جمعہ, اکتوبر 23, 2026
  • Login
  • Register
No Result
View All Result
NEWSLETTER
جہازی میڈیا۔۔۔ نظریوں کا نیٹ ورک
  • ہوم
  • جمعیت علمائے ہند
  • اسلامیات
  • زبان و ادب
  • متفرق مضامین
    • All
    • جاوید اختر بھارتی
    • دیگر مضامین
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
     آل انڈیا مسلم پرسنل لائ بورڈ کے پہلے اجلاس کی کارروائی رپورٹ

     آل انڈیا مسلم پرسنل لائ بورڈ کے پہلے اجلاس کی کارروائی رپورٹ

    قاضی سید کمال الدین ثانی رح: جن کی نسبت سے صاحب پور کمال آباد ہے

    قاضی سید کمال الدین ثانی رح: جن کی نسبت سے صاحب پور کمال آباد ہے

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    ملک میں مہنگائی اور بے روزگاری کے اچھے دن!

    طریقہ تعلیم پر اہل حدیث عالم کا نظریہ

    متحدہ قومیت پر اہل حدیث عالم مولانا عبد الوہاب آروی کا نظریہ

    اجلاس اور تجاویز

    محمد یاسین جہازی

    مسئلہ آسام اور جمعیت علمائے ہند

    وندے ماترم کی مخالفت پر ماتم کا مقصد

    بھارت میں فرقہ وارانہ اتحاد و انتشار کی راہ

    راشٹرواد(01)

    راشٹرواد

    راشٹرواد(01)

    راشٹرواد (15)۔ جہازی فارمولے

    Trending Tags

    • Golden Globes
    • Mr. Robot
    • MotoGP 2017
    • Climate Change
    • Flat Earth
  • اہم خبریں
    • All
    • اتر پردیش
    • دہلی
    • دیگر ریاستیں
     آل انڈیا مسلم پرسنل لائ بورڈ کے پہلے اجلاس کی کارروائی رپورٹ

    ریس کورس مسجد کو انہدامی نوٹس غیر قانونی اور غیر دستوری ہے: آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈبی جے پی حکومتوں کے دور میں مساجد اور مدارس کو نشانہ بنانے کی کارروائیاں انتہائی تشویشناک ہیں

    آل انڈیا مسلم پرسنل لائ بورڈ کے پہلے اجلاس کی کارروائی رپورٹ

    وہی تنظیم قائم رہتی ہے، جو وقت کے ساتھ ہم آہنگ ہوتی ہے

    تو ہم کہہ دیں گے کہ یہ ملک ہندو اسٹیٹ بن گیا ہے

    تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ کے خلاصے سے اہم اقتباسات

    راشٹرواد(01)

    راشٹرواد (14)۔ ملک دو راہے پر آگے کا راستہ کیا؟

    شیخ محمد محسن تِرہُتی رح اور ان کی تصنیف الیانع الجنى فی اسانید الشیخ عبد الغنی (تاریخ، تعارف اور تجزیہ)

    شیخ محمد محسن تِرہُتی رح اور ان کی تصنیف الیانع الجنى فی اسانید الشیخ عبد الغنی (تاریخ، تعارف اور تجزیہ)

    راشٹرواد(01)

    راشٹر واد(13) قیام پاکستان کی مخالفت کیو ں کی گئی؟

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    بھارت میں ہندو تہذیب وثقافت کی بالادستی کی جنگ 

  • ترجمہ و تفسیر قرآن کریم

    تھورنا ڈائک(Edward Thorndike)  کا قانون تعلیم

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    Trending Tags

    • Sillicon Valley
    • Climate Change
    • Election Results
    • Flat Earth
    • Golden Globes
    • MotoGP 2017
    • Mr. Robot
  • ہوم
  • جمعیت علمائے ہند
  • اسلامیات
  • زبان و ادب
  • متفرق مضامین
    • All
    • جاوید اختر بھارتی
    • دیگر مضامین
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
     آل انڈیا مسلم پرسنل لائ بورڈ کے پہلے اجلاس کی کارروائی رپورٹ

     آل انڈیا مسلم پرسنل لائ بورڈ کے پہلے اجلاس کی کارروائی رپورٹ

    قاضی سید کمال الدین ثانی رح: جن کی نسبت سے صاحب پور کمال آباد ہے

    قاضی سید کمال الدین ثانی رح: جن کی نسبت سے صاحب پور کمال آباد ہے

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    ملک میں مہنگائی اور بے روزگاری کے اچھے دن!

