بسلسلہ:فرقہ پرستوں کے اعتراض کا جواب
جواب نمبر (2)
اعتراض کا خلاصہ:
اعتراض یہ تھا کہ فرقہ پرست عناصر کا دعویٰ ہے کہ 1945-46ء کے انتخابات میں مسلم لیگ نے پاکستان کے نام پر تمام مسلم نشستیں جیت لیں، اس لیے مسلمانوں نے اپنا الگ وطن حاصل کر لیا اور اب ہندستان میں ان کا کوئی حق باقی نہیں رہا۔
اس کا جواب نمبر (1) یہ دیا گیا،جس کا خلاصہ یہ ہے کہ 1945-46ء کے انتخابات کو بنیاد بنا کر یہ کہنا کہ برصغیر کے تمام مسلمانوں نے اجتماعی طور پر پاکستان کے حق میں فیصلہ دے دیا تھا، تاریخی اور جمہوری دونوں اعتبار سے درست نہیں ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ یہ انتخابات عام رائے دہی (Universal Adult Franchise) پر مبنی نہیں تھے، بلکہ ایک محدود انتخابی نظام (Restricted Franchise) کے تحت منعقد ہوئے تھے، جس میں ووٹ دینے کا حق صرف اُن افراد کو حاصل تھا جو جائیداد، ٹیکس، تعلیم اور آمدنی جیسی سخت شرائط پر پورا اترتے تھے۔ اس کے نتیجے میں عام مسلمان عوام، خصوصاً کسان، مزدور اور غریب طبقات کی بھاری اکثریت اس عمل سے خارج رہی۔اعداد و شمارکی روشنی میں اس کی حقیقت مزید واضح ہوتی ہے کہ اس وقت برصغیر کی کل مسلم آبادی تقریباً 9 کروڑ تھی، مگر ان میں سے صرف تقریباً 90 لاکھ افراد (یعنی 10 فیصد) ووٹ دینے کے اہل تھے، اور عملاً ووٹ ڈالنے والوں کی تعداد تقریباً 60 لاکھ رہی، جو کل مسلم آبادی کا محض 6 سے 7 فیصد بنتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تقریباً 90 فیصد مسلمان پہلے ہی ووٹ کے حق سے محروم تھے، اور مجموعی طور پر 93 سے 94 فیصد مسلمانوں کی رائے اس انتخابی عمل میں شامل ہی نہیں تھی۔لہٰذا مسلم لیگ کی کامیابی کو پورے برصغیر کے مسلمانوں کا اجتماعی فیصلہ قرار دینا درست نہیں، بلکہ یہ ایک محدود اور مخصوص طبقے کی رائے کی نمائندگی تھی، جسے پوری قوم کی متفقہ آواز سمجھنا تاریخی حقیقت کے منافی ہے۔
فرقہ پرستوں کے اعتراض کا جواب نمبر (2)
پہلی جنگِ عظیم کے بعد جب برصغیر میں آزادیٔ ہند کے لیے آئینی اور منظم تحریکوں کا آغاز ہوا، تو اس پورے پس منظر میں مسلمانوں کی سیاسی و دینی قیادت نے ایک واضح اور اصولی موقف اختیار کیا، جس کی بنیاد متحدہ قومیت (Composite Nationalism) پر قائم تھی۔ اس سلسلے کی ایک اہم کڑی 30 مارچ 1919ء سے شروع ہونے والی عدم تعاون تحریک ہے، جس نے ہندستانی عوام کو انگریز سامراج کے خلاف منظم جدوجہد کی راہ دکھائی۔اسی پس منظر میں 3 نومبر 1919ء کو مولانا عبد الباری فرنگی محلؒ نے ترکِ موالات کا تاریخی فتویٰ جاری کیا۔ اس فتویٰ کی نمایاں خصوصیت یہ تھی کہ اس میں غیر مسلم ہم وطنوں سے تعلقات منقطع کرنے کے بجائے، صرف انگریز حکومت کے ساتھ بائیکاٹ اور عدم تعاون کو ضروری قرار دیا گیا۔ گویا اس فتویٰ کی بنیاد واضح طور پر متحدہ قومیت کے اصول پر تھی، جس میں ہندو اور مسلمان کو ایک مشترکہ وطن کے باشندے کی حیثیت سے دیکھا گیا۔اسی فکری و عملی تسلسل کے تحت 23 نومبر 1919ء بروز اتوار بعد نماز عشاء جمعیت علمائے ہند کا قیام عمل میں آیا۔ یہ محض ایک تنظیمی اقدام نہیں تھا، بلکہ ایک منظم نظریاتی جدوجہد کا آغاز تھا۔ چنانچہ جمعیت نے اپنے پہلے خصوصی اجلاس منعقدہ 6 ستمبر 1920ء میں ترکِ موالات کی تجویز کو انہی اصولوں کی بنیاد پر منظور کیا، جو پہلے فتویٰ میں طے کیے گئے تھے۔اس کے فوراً بعد 8 ستمبر 1920ء کو علمائے ہند کا ایک طویل اور متفقہ فتویٰ بھی جاری ہوا، جس میں انگریز حکومت کے خلاف عدم تعاون اور بائیکاٹ کو شرعی و ملی فریضہ قرار دیا گیا، اور اس میں بھی متحدہ قومیت ہی کو بنیاد بنایا گیا۔ اس طرح یہ بات پوری طرح واضح ہوگئی کہ اس دور کی دینی و سیاسی قیادت کی سوچ کسی تنگ نظری یا مذہبی تفریق پر مبنی نہیں تھی، بلکہ وہ ایک مشترکہ قومی جدوجہد کی قائل تھی۔مزید برآں، “متحدہ قومیت” کی اصطلاح خود جمعیت علمائے ہند کے بیانیے میں بھی باقاعدہ طور پر شامل رہی ہے۔ چنانچہ 19، 20، 21 نومبر 1920ء کو منعقد ہونے والے دوسرے اجلاسِ عام کے صدارتی خطاب میں اس تصور کو واضح طور پر پیش کیا گیا۔ بعد ازاں 29 دسمبر 1923ء تا یکم جنوری 1924ء کے درمیان منعقد ہونے والے پانچویں اجلاسِ عام میں تجویز نمبر (5) کے اندر بھی اس نظریے کی صراحت کے ساتھ توثیق کی گئی۔
یہ تاریخی تسلسل اس بات کا ناقابلِ تردید ثبوت ہے کہ جمعیت علمائے ہند نے اپنے قیام (23 نومبر 1919ء) سے لے کر آج تک ہمیشہ متحدہ قومیت کے نظریے کو اختیار کیا اور اسی پر ثابت قدم رہی ہے۔ نہ صرف قیامِ پاکستان سے قبل، بلکہ اس کے بعد بھی جمعیت کا یہی اصولی موقف برقرار رہا ہے۔اس کے برعکس پاکستان کا قیام جس “ٹو نیشن تھیوری” (Two-Nation Theory) کی بنیاد پر عمل میں آیا، جمعیت علمائے ہند نے اس نظریے کی کبھی تائید نہیں کی، بلکہ ہمیشہ اس کی اصولی مخالفت کی۔ جمعیت کے نزدیک ہندوستان کے مسلمان ایک الگ قوم ضرور ہیں، مگر وہ ایک مشترکہ وطن میں دیگر اقوام کے ساتھ مل کر رہنے اور جدوجہد کرنے کے قائل ہیں۔
لہٰذا فرقہ پرست عناصر کی جانب سے پاکستان کا نام لے کر ہندستانی مسلمانوں کو مشکوک بنانے یا انہیں مرعوب کرنے کی کوشش نہ صرف تاریخی حقائق کے منافی ہے، بلکہ ایک طرح کی فکری دہشت گردی بھی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہندوستانی مسلمانوں کی ایک بڑی اور نمائندہ تنظیم شروع سے ہی متحدہ قومیت کی علمبردار رہی ہے، اور اس کا موقف آج بھی اسی استقامت کے ساتھ قائم ہے۔
اس حوالے سے تفصیلی معلومات کے لیے ناچیز کی ایک دوسری تحریر "پاکستان اور ہندستانی مسلمان” یا "پاکستان اور جمعیت علمائے ہند” کا مطالعہ کیا جاسکتا ہے
محمد یاسین جہازی





















