جمعہ, اپریل 24, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Jahazi Media – Latest News, Articles & Insights
  • ہوم
  • جمعیۃ علماء ہند
  • اسلامیات
  • زبان و ادب
  • مضامین
    • All
    • جاوید اختر بھارتی
    • دیگر مضامین
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    اسرائیل کا وجود ایک ظلم ہے

    اسرائیل کا وجود ایک ظلم ہے

    باپ کا آشیانہ بکا تب بیٹی کا آشیانہ بسا

    باپ کا آشیانہ بکا تب بیٹی کا آشیانہ بسا

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    حضرت مولانا عبداللہ مغیثیؒ ایک عہد ساز شخصیت

    حضرت مولانا عبداللہ مغیثیؒ ایک عہد ساز شخصیت

    فرقہ وارانہ سیاست کا تاریخی پس منظر اور جمعیت علمائے ہند کا معقول اصولی موقف

    فرقہ وارانہ سیاست کا تاریخی پس منظر اور جمعیت علمائے ہند کا معقول اصولی موقف

    ہندستان فرقہ پرستی کی راہ پر

    وندے ماترم کی مخالفت پر ماتم کا مقصد

    امت مسلمہ پر یلغار

    ایرانی  قیادت کے استحکام کا راز ہے —موزیک سسٹم

    ایرانی  قیادت کے استحکام کا راز ہے —موزیک سسٹم

    فرقہ پرست ہندو استھان میں بدلتا بھارت

    عید کی رات آئیے کچھ خاص کرتے ہیں

    عید کی رات آئیے کچھ خاص کرتے ہیں

    Trending Tags

    • Golden Globes
    • Mr. Robot
    • MotoGP 2017
    • Climate Change
    • Flat Earth
  • اہم خبریں
    • All
    • اتر پردیش
    • دہلی
    • دیگر ریاستیں
    حضرت مولانا عبداللہ مغیثیؒ ایک عہد ساز شخصیت

    مدرسہ کے بچوں کو چائلڈ لائن کے حوالے کرنے کی مذمت

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    اتراکھنڈ و گجرات میں منظور یونیفارم سول کوڈ قطعی منظور نہیںآل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ

    آج یوم تاسیس تحریک تبلیغ ہے

    مبارک پور کی ایک پرنور شب: اہلِ دل کی صحبت میں

    باشندگان بہار سے ایک دردمندانہ و مخلصانہ اپیل و گزارش

    سابق چیف الیکشن کمیشن آف انڈیا  سے جہازی مکالمات

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    آؤ نسل کو سنواریں، مستقبل بنائیں

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    بھارت کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کا کردار: سیمینار اختتام پذیر

    باشندگان بہار سے ایک دردمندانہ و مخلصانہ اپیل و گزارش

    بہار کا فیصلہ — کانگریس کیلئے سخت پیغام

    مفتی اعظم ہند پر سیمنار 21-22نومبر کو نئی دہلی میں

    مفتی اعظم ہند پر سیمنار 21-22نومبر کو نئی دہلی میں

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کے 34ویں فقہی سمینار کی روداد

  • غزل
  • ترجمہ و تفسیر قرآن
    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    Trending Tags

    • Sillicon Valley
    • Climate Change
    • Election Results
    • Flat Earth
    • Golden Globes
    • MotoGP 2017
    • Mr. Robot
  • ہوم
  • جمعیۃ علماء ہند
  • اسلامیات
  • زبان و ادب
  • مضامین
    • All
    • جاوید اختر بھارتی
    • دیگر مضامین
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    اسرائیل کا وجود ایک ظلم ہے

    اسرائیل کا وجود ایک ظلم ہے

    باپ کا آشیانہ بکا تب بیٹی کا آشیانہ بسا

    باپ کا آشیانہ بکا تب بیٹی کا آشیانہ بسا

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    حضرت مولانا عبداللہ مغیثیؒ ایک عہد ساز شخصیت

