( خلاصہ از 1919 تا 2025)
محمد یاسین جہازی
سقوطِ ڈھاکہ اور قیامِ بنگلہ دیش برصغیر کی تاریخ کا ایک نہایت دردناک اور فیصلہ کن باب ہے، جس کے پس منظر میں 1947ئ سے 1971ئ تک کے لسانی، معاشی، سیاسی اور عسکری عوامل کارفرما تھے۔ قیامِ پاکستان کے فوراً بعد 1948ئ میں اردو کو واحد قومی زبان قرار دینے سے مشرقی پاکستان میں لسانی بے چینی نے جنم لیا، جو 21/فروری 1952ئ کو ایک بڑی تحریک کی صورت میں سامنے آئی۔ بعد ازاں 1956ئ کے آئین اور 1958ئ کے مارشل لائ کے ادوار میں بھی مشرقی پاکستان کو سیاسی نمائندگی نہ مل سکی۔ چنانچہ 1966ئ میں شیخ مجیب الرحمان نے صوبائی خودمختاری کے لیے اپنے مشہور چھ نکات پیش کیے۔ دسمبر 1970ئ کے عام انتخابات میں عوامی لیگ نے قومی اسمبلی میں واضح اکثریت حاصل کی، مگر اقتدار کی منتقلی میں لیت و لعل سے شدید سیاسی بحران پیدا ہو گیا۔ یہ بحران 25/مارچ 1971ئ کو فوجی کارروائی ’’آپریشن سرچ لائٹ‘‘ کی شکل میں کھلی جنگ میں بدل گیا، جس کے ردِعمل میں 26/مارچ 1971ئ کو بنگلہ دیش کی آزادی کا اعلان ہوا اور مکتی باہنی نے گوریلا جنگ شروع کر دی۔ بالآخر 3/دسمبر 1971ئ کو پاکõبھارت باقاعدہ جنگ کا آغاز ہوا، جو محض 13/دن جاری رہنے کے بعد 16/دسمبر 1971ئ کو ڈھاکہ میں پاکستانی افواج کے ہتھیار ڈالنے اور بنگلہ دیش کے ایک خودمختار ملک کے طور پر ابھرنے کے ساتھ ختم ہوئی۔
اس پورے بحران کے دوران اور اس کے بعد، جمعیت علمائے ہند نے ہمیشہ انسانی حقوق اور علاقائی امن کے حق میں ایک جرأت مندانہ اور حقیقت پسندانہ موقف اپنایا۔ 26/مارچ 1971ئ کو بنگلہ دیش کی آزادی کے اعلان اور فوجی کریک ڈا¶ن کے بعد، جمعیت کے ناظم عمومی مولانا سید اسعد مدنی نے مشرقی بنگال میں فوجی مظالم کی شدید مذمت کی اور حریت پسندوں کی حمایت کا اعلان کیا۔
14/جولائی 1971ئ کو دہلی میں منعقدہ ’’بنگلہ دیش مسلم کنونشن‘‘ میں ایک ریزولیوشن کے ذریعے شیخ مجیب الرحمان کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا، جسے سروودے لیڈر جے پرکاش نرائن نے بھی سراہا۔
16/دسمبر 1971ئ کو بنگلہ دیش کی فتح پر17/دسمبر1971ئ کو صدرجمعیت مولانا فخر الدین احمد نے اسے دو قومی نظریے کی شکست اور سیکولرزم و جمہوریت کی فتح قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اس سے برصغیر میں محبت اور اعتماد کی فضا قائم ہوگی۔
17/دسمبر1971ئ کو ہندستان اور بنگلہ دیش کے خلاف امریکہ کی سازش کی مخالفت کرتے ہوئے امریکی سفارت خانے کے سامنے مظاہرہ کیا گیا۔
15-16/جنوری 1972ئ میں جمعیت کی مجلس عاملہ نے بنگلہ دیش کے وجود کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا۔
