ملاحظات
مولانا عبدالحمید نعمانی
مسلمانوں کے خلاف ،ملک میں کس طرح حالات پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، اس کی طرف بہت سے معروف شخصیات کے علاوہ کئی عالمی ادارے بھی واضح اشارے آئے دن کرتے رہتے ہیں، یوپی کے وزیر اعلی، جس میں یوگی والی کوئی خوبی و صفت نظر نہیں آتی ہے، سنسکرت کا مول منتر و معروف شلوک بھی صحیح سے پڑھ نہیں پاتے ہیں، ان کی زبان سے کبھی کسی نے وید، اپنیشد ،رامائن، مہا بھارت، گیتا حتی کہ تلسی داس کے رام چرت مانس کی چوپائی بھی پڑھتے نہیں دیکھا، سنا ہوگا، اس کے برخلاف ہمیشہ انھیں دیگر خصوصا مسلمانوں کے خلاف زہر اگلتے اور تحقیر و تذلیل کرتے ہی دیکھا جاتا ہے، ٹھونکنے، مٹی میں ملا دینے بھیک منگوانے جیسی باتیں کرتے نظر آتے ہیں، مسلم سماج کے محترم طبقہ علماء کے بارے میں انتہائی تحقیر آمیز اور جارحانہ زبان کا استعمال کرتے ہیں، وہ فخریہ بیان کرتے ہیں کہ ہماری سرکار میں مسجد سے باہر نماز نہیں ہوتی ہے، اذان کی آواز دور تک سنائی نہیں دیتی ہے، ابھی حال ہی میں مغربی بنگال میں انتخابی مہم کے دوران میں مولانا مولوی کا غنڈے، مافیا کے ساتھ ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہماری ڈبل انجن کی سرکار بنتے ہی سب سڑکوں پر جھاڑو لگائیں گے، اردو نہیں بولی جائے گی ،بنگلہ بولی جائے گی، یہ وہ ہندی میں بتا رہے تھے، یوگی جی کے طرز فکر و عمل کی وجہ سے شدت پسند ہندوتو وادی عناصر کی پہلی پسند بن گئے ہیں، انھیں جلد سے جلد وزیراعظم کے روپ میں دیکھنا چاہتے ہیں، اشتعال انگیزی کرنے والے بی جے پی کے لیڈروں سے سبق و حوصلہ پا کر پورے ملک میں ہندوتو وادی عناصر اسلام اور مسلمانوں کے خلاف انتہائی اشتعال انگیز الفاظ و زبان کا استعمال کر کے سماج کو بارود میں بدلنے کا کام کر رہے ہیں، مذہبی پیشواؤں کے ساتھ، سیاسی لیڈروں کی طرف سے مختلف مذہبی اکائیوں اور تہذیب و روایات کے حامل باشندوں کو ایک دوسرے سے قریب لانے اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی پیدا کرنے اور ان کے درمیان موجود غلط فہمیوں اور دوریوں کو ختم اور کم کرنے کے بجائے خلیج کو بڑھانے کا کام کیا جا رہا ہے، حیرت ہے کہ شنکر آچاریہ وغیرہ بھی حالات کے بہاؤ میں بہتے نظر آتے ہیں، سوامی اویمکتیشورنند ایک طرف آر ایس ایس، بی جے پی، مودی، یوگی کے خلاف بولتے اور محاذ آرائی کرتے نظر آتے ہیں تو دوسری طرف مسلمانوں اور اسلام کے خلاف جارحانہ سوچ و رویہ رکھتے ہیں، یہ بھی ہندو مسلم اتحاد و یکجہتی کی بات نہیں کرتے ہیں، کئی سارے معاملے میں ہندوتو وادی عناصر کے ساتھ نظر آتے ہیں، ایسا لگتا ہے کہ اسلام اور مسلمانوں کے متعلق ان کے پاس کوئی بہتر جانکاری نہیں ہے، وہ کہتے ہیں کہ اسلامی شریعت اور قرآن کے حساب سے مسلمانوں