محمد یاسین جہازی
فرقہ پرست عناصر کا کہنا ہے کہ تقسیم سے پہلے ہونے والے تین بڑے انتخابات 1945–46 میں مسلمانوں نے اپنا آخری اجتماعی سیاسی فیصلہ سنا دیا تھا۔
ان انتخابات میں مسلم لیگ نے پاکستان کے نام پر ووٹ مانگا تھا اور دیگر جماعتوں نے ہندستان کی آزادی کے نام پر۔
پہلے الیکشن یعنی دسمبر 1945 کے مرکزی انتخابات میں کل 102 نشستوں میں سے مسلمانوں کے لیے 30 نشستیں مخصوص تھیں، اور یہ تمام 30 نشستیں مسلم لیگ نے جیتیں۔
دوسرے الیکشن یعنی جنوری تا فروری 1946 کے کل 11 صوبائی انتخابات میں کل 1585 نشستوں میں سے 509 نشستیں مسلمانوں کے لیے تھیں، جن میں سے 425 یعنی 83.5% پر مسلم لیگ کامیاب ہوئی۔
تیسرے الیکشن یعنی جولائی 1946 کی آئین ساز اسمبلی میں کل 296 نشستوں میں سے مسلم لیگ نے 73 نشستیں حاصل کیں۔
ان کے مطابق ان تینوں انتخابات کے نتائج سے ثابت ہوتا ہے کہ برصغیر کے مسلمانوں نے واضح طور پر مسلم لیگ اور پاکستان کے حق میں فیصلہ دیا تھا۔ اس لیے ہندستان میں رہ جانے والے مسلمانوں کا مساوی شہری حقوق کا مطالبہ بے بنیاد ہے، کیوں کہ یہ ان کے اپنے ماضی کے اجتماعی فیصلے کے خلاف ہے۔ اس لیے سبھی مسلمانوں کو پاکستان چلے جانا چاہیے۔
جواب:
جواب کے مکمل پس منظر کو سمجھنے کے لیے پہلے اس حقیقت کو سمجھنا ضروری ہے کہ ٹو نیشن تھیوری کیا سبھی مسلمانوں کا متفقہ نصب العین تھا یا حقیقت کچھ اور تھی؟
آئیے تھوڑا تفصیل سے سمجھتے ہیں۔
نوٹ: جواب کے لیے اگلی تحریر کا انتظار کریں۔
محمد یاسین جہازی






















