نہیں ہوئی ۔فرائض کی ادائیگی ،حسن اخلاق ،معاملات کی صفائی کے علاوہ وہ پوری یکسوئی سے علم حدیث ورجال اور علوم اسلامیہ کی خدمت میں لگے رہے اور اسی کو انہوں نے ذخیرہ آخرت سمجھا جو یقیناً ان کے لئے آخرت میں سرمایہ ہوگا ۔حتی کہ ملازمت سے سبکدوشی کے بعد بھی انہوں نے یکسوئی سے بیٹھ کر تفسیر ابواللیث سمرقندی جیسی ضخیم کتاب کی تصحیح وتحقیق کی ،لیکن افسوس کہ اس کی اشاعت کا سامان نہیں ہوسکا اور ان کی محنت ضائع ہوگئی البتہ ان کی بقیہ کتابیں شائع ہوئیں جو ان کے فضل وکمال کی شہادت کے لئے کافی ہیں۔ہم نے اوپر ذکر کیا ہے کہ مولانا بالکل ابتدائی دور سے علوم ادبیہ کے بجائے دائرۃ المعارف جیسے عالمی ادارہ جہاں یمن وحجاز کے علما بھی تھے اور ہندوستان کے گوشہ گوشہ کے علما بھی علوم شرعیہ کے شعبہ کے ذمہ دار بنائے گئےجس سے ان کے علمی مقام ومرتبہ کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے،اسی کے ساتھ ان کو بالکل ابتدائی دور میں علامہ کے لقب سے یاد کیا گیا ،اس سے بھی اندازہ ہوتا ہے کہ ان کا علمی مقام کیا تھا ۔
مولانا نے تصنیف سے زیادہ تحقیق متون وتصحیح مخطوطات پر توجہ مرکوز کی ،جو لوگ تحقیق کے کام سے واقف انہیں اندازہ ہوگا کہ یہ کس قدر پتہ ماری کا کام ہے اور کسی طرح تصنیف سے کم نہیں ،اور علمی دنیا میں اس کی کتنی اہمیت ہے ،اسی لئے ان کتابوں کی نئی طباعتیں جو عالم عر بی سے نکل رہی ہیں ان میں مولانا کی کوششوں کا اعتراف جابجا نظر آتا ہے۔
دائرۃ المعارف میں طویل مدت گذارنے کے بعد آخر مولانا اس علمی اور عالمی ادارہ کے ناظم اعلیٰ کے منصب پر فائز ہوئے اور چند سال خدمت کے بعد اس عہدہ سے سبکدوش ہوئے۔،اس دوران انہوں نے دائرۃ المعارف کے فروغ میں حصہ لیا ،اور اس کو عالمی شہرت اور وقار عطا کرنے میں بہت اہم کردار ادا کیا۔۱۹۶۵
حکومت حیدر آباد نے دائرۃ المعارف کی طرف سے ان کو ملک کے اہم کتب خانوں کی سیر اور وہاں مخطوطات کا جائزہ لینے کے لئے بھیجا تھا ،انہوں نے ملک کے اہم کتب خانوں کتب خانہ رضا رامپور ،کتب خانہ خدابخش پٹنہ ،اور دیگر کتب خانوں کا جائزہ لے کر وہاں مخطوطات کے کا تفصیلی جائزہ لیا اور ان کتب خانوں پر تفصیلی مضمون لکھا ۔علامہ سید سلیمان ندوی نے اس مضمون کو حسب ذیل نوٹ کے ساتھ معارف میں شائع کیا ۔
وہ ۱۹۳۶ میں دائرۃ المعارف کے ذمہ دار بنائے گئے ،اس موقع پر علامہ سید سلیمان ندوی نے معارف میں لکھا
’’ دائرۃ المعارف حیدر آباد کن جو ہمارے ملک میں نادر عربی کتابوں کا واحد اشاعت خانہ ہے اب وہ اپنی ترقی کے نئے دور میں قدم رکھ رہا ہے ،اب اس کے لائق مہتمم ہمارے عزیز مولاناسید ہاشم ندوی رکن دائرۃ المعارف مقرر ہوئے ہیں ،وہ دن رات اس کی ترقی اور دست برد انقلاب سے اس کے بچانے کی فکر میں مصروف رہتے ہیں ،چند نئی کتابیں چھپ کر شائع ہوئی ہیں ،اور کچھ زیر تصحیح اور زیر طبع ہیں‘‘۔