    حضرت مولانا عبداللہ مغیثیؒ ایک عہد ساز شخصیت

    فرقہ وارانہ سیاست کا تاریخی پس منظر اور جمعیت علمائے ہند کا معقول اصولی موقف

    فرقہ وارانہ سیاست کا تاریخی پس منظر اور جمعیت علمائے ہند کا معقول اصولی موقف

    ہندستان فرقہ پرستی کی راہ پر

    وندے ماترم کی مخالفت پر ماتم کا مقصد

    امت مسلمہ پر یلغار

    ایرانی  قیادت کے استحکام کا راز ہے —موزیک سسٹم

    ایرانی  قیادت کے استحکام کا راز ہے —موزیک سسٹم

    فرقہ پرست ہندو استھان میں بدلتا بھارت

    عید کی رات آئیے کچھ خاص کرتے ہیں

    عید کی رات آئیے کچھ خاص کرتے ہیں

    Trending Tags

    • Golden Globes
    • Mr. Robot
    • MotoGP 2017
    • Climate Change
    • Flat Earth
  • اہم خبریں
    • All
    • اتر پردیش
    • دہلی
    • دیگر ریاستیں
    حضرت مولانا عبداللہ مغیثیؒ ایک عہد ساز شخصیت

    مدرسہ کے بچوں کو چائلڈ لائن کے حوالے کرنے کی مذمت

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    اتراکھنڈ و گجرات میں منظور یونیفارم سول کوڈ قطعی منظور نہیںآل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ

    آج یوم تاسیس تحریک تبلیغ ہے

    مبارک پور کی ایک پرنور شب: اہلِ دل کی صحبت میں

    باشندگان بہار سے ایک دردمندانہ و مخلصانہ اپیل و گزارش

    سابق چیف الیکشن کمیشن آف انڈیا  سے جہازی مکالمات

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    آؤ نسل کو سنواریں، مستقبل بنائیں

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    بھارت کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کا کردار: سیمینار اختتام پذیر

    باشندگان بہار سے ایک دردمندانہ و مخلصانہ اپیل و گزارش

    بہار کا فیصلہ — کانگریس کیلئے سخت پیغام

    مفتی اعظم ہند پر سیمنار 21-22نومبر کو نئی دہلی میں

    مفتی اعظم ہند پر سیمنار 21-22نومبر کو نئی دہلی میں

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کے 34ویں فقہی سمینار کی روداد

  • غزل
  • ترجمہ و تفسیر قرآن
    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    Trending Tags

    • Sillicon Valley
    • Climate Change
    • Election Results
    • Flat Earth
    • Golden Globes
    • MotoGP 2017
    • Mr. Robot
No Result
View All Result
Jahazi Media – Latest News, Articles & Insights
No Result
View All Result
Home مضامین جاوید اختر بھارتی

ماں جی آخر سوکھی روٹی کون کھاتا ہے

by Md Yasin Jahazi
اپریل 23, 2026
in جاوید اختر بھارتی
0
حضرت مولانا عبداللہ مغیثیؒ ایک عہد ساز شخصیت
0
SHARES
0
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