بنگلہ دیش کے قیام کے بعد، جمعیت نے وہاں مقیم غیر بنگالی (بہاری) مسلمانوں کے تحفظ کے لیے بھرپور آواز اٹھائی۔چنانچہ مولانا سید اسعد مدنی صاحب نے 11/فروری 1972ئ کو وزیر اعظم شیخ مجیب الرحمان کو خط لکھ کر انسانی ہمدردی کی بنیاد پر انتقامی کارروائیوں کو روکنے اور لسانی اقلیتوں کو تحفظ دینے پر زور دیا۔جب کہ ناظم جمعیت مولانا سید احمد ہاشمی نے اس خط کی نقول بھارتی حکومت کے اعلیٰ وزرا کو بھی ارسال کیں۔
بعد ازاں، 5، 6 اور 7/مئی 1972ئ کو جمعیت علمائے ہند کا تئیسواں اجلاسِ عام منعقد ہوا، جس کی صدارت حضرت مولانا عبدالوہاب آروی نے فرمائی۔ انھوں نے اپنے صدارتی خطاب میں بنگلہ دیش کو ایک ناقابلِ انکار حقیقت قرار دیتے ہوئے ظالموں کو قدرت کے انصاف سے ڈرایا، جب کہ اسی اجلاس میں آسام کے وزیر صنعت محمد ادریس نے بھی مشرقی پاکستان کے نام پر عدالتوں میں چلنے والے کیسز ختم کرنے کی اپیل کی۔ اسی اجلاسِ عام میں تجویز نمبر (14) منظور کی گئی، جس میں بہاری مسلمانوں پر ہونے والے تشدد پر سخت تشویش کا اظہار کیا گیا اور شیخ مجیب الرحمان کی طرف سے ان کے تحفظ اور ملازمتوں کی یقین دہانی کا خیرمقدم کیا گیا۔
جب ڈھاکہ کے اخبارات کی طرف سے مولانا اسعد مدنی صاحب پر کچھ گمراہ کن الزامات عائد کیے گئے، تو انھوں نے 23/مارچ 1973ئ کو ایک پریس بیان کے ذریعے، اور پھر 24/ مارچ 1973ئ کو جامع مفتاح العلوم (مئو ناتھ بھنجن) میں تقریر کے دوران ان الزامات کی سختی سے تردید کی اور واضح کیا کہ انھوں نے بہاریوں کے حالات کو مکمل ٹھیک نہیں کہا تھا؛ بلکہ صرف مسلمانوں کی مذہبی حالت کی تحسین کی تھی۔
برصغیر میں پائیدار امن کے قیام کے لیے 2/جولائی 1972ئ کو طے پانے والے تاریخی ’’شملہ معاہدے‘‘ کا جمعیت کی مجلس عاملہ نے 19 اور 20 اگست 1972ئ کے اجلاس میں تجویز نمبر (1) کے تحت شاں دار خیرمقدم کیا اور صدرِ پاکستان کو بنگلہ دیش کے معاملے میں بھی حقیقت پسندی اپنانے کی نصیحت کی۔ اس کے بعد، 28/اگست 1973ئ کے دلی معاہدے کے تحت جب نظر بندوں کی واپسی کا عمل شروع ہوا، تو جمعیت کی مجلس عاملہ نے 29 اور30/اگست 1973ئ کے اجلاس میں ہند، پاک اور بنگلہ دیش کے وزرائے اعظم کو ا باوقار سیاسی تدبیر پر دلی مبارک باد پیش کی۔ اسی تسلسل میں، 24/نومبر 1973ئ کو جمعیت کی مجلس منتظمہ کا اہم اجلاس ہوا، جس کی تجویز نمبر (6) میں تینوں ممالک کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کے سہ طرفہ عمل کا خیرمقدم کیا گیا۔ جب پاکستان نے 22/فروری 1974ئ کو لاہور میں منعقدہ دوسری اسلامی سربراہی کانفرنس کے موقع پر بنگلہ دیش کو باقاعدہ تسلیم کر لیا، تو اس کے نتیجے میں 5 سے 9/اپریل 1974ئ کو نئی دہلی میں تینوں ملکوں کے وزرائے خارجہ کا تاریخی اجلاس ہوا، جس میں 195/جنگی قیدیوں پر مقدمہ نہ چلانے اور تمام محسورین کی واپسی کا حتمی سہ فریقی معاہدہ طے پایا۔ جمعیت کی مجلس عاملہ نے 20 اور 21/اپریل 1974ئ کے اجلاس میں تجویز نمبر (11) کے ذریعے اس تاریخی فیصلے کو برصغیر میں ایک نئے دور کا آغاز قرار دیتے ہوئے سراہا۔
بعد کے برسوں میں بھی جمعیت علاقائی سلامتی اور مسلم حقوق کے لیے سرگرم رہی۔ 15 اور 16/مئی 1976ئ کو جمعیت کی مجلس منتظمہ نے تجویز نمبر (12) کے تحت ان بنگلہ دیشی اخبارات اور رہنما¶ں کی شدید مذمت کی، جو بھارت کے خلاف منافرت پھیلا رہے تھے۔
23 اور 24/ ستمبر 1978ئ کے مجلس عاملہ کے اجلاس میں آسام سے ہندستانی مسلمانوں کے جبری انخلا پر تشویش کا اظہار کیا گیا اور’’بنگلہ دیش اقلیتی تحفظ کمیٹی کلکتہ‘‘ کی ایک بدنام زمانہ کتاب کے خلاف قرارداد منظور کی گئی۔
یکم فروری 1982ئ کو دہلی آئے پاکستانی صحافیوں کے اعزاز میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مولانا اسعد مدنی نے واضح کیا کہ تینوں ملکوں کے درمیان کشیدگی برصغیر کی ترقی میں رکاوٹ ہے۔
3/مئی 1991ئ کو بنگلہ دیش میں آنے والے ہول ناک طوفان کے بعد جمعیت نے ہائی کمشنر کو امدادی چیک پیش کیا اور ریلیف کمیٹی کے ذریعے متبادل مالی تعاون فراہم کیا۔
3 اور 4/اکتوبر 1993ئ کو منعقدہ ’’تحفظ شریعت کانفرنس‘‘ میں تجویز نمبر (10) کے ذریعے بنگلہ دیشی دراندازی کے نام پر ہندستانی مسلمانوں کو ہراساں کرنے اور ووٹر لسٹوں سے نام نکالنے کی سخت مذمت کی گئی۔
22/دسمبر 1996ئ کو جمعیت کے مرکزی دفتر میں بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ عبد الصمد آزاد کا پرتپاک استقبال کیا گیا، جنھوں نے جنگِ آزادی میں جمعیت کے کردار کی تعریف کی۔
10/مارچ 1997ئ کو مجلس عاملہ کے اجلاس میں مولانا اسعد مدنی نے بنگلہ دیش میں عیسائی مشنریوں کے بڑھتے ہوئے نیٹ ورک پر تشویش کا اظہار کیا۔
2/مئی 2002ئ کو ’’بھارت بچا¶ ریلی‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے بنگلہ دیش میں ہندو¶ں پر ظلم کے جھوٹے پروپیگنڈے کو مسترد کیا۔
2/مارچ 2005ئ کو بنگلہ دیش کے پارلیمنٹ رکن اور سابق وزیر مفتی وقاص قاسمی نے دفتر جمعیت کا دورہ کیا اور امت مسلمہ کے تعلقات کو وسیع کرنے پر تبادلہ¿ خیال کیا۔
اسی سال جب 17/اگست 2005ئ کو جماعت المجاہدین بنگلہ دیش نے وہاں سیریل بم دھماکے کیے، تو 18/اگست 2005ئ کو مولانا اسعد مدنی نے اس دہشت گردی کی سخت مذمت کی۔
