بتاریخ: 3 جون 2026
جمعیت علمائے بسنترائے کے زیرِ اہتمام جاری "گاؤں گاؤں نوجوانوں اور عوامی بیداری پروگرام” کے سلسلے کی چھٹی کڑی 3 جون 2026 کو سانکھی میں نہایت مؤثر انداز میں منعقد ہوئی۔
پروگرام کا آغاز مولانا ضیاء الحق کی تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جبکہ قاری کلیم الدین صاحب جہازی (استاد جامعۃ الہدی، جہاز قطعہ) نے نعتِ رسول ﷺ پیش کر کے محفل کو روحانی فضا سے معطر کیا۔
اس پروگرام میں مقامی افراد کے علاوہ جوار کے اراکینِ منتظمہ جمعیت علماء بسنترائے نے بھی شرکت کی، جن میں مولانا مجیب الحق صاحب (امام جامع مسجد جھپنیا) اور مولانا شمس پرویز صاحب قاسمی (امام جامع مسجد کیتھ پورا) کے نام قابلِ ذکر ہیں۔
"آئیے اپنے ایمان کا محاسبہ کیجئے” کے عنوان سے مولانا محمد یاسین جہازی قاسمی نے ایک نہایت دل چسپ، فکر انگیز اور مؤثر پریزنٹیشن پیش کی۔ انہوں نے سلام، مصافحہ اور معانقہ کے عملی طریقوں کے ذریعے حاضرین کے ایمان و عقیدے سے متعلق معلومات کا جائزہ لیا، جس سے یہ حقیقت سامنے آئی کہ مسلمانوں کی بڑی تعداد اپنے بنیادی عقائد سے ناواقف ہے۔مولانا نے سانکھی بستی کا تفصیلی ڈیٹا پیش کرتے ہوئے بتایا کہ تقریباً ایک ہزار مسلم آبادی پر مشتمل اس بستی میں دینی ضروریات کے لیے صرف ایک مسجد اور مکتب موجود ہے، جس میں تقریباً 60 بچے زیرِ تعلیم ہیں، جبکہ مسجد میں نمازیوں کی تعداد 30 سے 40 کے درمیان ہے۔ مزید یہ کہ تبلیغی جماعت سے وابستہ افراد کی تعداد صرف چھ ہے۔ مجموعی طور پر ایک ہزار مسلمانوں میں سے صرف 106 افراد ایسے ہیں جو براہِ راست اپنے ایمان و عقیدے کی فکر رکھتے ہیں، جبکہ باقی 894 افراد دینی شعور سے تقریباً محروم ہیں۔انہوں نے اس تشویشناک صورتحال پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اگر مسلمان اپنے ایمان و عقیدے کی حفاظت نہیں کریں گے تو ان کا مذہبی وجود خطرے میں پڑ جائے گا، اور یہی غفلت مستقبل میں ان کے سیاسی وجود کو بھی مٹا سکتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جو لوگ آخرت کی دائمی زندگی کے لیے فکر مند نہیں ہوتے، وہ دنیاوی معاملات میں بھی درست فیصلے کرنے کی صلاحیت کھو دیتے ہیں اور معمولی مفادات کے بدلے اپنا ووٹ تک بیچ سکتے ہیں۔
مفتی محمد زاہد امان قاسمی (ناظم جمعیت علمائے بسنترائے و بانی و مہتمم جامعہ خدیجۃ الکبریٰ) نے ایک مسلمان کے لیے ضروری سات بنیادی عقائد پر تفصیلی روشنی ڈالی اور غلط نظریات کی اصلاح کی۔ عقیدہ ختمِ نبوت کے تحت انہوں نے واضح کیا کہ نبی کریم ﷺ آخری نبی ہیں، اور آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا؛ لہٰذا نبوت کا دعویٰ کرنے والا شخص جھوٹا اور گمراہ ہے۔
بعد ازاں انہی ساتوں عقائد پر عملی مشق مولانا مجیب الحق صاحب (امام جامع مسجد جھپنیا) نے کرائی، جس سے حاضرین کو عقائد کو سمجھنے اور یاد رکھنے میں مزید آسانی ہوئی۔
مفتی محمد نظام الدین قاسمی (صدر جمعیت علمائے بسنترائے و بانی و مہتمم جامعۃ الہدی، جہاز قطعہ) نے "ریل سے ری یل تک” کے عنوان سے نوجوانوں کی تربیت پر مبنی ایک مؤثر پریزنٹیشن پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ کامیابی کے لیے زندگی کا واضح ہدف (مشن) متعین کرنا، وقت کی قدر کرنا، اور مسلسل محنت و جدوجہد ضروری ہے۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے واضح کیا کہ اگر کسی نوجوان کا ہدف استاد بننا ہے تو اسے تعلیم کو اپنا مشن بنا کر دلجمعی کے ساتھ محنت کرنی ہوگی۔انہوں نے افسوس کے ساتھ کہا کہ آج کے بہت سے نوجوان اسکول و کالج جا کر اپنے اصل مقصد سے بھٹک جاتے ہیں اور قیمتی وقت ضائع کرتے ہیں۔ اسی تناظر میں انہوں نے ایک ویڈیو کلپ کے ذریعے یہ دکھایا کہ موجودہ دور کے بعض نوجوانوں کا مقصد صرف "خالی چھوڑی پٹاتا ہے” جیسی بے مقصد سرگرمیوں تک محدود ہو کر رہ گیا ہے، جو ان کے مستقبل کے لیے نہایت نقصان دہ ہے۔انہوں نے نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ اگر وقت کی قدر نہ کی گئی تو وقت انسان کو روندتا ہوا آگے نکل جائے گا اور بعد میں پچھتاوا بے سود ہوگا۔
اس پروگرام میں جدید ٹیکنیکل انتظامات جیسے پروجیکٹر اور ویڈیو گرافی کی ذمہ داری جناب محمد اسماعیل نے بحسن و خوبی انجام دی، جس سے پروگرام کی افادیت اور تاثیر میں مزید اضافہ ہوا۔اس کے بعد "تذکیرِ کلمہ” کے عنوان سے اجتماعی طور پر کلمہ طیبہ کا ورد کرایا گیا اور مختصر مراقبہ بھی کروایا گیا، جس سے حاضرین پر روحانی کیفیت طاری ہوگئی۔
آخر میں مولانا امین اشرف صاحب نے اپنے تاثرات پیش کرتے ہوئے کہا کہ جمعیت علمائے بسنترائے کی ٹیم نے ایمان و عقیدہ کی اصلاح اور نوجوانوں کی فکری بیداری کے لیے جدید وسائل (لیپ ٹاپ، پروجیکٹر، کیمرہ) کے استعمال کے ساتھ جو منفرد اور مؤثر انداز اختیار کیا ہے، وہ نہ صرف قابلِ تعریف بلکہ قابلِ تقلید بھی ہے۔دعائیہ کلمات کے ساتھ پروگرام اختتام پذیر ہوا، جبکہ ایک مقامی صاحبِ ثروت کی جانب سے پرتکلف ضیافت کا بھی اہتمام کیا گیا۔یہ چھٹا بیداری پروگرام اپنی افادیت، نظم و ضبط اور اثر انگیزی کے اعتبار سے ایک کامیاب مرحلہ ثابت ہوا۔





