!!تحریر: جاوید بھارتی

خوش نصیب ہے وہ انسان جن کے والدین باحیات ہیں اور اس سے بھی زیادہ خوش نصیب انسان وہ ہے جو اپنے والدین کی خوب خدمت کرتا ہے کیونکہ اسلام کے اندر دو طرح کے حقوق ہیں ایک کا نام حقوق اللہ ہے تو دوسرے کا نام حقوق العباد ہے یاد رکھیں کہ حقوق اللہ میں کوتاہی ہوئی تو اللہ تبارک و تعالی اسے معاف کر سکتا ہے لیکن حقوق العباد میں کوتاہی ہوئی تو اللہ تبارک و تعالی اس وقت تک معاف نہیں کرے گا جب تک کہ بندہ خود معاف نہ کرے یہ بھی واضح رہے کہ اللہ تبارک و تعالی نے جہاں اسلامی احکامات پر عمل پیرا ہونے کا حکم دیا ہے اور جہاں حقوق العباد کا ذکر کیا ہے تو اس میں سب سے پہلے والدین کی خدمات کو ترجیح دی گئی ہے والدین کی بیٹے کے حق میں کی جانے والی دعا بڑی موثر ہوتی ہے والدین کا مقام و مرتبہ کیا ہے قران میں بھی ملتا ہے اور احادیث کی کتابوں میں بھی ملتا ہے ساتھی ہی بہت سارے بزرگان دین کے واقعات بھی ملیں گے جنہوں نے اپنے ماں باپ کی بے حد د خدمت کی ہے اج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے ماں باپ کی خدمت کریں ان کو کسی طرح کی تکلیف پہنچانے کا تصور میں بھی خیال نہ لائیں،، لیکن اج کے دور میں بڑا افسوس ہوتا ہے کہ والدین اور اولاد کے درمیان اکثر دوریاں کھائیاں دیکھنے کو ملتی ہیں سوشل میڈیا پر تو ماں باپ کی خدمت کرتے ہوئے خوب پرچار کیا جاتا ہے لیکن سچائی یہ ہے کہ یہ خدمات اللہ کی رضا کے لیے نہیں بلکہ سبسکرائبر اور فالور بڑھانے کے لیے کیا جاتا ہے اگر ایسا نہ ہوتا تو پھر اج بڑی تعداد میں والدین کو گھروں سے نکالا نہیں جاتا اور ہاسٹلوں میں بھیجا نہیں جاتا بلکہ اپنے گھر پر رکھ کر انہیں خوش کیا جاتا ان کی خدمت کیا جاتا ان کی ضروریات کا پورا پورا خیال رکھا جاتا اور ان سے دعائیں لی جاتی نتیجہ یہ ہوتا کہ اللہ تبارک و تعالی بھی خوش ہوتا اور بندہ قدم قدم پر کامیابیاں حاصل کرتا زید کے ہوٹل پر ایک بوڑھی عورت ہاتھوں میں خشک روٹی لے کر اتی ہے اور تندور پر موجود بکر نامی ملازم سے کہتی ہے اس روٹی کو ذرا گرم کر دو تندور پر کام کرنے والا بکر کہتا ہے کہ ہوٹل مالک سے اجازت لینا ضروری ہے اپ کاؤنٹر پر جائیے ہوٹل مالک سے اجازت لیجئے وہ اگر روٹی گرم کرنے کی اجازت دے دیں گے تو مجھے کوئی اعتراض نہیں ہوگا میں خوشی خوشی اپ کی روٹی گرم کر دوں گا بوڑھی عورت کاؤنٹر پر جاتی ہے ہوٹل کے مالک سے کہتی ہے کہ مجھے اس روٹی کو گرم کروانا ہے اپ اگر اجازت دے دیں تو اپ کا ملازم روٹی کو گرم کر دے گا اور میں اسے کھا کر اپنا پیٹ بھر لوں گی ہوٹل مالک نے بکر کو اواز دی اس ماں کی روٹی گرم کر دو تو بکر نے روٹی کو گرم کر کے بوڑھی عورت کے ہاتھوں میں دے دیا،، اب بوڑھی عورت ہاتھ میں روٹی لے کر دوبارہ کاؤنٹر پر جاتی ہے اور ہوٹل مالک کا شکریہ ادا کرتی ہے ہوٹل مالک پوچھتا ہے کہ ماں جی تمہارے پاس تو صرف روٹی ہے اخر اس روٹی کو کیسے کھاؤ گی روٹی کھانے کے لیے تو سبزی یا سالن کا ہونا ضروری ہے تو بوڑھی عورت نے کہا کہ میرے پاس پیاز ہے میں اس پیاد سے روٹی کھا لوں گی جب یہ بات سنی تو ہوٹل مالک نے کہا کہ نہیں ماں جی اخر پیاز سے بھی کوئی روٹی کھاتا ہے اپ ٹیبل پر بیٹھئیے میں اپ کے لیے سبزی اور سالن لگوا دیتا ہوں اپ بھر پیٹ کھا لیں تو وہ عورت کہتی ہے کہ نہیں ایک دن سبزی اور سالن کھا کر کیا کروں گی جب کہ روزانہ مجھے روٹی اور پیاز ہی کھانی ہے جب یہ بات سنی تو ہوٹل مالک کی انکھوں میں انسو اگئے اور وہ کھڑا ہو گیا پوچھتا ہے اور کہتا ہے کہ بھلا کوئی سوکھی روٹی بھی کھاتا ہے ماں جی،، مجھ سے سوکھی روٹی کھانے کا اور پیاز روٹی کھانے کا ماجرا کیا ہے یہ بتائیے-بوڑھی عورت کہتی ہے کہ بیٹا میری کہانی بڑی عجیب ہے ہمارا بھی ایک اچھا خاصا کنبہ تھا مکان تھا لیکن شوہر کا اچانک انتقال ہوگیا ، میری دنیا اجڑ گئی ، آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا ،، ایک بیٹا تھا جسے میں نے پال پوسٹ کر بڑا کیا پڑھا لکھا کر اس کو کسی قابل بنایا اور وہ سروس بھی