ہفتہ, فروری 28, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Jahazi Media – Latest News, Articles & Insights
  • ہوم
  • جمعیۃ علماء ہند
  • اسلامیات
  • زبان و ادب
  • مضامین
    • All
    • جاوید اختر بھارتی
    • دیگر مضامین
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    آج یوم تاسیس تحریک تبلیغ ہے

    ڈیجیٹل محبت، آن لائن کھیل اور کم سن ذہنایک خاموش سماجی بحران کی دستک

    آج یوم تاسیس تحریک تبلیغ ہے

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی اور ترک موالات کا آغاز کیسے ہوا؟

    طرزِ داستان بدلے

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    دارالعلوم دیوبند کی "مسجدِ قدیم”

    جناب منورزماں سر کی نصیحت آموز باتیں

    جناب منورزماں سر کی نصیحت آموز باتیں

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    استھانواں کے محسن اعظم الحاج سید تقی الدین استھانوی مرحوم

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    مولانا سید سلیمان اشرف بہاری ۔۔حالات زندگی سے متعلق چند اہم اطلاعات

    مولانا حکیم الدین صاحب قاسمی

    مولانا حکیم الدین صاحب قاسمی

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    اپنی اپنی بولیاں سب بول کر اڑجائیں گی

    غالب نامہ کا متن

    تحریک ریشمی رومال خط نمبر تین

    Trending Tags

    • Golden Globes
    • Mr. Robot
    • MotoGP 2017
    • Climate Change
    • Flat Earth
  • اہم خبریں
    • All
    • اتر پردیش
    • دہلی
    • دیگر ریاستیں
    باشندگان بہار سے ایک دردمندانہ و مخلصانہ اپیل و گزارش

    سابق چیف الیکشن کمیشن آف انڈیا  سے جہازی مکالمات

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    آؤ نسل کو سنواریں، مستقبل بنائیں

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    بھارت کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کا کردار: سیمینار اختتام پذیر

    باشندگان بہار سے ایک دردمندانہ و مخلصانہ اپیل و گزارش

    بہار کا فیصلہ — کانگریس کیلئے سخت پیغام

    مفتی اعظم ہند پر سیمنار 21-22نومبر کو نئی دہلی میں

    مفتی اعظم ہند پر سیمنار 21-22نومبر کو نئی دہلی میں

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کے 34ویں فقہی سمینار کی روداد

    مولانا محمود مدنی کو ملا صدارت کا چارج۔ٹرم  2024-2027 کا ہوا آج سے آغاز، 29 اکتوبر 2027ء تک کے لیے صدر منتخب

    مولانا محمود مدنی کو ملا صدارت کا چارج۔ٹرم 2024-2027 کا ہوا آج سے آغاز، 29 اکتوبر 2027ء تک کے لیے صدر منتخب

    وقف ایکٹ کے خلاف جدو جہد جاری رہے گی

    وقف ایکٹ کے خلاف جدو جہد جاری رہے گی

    16 نومبر 2025 کو مسلم پرسنل لاء بورڈ کا عظیم الشان اجلاس ہوگا

    16 نومبر 2025 کو مسلم پرسنل لاء بورڈ کا عظیم الشان اجلاس ہوگا

  • غزل
  • ترجمہ و تفسیر قرآن
    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    Trending Tags

    • Sillicon Valley
    • Climate Change
    • Election Results
    • Flat Earth
    • Golden Globes
    • MotoGP 2017
    • Mr. Robot
  • ہوم
  • جمعیۃ علماء ہند
  • اسلامیات
  • زبان و ادب
  • مضامین
    • All
    • جاوید اختر بھارتی
    • دیگر مضامین
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    آج یوم تاسیس تحریک تبلیغ ہے

    ڈیجیٹل محبت، آن لائن کھیل اور کم سن ذہنایک خاموش سماجی بحران کی دستک

    آج یوم تاسیس تحریک تبلیغ ہے

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی اور ترک موالات کا آغاز کیسے ہوا؟

    طرزِ داستان بدلے

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    دارالعلوم دیوبند کی "مسجدِ قدیم”

    جناب منورزماں سر کی نصیحت آموز باتیں

    جناب منورزماں سر کی نصیحت آموز باتیں

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    استھانواں کے محسن اعظم الحاج سید تقی الدین استھانوی مرحوم