میں وہ دائرۃ المعارف کی خدمت سے سبکدوش ہوئے ،بلکہ خود مستفعی ہوگئے ۔اور پانچ سال علم وتحقیق اور عبادت میں گذار ۱۹۷۱ میں حیدرآباد ہی میں وفات پائی ۔ان کے حفید محترم مولانا ڈاکٹر سید راشد نسیم ندوی لکھتے ہیں
اما صاحبنا ھذا فقد قاسیٰ ھذہ الشدائد والاھانۃ والاذیٰ بکلّ صبر ،وعاش عیشۃ راضیۃ مقبلاً علی الکتابۃ والبحث وتحقیق التراث ومکباً علی الطاعات والعبادات بکل طھارۃ ونزاھۃ وبکل قناعۃ وسماحۃ الی ا ن لفظ انفاسہ الاخیرۃ والتحق بالرفیق الاعلیٰ سنۃ ۱۹۷۱م ولم یترک العلامۃ ھاشم الندوی مآثر علمیۃ فحسب بل خلف اربع بنات ونجلاً واحداً وھو ۔۔الدکتور سید ابراھیم الندوی۔
دائرۃ المعارف میں ان کی خدمات
دائرۃ المعارف میں ان کی تقرری کے چند سالوں کے بعد ہی ان کو ملک کے موقر کتب خانوں کی سیراور وہاں کے نوادرات کی تحقیق کے لئے بھیجا گیا تھ ،چنانچہ انہوں نے واپس آکر تفصیلی رپورٹ لکھی اور اس کے بعد ہی عربی میں تذکرۃ النوادر بھی مرتب کی ،اردو کی رپورٹ جس میں نوادر کا ذکر تھا معارف کے اکتوبر ۱۹۲۹ کے شمارہ میں شائع ہوئی ،اس کے آغاز میں علامہ سید سلیمان ندوی نے تحریر فرمایا
’’دائرۃ المعارف حیدر آباد دکن نے اپنے یہاں کی بعض زیر طبع کتابوں کے بعض ناقص اجزا یا دوسرے صحیح نسخوں کی تلاش کے لئے اپنی طرف سے مولوی سید ہاشم ندوی کو پچھلے دنوں نامزد کیا تھا ،مولوی صاحب نے سفر کی واپسی کے بعد ایک مفصل روئداد دائرہ کے ارکان کے سامنے پیش کی ،دائرہ کے شعبہ علمیہ کے ارکان نے اس کو بہت پسند کیا ،اسی روداد کا خلاصہ دائرہ کے معتمد نواب مہدی یار جنگ بہادر (خلف الصدق نواب عماد الملک مرحوم )نے اپنے ایک مکرمت نامہ کے ساتھ معارف میں چھپنے کے لئے بھیجا ہے ،جس کو ہم شکریہ کے ساتھ شائع کرتے ہیں ،اور مولوی سید ہاشم صاحب ندوی کو ان کی کامیابی پر مبارک باد دیتے ہیں ۔
نواب صاحب ممدوح فرماتے ہیں ’’مولوی سید ہاشم صاحب ندوی حال میں دائرۃ المعارف کی جانب سے شما ہند مثلا لکھنؤ ،رام پور اور پٹنہ وغیرہ بھیجے گئے تھے تاکہ وہاں کے کتب خانوں میں کتب نادرہ کا پتہ لگائیں ،اور ایسی کتابوں کا نام پیش کریں جن کی تصحیح اور طباعت دائرۃ المعارف اپنے ذمہ لے ،انہوں نے اس سفر کے بعد اپنی رپورٹ مرتب کی ،اور جس میں بعض عمدہ کتابوں کا ذکر کیا ،وہ علمی نقطہ نظر سے بہت بیش قیمت ہے ،چنانچہ دائرہ موصوف کے شعبہ علمیہ نے اس کو بہت پسند کیا ،اور اس کے مرتب کنند ہ کا شکریہ ادا کیا ،اب اس رپورٹ کا خلاصہ آپ کے پاس اس قعہ کے ساتھ روانہ کیا جاتا ہے،غالبا اس کو آپ بھی پسند کریں گے ،اور اندازہ کرسکیں گے کہ مولوی سید ہاشم نے کیسی خدمت کی ہے‘‘۔
