بھارت کی آزادی کے بعد ملک کو صد فیصد تعلیم یافتہ بنانے کے مقصد سے وقتاً فوقتاً مختلف ایجوکیشن کمیشن تشکیل دیے گئے۔ ان کمیشنوں کا بنیادی ہدف یہ تھا کہ عالمی سطح پر بچوں کی نفسیات، ذہنی ارتقاء اور تعلیمی ضروریات پر ہونے والی جدید تحقیقات کی روشنی میں ایسا نظامِ تعلیم وضع کیا جائے جو محض معلومات کی ترسیل تک محدود نہ ہو، بلکہ فہم و ادراک کو بیدار کرے، حقیقی زندگی سے ہم آہنگ ہو، تخلیقی و تعمیری صلاحیتوں کو فروغ دے اور معاشی و سماجی ترقی میں معاون ثابت ہو۔چنانچہ ان کمیشنوں نے نصابِ تعلیم، طریقۂ تدریس، تدریسی اوقات، تعلیمی ماحول اور بچوں کی نفسیاتی، جسمانی، ادراکی، حرکی، حسی اور جذباتی نشوونما جیسے اہم پہلوؤں پر نہایت وقیع اور قابلِ عمل سفارشات پیش کیں۔ یہ سفارشات ایک متوازن اور ہمہ جہت شخصیت کی تعمیر کے لیے سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہیں۔اس کے برعکس اگر مدارسِ اسلامیہ کی صورتِ حال کا جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت افسوس کے ساتھ سامنے آتی ہے کہ یہاں تعلیمی نظام کے مختلف پہلوؤں—خواہ وہ نصاب ہو، طریقۂ تعلیم ہو، طلبہ کی نفسیات ہو یا ادارہ جاتی ڈھانچہ—پر سنجیدہ تحقیق کا فقدان پایا جاتا ہے۔ تحقیق تو درکنار، ان تعلیمی کمیشنوں کی سفارشات سے استفادہ کرنے کا شعور بھی عمومی طور پر پیدا نہیں ہو سکا۔ نتیجتاً مدارس کا نظام ایک حد تک جمود کا شکار ہو کر دورِ حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگی کھوتا جا رہا ہے، جس سے اس کی افادیت بھی متاثر ہو رہی ہے۔لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ مدارس کے ذمہ داران جدید تعلیمی کمیشنوں کی سفارشات کا سنجیدگی سے مطالعہ کریں اور ادارہ، نصاب، طلبہ اور تدریسی نظام کے ہر پہلو میں ان رہنما اصولوں کو حکمت کے ساتھ نافذ کریں، تاکہ مدارس اپنی دینی شناخت برقرار رکھتے ہوئے عصری تقاضوں سے ہم آہنگ ہو سکیں اور ایک مؤثر، متوازن اور فعال تعلیمی نظام کے طور پر ابھر سکیں۔
محمد یاسین جہازی




















