تاریخ: 2 جون 2026مقام: دگھی، ضلع گڈا، جھارکھنڈ
گڈا، بانکا بھاگلپور و اطرافِ بھاگلپور کے وسیع خطے کی ہمہ جہت تاریخ کو مرتب کرنے اور اسے ایک منظم علمی و تحقیقی قالب میں پیش کرنے کے لیے مجوزہ عظیم الشان سیمینار کے سلسلے میں ایک اہم مشاورتی نشست 2 جون 2026 کی سرِ شام دگھی کی عالی شان جامع مسجد میں منعقد ہوئی۔ نشست کی صدارت حضرت مولانا مفتی امانت علی قاسمی (استاذ دارالعلوم وقف دیوبند) نے فرمائی۔اس نشست کا بنیادی مقصد اس پورے خطے کی سیاسی، سماجی، قومی، ملی، ملکی، ادبی، معاشی، تعلیمی اور تہذیبی تاریخ، نیز اس حدود میں قائم اداروں، تنظیموں اور ان سے وابستہ نمایاں شخصیات کی خدمات کو یکجا کر کے ایک ایسی جامع علمی دستاویز تیار کرنا ہے، جو اب تک بکھری ہوئی یا گمشدہ رہی ہے۔نشست میں بھاگلپور، گڈا، بانکا اور اطراف کے مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے علماء کرام، دانشوران اور اہلِ علم نے شرکت کی۔ شرکاء نے سیمینار کو وسیع، جامع اور مؤثر بنانے کے لیے متعدد اہم تجاویز پیش کیں اور فیصلے کیے۔ سابقہ فیصلوں کا اعادہ کرتے ہوئے یہ طے پایا کہ موضوع میں کسی قسم کی تشنگی باقی نہ رہ جائے، اس کے لیے سیمینار کی مرکزی کمیٹی اور کنوینرز کے ماتحت علاقائی کمیٹیاں تشکیل دی جائیں، جو اپنے اپنے علاقوں کی حدود میں واقع شخصیات، ملی و سماجی اداروں، سیاسی سرگرمیوں اور تاریخ سے متعلق جملہ پہلوؤں پر تحقیق و جستجو کر کے جامع عناوین کی فہرست مرتب کریں اور انہیں سیمینار کا حصہ بنایا جائے۔
صدرِ اجلاس نے اپنے خطاب میں بتایا کہ اب تک تقریباً 60 سے زائد عناوین متعین کیے جا چکے ہیں اور 100 سے زیادہ مقالہ نگاروں کو دعوتِ عمل دی جا چکی ہے۔ اس کے باوجود اگر کسی پہلو میں کمی باقی رہتی ہے تو علاقائی کمیٹیوں کے تعاون سے اس خلا کو پُر کیا جائے گا۔
مولانا محمد یاسین جہازی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھاگلپور اور سنتھال پرگنا کمشنری کے اس پورے خطے پر مشتمل یہ سیمینار اپنی نوعیت کا ایک منفرد اور تاریخی اقدام ہوگا۔ انہوں نے اس خطے کی تاریخ پر لکھی گئی بعض اہم کتابوں کا حوالہ دیتے ہوئے ان پر مختصر تبصرہ بھی کیا اور اس سیمینار کی علمی وسعت، ضرورت اور افادیت کو نمایاں کیا۔
جمعیت علماء بسنترائے کے صدر محترم مفتی محمد نظام الدین قاسمی (بانی و مہتمم جامعۃ الہدی، جہاز قطعہ) نے اپنے خطاب میں ایک نہایت اہم مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ مقالہ نگاروں کی فہرست سازی اور اس کی باقاعدہ شارٹ لسٹنگ نہایت ضروری ہے، تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ اب تک کتنا کام مکمل ہو چکا ہے اور مزید کن پہلوؤں پر کام کرنا باقی ہے۔نشست میں اس بڑے پیمانے پر منعقد ہونے والے سیمینار کے لیے فنڈ ریزنگ کے مسئلے پر بھی سنجیدہ غور کیا گیا اور اس کے لیے ایک منظم اور مؤثر نظام قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا، تاکہ اس عظیم علمی منصوبے کو کامیابی سے ہمکنار کیا جا سکے۔اس اہم اجلاس میں جن معزز شخصیات نے شرکت کی، ان میں مولانا قمر الزماں ندوی، مولانا الیاس ثمر قاسمی، مفتی خلیل احمد، مولانا شمس پرویز مظاہری، مولانا شاہد قاسمی (بانکا)، مفتی زاہد امان قاسمی (بانی و مہتمم جامعہ خدیجۃ الکبریٰ)، مولانا یاسین مصباحی، قاری فیروز صاحب (گڈا)، مولانا عبدالستار صاحب، مولانا ریاض الدین صاحب (قصبہ)، مفتی اقبال صاحب، قاری قاسم صاحب اور دیگر معزز علماء و دانشوران شامل ہیں
۔یہ نشست اس امر کی واضح عکاسی کرتی ہے کہ بھاگلپور و اطرافِ بھاگلپور کے اس وسیع خطے کی گمشدہ تاریخ کو محفوظ کرنے اور اسے نئی نسل تک منتقل کرنے کے لیے سنجیدہ، منظم اور مشترکہ کوششیں جاری ہیں، اور مجوزہ سیمینار اس سلسلے میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگا۔
نشست کے اختتام کے بعد پرتکلف عشائیہ کا بھی اہتمام کیا گیا تھا۔جو دگھی والوں کے زندہ دل ہونے کا واضح اعلامیہ تھا





















