جمعیت علماء بلاک بسنت رائے کی ’’گاؤں گاؤں مثالی مسجد‘‘ مہم جاری
بلاک بسنت رائے، ضلع گڈا، 16 ستمبر 2026ء
جمعیت علماء بلاک بسنت رائے، ضلع گڈا کی جانب سے گاؤں گاؤں مساجد کو عبادت، تعلیم، دعوت اور خدمتِ خلق کا فعال مرکز بنانے کے لیے شروع کی گئی ’’گاؤں گاؤں مثالی مسجد‘‘ مہم کا سلسلہ جاری ہے۔ اس سلسلے میں بدھ 16 ستمبر کی صبح جمعیت علماء بلاک بسنت رائے کے مرکزی دفتر، جامعۃ الہدیٰ جہاز قطعہ سے صدر جمعیت مفتی محمد نظام الدین قاسمی دھپرا گاؤں کے لیے روانہ ہوئے، جہاں فجر کی نماز مسجد میں ادا کرانے کے بعد اہل مسجد اور مقامی افراد کے ساتھ مثالی مسجد کے تصور اور اس کو عملی شکل دینے کے طریقۂ کار پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
اس موقع پر فجر کی نماز کے بعد مسجد میں موجود نمازیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مفتی محمد نظام الدین قاسمی نے کہا کہ مسجد صرف نماز پڑھنے کی جگہ نہیں بلکہ پورے معاشرے کی دینی اور اصلاحی زندگی کا مرکز ہونی چاہیے۔ مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے لیے اس سلسلے میں بہترین نمونہ ہے، جہاں عبادت کے ساتھ تعلیم، تربیت، دعوت، اصلاح اور معاشرتی خدمت کے متعدد کام انجام دیے جاتے تھے۔
انہوں نے کہا کہ مثالی مسجد کا مطلب صرف خوب صورت اور پُررونق عمارت نہیں، بلکہ ایسی مسجد ہے جس کے اثرات مسجد کی چار دیواری سے نکل کر پورے گاؤں کی زندگی میں محسوس ہوں۔ اس کے لیے سب سے پہلے مسجد کو نماز، ذکر، تلاوت اور دیگر عبادات کے ذریعے حقیقی معنوں میں آباد کرنا ہوگا۔ جب مسجد عبادت کے اعتبار سے زندہ ہوگی تو اس سے وابستہ لوگوں کے اندر اللہ تعالیٰ سے تعلق اور دینی زندگی کی مضبوطی پیدا ہوگی۔
انہوں نے مزید کہا کہ مسجد کا دوسرا اہم میدان تعلیم و تربیت ہے۔ بچوں کے لیے مکتب کا مضبوط انتظام، قرآن و حدیث کی تعلیم، بڑوں کے لیے دینی تعلیم، نوجوانوں کی اخلاقی تربیت اور خواتین و بچیوں کے لیے مناسب دینی تعلیم کا اہتمام کیا جائے، تاکہ مسجد کا فائدہ صرف نمازیوں تک محدود نہ رہے بلکہ پورے گاؤں کے ہر اور ہر گھر کے ہر فرد تک پہنچے۔
مفتی محمد نظام الدین قاسمی نے دعوت و اصلاح کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ مسجد سے وابستہ افراد کو اپنے ان بھائیوں کی بھی فکر کرنی چاہیے جو کسی وجہ سے مسجد سے دور ہیں۔ ان تک محبت، حکمت اور خیرخواہی کے ساتھ دین کی بات پہنچائی جائے اور انہیں مسجد کے دینی ماحول سے جوڑنے کی کوشش کی جائے۔ اس طرح مسجد پورے گاؤں میں دینی بیداری اور اصلاح کا ذریعہ بن سکتی ہے۔
انہوں نے خدمت خلق کو بھی مثالی مسجد کا ایک بنیادی وصف قرار دیتے ہوئے کہا کہ گاؤں میں کون غریب ہے، کون بیمار ہے، کس گھر میں پریشانی ہے، کس بچے کی تعلیم رک رہی ہے اور کون ضرورت مند ہے، مسجد کے ذمہ داروں کو اس کی خبر ہونی چاہیے۔ مسجد اگر عبادت کے ساتھ ضرورت مندوں کی خبرگیری اور انسانیت کی خدمت کا مرکز بن جائے تو اس کا دائرۂ اثر بہت وسیع ہوجاتا ہے۔
دھپرا کی مسجد میں موجود اہلِ بستی نے گفتگو میں دلچسپی کا اظہار کیا اور اس بات پر اتفاق کیا کہ مسجد کو مرحلہ وار زیادہ فعال بنانے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔ اس دوران آئندہ بدھ سے مسجد میں مستقل طور پر مختصر پروگرام کے ذریعہ درسِ تفسیر قرآن شروع کرنے کا بھی ارادہ کیا گیا ہے، تاکہ عام لوگوں کو قرآن مجید کا ترجمہ، مفہوم اور عملی پیغام باقاعدگی سے سمجھنے کا موقع مل سکے۔
اسی سلسلے میں مکتب کے قیام اور عورتوں کے بیان کے لیے جس جگہ پر کام جاری ہے، اس مقام کا بھی نماز کے بعد معائنہ کیا گیا اور مکتب کے تعلیمی نظام کو مزید منظم کرنے کے حوالے سے گفتگو ہوئی۔
بعد ازاں اہلِ مسجد کی جانب سے چائے کا بھی اہتمام کیا گیا۔ اس موقع پر جناب حافظ جمال صاحب رکن عاملہ جمعیت علماء بلاک بسنت رائے ، جناب ذوالفقار صاحب ذمہ دار مسجد دھپرا ، جناب غفران صاحب اور دیگر مقامی افراد کے علاوہ مسجد کے امام اور جمعیت علماء بلاک بسنت رائے کے رکن مولانا صدام صاحب بھی موجود رہے۔
واضح رہے کہ جمعیت علماء بلاک بسنت رائے نے ہر گاؤں کی مسجد کو دینی، تعلیمی، دعوتی، اصلاحی اور سماجی سرگرمیوں کا مرکز بنانے کے مقصد سے ’’گاؤں گاؤں مثالی مسجد‘‘ مہم شروع کی ہے، جمعیت کی کوشش ہے کہ یہ مہم محض ایک عنوان یا وقتی پروگرام نہ رہے بلکہ ہر مسجد میں مستقل اور قابلِ عمل دینی و سماجی سرگرمیوں کی بنیاد بنے۔




















