محمد یاسین جہازی
قرآنِ کریم میں منافقینِ مدینہ کا ذکر آتا ہے جو اپنی زبان اور اعمال کے ذریعے رسولِ اکرم ﷺ کو آپ کی ظاہری حیات میں ایذا پہنچاتے تھے، جس پر ان کے لیے عذابِ شدید اور ذلت کی وعید سنائی گئی۔ کفار، مشرکین اور منافقین نے حضور ﷺ کو جو تکالیف دیں، وہ اپنی جگہ ایک حقیقت ہیں۔لیکن غور طلب بات یہ ہے کہ آج ایک مسلمان، جو اپنے آپ کو حضور ﷺ کا امتی کہتا ہے، جب گناہوں میں مبتلا ہوتا ہے تو وہ بھی ایک طرح سے حضور ﷺ کو اذیت پہنچانے کا سبب بنتا ہے۔ کیونکہ روایات کے مطابق امت کے اعمال حضور ﷺ کی بارگاہ میں پیش کیے جاتے ہیں؛ نیک اعمال باعثِ خوشی اور برے اعمال باعثِ رنج ہوتے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی گناہ ایسا نہیں جس سے کسی نہ کسی کو تکلیف نہ پہنچے۔ اگر انسان یہ سمجھتا ہے کہ اس کے گناہوں سے کسی کو نقصان نہیں ہوتا تو یہ اس کی غلط فہمی ہے۔ گناہ نہ صرف معاشرے کو متاثر کرتے ہیں بلکہ روحانی طور پر رسولِ اکرم ﷺ کے قلبِ اطہر کو بھی رنجیدہ کرتے ہیں۔مرزا بیدل کے اشعار تصوف کے رنگ میں تھے۔ ایک ایرانی شخص ان کے کلام سے متاثر ہو کر انہیں بزرگ سمجھتے ہوئے ان کی خدمت میں حاضر ہوا۔ جب وہ پہنچا تو دیکھا کہ مرزا بیدل داڑھی منڈوا رہے ہیں۔ یہ منظر دیکھ کر اسے غصہ آیا اور اس نے کہا:”آپ داڑھی کیوں منڈوا رہے ہیں؟”مرزا بیدل نے جواب دیا: "میں اپنی داڑھی مونڈ رہا ہوں، کسی کا دل تو نہیں دکھا رہا۔”اس پر ایرانی نے کہا: "تم کہتے ہو کسی کا دل نہیں دکھاتے، حالانکہ تم رسول اللہ ﷺ کے دل کو تکلیف پہنچا رہے ہو۔ جب امت کے اعمال حضور ﷺ کے سامنے پیش ہوتے ہیں اور آپ کو معلوم ہوتا ہے کہ آپ کا ایک امتی ایسا عمل کر رہا ہے، تو کیا اس سے آپ ﷺ کو رنج نہیں ہوتا؟”یہ سن کر مرزا بیدل کی آنکھیں کھل گئیں، وہ بے ہوش ہو گئے۔ ہوش آنے پر انہوں نے توبہ کی اور اپنی کیفیت یوں بیان کی:جزاکَ اللہُ کہ چشمم باز کردیمرا با جانِ جاں ہمراز کردیاس حکایت سے معلوم ہوتا ہے کہ گناہ محض ذاتی عمل نہیں بلکہ اس کے اثرات وسیع ہوتے ہیں۔ ایک سچا مسلمان وہ ہے جو اپنے ہر عمل میں اس بات کا خیال رکھے کہ کہیں اس کے کسی قول یا فعل سے رسولِ اکرم ﷺ کو اذیت نہ پہنچے۔ یہی حقیقی محبت اور ادبِ رسول ﷺ کا تقاضا ہے۔



