کو بھارت میں نہیں رہنا چاہیے، یہ قطعی طور سے گمراہ کن جانکاری پر مبنی ہے، ہم نے بہ ذات خود اویمکتیشورنند کے گرو سوامی سروپا نند مہاراج کو اتم شرما کے ساتھ دہلی اور کنبھ میلے میں بتایا تھا کہ بھارت جیسے ملک کے بارے میں اسلامی شریعت و فقہ میں کیا کچھ کہا گیا ہے، جمعیۃ علماء ہند کے پیشاور اجلاس میں علامہ انور شاہ کشمیری رح کے خطبہ صدارت کے حوالے سے کئی نکات کو پیش کیا تھا، اس پر سروپا نند مہاراج نے کہا تھا کہ ساتھ ساتھ رہنے کے لیے یہ بہت اچھا ہے، آج کی تیز رفتار سائنسی ترقی اور ذرائع ابلاغ کے بہت سے آلات و وسائل کی موجودگی میں کسی بات کی جانکاری حاصل کرنا، کوئی زیادہ مشکل نہیں ہے، دیگر زبانوں کے علاوہ ہندی، انگریزی میں وسیع لٹریچر اور مواد دستیاب ہے، اس کے باوجود گمراہ کن بے تکی باتیں کر کے مختلف فرقوں میں قرب و یگانگت کے بجائے دوری و نفرت پیدا کرنے کی کوشش ،کسی بہتر سوچ کی نمائندگی نہیں کرتی ہے، وہ کہتے ہیں کہ ہم مسلمانوں کی بیماری کا علاج کرا سکتے ہیں لیکن مذہب کے معاملے میں تو دھرم کا ہی پالن کریں گے، اللہ، رام، دونوں کی بات الگ ہے، ایک نہیں ہے، اس کا مطلب صاف ہے کہ مذہب، دھرم کے فلسفہ و مقصد کو سمجھنے کی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی ہے، جس کا نتیجہ ہے کہ اللہ کو مسلمانوں کا سمجھ کر بہت سے لوگ اسے گالی دیتے اور مذاق اڑاتے نظر آتے ہیں، مسئلہ خالق و رب کائنات کے ایک ہونے کا ہے، اس کو بتانے کے لیے کس نام کا استعمال کیا جانا چاہیے، سدرشن چینل کے سریش چوہان جیسے لوگ تو مذہب و روحانیت کے معاملے میں ایک طرح لا علمی و جہالت میں مبتلا ہیں جو کہتے ہیں کہ اللہ کون ہے، مرد یا عورت؟ایسے لوگ کو یہی معلوم نہیں ہے کہ کائنات کی اصل طاقت و ذات میں مرد، عورت کا سوال، حماقت و جہالت پر مبنی ہے، صنف کی تقسیم و تفریق بہت بعد کا مرحلہ ہوتا ہے، خالق و رب کائنات کی ذات کی بات بہت بلند و بالا ہے، عورت کے شکم میں ابتدائی مادہ منویہ و تخلیق کو بھی مرد عورت کا نام و شناخت نہیں دیا جا سکتا ہے، خالق و رب کائنات، اللہ کی ذات تو ایسی اصل ہے، جس کی ابتداء و انتہا نہیں ہے، اس کی طرف ادنی عیب و کمزوری کی نسبت کرنا، دماغی فتور و فساد ہے، ہماری سریش چوہان سے کئی بار بحث و گفتگو ہوئی ہے، اس کو اسلام کیا، ہندو دھرم و درشن کی بھی صحیح جانکاری نہیں ہے، ہمارے وید، اپنیشد، پران، رامائن، مہا بھارت کے حوالے سے باتوں سے بغلیں جھانکتا نظر آیا، خالق و رب کائنات کے بارے میں مرد عورت کا ابلیسی خیال، فرقہ وارانہ ماحول اور دیوی دیوتاؤں کے متعلق غلط تصورات کی وجہ سے پیدا ہوا ہے، ہمارا ارادہ تھا کہ دھرم اور درشن پر بات چیت سے صحیح جگہ پہنچانے کی کوشش کی جائے، لیکن چوہان علمی بحث کا قطعی اہل نہیں ہے، خالق