بعد ازاں، 3/ستمبر 2007ئ کو مولانا سید ارشد مدنی اور مولانا محمود مدنی صاحبان نے ایک مشترکہ بیان میں سویڈن کے اخبار میں گستاخانہ کارٹون کی مذمت کے ساتھ ساتھ حکومتِ ہند کی طرف سے ایک متنازع بنگلہ دیشی مصنفہ تسلیمہ نسرین کی مہمان نوازی پر سخت افسوس کا اظہار کیا۔
31/مئی 2008ئ کو ’’دہشت گردی مخالف امنِ عالم کانفرنس‘‘ میں مولانا حبیب الرحمان لدھیانوی نے برصغیر کے مسلمانوں کی وطن دوستی کا اعادہ کرتے ہوئے پاکستان اور بنگلہ دیش کو دوبارہ ہندوستان سے ملانے کی اپیل کی۔
جدید دور میں روہنگیا مسلمانوں پر ہونے والے ہول ناک مظالم کے خلاف بھی جمعیت علمائے ہند نے بنگلہ دیش کی دھرتی پر تاریخی راحتی اور تعلیمی خدمات انجام دیں۔ میانمار میں 1982ئ کے شہریت قانون، اور پھر 1978ئ، 1991ئ اور 2012ئ کے مظالم کے بعد، جب 25/اگست 2017ئ کو وہاں منظم نسل کشی کا آغاز ہوا، تو ساڑھے سات لاکھ سے زائد روہنگیا مسلمان ہجرت کر کے بنگلہ دیش کے کاکس بازار کیمپوں میں پناہ گزین ہوئے۔ اس نازک وقت میں، 28/ستمبر 2017ئ کو جاری پریس بیان کے مطابق، جمعیت کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی کی قیادت میں ایک وفد کاکس بازار پہنچا اور ’’اصلاح المسلمین پریشد بنگلہ دیش‘‘ کے اشتراک سے بڑے پیمانے پر ریلیف آپریشن شروع کیا، جس کے تحت لمبوسیا کیمپ میں علما کے مابین نقد رقم تقسیم کی گئی اور 26/ستمبر 2017ئ کو ’’مدنی مرکز‘‘ کی بنیاد رکھی گئی۔ پناہ گزینوں کی بڑھتی تعداد کے پیش نظر، 17/اکتوبر 2017ئ کو جاری پریس بیان کے مطابق، جمعیت کے وفد نے نیاپاڑہ اور بالو خالی کیمپوں کا تفصیلی جائزہ لے کر وہاں 45 سے زائد عارضی مساجد اور مکاتب قائم کیے، برمی اساتذہ کا تقرر کیا، اور سینکڑوں واش رومز، ہینڈ پمپ اور بیوا¶ں کے لیے رہائشی نظام قائم کیا۔ اس کے بعد، 27/نومبر2017ئ کی پریس ریلیز کے مطابق، جمعیت نے کوتوپالنگ اور موتو چھورا کیمپوں میں ایک ہزار شیلٹر ہومز قائم کیے اور ڈھائی کروڑ مالیت کی فوڈ کٹس تقسیم کیں۔ بالآخر، رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں، 13/مئی 2019ئ کو جمعیت نے یوکے (UK) یونٹ کے تعاون سے مدینہ منورہ کی 25/ہزار کلو گرام کھجوریں ان مظلوم خاندانوں میں تقسیم کیں۔
اس طرح، 1971ئ کے بحران سے لے کر روہنگیا مہاجرین کی بازآبادکاری تک، جمعیت علمائے ہند نے برصغیر پاک، ہند اور بنگلہ دیش میں امن، انسانیت اور مظلوموں کی داد رسی کے لیے ہمیشہ ایک یادگار اور فعال کردار ادا کیا ہے۔





















