بقلم: معاذ حیدر ٤/ رمضان ١٤٤٧ھ
انسانی خوبیاں بے شمار ہیں، اس کے درست استعمال سے نکھار آجاتا ہے، اور اس سلسلے میں لاپرواہی ناکارہ بنا ڈالتی ہے، اعلیٰ درجے کی استعداد پنہاں ہوتی ہیں، اس کو بروئے کار لانے والا *سرخرو” ہوتا ہے، خوبیاں چھپی رہتی ہے بروقت اس سے فائدہ اٹھانے والا "خوبیوں والا” ہو جاتا ہے، موقع پر استعمال نہ کرنے والا "خوبی بھرا” کہلاتا ہے۔ محیّر العقول کارنامے ان خوبیوں کے درست استعمال کے نتیجے میں ظاہر ہوتے ہیں، ان میں ایک اہم ملکہ *”قوت ارادی”* ہے۔ اس کے ذریعہ ناممکن نظر آنے والے کام ممکن کے زمرے میں آجاتے ہیں، اس کی مدد سے منفی پہلو کو مثبت رخ دیا جا سکتا ہے، لوگوں نے اسے برت کر اپنی شکست کو شوکت سے بدلا، صوفیاء نے اس کے سہارے نفس کو اپنا اسیر بنایا ہے، اس کی اعانت سے فکری ارتکاز نصیب ہوتا ہے، حکماء نے اسے کامیابی کا "اصل الاصول” قرار دیا ہے، یہ فکر کے سوتوں کو خشک ہونے سے روکتی ہے۔ "سچ بولنے کی عادت” اس قوت کو پڑھاتی ہے، "مقصد کا استحضار” اس کی افزائش کرتا ہے، ” ذکرِ الہی” سے اسے ترقی ملتی ہے، "اہل اللہ کی صحبت” سے اسے استحکام نصیب ہوتا ہے ہے، "نظام الاوقات کی مضبوطی” اس کی کمک ہے، "استقامت” اس کی مرہونِ منت ہے۔ "لایعنی” اس کے لیے سم قاتل ہے، ” سہولت پسندی” سے محرومی کی وجہ ہے، "غیر جنس کی صحبت” اس کے حق میں مضرت رساں ہے، "شدید جذباتی دباؤ” کا یہ متحمل نہیں۔ یہ *ماہ مبارک* ہمیں *”قوت ارادی”* کی یاد دہانی کے لیے آیا ہے، کتنی ہی عادتوں کو اس مہینے میں محض ارادے کی وجہ سے ترک کر دیا جاتا ہے، پورے سال جن چیزوں سے دور رہنے کی ہمیں جستجو ہو اس کے لیے یہی نسخہ مفید ہے۔
















