سوشل میڈیا کے مسلسل مشاہدے سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ علمی، فکری، تاریخی اور تجزیاتی نوعیت کے معیاری مضامین—جو غور و فکر کے متقاضی ہوتے ہیں—عموماً توجہ سے محروم رہتے ہیں؛ نہ انہیں خاطر خواہ لائکس ملتے ہیں، نہ شیئرز اور نہ ہی بامعنی تبصرے۔ اس کے برعکس سطحی، تفریحی اور لایعنی مواد تیزی سے مقبول ہو جاتا ہے، اور اس پر لائکس، کمنٹس اور شیئرنگ کی بھرمار نظر آتی ہے۔اسی تناظر میں جنتر منتر کے مظاہرے کے دوران بعض نوجوانوں کی جانب سے نامناسب اور غیر مہذب طرزِ اظہار نے ان کی تربیت اور فکری بالیدگی پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔شاید یہی نسلِ نو اور سوشل میڈیائی جنریشن کی وجہِ امتیاز ہے، جہاں سنجیدگی کے بجائے وقتی تفریح کو فوقیت دی جا رہی ہے۔
محمد یاسین جہازی






