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    مولانا سید سلیمان اشرف بہاری ۔۔حالات زندگی سے متعلق چند اہم اطلاعات

    مولانا حکیم الدین صاحب قاسمی

    مولانا حکیم الدین صاحب قاسمی

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    اپنی اپنی بولیاں سب بول کر اڑجائیں گی

    غالب نامہ کا متن

    تحریک ریشمی رومال خط نمبر تین

    Trending Tags

    • Golden Globes
    • Mr. Robot
    • MotoGP 2017
    • Climate Change
    • Flat Earth
  • اہم خبریں
    • All
    • اتر پردیش
    • دہلی
    • دیگر ریاستیں
    باشندگان بہار سے ایک دردمندانہ و مخلصانہ اپیل و گزارش

    سابق چیف الیکشن کمیشن آف انڈیا  سے جہازی مکالمات

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    آؤ نسل کو سنواریں، مستقبل بنائیں

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    بھارت کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کا کردار: سیمینار اختتام پذیر

    باشندگان بہار سے ایک دردمندانہ و مخلصانہ اپیل و گزارش

    بہار کا فیصلہ — کانگریس کیلئے سخت پیغام

    مفتی اعظم ہند پر سیمنار 21-22نومبر کو نئی دہلی میں

    مفتی اعظم ہند پر سیمنار 21-22نومبر کو نئی دہلی میں

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کے 34ویں فقہی سمینار کی روداد

    مولانا محمود مدنی کو ملا صدارت کا چارج۔ٹرم  2024-2027 کا ہوا آج سے آغاز، 29 اکتوبر 2027ء تک کے لیے صدر منتخب

    مولانا محمود مدنی کو ملا صدارت کا چارج۔ٹرم 2024-2027 کا ہوا آج سے آغاز، 29 اکتوبر 2027ء تک کے لیے صدر منتخب

    وقف ایکٹ کے خلاف جدو جہد جاری رہے گی

    وقف ایکٹ کے خلاف جدو جہد جاری رہے گی

    16 نومبر 2025 کو مسلم پرسنل لاء بورڈ کا عظیم الشان اجلاس ہوگا

    16 نومبر 2025 کو مسلم پرسنل لاء بورڈ کا عظیم الشان اجلاس ہوگا

  • غزل
  • ترجمہ و تفسیر قرآن
    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    Trending Tags

    • Sillicon Valley
    • Climate Change
    • Election Results
    • Flat Earth
    • Golden Globes
    • MotoGP 2017
    • Mr. Robot
No Result
View All Result
Jahazi Media – Latest News, Articles & Insights
No Result
View All Result
Home مضامین

ڈیجیٹل محبت، آن لائن کھیل اور کم سن ذہنایک خاموش سماجی بحران کی دستک

by Md Yasin Jahazi
فروری 28, 2026
in مضامین
0
آج یوم تاسیس تحریک تبلیغ ہے
0
SHARES
0
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