و رب کائنات کے بارے میں ہندوتو وادی سماج میں بھی اہل عرب مشرکین کی طرح غلط تصور رائج ہو گیا ہے، وہ فرشتوں کو ، دیوی، دختر تصور کرتے تھے، جو پوری طرح غلط ہے، رشتہ داری، محتاجی کی علامت ہے، اتنی چھوٹی سی بات، شرک میں مبتلا لوگ سمجھ نہیں پاتے ہیں، بھارت میں بھی بہت بعد کے دنوں میں رب و خالق کائنات کو مخلوقات کی سطح و زمرے میں لا کر، صحیح و غلط کو خلط ملط کر دیا گیا، حالاں کہ پرانوں تک کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ تمام دیوی دیوتا سب سے بڑی ذات و طاقت کے پیدا کردہ ہیں، ان کو اصل خالق و رب کائنات کے درجے میں رکھ کر دیکھنا، پوری طرح غلط اور ناکام سعی ہے، لیکن شنکر آچاریہ اویمکتیشورنند وغیرہ کو تو کم از کم سنجیدگی و سمجھ داری سے بات کہنی چاہیے، رام، رام چندر میں فرق کر کے واضح انداز میں بات کو سامنے رکھنا چاہیے، اگر رام، اصل معبود اور خالق و رب کا مصداق ہے تو تقسیم و تفریق کا کوئی معنی نہیں ہے، رام چندر تو مریادا پرشوتم، انسانی زمرے میں آتے ہیں، جیسا کہ آریا سماجی، کبیر، نانک، گاندھی جی وغیرہ مانتے رہے ہیں، آدرش، کبھی معبود نہیں ہو سکتا ہے، جیسا کہ آر ایس ایس بانی ڈاکٹر ہیڈ گیوار کا خیال ہے، آدرش شخصیت کو، خالق و رب کائنات کے آمنے سامنے کرنے کی کوشش، سراسر بھٹکاؤ کی علامت ہے، راجا رام موہن رائے اور سوامی دیانند وغیرہ تو خالق کے اوتار لینے کے عقیدہ ہی کے خلاف ہیں، آدرش کرداروں کو لے کر فرقہ وارانہ تفریق و تصادم پیدا کرنا ان کی صریح توہین اور ان کو چھوٹا کرنے کی غلط کوشش ہے اور یہی کچھ مبینہ دھرم گروؤں کے علاوہ، شدت پسند فرقہ پرست عام ہندوتو وادی عناصر بھی کرتے نظر آتے ہیں، وہ بھارت کی توسع پسند متنوع روایات کو تنگ دائرے اور وسیع سمندر کو تنگ گندے نالے میں بدلنے کا کام کر رہے ہیں، ملک اور عالمی عظیم رہنما کرداروں و شخصیات کے متعلق مسلمانوں میں کوئی دوری و مخالفت کا ذہن نہیں ہے، وہ ان کو محترم مانتے ہوئے ان کے تئیں احترام کا جذبہ رکھتے ہیں، جب کہ صیہونیوں، صلیبیوں اور ہندوتو وادیوں کا معاملہ مختلف و متصادم ہے، یہ بین مذاہب مکالمہ و مفاہمت اور عالمی امن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے، وہ موسی، عیسی و محمد علیہم السلام اور رام، کرشن اور دیگر عظیم شخصیات و کرداروں کے بارے میں کسی نہ کسی جہت سے نفرت و معاندت اور انکار کی راہ و روش اختیار کیے ہوئے ہیں، مسلمان واحد مذہبی اکائی و کمیونٹی ہے جو پیغمبر عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرتے ہوئے کلمہ سوا۶ کی بنیاد پر پورے عالم انسانی کو وحدت الہ اور وحدت انسانی کی دعوت دینے کی مضبوط پوزیشن میں ہے، اس کا فریب و لالچ اور زبردستی تبدیلی مذہب کرانے سے کوئی تعلق نہیں ہے، وحدت