تدریسی اصول، بنیادی مرحلے (Foundational Stage) کے لیے مناسب کلاس روم کی تدریسی حکمت عملیوں سے متعلق تمام فیصلوں کی بنیاد ہوتے ہیں۔درج ذیل اصول کلاس روم کی منصوبہ بندی اور تدریس کی رہنمائی کرتے ہیں:a. اس مرحلے پر نشوونما اور سیکھنے کے لیے ایک محفوظ اور متحرک ماحول بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔سرگرمیاں خوشگوار ہوتی ہیں اور بچے کی تمام حواس (senses) کو استعمال کرنے کی ترغیب دیتی ہیں۔کلاس رومز تنوع اور چیلنج فراہم کرتے ہیں۔تدریسی انتخاب کرتے وقت جسمانی اور جذباتی تحفظ سب سے اہم ہے۔کلاس رومز صاف ستھرے، خوشگوار، ہوا دار اور روشن تعلیمی مقامات ہوتے ہیں۔b. اس مرحلے پر کھیل، سیکھنے اور نشوونما کا مرکزی حصہ ہے۔کھیل آزادانہ (free)، ہدایت یافتہ (guided)، یا منظم (structured) ہو سکتا ہے۔بات چیت، کہانیاں، موسیقی، حرکات، فنون (arts)، دستکاری (craft)، کھلونے اور کھیل، سب کھیل کا حصہ ہیں اور بچوں کو کھیل میں مشغول کرنے کے طریقے ہیں – مزید نئے طریقے بھی ایجاد کیے جا سکتے ہیں۔بیرونی کھیل (Outdoor play) کی فعال طور پر حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔c. استاد اور بچے کے درمیان شفقت آمیز تعلقات تدریس اور سیکھنے کی بنیاد ہوتے ہیں۔بچوں کی بات کو توجہ سے سننا اور مکمل طور پر ‘ان کے ساتھ موجود ہونا’ اہم ہے۔d. اس مرحلے پر جسمانی نشوونما بہت اہم ہے۔کلاس روم کی سرگرمیاں بڑی اور باریک حرکتی مہارتوں (gross and fine motor skills) اور جسمانی حرکت کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں۔یہ سماجی، جذباتی اور ادراکی (cognitive) نشوونما میں بھی مدد کرتا ہے۔e. ہر بچہ اپنی رفتار سے سیکھتا ہے اور ان کی سیکھنے کی ضروریات پر انفرادی طور پر توجہ دی جاتی ہے۔مختلف بچے ایک ہی صورتحال پر مختلف ردعمل دیتے ہیں۔ایک ہی بچہ، مختلف اوقات میں، ایک جیسی صورتحال پر مختلف ردعمل دے سکتا ہے۔تمام بچوں کو کلاس روم میں اس انداز میں حصہ لینے کے مواقع فراہم کیے جاتے ہیں جو ہر بچے کے لیے سب سے زیادہ مناسب ہو۔f. بنیادی مرحلے کے بچے اپنی مادری زبان میں سب سے زیادہ پرسکون ہوتے ہیں اور بہترین سیکھتے ہیں۔تدریس اور باہمی گفتگو کی زبان بچے کی گھر کی زبان / مادری زبان / واقف زبان ہوتی ہے۔کلاس روم میں مادری زبان کے استعمال کو سراہا جاتا ہے اور اس کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔اسکول کی زبانوں میں منتقلی (جب وہ مادری زبان سے مختلف ہوں) نرم اور ہمیشہ مادری زبان کے سہارے سے کی جاتی ہے۔بچوں کو زیادہ سے زیادہ اپنے اظہار کی ترغیب دی جاتی ہے اور ان کی بولی جانے والی زبان کی بنیاد پر ان پر کبھی کوئی تنقید یا ڈانٹ ڈپٹ نہیں کی جاتی۔g. کلاس روم میں سیکھنے کے تجربات بچوں کی زندگیوں اور ان کے پس منظر سے گہرے جڑے ہوتے ہیں۔مقامی کہانیوں، نظموں، گانوں، کھیلوں، دستکاری اور مقامی اشیاء کا بڑے پیمانے پر استعمال کیا جاتا ہے۔کلاس روم میں بچوں کی مادری زبان کا خیرمقدم کیا جاتا ہے اور درحقیقت اس کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔h. سیکھنے کے تجربات اس طرح ترتیب دیے جاتے ہیں جو بچوں کی پہلے سے موجود سمجھ بوجھ کو آگے بڑھاتے ہیں۔اس اصول کی بنیاد پر منصوبہ بندی آسان سے پیچیدہ خیالات اور تصورات کی طرف بڑھتی ہے۔مادری زبان کا استعمال اس عمل کو آسان بناتا ہے۔i. کلاس روم کا نظام نشوونما کے تمام شعبوں (Domains) کو احاطہ کرتا ہے۔جسمانی نشوونما، سماجی، جذباتی و اخلاقی نشوونما، ادراکی (Cognitive) نشوونما، اور جمالیاتی و ثقافتی نشوونما سے متعلق سرگرمیوں کے درمیان توازن برقرار رکھا جاتا ہے۔
حوالہ NCF, SECTION 4.1
مترجم: محمد یاسین جہازی






