: عبدالحلیم منصور غازی آباد

میں تین کم سن بہنوں کی المناک موت نے ڈیجیٹل عہد کے ایک ایسے پہلو کو بے نقاب کر دیا ہے جس پر عموماً سنجیدہ مکالمہ کم اور وقتی تشویش زیادہ دکھائی دیتی ہے۔ یہ واقعہ محض ایک گھریلو سانحہ یا چند لمحوں کی خبر نہیں، بلکہ ایک گہرے سماجی بحران کی علامت ہے، جو اس سوال کو ازسرِنو ہمارے سامنے رکھتا ہے کہ آن لائن دنیا، خصوصاً گیمز اور سوشل پلیٹ فارمز، ہمارے بچوں اور نوعمر ذہنوں پر کس حد تک اثر انداز ہو رہے ہیں۔ابتدائی تفتیش کے مطابق 16، 14 اور 12 سالہ تینوں بہنیں ایک آن لائن کوریائی ٹاسک بیسڈ ’’لو گیم‘‘ میں غیر معمولی حد تک ملوث تھیں۔ شواہد سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ وابستگی محض تفریح تک محدود نہیں رہی بلکہ رفتہ رفتہ ان کی نفسیاتی دنیا پر حاوی ہو گئی۔ ماہرینِ نفسیات کے مطابق کم عمر بچے آن لائن تجربات اور حقیقی زندگی کے درمیان واضح حد قائم کرنے میں اکثر ناکام رہتے ہیں، خاص طور پر اس وقت جب کسی کھیل یا ڈیجیٹل سرگرمی کو محبت، قربانی، راز داری اور ’’آخری امتحان‘‘ جیسے جذباتی تصورات کے ساتھ جوڑ دیا جائے۔ ایسے میں کھیل ایک فرضی مشغلہ نہیں رہتا بلکہ ذہنی دباؤ کی ایک شکل اختیار کر لیتا ہے۔اس سانحے کی تفصیلات اس خدشے کو مزید تقویت دیتی ہیں۔ ایک عینی شاہد کے مطابق تینوں بہنیں بالکونی کے قریب ایک ساتھ نظر آئیں، گویا کسی اجتماعی فیصلے پر پہنچ چکی ہوں۔ یہ منظر اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ معاملہ کسی لمحاتی جذباتی ردِعمل کا نہیں بلکہ ایک طویل ذہنی دباؤ اور نفسیاتی الجھن کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔ فارنزک ماہرین اور تفتیشی ادارے ڈیجیٹل آلات، چیٹس اور گیم سے جڑے ٹاسکس کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں تاکہ یہ سمجھا جا سکے کہ آن لائن ہدایات اور ڈیجیٹل تعاملات نے ان کم سن ذہنوں پر کس نوعیت کا اثر ڈالا۔یہ پہلا موقع نہیں کہ ڈیجیٹل دنیا کسی ایسے المیے کا سبب بنی ہو۔ 2017 میں ’’بلیو وہیل چیلنج‘‘ نے ہندوستان سمیت دنیا کے کئی ممالک میں شدید تشویش پیدا کی تھی۔ اس وقت بھی ابتدا میں ان واقعات کو افواہوں یا انفرادی معاملات کے طور پر نظر انداز کیا گیا، مگر بعد ازاں درجنوں جانوں کا ضیاع اس سوچ کی سنگینی کو آشکار کر گیا۔ غازی آباد کا سانحہ اسی تلخ حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ ہم نے ماضی کے تجربات سے پوری طرح سبق نہیں سیکھا اور آج بھی بچوں کی ڈیجیٹل دنیا کو سنجیدگی سے سمجھنے میں ناکام ہیں۔ماہرینِ نفسیات اس نکتے پر متفق ہیں کہ آج کا نوعمر بچہ اسکرین پر موجود اپنے اوتار یا آن لائن شناخت کے ساتھ جذباتی رشتہ قائم کر لیتا ہے۔ آہستہ آہستہ حقیقی زندگی کے مسائل، رشتے اور ذمہ داریاں پس منظر میں چلی جاتی ہیں اور ورچوئل دنیا ہی اصل حقیقت محسوس ہونے لگتی ہے۔ اس کیفیت میں تنہائی، کم گفتگویی، والدین سے فاصلہ اور جذباتی عدم استحکام معمول بن جاتا ہے۔ جب حقیقی دنیا میں سننے والا کوئی نہ ہو تو آن لائن دنیا ایک پُرکشش مگر جھوٹا سہارا فراہم کرتی ہے، جو بعض اوقات خطرناک انجام تک لے جا سکتا ہے۔یہاں اصل سوال یہ نہیں کہ آن لائن گیمز یا ٹیکنالوجی بذاتِ خود غلط ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے اپنے بچوں کو اس دنیا کے لیے ذہنی طور پر تیار کیا ہے؟ کیا والدین جانتے ہیں کہ ان کے بچے اسکرین پر کیا دیکھ رہے ہیں، کس سے بات کر رہے ہیں اور کن ذہنی مراحل سے گزر رہے ہیں؟ اکثر گھروں میں بچوں کی خاموشی یا حد سے زیادہ موبائل استعمال کو مصروفیت یا خود کفالت سمجھ لیا جاتا ہے، حالانکہ یہی خاموشی کسی اندرونی اضطراب یا مدد کی غیر محسوس پکار بھی ہو سکتی ہے۔یہ بحران صرف خاندان تک محدود نہیں بلکہ تعلیمی ادارے بھی اس اجتماعی ناکامی کا حصہ ہیں۔ اسکول اور کالج بچوں کو امتحان، مقابلہ اور نتائج کے لیے تو تیار کرتے ہیں، مگر زندگی کے دباؤ، ناکامی کے خوف اور ذہنی الجھنوں سے نمٹنے کی عملی تربیت نہایت محدود ہے۔ ذہنی صحت آج بھی ہمارے تعلیمی نظام میں ایک ثانوی موضوع سمجھی جاتی ہے، جبکہ عالمی ادارے مسلسل خبردار کر رہے ہیں کہ نوعمر بچوں میں اضطراب، ڈپریشن اور ذہنی دباؤ کے واقعات میں تشویشناک اضافہ ہو رہا ہے۔ریاست اور پالیسی سازوں کی ذمہ داری بھی اس معاملے میں غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ آن لائن گیمز اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے لیے عمر کی حد، مواد کی نگرانی، نفسیاتی انتباہات اور ہنگامی شکایت کے مؤثر نظام کو محض کاغذی ضابطوں تک محدود رکھنا سنگین غفلت کے مترادف ہے۔ ایسے گیمز یا ایپس جو نفسیاتی ہیرا پھیری، جذباتی دباؤ یا خود کو نقصان پہنچانے کے رجحان کو بڑھاوا دیں، ان کے خلاف فوری اور سخت کارروائی ناگزیر ہے۔ انسانی زندگی کو کاروباری مفاد سے بالاتر رکھنا ہی کسی بھی ریاست کا اصل امتحان ہوتا ہے۔اس پورے منظرنامے میں سب سے زیادہ تشویشناک پہلو نسلِ نو کا مستقبل ہے۔ یہ وہ بچے ہیں جن کے ہاتھوں میں کل کی باگ ڈور ہونی چاہیے تھی، مگر ہم نے انہیں ایسے بوجھ تھما دیے ہیں جو ان کے نازک ذہن برداشت نہیں کر سکتے۔ ہم ایک ایسی نسل کی پرورش کر رہے ہیں جو بظاہر جدید، باخبر اور باصلاحیت ہے، مگر اندرونی طور پر شدید تنہائی، بے یقینی اور دباؤ کا شکار ہے۔ اگر اس حقیقت کو آج سنجیدگی سے تسلیم نہ کیا گیا تو آنے والے برسوں میں ایسے سانحات معمول بنتے چلے جائیں گے۔غازی آباد کا واقعہ ایک واضح وارننگ ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ بچوں کو کنٹرول نہیں بلکہ توجہ کی ضرورت ہے، نگرانی نہیں بلکہ رفاقت کی ضرورت ہے، اور نصیحت نہیں بلکہ مکالمے کی ضرورت ہے۔ مسئلہ ٹیکنالوجی کا نہیں بلکہ ہماری ترجیحات، ہماری خاموشیوں اور ہماری اجتماعی غفلت کا ہے۔ اگر آج ہم نے اپنی نسلِ نو کی ذہنی صحت، جذباتی سلامتی اور انسانی رشتوں کو سنجیدگی سے نہ لیا تو کل ہمارے پاس افسوس کے سوا کچھ باقی نہیں رہے گا۔غازی آباد کا سانحہ ہمیں صرف افسردہ نہیں کرتا بلکہ بے چین بھی کرتا ہے۔ یہ واقعہ ہمیں آئینہ دکھاتا ہے کہ ہم نے ترقی، سہولت اور مصروفیت کے نام پر اپنے بچوں سے گفتگو کا دروازہ کب بند کر دیا۔ آج کا کم سن ذہن شور سے بھری اس دنیا میں سب سے زیادہ توجہ، تحفظ اور رہنمائی کا محتاج ہے، مگر وہی ذہن سب سے زیادہ تنہا چھوڑ دیا گیا ہے۔ اسکرین کے پیچھے چھپی ہوئی دنیا نے رشتوں کی حرارت چھین لی ہے، اور ہم نے خاموشی کو سکون سمجھنے کی خطرناک غلطی کی ہے۔یہ المیہ ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ اگر بچے اپنے خوف، الجھن اور دباؤ کا اظہار والدین، اساتذہ یا سماج سے نہیں کر پا رہے تو وہ کہاں جائیں گے؟ آن لائن کھیل، ورچوئل تعلقات اور ڈیجیٹل چیلنج اسی خلا کو پُر کرتے ہیں، مگر یہ خلا پُر نہیں ہوتا، بلکہ گہرا ہو جاتا ہے۔ یہ صرف تین زندگیاں نہیں جو ختم ہوئیں، بلکہ ہمارے اجتماعی شعور، ہماری ترجیحات اور ہماری ذمہ داریوں پر ایک سوالیہ نشان ثبت ہوا ہے۔