الہ و وحدت انسانی کی اصولی دعوت کی موجودگی سے سارے فرقہ پرست عناصر بری طرح ڈرے سہمے ہوئے ہیں، وہ اساسی عقیدہ اور نظریاتی و عملی مسائل کو لے کر از حد انتشار و کنفیوژن میں مبتلا ہونے کی وجہ سے متفقہ بنیادی عقائد و اعمال کی طرف دعوت دینے سے قاصر ہیں، اس سے توجہ ہٹانے کے لیے تمام شدت پسند فرقہ پرست عناصر حتی کہ مبینہ دھرم گرو اور سیاسی لیڈر اشتعال انگیز بیانات و خطابات اور فرقہ وارانہ الفاظ کے استعمال کا سہارا لے رہے ہیں، ایسی حالت میں مسلمانوں کی مذہبی، سماجی اور سیاسی قیادت کی بڑی ذمہ داری ہے کہ فرقہ پرست عناصر کو اصل مشترکہ پبلک سروکار والے مسائل سے توجہ ہٹانے کا راستہ، ہر ممکن طریقے سے روکے رکھے، وہ ذرائع ابلاغ کا سہارا لے کر تبدیلی مذہب قانون کا بہت ہی غلط استعمال کرتے نظر آتے ہیں، اس کو جانتے سمجھتے ہوئے کئی عدالتوں نے بھی سنجیدگی سے نوٹس لیا ہے، ایک منظم پروگرام کے تحت، منصوبہ بند طریقے سے کئی سارے بے قصور مسلمانوں پر جبری و لالچ یا دباؤ سے تبدیلی مذہب کے مختلف الزامات لگا کر ان کو جیلوں میں ڈال دیا جاتا ہے، ملازمت، زمین، مکان کی خریداری حتی کہ کرایے پر بھی مکان لینے کو من گھڑت مفروضہ جہاد کا نام دے کر مسلمانوں کو مین اسٹریم سے باہر کرنے کی مہم شروع کر دی ہے، جمعیۃ علماء ہند کے علاوہ کئی تنظیمیں تبدیلی مذہب قوانین اور ان کے غلط استعمال کو لے کر اعلی عدالتوں میں ہیں، ایک طرف، مبینہ ایکس مسلموں کی حوصلہ افزائی کر کے ان سے اسلام، قرآن اور مسلمانوں پر جارحانہ حملے و تنقید کرائے جاتے ہیں، اس کے لیے میڈیا کی کی کئی ٹیم مصروف عمل ہے تو دوسری طرف جبری تبدیلی مذہب قانون کا سہارا لے کر کوئی بھی غلط الزام لگا کر مسلمانوں کو گرفتار کرانے کی کوشش کی جاتی ہے، یہ اس قدر واضح ہے کہ اسے ہر کوئی کھلی آنکھوں دیکھ رہاہے، عقیدہ و مذہب کا انتخاب، آدمی کی آئین کی مذہبی آزادی اور مطمئن ہو کر فکر و عمل کو اختیار کر کے زندگی گزارنے کا اہم مسئلہ ہے، اس میں تیسرے فریق کی غلط مداخلت سے اصل صاحب معاملہ کے انتخاب عقیدہ و عمل کی آزادی متاثر ہونے کے علاوہ وضع کردہ قانون کا نظام و مقصد فوت و متاثر ہوتا ہے، اس کی طرف حالیہ دنوں میں الہ آباد ہائی کورٹ نے واضح طور سے اشارہ و تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ پولیس اور تیسرے فریق کی جانب سے قانون کے غلط استعمال کا ایک پریشان کن رجحان سامنے آ رہا ہے، جو انصاف کے نظام کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے، اس پر قدغن لگانا انصاف و آزادی کے تحفظ کے لیے ضروری ہے، فرقہ وارانہ اشتعال انگیزی پر روک بھی سیکولر، آزاد جمہوری بھارت کی بقا۶ و تعمیر کے بھی ضروری ہے، یہ حکومت اور عوام دونوں کے کرنے کا کام ہے،



