کرنے لگا،، لیکن اس کی سوچ بدلتی گئی اور اپنے اپ کو بہت اونچے لیبل کا انسان سمجھنے لگا اس نے اپنی مرضی سے شادی بھی کی لیکن میں نے اس کی مخالفت نہیں کی کیونکہ اس کی خوشی میں میں اپنی خوشی سمجھتی تھی لیکن شادی کے بعد اس نے صرف اپنی بیوی کی باتوں کو ترجیح دی اور مجھے نظر انداز کرنے لگا میری باتوں کو ان سونی کرنے لگا نتیجہ یہ ہوا کہ اس کی بیوی کا مزاج دن پر دن گھٹیا ہوتا گیا اور وہ مجھ سے نفرت کرنے لگی ایک دن ایسا بھی ایا کہ اس کی بیوی کہتی ہے کہ اس گھر میں یا تو میں اور اپ یعنی ہم دونوں رہیں گے یا کہ پھر اپ کی ماں رہے گی میں اپ کی ماں کے ساتھ اس گھر میں نہیں رہ سکتی اب فیصلہ اپ کو کرنا ہے کہ اس گھر میں کون رہے گا،، بیوی کی باتوں کو سن کر اس نے مجھے گھر سے نکال دیا میں اب در در کی ٹھوکر کھا رہی ہوں میرے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں کہ میں اپنا پیٹ بھرنے کے لیے اٹا چاول دال سبزی اور سالن کا انتظام کروں ایک طویل عرصے سے میں پیاز روٹی سے اپنا گزارا کر رہی ہوں ،، اس عورت کی باتوں کو سن کر ہوٹل مالک رو پڑا اور کہتا ہے کہ بس اب تک جو ہوا ہوا لیکن اگے سے اپ کو پیاز روٹی نہیں کھانا ہے کیونکہ اپ کو بیٹے کی ضرورت ہے اور مجھے ایک ماں کی ضرورت ہے میری ماں کا ایک عرصہ ہوا انتقال ہو گیا میرے پاس سب کچھ ہے لیکن ایک ماں نہیں ہے اس لیے اپ سے میری درخواست ہے کہ اج سے مجھے اپنا بیٹا سمجھیں اور میں اپ کو اپنی ماں سمجھوں گا اور اج سے اپ کو میرے ہی گھر میرے ساتھ رہنا ہے اتنا کہنے کے بعد اپنے ہوٹل کے ایک ملازم سے کہتا ہے کہ انہیں میرے گھر پہنچا دو اج سے یہ میرے گھر میں رہیں گی اور اج سے یہی میری ماں ہیں -دنیا میں گنی چونی ایسی مائیں ہونگی جو اپنی اولاد سے محبت نہیں کرتی ورنہ اپنی اولاد کے لیے ماں کا دل کیسا ہوتا ہے اس کی ایک مثال تحریر کرنا انتہائی مناسب معلوم ہوتا ہے،، یعنی ایک بیٹا جو ماں کے ساتھ رہتا ہے ماں اپنے بیٹے سے بے پناہ محبت کرتی ہے اور بیٹا بھی اپنی ماں کو بہت چاہتا ہے اور اس کی خوب خدمت کرتا ہے لیکن ایک لڑکی اس سے فریبی محبت کرتی ہے اور یہ شرط لگاتی ہے کہ تم اپنی ماں کا کلیجہ میری خدمت میں پیش کرو گے تو میں سمجھوں گی کہ تم مجھ سے محبت کرتے ہو اور پھر میں بھی ہمیشہ کے لیے تمہاری ہو جاؤں گی بیٹے کے ذہن میں یہ بات گردش کرنے لگی اور اہستہ اہستہ اس کے قدم بہکنے لگے اخر وہ دن بھی اتا ہے کہ ہاتھوں میں چاقو اور تھالی لے کر رات کے اندھیرے میں ماں کے پاس پہنچتا ہے اور ماں کا کلیجہ نکال کر تھالی میں رکھ کر بڑی تیزی کے ساتھ عورت کے پاس پہنچنے کے لیے دوڑ لگاتا ہے راستے میں ٹھوکر لگتی ہے تو وہ گر جاتا ہے تھالی ہاتھوں سے چھوٹ جاتی ہے اور کلیجہ کہیں اور جھٹک کر گرتا ہے بڑی تیزی کے ساتھ اٹھنے کی کوشش میں پھر گر جاتا ہے اس سے گھٹنا چھل جاتا ہے اور بھی جسم کے مختلف حصوں میں چوٹ اتی ہے اس کے باوجود بھی وہ اٹھتا ہے تو ایک ہاتھ سے تھالی اٹھاتا ہے اور جلدی سے پہنچ کر کلیجے کو دوسرے ہاتھ سے اٹھا کر تھالی میں رکھتا ہے تو کلیجے سے اواز اتی ہے کہ اے بیٹا تجھے کہیں چوٹ تو نہیں ائی،، اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ایک ماں اپنے بیٹے سے کتنی محبت کرتی ہے-حقیقت تو یہ ہے کہ ایک بیٹا اپنی ماں کی خدمت میں پوری زندگی ختم کر دے اور ان خدمات میں بڑا سے بڑا کام کر دے یہاں تک کہ اپنے کندھے پر بٹھا کر اسے طواف تک بھی کرا دے تو بھی وہ ماں کا حق ادا نہیں کر سکتا یہاں تک کہ ماں کے لئے بیٹا چاہے جو کچھ بھی کر دے لیکن جب وہ چھوٹا تھا تو بستر پر پیشاب کر دیا کرتا تھا تو ماں اس بستر کو موڑ کر خشک حصے پر بیٹے کو سلا دیتی تھی اور خود بغیر بستر کے سو جایا کرتی تھی اس کا بھی حق ادا نہیں ہو سکتا حتیٰ کہ بیٹے کی ولادت کے وقت تکلیف کے باعث ماں کے منہ سے جو آہ نکلی اس کا بھی حق ادا نہیں ہو سکتا- +++++++++++++++++++++++++جاوید اختر بھارتی (سابق سکریٹری یوپی بنکر یونین) محمدآباد گوہنہ ضلع مئو یو پی