اگر آج بھی ہم نے بچوں کی ذہنی صحت کو محض ایک ضمنی مسئلہ سمجھا، اگر ہم نے مکالمے کے بجائے خاموشی کو ترجیح دی، اور اگر ہم نے ٹیکنالوجی کے استعمال کو اخلاقی اور انسانی دائرے میں رکھنے کی سنجیدہ کوشش نہ کی، تو آنے والا وقت مزید تلخ خبریں ہمارے سامنے رکھے گا۔ غازی آباد کا واقعہ ہمیں متنبہ کر رہا ہے کہ ابھی بھی وقت ہے—سننے کا، سمجھنے کا اور سنبھالنے کا۔ ورنہ ہم ایک ایسی نسل کے وارث ہوں گے جو سب کچھ جانتی ہوگی، مگر جینے کی طاقت کھو چکی ہوگی۔؎ یہ کیسا دور ہے کہ سب کچھ تو ہے مگر کچھ بھی نہیں وہ بات جو دل کو چھو لے، اب دل میں اترتی ہی نہیںhaleemmansoor@gmail.comدسترخوان پر اترتا زہر:زرعی آلودگی، صنعتی فضلہ اور غذائی سلامتی کے بگڑتے قومی تقاضےاز: عبدالحلیم منصورکسی بھی ملک کی اصل طاقت اس کی فوجی یا معاشی برتری سے پہلے اس کی غذائی سلامتی میں مضمر ہوتی ہے۔ اگر خوراک محفوظ نہ ہو تو ترقی کے تمام دعوے کمزور بنیادوں پر کھڑے ہوتے ہیں۔ گزشتہ چند برسوں میں ہندوستان میں غذائی اشیاء میں کیڑے مار ادویات کی باقیات، دودھ اور مصالحہ جات میں ملاوٹ، اور پھلوں و سبزیوں میں بھاری دھاتوں کی موجودگی سے متعلق متعدد رپورٹس سامنے آتی رہی ہیں۔ عالمی سطح پر ماحولیاتی تبدیلی، بے ترتیب بارشیں، پانی کی قلت اور صنعتی آلودگی نے زرعی نظام کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ زمین کی زرخیزی میں کمی اور آلودہ آبی ذرائع نے خوراک کی زنجیر میں ایسے عناصر شامل کر دیے ہیں جو انسانی صحت کے لیے سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔اسی قومی اور ماحولیاتی پس منظر میں بنگلور کے اطراف فروخت ہونے والی سبزیوں کے بارے میں سامنے آنے والی تحقیق ایک اہم دستاویزی حیثیت رکھتی ہے۔ بعض خبریں محض اطلاع نہیں ہوتیں بلکہ اجتماعی ضمیر کو جھنجھوڑنے والی دستک ثابت ہوتی ہیں۔ حالیہ تحقیق کے مطابق مرکزی آلودگی کنٹرول بورڈ کی رپورٹ، جو قومی گرین ٹریبونل کی ہدایت پر تیار کی گئی، اس امر کی نشان دہی کرتی ہے کہ جانچے گئے 72 نمونوں میں سے 19 میں سیسے کی مقدار مقررہ حد سے زیادہ پائی گئی، جبکہ ایک نامیاتی قرار دیے گئے بینگن میں آلودگی کی سطح طے شدہ معیار سے کئی گنا زائد تھی۔ مٹی کے 26 نمونوں میں سے 23 میں آلودہ عناصر کی موجودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ مسئلہ سطحی نہیں بلکہ ساختی نوعیت کا ہے۔ مزید تشویش ناک امر یہ ہے کہ بعض سبزیوں میں ایسی زہریلی دوا کے آثار بھی ملے جن پر ملک میں پابندی عائد کی جا چکی ہے۔یہ اعداد و شمار محض تجربہ گاہوں کی فائلوں میں درج سطریں نہیں بلکہ شہری زندگی کے اس تضاد کی عکاسی کرتے ہیں جس میں ترقی کی رفتار اور ماحولیاتی توازن ایک دوسرے سے متصادم دکھائی دیتے ہیں۔ بنگلور، جو کبھی جھیلوں اور سرسبز فضا کا استعارہ سمجھا جاتا تھا، آج پانی کے بحران، زیر زمین ذخائر کی کمی اور بے ہنگم شہری توسیع کا سامنا کر رہا ہے۔ ایسے حالات میں مضافاتی علاقوں کے کسان جب آبپاشی کے لیے صاف پانی سے محروم ہوتے ہیں تو غیر صاف شدہ فضلہ پانی استعمال کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ یہ انتخاب عیش کا نہیں بلکہ بقا کا تقاضا ہوتا ہے، مگر جب یہی پانی مٹی میں سرایت کر کے سبزیوں کے ریشوں تک پہنچتا ہے تو اس کا اثر شہری دسترخوان پر ظاہر ہوتا ہے۔اس مسئلے کو محض ایک شہر تک محدود سمجھنا حقیقت سے چشم پوشی کے مترادف ہوگا۔ ملک کے دیگر شہری مراکز میں بھی صنعتی فضلہ، نکاسی آب کے ناقص نظام اور زرعی زمینوں کی قربت کے باعث اسی نوعیت کے خدشات سامنے آتے رہے ہیں۔ شہری پھیلاؤ نے زراعت اور صنعت کو ایک دوسرے کے قریب لا کھڑا کیا ہے، جہاں نگرانی اور منصوبہ بندی کی معمولی سی کوتاہی بھی وسیع سماجی اور طبی اثرات مرتب کر سکتی ہے۔اس تمام صورت حال میں صرف کسان کو موردِ الزام ٹھہرانا نہ منصفانہ ہے اور نہ حقیقت پسندانہ۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ نگرانی کا مربوط نظام کہاں ہے؟ کیا منڈیوں میں داخل ہونے والی سبزیوں کی باقاعدہ جانچ کا مؤثر ڈھانچہ موجود ہے جو ہر کھیپ کو معیار کی کسوٹی پر پرکھ سکے؟ اگر ممنوعہ ادویات کے آثار سامنے آ رہے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ پابندی کے نفاذ میں کمزوری ہے یا نگرانی کے نظام میں خلا موجود ہے۔ انتظامی غفلت اور منڈی کے دباؤ کے درمیان کسان سب سے کمزور حلقہ بن جاتا ہے اور صارف خاموش متاثرہ فریق۔طبی ماہرین کے مطابق سیسہ خصوصاً بچوں کی ذہنی نشوونما پر منفی اثر ڈال سکتا ہے، گردوں اور دل کے امراض کو بڑھا سکتا ہے، جبکہ بعض زہریلی ادویات اعصابی نظام، ہارمون کی ترتیب اور طویل المدت صحت پر گہرے اثرات مرتب کرتی ہیں۔ اس خطرے کی سنگینی اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ اس کے اثرات فوری طور پر ظاہر نہیں ہوتے بلکہ بتدریج جسم میں جمع ہو کر صحت کو متاثر کرتے ہیں۔ یوں شہری آبادی ایک ایسے خاموش بوجھ کو برداشت کر رہی ہے جس کا شمار کسی معاشی تخمینے میں شامل نہیں۔یہ مسئلہ صرف صحت کا نہیں بلکہ اعتماد کا بھی ہے۔ جب صارف منڈی سے سبزی خریدتا ہے تو وہ ایک غیر تحریری یقین کے ساتھ خریداری کرتا ہے کہ یہ غذا اس کی زندگی کو سہارا دے گی، نقصان نہیں پہنچائے گی۔ اگر یہ اعتماد مجروح ہو جائے تو اس کے اثرات معیشت، زراعت اور سماجی تعلقات تک پھیلتے ہیں۔ نامیاتی (آرگینک) یا دیسی کے عنوان سے فروخت ہونے والی اشیاء بھی اس وقت تک محفوظ قرار نہیں دی جا سکتیں جب تک مٹی اور پانی کا معیار یقینی نہ ہو۔ اس لیے مسئلے کی جڑ زمین اور پانی کے نظم و نسق میں پوشیدہ ہے۔شہری منصوبہ بندی، صنعتی فضلہ کے مؤثر انتظام، زرعی رہنمائی اور منڈی کی سخت نگرانی کو ایک جامع حکمت عملی کے تحت مربوط کرنا ناگزیر ہے۔ فضلہ پانی کی مناسب صفائی کے بغیر اس کے زرعی استعمال کی اجازت دینا مستقبل سے بے اعتنائی کے مترادف ہے۔ کسانوں کو محفوظ متبادل ادویات، تربیت اور معاشی معاونت فراہم کرنا ضروری ہے تاکہ وہ مجبوری میں نقصان دہ طریقے اختیار نہ کریں۔ منڈیوں میں باقاعدہ نمونہ گیری اور نتائج کی عوامی اشاعت شفافیت اور اعتماد کو مضبوط بنا سکتی ہے۔ شہریوں میں بھی آگہی کی ضرورت ہے کہ خوراک کی صفائی، موسمی پیداوار کو ترجیح اور ذمہ دارانہ خریداری کے رجحانات خطرات کو کسی حد تک کم کر سکتے ہیں۔خوراک کی سلامتی کوئی وقتی مہم نہیں بلکہ مسلسل نگرانی، اصلاح اور اجتماعی عزم کا تقاضا کرتی ہے۔ اگر اسے محض خبروں تک محدود رکھا گیا تو مسئلہ برقرار رہے گا۔ ترقی کو ماحولیاتی توازن کے ساتھ ہم آہنگ کرنا ہی پائیدار راستہ ہے، ورنہ وہی زمین جو رزق دیتی ہے، بیماری کا ذریعہ بن سکتی ہے۔معاشرہ صرف عمارتوں اور شاہراہوں سے نہیں بنتا بلکہ اس غذا سے تشکیل پاتا ہے جو اس کے جسموں اور اذہان میں داخل ہوتی ہے۔ اگر وہ غذا مشتبہ ہو جائے تو ترقی کا تصور بھی کمزور پڑ جاتا ہے۔ اس لیے لازم ہے کہ حکومت، ماہرین، کسان اور شہری سب مل کر اس مسئلے کو الزام تراشی کے بجائے اصلاح اور احتساب کے موقع کے طور پر دیکھیں۔ اگر کامل حل فوری طور پر ممکن نہ بھی ہو تو بھی اصلاح کی جستجو اور اجتماعی عزم ہی آگے بڑھنے کا راستہ فراہم کرتے ہیں۔

