سختی اور تحقیر نہیں، آسانی اور حسنِ سلوک
آج ہمارے معاشرے میں ذمہ داری اور اختیار کے ساتھ سختی، ڈانٹ ڈپٹ اور تحقیر کو بھی گویا انتظامی صلاحیت کی علامت سمجھ لیا گیا ہے، حالاں کہ نبی اکرم ﷺ کی تعلیمات اس کے بالکل برعکس ہیں۔
1۔ آج جب تک مہتمم اساتذہ پر سختی نہ کرے، تب تک بعض مہتممین اپنے اہتمام کو ناقص سمجھتے ہیں۔
2۔ جب تک متولی اپنے امام اور مؤذن پر ظلم نہ کرے، تب تک وہ اپنی تولیت کو ناقص سمجھتا ہے۔
3۔ آج جب تک کسی ادارے اور تنظیم کا نگران اپنے اسٹاف کو بے جا نہ ڈانٹے، تب تک وہ اپنی باس گیری کو مکمل نہیں سمجھتا۔
4۔ آج جب تک کوئی مالک اپنے ماتحت ملازم کو ذلیل اور رسوا نہ کر دے، تب تک اسے اپنے مالک ہونے پر یقین نہیں ہوتا۔
ان تمام رویوں کے مقابلے میں نبی اکرم ﷺ کا یہ ارشاد ہمارے لیے بہترین رہنما ہے کہ سرورِ کائنات ﷺ ہر پہلو میں لوگوں کے لیے آسانی چاہتے تھے، سختی نہیں:
بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ ﷺ: يَسِّرُوا وَلَا تُعَسِّرُوا،
وَكَانَ يُحِبُّ التَّخْفِيفَ وَالْيُسْرَ عَلَى النَّاسِ.
حَدَّثَنَا أَدَمُ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ: قَالَ النَّبِيُّ ﷺ:
يَسِّرُوا وَلَا تُعَسِّرُوا، وَسَكِّبُوا/وَسَكِّنُوا وَلَا تُنَفِّرُوا.
(صحيح البخاري،کتاب الأدب)
ترجمہ:
نبی کریم ﷺ کے اس فرمان کا بیان کہ آسانی پیدا کرو اور تنگی نہ کرو’، اور آپ لوگوں پر آسانی اور تخفيف کو پسند فرماتے تھے۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: لوگوں کے لیے آسانی پیدا کرو اور تنگی نہ کرو، ان کے دلوں کو سکون دو اور انھیں (دین سے) متنفر نہ کرو۔
محمد یاسین جہازی





