Md Yasin Jahazi

Md Yasin Jahazi

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

منتخب کردہ

الیکشن میں مسلمانوں کے لئے ترجیحات

بم دھماکے ، اسلامی نقطۂ نظر

5 مہینے ago
باب اول در بیان انجام مداہنت

مکمل آزادی کا مطالبہ سب سے پہلے کس نے کیا؟

3 مہینے ago

مقبول

  • اسرائیل کا وجود ایک ظلم ہے

    اسرائیل کا وجود ایک ظلم ہے

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • اشتعال انگیزی اور قانون کے غلط استعمال کا بڑھتا رجحان،

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  •  نبی اکرم  ﷺ کا آخری حج (حجۃ الوداع)قدم بہ قدم، منزل بہ منزل

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • باپ کا آشیانہ بکا تب بیٹی کا آشیانہ بسا

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  •  نبی اکرم  ﷺ کا آخری حج (حجۃ الوداع)قدم بہ قدم، منزل بہ منزل

    0 shares
    Share 0 Tweet 0

ہم سے جڑیے

ہمارا خبری نامہ حاصل کریں

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetuer adipiscing elit. Aenean commodo ligula eget dolor.
SUBSCRIBE

زمرہ جات

اہم روابط

  • لاگ ان کریں
  • Entries feed
  • Comments feed
  • WordPress.org

ہمارے بارے میں

جہازی میڈیا باشعور افراد کی ایک ایسی تحریک ہے، جو ملت اسلامیہ کی نشاۃ ثانیہ کے لیے اپنی فکری و عملی خدمات پیش کرنے کے لیے عہدبند ہوتے ہیں۔ اس لیے ہر وہ شخص اس تحریک کا ممبر بن سکتا ہے، جو اس نظریہ و مقصد سے اتفاق رکھتا ہے۔

  • ہمارے بارے میں
  • قوائد و ضوابط
  • کاپی رائٹس
  • پرائیویسی پالیسی
  • رابطہ

© 2025 Jahazi Media Designed by Mehmood Khan 9720936030.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • ہوم
  • اسلامیات
  • جمعیۃ علماء ہند
  • زبان و ادب
  • قومی و بین الاقوامی
  • اہم خبریں
    • دہلی
    • اتر پردیش
    • کرناٹک
    • مہاراشٹر
  • غزل
  • مضامین
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • دیگر مضامین
  • ترجمہ و تفسیر قرآن

© 2025 Jahazi Media Designed by Mehmood Khan 9720936030.