مولانا اس مضمون کے آغاز میں لکھتے ہیں
’’امام بیہقی کی سنن کبریٰ ،علامہ ابو نعیم اصفہانی کی حلیۃ الاولیاء اور حافظ ابن حجر العسقلانی کی درر کامنہ کے قلمی نسخوں کے دیکھنے کے لئے خاکسار کو پٹنہ ،رامپور اور لکھنؤ کے کتب خانوں میں حاضری کا اور وہاں کی نادر کتابوں کے مطالعہ کا موقع نصیب ہوا ۔
پٹنہ لائبریری ،کتب خانہ ریاست رامپور،کتب خانہ ندوۃ العلماء لکھنؤ،کتب خانہ مولانا عبدالحي صاحب فرنگی محلی رحمۃ اللہ علیہ ،کتب خانہ مولانا عبدالباری صاحب فرنگی محلی مرحوم ،کتب خانہ مولانا ناصر حسین صاحب قبلہ ،کتب خانہ علویہ ،راجہ صاحب سلیم پور اسٹیٹ ،لکھنؤ۔
ان کتب خانوں میں جو قابل ذکر قلمی نسخے نظر سے گذرے ہیں ان کے متعلق مختصر کیفیت پیش ہے تاکہ آئندہ بطور یادداشت محفوظ رہے ‘‘۔
یہاں کے طویل دور قیام میں اور اس کے علاوہ مولانا نے جوعلمی خدمات انجام دیں ہم ذیل میں ان کا ذکر کرتے ہیں۔
ان کی نگرانی اور اہتمام میں دائرۃ المعارف سے حسب ذیل کتابیں شائع ہوئیں
التاریخ الکبیر امام بخاری ،اشاعت سنہ ۱۳۷۸ھ
۲۔کتاب الکنی ،سنہ ۱۳۶۰ھ
۳۔کتاب الجرح والتعدیل ،ابو حاتم الرازی ،سنہ ۱۳۷۱ھ
۴۔السنن الکبریٰ للبیہقی ،دس جلدیں ،سنہ ۱۳۴۴ھ
الکفایۃ فی علم الرروایۃ ،خطیب بغدادی
کتاب الاعتبار فی بیان الناسخ والمنسوخ من الآثارابوبکر الھمدانی
عمل الیوم واللیلۃ،ابن السنی
الدرر الکامنۃ ابن حجر
مسند ابوعوانہ
صفۃ الصفوۃ ابن الجوزی
احکام الوقف ھلال بن یحییٰ الرازی
کتاب الروح ابن القیم
المجتنیٰ ابن درید
رسائل ابن سنان
امالی امام محمد
تذکرۃ السامع والمتکلم فی آداب العالم والمتعلم لابن جماعہ
تذکرۃ النوادر
آخرالذکر دونوں کتابیں ان کی تصنیف ہیں ۔
ابن جماعہ کی تذکرۃ السامع پر انہوں نے اس کثرت سے حواشی تحریر کئے کہ کتاب کی ضخامت دوچند ہوگئی ،اور ہر پہلو سے مفید ہوگئی ،اسی لئے اس کے بعد عالم عربی سے بھی اس کے ایڈیشن نکلے۔
تذکرۃ النوادر نادر مخطوطات کی ایسی ڈائریکٹری ہے جو اس فن کے ماہرین کے لئے آج بھی ماخذ کی حیثیت رکھتی ہے۔
اس کے علاوہ بھی دائرۃ المعارف کی مطبوعات میں ان کی محنت شامل رہی ہے ،چنانچہ الاتحافات السنیہ فی الاحادیث القدسیہ ،المستدرک علی الصحیحین اور تلخیص المستدرک ،جیسی کتابیں ہیں ۔ اس کے علاوہ وہاں ایک علمی مجلس میں پڑھے گئے مقالات کا مجموعہ المباحث العلمیہ من المقالات السنیہ بھی انہیں کی ترتیب وتقدیم کے ساتھ شائع ہوا ۔اردو میں مقالہ تحفظ علوم قدیمہ بھی تذکرۃ النوادر ہی سے متعلق ہے جو وہیں سے شائع ہوا تھا وہاں کسی علمی اجتماع میں پیش کیا گیا تھا ،اس کے علاوہ رسالۃ علمیۃ تاریخیہ کے نام سے ایک اور مجموعہ مقالات جو وہاں منعقد ہونے والے ایک علمی کانفرنس میں پیش کیا گیا ،اور وہیں سے شائع ہوا وہ بھی انہیں کا مرتب کردہ ہے ۔