    طریقہ تعلیم پر اہل حدیث عالم کا نظریہ

    متحدہ قومیت پر اہل حدیث عالم مولانا عبد الوہاب آروی کا نظریہ

    اجلاس اور تجاویز

    محمد یاسین جہازی

    مسئلہ آسام اور جمعیت علمائے ہند

    وندے ماترم کی مخالفت پر ماتم کا مقصد

    بھارت میں فرقہ وارانہ اتحاد و انتشار کی راہ

    راشٹرواد(01)

    راشٹرواد

    راشٹرواد(01)

    راشٹرواد (15)۔ جہازی فارمولے

    Trending Tags

    • Golden Globes
    • Mr. Robot
    • MotoGP 2017
    • Climate Change
    • Flat Earth
  • اہم خبریں
    • All
    • اتر پردیش
    • دہلی
    • دیگر ریاستیں
     آل انڈیا مسلم پرسنل لائ بورڈ کے پہلے اجلاس کی کارروائی رپورٹ

    ریس کورس مسجد کو انہدامی نوٹس غیر قانونی اور غیر دستوری ہے: آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈبی جے پی حکومتوں کے دور میں مساجد اور مدارس کو نشانہ بنانے کی کارروائیاں انتہائی تشویشناک ہیں

    آل انڈیا مسلم پرسنل لائ بورڈ کے پہلے اجلاس کی کارروائی رپورٹ

    وہی تنظیم قائم رہتی ہے، جو وقت کے ساتھ ہم آہنگ ہوتی ہے

    تو ہم کہہ دیں گے کہ یہ ملک ہندو اسٹیٹ بن گیا ہے

    تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ کے خلاصے سے اہم اقتباسات

    راشٹرواد(01)

    راشٹرواد (14)۔ ملک دو راہے پر آگے کا راستہ کیا؟

    شیخ محمد محسن تِرہُتی رح اور ان کی تصنیف الیانع الجنى فی اسانید الشیخ عبد الغنی (تاریخ، تعارف اور تجزیہ)

    شیخ محمد محسن تِرہُتی رح اور ان کی تصنیف الیانع الجنى فی اسانید الشیخ عبد الغنی (تاریخ، تعارف اور تجزیہ)

    راشٹرواد(01)

    راشٹر واد(13) قیام پاکستان کی مخالفت کیو ں کی گئی؟

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    بھارت میں ہندو تہذیب وثقافت کی بالادستی کی جنگ 

  • ترجمہ و تفسیر قرآن کریم

    تھورنا ڈائک(Edward Thorndike)  کا قانون تعلیم

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    Trending Tags

    • Sillicon Valley
    • Climate Change
    • Election Results
    • Flat Earth
    • Golden Globes
    • MotoGP 2017
    • Mr. Robot
No Result
View All Result
جہازی میڈیا۔۔۔ نظریوں کا نیٹ ورک
No Result
View All Result
Home جمعیت علمائے ہند

پاکستان کا بھوت کھڑا کرکے ہندستانی مسلمانوں کو مرعوب نہیں کیا جاسکتا

by Admin
جولائی 23, 2026
in جمعیت علمائے ہند, قومی و بین الاقوامی
0
0
SHARES
41
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

بسلسلہ:فرقہ پرستوں کے اعتراض کا جواب

جواب نمبر (2)

اعتراض کا خلاصہ:

اعتراض یہ تھا کہ فرقہ پرست عناصر کا دعویٰ ہے کہ 1945-46ء کے انتخابات میں مسلم لیگ نے پاکستان کے نام پر تمام مسلم نشستیں جیت لیں، اس لیے مسلمانوں نے اپنا الگ وطن حاصل کر لیا اور اب ہندستان میں ان کا کوئی حق باقی نہیں رہا۔

اس کا جواب نمبر (1) یہ دیا گیا،جس کا خلاصہ یہ ہے کہ 1945-46ء کے انتخابات کو بنیاد بنا کر یہ کہنا کہ برصغیر کے تمام مسلمانوں نے اجتماعی طور پر پاکستان کے حق میں فیصلہ دے دیا تھا، تاریخی اور جمہوری دونوں اعتبار سے درست نہیں ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ یہ انتخابات عام رائے دہی (Universal Adult Franchise) پر مبنی نہیں تھے، بلکہ ایک محدود انتخابی نظام (Restricted Franchise) کے تحت منعقد ہوئے تھے، جس میں ووٹ دینے کا حق صرف اُن افراد کو حاصل تھا جو جائیداد، ٹیکس، تعلیم اور آمدنی جیسی سخت شرائط پر پورا اترتے تھے۔ اس کے نتیجے میں عام مسلمان عوام، خصوصاً کسان، مزدور اور غریب طبقات کی بھاری اکثریت اس عمل سے خارج رہی۔اعداد و شمارکی روشنی میں اس کی حقیقت مزید واضح ہوتی ہے کہ اس وقت برصغیر کی کل مسلم آبادی تقریباً 9 کروڑ تھی، مگر ان میں سے صرف تقریباً 90 لاکھ افراد (یعنی 10 فیصد) ووٹ دینے کے اہل تھے، اور عملاً ووٹ ڈالنے والوں کی تعداد تقریباً 60 لاکھ رہی، جو کل مسلم آبادی کا محض 6 سے 7 فیصد بنتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تقریباً 90 فیصد مسلمان پہلے ہی ووٹ کے حق سے محروم تھے، اور مجموعی طور پر 93 سے 94 فیصد مسلمانوں کی رائے اس انتخابی عمل میں شامل ہی نہیں تھی۔لہٰذا مسلم لیگ کی کامیابی کو پورے برصغیر کے مسلمانوں کا اجتماعی فیصلہ قرار دینا درست نہیں، بلکہ یہ ایک محدود اور مخصوص طبقے کی رائے کی نمائندگی تھی، جسے پوری قوم کی متفقہ آواز سمجھنا تاریخی حقیقت کے منافی ہے۔

