جمعیت علمائے بسنت رائے کا دسواں ”گاؤں گاؤں نوجوانوں اور عوامی بیداری پروگرام“ مدنی چک میں کامیابی کے ساتھ منعقد
بتاریخ: 17 جون 2026، بروز بدھ (نمائندہ بسنت رائے)
جمعیت علمائے بسنت رائے کے زیرِ اہتمام جاری ”گاؤں گاؤں نوجوانوں اور عوامی بیداری پروگرام“ کے سلسلے کی دسویں کڑی 17 جون 2026 بروز بدھ ابراہمی مسجد، مدنی چک میں نہایت کامیابی، نظم و ضبط اور عوامی جوش و خروش کے ساتھ منعقد ہوئی۔ اس پروگرام میں ایک خاص بات رہی کہ تقریبا ڈیڑھ سو عورتیں بھی مسجد سے پچپن میٹر کی دوری پر مکتب کی جگہ میں ڈیڈھ سو عورتیں بھی موجود تھیں ، اس بیداری مہم کا بنیادی مقصد نوجوان نسل اور عوام میں ایمان و عقیدہ کی مضبوطی، دینی شعور کی بیداری، اخلاقی تربیت اور مثبت فکری رجحانات کو فروغ دینا ہے۔پروگرام کا آغاز حافظ امتیاز صاحب مدنی چک کی پُرسوز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جبکہ جمعیت علمائے بسنت رائے کے نائب ناظم اور مدرسہ فخر الاسلام، کوریانہ کے مہتمم مولانا شمیم صاحب نے نعتِ رسولِ مقبول صلی اللہ علیہ وسلم پیش کرکے محفل کو روحانی کیفیت سے معطر کردیا۔ ابتدا ہی سے حاضرین میں غیر معمولی سنجیدگی، توجہ اور دلچسپی دیکھی گئی، جس نے پورے پروگرام کو ایک مؤثر اور پُراثر ماحول عطا کیا۔پروگرام کے پہلے اہم عنوان ”اپنے ایمان کا محاسبہ کیجیے“ پر جمعیت علمائے بسنت رائے کے صدر اور بانی و مہتمم جامعۃ الہدی، جہاز قطعہ، مفتی محمد نظام الدین قاسمی نے نہایت فکر انگیز اور منفرد انداز میں پروجیکٹر کے ذریعے پریزنٹیشن پیش کی۔ انہوں نے حاضرین کو اپنے ایمان، اخلاق، باہمی تعلقات اور دینی ذمہ داریوں کا جائزہ لینے کی دعوت دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ ایمان صرف عقائد اور عبادات تک محدود نہیں، بلکہ اس کے تقاضوں میں حسنِ اخلاق، محبت، اخوت اور معاشرتی ذمہ داریاں بھی شامل ہیں۔ آبادی کے اعتبار سے دینی اور تعلیمی جائزہ بھی لیا گیا ، مدنی چک میں مسلمان گھر دوسو ہیں ، اوٹر سات سو کے قریب ہے ، کل آبادی اکیس سو ہیں ، بچے اور بچیوں کی تعداد چھ سو کی ہے ، دو مسجد اور دو مکتب ہے ایک مدرسہ کو ایک مکتب کے ساتھ ملا دیا گیا ہے ، اسکول ہے ، کل بچے چھ سو ہیں ، دونوں مکتب میں دوسو ہیں اور اسکول میں ڈیڈھ سو کے قریب گویا کہ چھ سو میں سے ساڑھے تین سو ہی بچے دینی اور عصری تعلیم سے جڑے ہوئے ہیں ، ڈھائی سو بچے ابھی بھی وہ ہیں جو کہیں سے جڑا ہوا نہیں ہے ـ مسجد سے جڑے ہوئے نمازی پچاس کے قریب ہیں ، اتنا ہی عورتیں بھی ہوں گی تو کل نمازی سو گیے ، تبلیغ سے کچھ ہی لوگ جڑے ہیں ، گویا کہ کل آبادی کا اکثر حصہ مدرسہ مکتب اسکول مسجد اور تبلیغی جماعت سے دور ہیں ، اس تجزیاتی رپورٹ پر عوام نے کمی کا احساس کیاـاس کے بعد ”سات بنیادی عقائد“ کے موضوع پر جمعیت علمائے بسنت رائے کے ناظم اور جامعہ خدیجۃ الکبریٰ کے بانی و مہتمم، مفتی محمد زاہد امان قاسمی نے نہایت مؤثر اور عام فہم انداز میں پریزنٹیشن پیش کی۔ انہوں نے عقیدہ کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ صحیح عقیدہ ہی انسان کے ایمان کی بنیاد اور نجات کا ذریعہ ہے۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ، فرشتوں، آسمانی کتابوں، رسولوں، یومِ آخرت، تقدیر اور مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیے جانے پر ایمان کی اہمیت کو نہایت آسان انداز میں بیان کیا اور حاضرین سے عملی مشق بھی کرائی۔بعد ازاں مفتی محمد نظام الدین قاسمی نے ”ریل سے ریئل تک“ کے عنوان سے نوجوانوں کی فکری، تعلیمی اور عملی تربیت پر مبنی ایک مؤثر پریزنٹیشن پیش کی۔ انہوں نے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہر انسان کو اپنی زندگی کا واضح ہدف، مضبوط مقصد اور بلند خواب متعین کرنا چاہیے۔ مقصد کے تعین کے بعد اس کے حصول کے لیے مسلسل محنت، وقت کی منصوبہ بندی اور استقامت ناگزیر ہے۔ انہوں نے مختلف مثالوں اور بصری پریزنٹیشنز کے ذریعے واضح کیا کہ بے مقصد زندگی انسان کی صلاحیتوں کو ضائع کر دیتی ہے، جبکہ واضح نصب العین انسان کو کامیابی کی راہوں پر گامزن کرتا ہے۔اس کے بعد مفتی محمد نظام الدین قاسمی نے حاضرین سے کلمۂ طیبہ کی صحیح تلفظ کے ساتھ اجتماعی تصحیح کرائی، جس میں شرکاء نے نہایت دلچسپی اور انہماک کے ساتھ حصہ لیا۔ بعد ازاں ذکرِ جہری کی مجلس قائم ہوئی، جس میں حاضرین نے خشوع و خضوع کے ساتھ شرکت کی۔پروگرام کے اختتام پر مولانا سرفراز صاحب قاسمی، بڑی سانکھی نے اپنے تاثرات پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کے بیداری پروگرام وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پروجیکٹر اور جدید ڈیجیٹل وسائل کے ذریعے پیغام کو عوام تک پہنچانا انسانی نفسیات کے عین مطابق ہے، کیونکہ اس انداز سے پیش کی جانے والی باتیں لوگوں کے ذہنوں میں زیادہ گہرائی کے ساتھ نقش ہوجاتی ہیں۔ انہوں نے خصوصیت کے ساتھ حاضرین کو قرآنِ کریم اور مکاتب سے اپنے اور اپنی نسل کے تعلق کو مضبوط بنانے کی تلقین بھی کی۔آخر میں ابراہمی مسجد، مدنی چک کے امام و خطیب مولانا محمد آصف قاسمی نے جمعیت علمائے بسنت رائے کی پوری ٹیم اور تمام سامعین کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام علمی، فکری اور دینی بیداری کے اعتبار سے نہایت مفید اور مؤثر ثابت ہوا۔ انہوں نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ اس پروگرام کی ایک خاص بات یہ رہی کہ مکتب کی جگہ پر خواتین کی بڑی تعداد شریک ہوئی تھی۔ ان کے لیے الگ سے پروجیکٹر کے انتظامات کیے گئے تھے، لیکن تکنیکی وجوہات کی بنا پر وہ بروقت چل نہ سکا۔ اس پر انہوں نے خواتین سے معذرت کا اظہار کیا اور آئندہ خالص خواتین کے لیے اسی نوعیت کا ایک خصوصی پروگرام منعقد کرنے کا وعدہ کیا۔پروگرام میں مدنی چک کے نوجوانوں اور بزرگوں نے نہایت جوش و خروش، دلچسپی اور ذمہ داری کے ساتھ شرکت کی۔ خصوصاً گاؤں کے متعدد نوجوانوں نے پروگرام کی تیاری، انتظامات اور عوام کو اس بیداری مہم سے جوڑنے میں قابلِ قدر کردار ادا کیا، جن میں حافظ یاسر عرفات، محمد جاوید، محمد نہال اختر، حافظ محمد یونس، ماسٹر محمد منور صاحب، ماسٹر محمد مختار صاحب، ڈیلر محمد عظیم الدین صاحب، محمد شریف عرف بسو، محمد کیف، محمد جسیم، محمد یونس (والڈنگ)، محمد سرفراز صاحب اور محمد تسنیم صاحب قابلِ ذکر ہیں۔اسی طرح گاؤں کے معزز بزرگوں اور سرکردہ شخصیات نے بھی پروگرام میں بھرپور شرکت فرما کر اس بیداری مہم کی حوصلہ افزائی کی، جن میں محمد چولہائے صاحب، محمد نعیم الدین صاحب، محمد مرشد صاحب (بڑا)، محمد مقصود صاحب، محمد انور علی عرف پیرو، محمد اقبال صاحب، محمد نظام صاحب، محمد ادریس صاحب، محمد مقبول صاحب، محمد عثمان صاحب، محمد رفیق صاحب، محمد ظفیر صاحب، محمد مظہر عرف چنو مرر اور محمد مظہر گارڈ صاحب کے اسمائے گرامی خصوصیت کے ساتھ قابلِ ذکر ہیں۔قابلِ ذکر ہے کہ پروگرام میں پروجیکٹر کے مکمل انتظام، تنصیب، آپریٹنگ اور اختتامی مراحل کی ذمہ داری حافظ نور الزماں، جناب اسماعیل صاحب اور محمد فرقان صاحب نے نہایت محنت، ذمہ داری اور خوش اسلوبی کے ساتھ انجام دی۔






