عربی میں مقالۃ تاریخیہ بھی ان کے قلم سے یادگار ہے جو وہاں سے شائع ہوا ۔اس کے علاوہ المقالۃ الازھریہ ،نشریات علمیۃ اور الرحلۃ العلمیۃ بھی ان کے چھوٹے چھوٹے عربی رسائل یا مقالات ہیں جو دائرۃ المعارف کے تعارف میں عربی میں لکھے گئے تھے ۔
مذکورہ بالا کتابوں کی تصحیح جس دقت نظر سے کی گئی ہے اس کا اندازہ وہی لوگ کرسکتے ہیں جو اس کے فن کے مرد میدان ہیں ،کہ تصحیح کاکام تصنیف سے کسی طرح کم نہیں ہے ،بالخصوص دائرۃ المعارف جیسے ادارہ کی مطبوعات میں تو اغلاط ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتیں ،اس میں یقینا مولانا سید ہاشم ندوی کا بھی بہت بڑاکردار تھا جو اس کے قیام کے چند سال بعد ہی اس سے وابستہ ہوگئے تھے اور پوری زندگی اس سے وابستہ رہے ،اور وقت جب کہ ندوہ میں عربی ادبیات پر توجہ تھی ،متعدد جید علماء کی موجودگی میں ان کو کتب علوم شرعیہ کے شعبہ کا ذمہ دار بنایا گیا پھر پورے ادارہ کی ذمہ داری ان کے کاندھوں پر آئی۔
اردو میں بھی چند رسائل ان کے قلم کی یادگار ہیں۔
انہوں نے ابوزکریا اشبیلی کی کتاب الفلاحت کا اردو میں ترجمہ کیا
کامل ابن الاثیر کی دوسری جلدکا اردو ترجمہ بھی انہیں کے قلم کی یادگار ہے ،جو دارالترجمہ حیدرآباد سے شائع ہوا ۔
اس کے علاوہ اردو میں ان کے چند رسائل ہیں جیسے تحفظ علوم قدیمہ اور دائرۃ المعارف کی کچھ رپورٹیں ہیں جن کا تذکرہ اوپر گذرچکا ہے ۔
مقالہ تحفظ علوم قدیمہ کے سرورق نیچے درج ہے
’’آل انڈیا اورینٹل کانفرنس کے اجلاس ہشتم منعقدہ دسمبر ۳۵ء بمقام میسور پڑھا گیا ۔مرتبہ سید ہاشم ندوی رکن دائرۃ المعارف ‘‘۔
اس کے آغاز میں انہوں نے علوم قدیم کے تعارف اور تحفظ پر بہت ہی جامعیت کے ساتھ مباحث پیش کئے ہیں ،اور اخیر میں دائرۃ المعارف کے کارنامے دکھائے گئے ہیں ۔اس کی فہرست کے آغاز میں چند اہم عناوین یہ ہیں
آثار علوم قدیمہ ۔علوم کے آثار بابل میں ۔علوم کا ارتقا فارس میں ۔یونان میں علوم وحکم کا دور۔احیاء علوم ومعارف کا عہد تاباں ۔عربوں کا علوم قدیمہ کی طرف اعتناء۔عرب اور علوم ہندوستان کا احیاء۔
اس کے بعد پھر انہوں نے یورپ کا دور دکھایا ہے اور پھر مصر اور اس کے بعد ہندوستان اور اخیر میں دائرۃ المعارف کا ذکر کیا ہے ۔
عرض حال کے زیر عنوان وہ اس کی تمہید میں لکھتے ہیں