haleemmansoor@gmail.com

Md Yasin Jahazi

Md Yasin Jahazi

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

منتخب کردہ

تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

مولانا سید سلیمان اشرف بہاری ۔۔حالات زندگی سے متعلق چند اہم اطلاعات

2 ہفتے ago
روزے کا احترام

رمضان اور ہمارا ذوق و شوق

1 ہفتہ ago

مقبول

  • آج یوم تاسیس تحریک تبلیغ ہے

    ڈیجیٹل محبت، آن لائن کھیل اور کم سن ذہنایک خاموش سماجی بحران کی دستک

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • دارالامان میں نفلی صدقے کا وجوب

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی اور ترک موالات کا آغاز کیسے ہوا؟

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • طرزِ داستان بدلے

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • آج یوم تاسیس تحریک تبلیغ ہے

    0 shares
    Share 0 Tweet 0

ہم سے جڑیے

ہمارا خبری نامہ حاصل کریں

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetuer adipiscing elit. Aenean commodo ligula eget dolor.
SUBSCRIBE

زمرہ جات

اہم روابط

  • لاگ ان کریں
  • Entries feed
  • Comments feed
  • WordPress.org

ہمارے بارے میں

جہازی میڈیا باشعور افراد کی ایک ایسی تحریک ہے، جو ملت اسلامیہ کی نشاۃ ثانیہ کے لیے اپنی فکری و عملی خدمات پیش کرنے کے لیے عہدبند ہوتے ہیں۔ اس لیے ہر وہ شخص اس تحریک کا ممبر بن سکتا ہے، جو اس نظریہ و مقصد سے اتفاق رکھتا ہے۔

  • ہمارے بارے میں
  • قوائد و ضوابط
  • کاپی رائٹس
  • پرائیویسی پالیسی
  • رابطہ

© 2025 Jahazi Media Designed by Mehmood Khan 9720936030.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • ہوم
  • اسلامیات
  • جمعیۃ علماء ہند
  • زبان و ادب
  • قومی و بین الاقوامی
  • اہم خبریں
    • دہلی
    • اتر پردیش
    • کرناٹک
    • مہاراشٹر
  • غزل
  • مضامین
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • دیگر مضامین
  • ترجمہ و تفسیر قرآن

© 2025 Jahazi Media Designed by Mehmood Khan 9720936030.