فرقہ پرستوں کے اعتراض کا جواب نمبر (2)

پہلی جنگِ عظیم کے بعد جب برصغیر میں آزادیٔ ہند کے لیے آئینی اور منظم تحریکوں کا آغاز ہوا، تو اس پورے پس منظر میں مسلمانوں کی سیاسی و دینی قیادت نے ایک واضح اور اصولی موقف اختیار کیا، جس کی بنیاد متحدہ قومیت (Composite Nationalism) پر قائم تھی۔ اس سلسلے کی ایک اہم کڑی 30 مارچ 1919ء سے شروع ہونے والی عدم تعاون تحریک ہے، جس نے ہندستانی عوام کو انگریز سامراج کے خلاف منظم جدوجہد کی راہ دکھائی۔اسی پس منظر میں 3 نومبر 1919ء کو مولانا عبد الباری فرنگی محلؒ نے ترکِ موالات کا تاریخی فتویٰ جاری کیا۔ اس فتویٰ کی نمایاں خصوصیت یہ تھی کہ اس میں غیر مسلم ہم وطنوں سے تعلقات منقطع کرنے کے بجائے، صرف انگریز حکومت کے ساتھ بائیکاٹ اور عدم تعاون کو ضروری قرار دیا گیا۔ گویا اس فتویٰ کی بنیاد واضح طور پر متحدہ قومیت کے اصول پر تھی، جس میں ہندو اور مسلمان کو ایک مشترکہ وطن کے باشندے کی حیثیت سے دیکھا گیا۔اسی فکری و عملی تسلسل کے تحت 23 نومبر 1919ء بروز اتوار بعد نماز عشاء جمعیت علمائے ہند کا قیام عمل میں آیا۔ یہ محض ایک تنظیمی اقدام نہیں تھا، بلکہ ایک منظم نظریاتی جدوجہد کا آغاز تھا۔ چنانچہ جمعیت نے اپنے پہلے خصوصی اجلاس منعقدہ 6 ستمبر 1920ء میں ترکِ موالات کی تجویز کو انہی اصولوں کی بنیاد پر منظور کیا، جو پہلے فتویٰ میں طے کیے گئے تھے۔اس کے فوراً بعد 8 ستمبر 1920ء کو علمائے ہند کا ایک طویل اور متفقہ فتویٰ بھی جاری ہوا، جس میں انگریز حکومت کے خلاف عدم تعاون اور بائیکاٹ کو شرعی و ملی فریضہ قرار دیا گیا، اور اس میں بھی متحدہ قومیت ہی کو بنیاد بنایا گیا۔ اس طرح یہ بات پوری طرح واضح ہوگئی کہ اس دور کی دینی و سیاسی قیادت کی سوچ کسی تنگ نظری یا مذہبی تفریق پر مبنی نہیں تھی، بلکہ وہ ایک مشترکہ قومی جدوجہد کی قائل تھی۔مزید برآں، “متحدہ قومیت” کی اصطلاح خود جمعیت علمائے ہند کے بیانیے میں بھی باقاعدہ طور پر شامل رہی ہے۔ چنانچہ 19، 20، 21 نومبر 1920ء کو منعقد ہونے والے دوسرے اجلاسِ عام کے صدارتی خطاب میں اس تصور کو واضح طور پر پیش کیا گیا۔ بعد ازاں 29 دسمبر 1923ء تا یکم جنوری 1924ء کے درمیان منعقد ہونے والے پانچویں اجلاسِ عام میں تجویز نمبر (5) کے اندر بھی اس نظریے کی صراحت کے ساتھ توثیق کی گئی۔