’’اواخر ڈسمبر ۱۹۳۵ میں آل انڈیا اوینٹل کانفرنس کے اجلاس ہشتم کےا نعقاد کی اطلاعیں وسط نومبر میں ملیں ،اس وقت راقم الحروف کتب خانہ ریاست رام پور میں بعض قلمی کتابوں کی تصحیح اور مقابلہ کے لئے مامور تھا ۔اگر چہ اس اہم اجلاس کی شرکت کے لئےمجلس دائرۃ المعارف نے اپنی علمی قدردانی سے اس خادم علم کا انتخاب فرمایا تھا ،لیکن اس کے لئے کوئی اہتمام نہ تھا ،اس آخری اطلاع کے بعد کتب خانہ رام پور کی پرسکون صحبت علمی کے چھوڑنے کا نہ تو دل چاہتا تھا اور صحت حسب دلخواہ تھی ،بطور معذرت ایک عریضہ علی جناب نواب مہدی یار جنگ بہادر بالقابہ معتمد دائرۃ المعارف کی خدمت میں بھیجا تاکہ اس طویل سفر کی صعوبتوں سے نہ صرف نجات پاؤں ،بلکہ ارباب علم کی نگاہوں سے مستور رہوں ،لیکن ہمارا اعتذار علم دوست اور معدلت گستر عمید دائرۃ المعارف کے نزدیک قابل قبول نہ ہوا ،کیوں کہ مجلس دائرۃ المعارف کی جانب سے اس کانفرنس میں یہ پہلی نمائندگی تھی ،برقی حکم نے اعصا ب کی برودت میں کچھ گرمی پیدا کی اور اس فکر نے کہ فضلائے عصر کے سامنے کیا لے کر جاؤں ،یہ نتیجہ پیدا کیا کہ علوم ومعارف قدیمہ کی تاریخ پر کچھ لکھا جائے تاکہ دائرۃ المعارف کی اہمیت نمایاں ہوسکے ‘‘۔
اس اقتباس اندازہ کرنا مشکل نہیں کہ عربی میں مسلسل لکھنے کے باوجود ان کا اردو اسلوب بھی بہت رواں تھا ۔
ان کا ایک مضمون حافظ ابن حجر پر ’’حافظ العصر شہاب الدین ابن حجر ‘‘ کے عنوان سےمعارف ستمبر ۱۹۳۰ میں شائع ہوا تھا
جس کے آغاز میں معارف کی طرف سے نوٹ ہے
’’آج کل مولوی سید ہاشم صاحب ندوی حافظ ابن حجر کی مشہور تصنیف دررکامنہ کی تصحیح میں مصروف ہیں ،جس کی پہلی جلد اب دائرۃ المعارف کی طرف سے شائع ہوئی ہے ،اسی تقریب سے ممدوح نے یہ مضمون لکھا ہے جو شکریہ کے ساتھ شائع ہوتا ہے‘‘۔
ان کے مذکورہ بالا کاموں پر ایک نظر کرنے سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ وہ خاموشی کے ساتھ کتب قدیمہ کی تدوین وتحقیق میں مصروف رہے ،اور قدیم عربی مخطوطات کی تدوین یا ان کا تعارف ہی ان کا اصل ذوق تھا ،اس کے علاوہ وقتی ضرورت کے تحت انہوں نے دائرۃا لمعارف کی ادارت کے زمانہ میں چند رسائل لکھے ،اس کے علاوہ رسائل میں دیگر موضوعات پر انہوں نے مقالات نہیں لکھے ۔
تذکرۃ السامع والمتکلم فی آداب العالم والمتعلم پر انہوں نے جو عالمانہ کام کیا ،اس نے متعدد اہل علم کی توجہ اپنی طرف مبذول کرلی تھی ،چنانچہ ہندوستان کے اس وقت کے عربی ادب کے مشہور فاضل مولانا ابوعبداللہ سورتی نے معارف میں دسمبر ۱۹۳۹ کے شمارہ میں بہت جامع مضمون لکھا اورمحقق کی کوششوں کو سراہا۔
افسوس کہ مولانا کی شخصیت اور علمی خدمات کو جس طرح موضوع بنانے کا حق تھا اس طرح نہیں ہوسکا ،البتہ عثمانیہ یونیورسٹی سے عربی میں ان کی خدمات پر ایک پی ایچ ڈی کا مقالہ ضرور لکھا گیا ۔لیکن اردو میں ان کی حیات وخدمات کے تفصیلی جائزہ کی ضرورت ابھی باقی ہے۔

