یہ تاریخی تسلسل اس بات کا ناقابلِ تردید ثبوت ہے کہ جمعیت علمائے ہند نے اپنے قیام (23 نومبر 1919ء) سے لے کر آج تک ہمیشہ متحدہ قومیت کے نظریے کو اختیار کیا اور اسی پر ثابت قدم رہی ہے۔ نہ صرف قیامِ پاکستان سے قبل، بلکہ اس کے بعد بھی جمعیت کا یہی اصولی موقف برقرار رہا ہے۔اس کے برعکس پاکستان کا قیام جس “ٹو نیشن تھیوری” (Two-Nation Theory) کی بنیاد پر عمل میں آیا، جمعیت علمائے ہند نے اس نظریے کی کبھی تائید نہیں کی، بلکہ ہمیشہ اس کی اصولی مخالفت کی۔ جمعیت کے نزدیک ہندوستان کے مسلمان ایک الگ قوم ضرور ہیں، مگر وہ ایک مشترکہ وطن میں دیگر اقوام کے ساتھ مل کر رہنے اور جدوجہد کرنے کے قائل ہیں۔

لہٰذا فرقہ پرست عناصر کی جانب سے پاکستان کا نام لے کر ہندستانی مسلمانوں کو مشکوک بنانے یا انہیں مرعوب کرنے کی کوشش نہ صرف تاریخی حقائق کے منافی ہے، بلکہ ایک طرح کی فکری دہشت گردی بھی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہندوستانی مسلمانوں کی ایک بڑی اور نمائندہ تنظیم شروع سے ہی متحدہ قومیت کی علمبردار رہی ہے، اور اس کا موقف آج بھی اسی استقامت کے ساتھ قائم ہے۔

اس حوالے سے تفصیلی معلومات کے لیے ناچیز کی ایک دوسری تحریر "پاکستان اور ہندستانی مسلمان” یا "پاکستان اور جمعیت علمائے ہند” کا مطالعہ کیا جاسکتا ہے

محمد یاسین جہازی

Tags: پاکستانمتحدہ قومیتمحمد یاسین جہازی
Admin

Admin

Next Post
فرقہ وارانہ سیاست کا تاریخی پس منظر اور جمعیت علمائے ہند کا معقول اصولی موقف

موجودہ ہندستان کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

منتخب کردہ

آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے تاسیسی اجلاس کی تجاویز

2 ہفتے ago

آپ کی پوری زندگی عورتوں کے ساتھ رحمت ،شفقت، حسن سلوک اور نگہداشت کا روشن نمونہ ہے:مولانا سہیل ندوی

2 مہینے ago

مقبول

  • ارشاد انصاری: میرے محسن، میرے استاد اور اردو کے خاموش خادم

    تدریس کے اصول یا کلیات” (Maxims of Teaching)

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • 360ڈگری تشخیص کیا ہے

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • چھ سات سال کے بچوں کو زبان سکھانے کا طریقہ

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • طلبہ اور اساتذہ کے درمیان تدریسی روابط

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • بچوں کے امتحانات کی چھ جدید شکلیں

    0 shares
    Share 0 Tweet 0

ہم سے جڑیے

ہمارا خبری نامہ حاصل کریں

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetuer adipiscing elit. Aenean commodo ligula eget dolor.
SUBSCRIBE

زمرہ جات

اہم روابط

  • رجسٹر
  • لاگ ان کریں
  • Entries feed
  • Comments feed
  • WordPress.org

ہمارے بارے میں

جہازی میڈیا باشعور افراد کی ایک ایسی تحریک ہے، جو ملت اسلامیہ کی نشاۃ ثانیہ کے لیے اپنی فکری و عملی خدمات پیش کرنے کے لیے عہدبند ہوتے ہیں۔ اس لیے ہر وہ شخص اس تحریک کا ممبر بن سکتا ہے، جو اس نظریہ و مقصد سے اتفاق رکھتا ہے۔

  • ہمارے بارے میں
  • قوائد و ضوابط
  • کاپی رائٹس
  • پرائیویسی پالیسی
  • رابطہ

© 2025 Jahazi Media Designed by Mehmood Khan 9720936030.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password? Sign Up

Create New Account!

Fill the forms below to register

All fields are required. Log In

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • ہوم
  • اسلامیات
  • جمعیت علمائے ہند
  • زبان و ادب
  • قومی و بین الاقوامی
  • اہم خبریں
    • دہلی
    • اتر پردیش
    • کرناٹک
    • مہاراشٹر
  • غزل
  • متفرق مضامین
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • دیگر مضامین
  • ترجمہ و تفسیر قرآن کریم

© 2025 Jahazi Media Designed by Mehmood Khan 9720936030.