اتوار, نومبر 8, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
جہازی میڈیا۔۔۔ نظریوں کا نیٹ ورک
  • ہوم
  • جمعیت علمائے ہند
  • اسلامیات
  • زبان و ادب
  • متفرق مضامین
    • All
    • جاوید اختر بھارتی
    • دیگر مضامین
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
     آل انڈیا مسلم پرسنل لائ بورڈ کے پہلے اجلاس کی کارروائی رپورٹ

     آل انڈیا مسلم پرسنل لائ بورڈ کے پہلے اجلاس کی کارروائی رپورٹ

    قاضی سید کمال الدین ثانی رح: جن کی نسبت سے صاحب پور کمال آباد ہے

    قاضی سید کمال الدین ثانی رح: جن کی نسبت سے صاحب پور کمال آباد ہے

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    ملک میں مہنگائی اور بے روزگاری کے اچھے دن!

    طریقہ تعلیم پر اہل حدیث عالم کا نظریہ

    متحدہ قومیت پر اہل حدیث عالم مولانا عبد الوہاب آروی کا نظریہ

    اجلاس اور تجاویز

    محمد یاسین جہازی

    مسئلہ آسام اور جمعیت علمائے ہند

    وندے ماترم کی مخالفت پر ماتم کا مقصد

    بھارت میں فرقہ وارانہ اتحاد و انتشار کی راہ

    راشٹرواد(01)

    راشٹرواد

    راشٹرواد(01)

    راشٹرواد (15)۔ جہازی فارمولے

    Trending Tags

    • Golden Globes
    • Mr. Robot
    • MotoGP 2017
    • Climate Change
    • Flat Earth
  • اہم خبریں
    • All
    • اتر پردیش
    • دہلی
    • دیگر ریاستیں
    بسنترائے جمعیت علما کی مجلس منتظمہ کے دوسرے اجلاس کا انعقاد

    بسنترائے جمعیت علما کی مجلس منتظمہ کے دوسرے اجلاس کا انعقاد

    جمعیت علمائے بسنت رائے کی سکریٹری رپورٹ کا خلاصہ

    جمعیت علمائے بسنت رائے کی سکریٹری رپورٹ کا خلاصہ

    جمعیت علمائے بسنت رائے کی مجلس منتظمہ کے اجلاس میں منظور کردہ تجاویز

    جمعیت علمائے بسنت رائے کی مجلس منتظمہ کے اجلاس میں منظور کردہ تجاویز

    IMG-20261019-WA0106

    مدرسہ دارالعلوم انوارِ صحابہ، مکتاپور، چندن کیاری، بوکارو: ایک مختصر تعارف اور یادگار حاضری

    جمعیت علمائے ہند کے 106سال مکمل، تاسیس کی مستند کہانی

    جمعیت کے اعلامیہ کاظلم کے آگے نہ جھکنے کا اعلان

     آل انڈیا مسلم پرسنل لائ بورڈ کے پہلے اجلاس کی کارروائی رپورٹ

    ریس کورس مسجد کو انہدامی نوٹس غیر قانونی اور غیر دستوری ہے: آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈبی جے پی حکومتوں کے دور میں مساجد اور مدارس کو نشانہ بنانے کی کارروائیاں انتہائی تشویشناک ہیں

    آل انڈیا مسلم پرسنل لائ بورڈ کے پہلے اجلاس کی کارروائی رپورٹ

    وہی تنظیم قائم رہتی ہے، جو وقت کے ساتھ ہم آہنگ ہوتی ہے

    تو ہم کہہ دیں گے کہ یہ ملک ہندو اسٹیٹ بن گیا ہے

  • ترجمہ و تفسیر قرآن کریم

    تھورنا ڈائک(Edward Thorndike)  کا قانون تعلیم

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    Trending Tags

    • Sillicon Valley
    • Climate Change
    • Election Results
    • Flat Earth
    • Golden Globes
    • MotoGP 2017
    • Mr. Robot
  • ہوم
  • جمعیت علمائے ہند
  • اسلامیات
  • زبان و ادب
  • متفرق مضامین
    • All
    • جاوید اختر بھارتی
    • دیگر مضامین
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
     آل انڈیا مسلم پرسنل لائ بورڈ کے پہلے اجلاس کی کارروائی رپورٹ

     آل انڈیا مسلم پرسنل لائ بورڈ کے پہلے اجلاس کی کارروائی رپورٹ

    قاضی سید کمال الدین ثانی رح: جن کی نسبت سے صاحب پور کمال آباد ہے

    قاضی سید کمال الدین ثانی رح: جن کی نسبت سے صاحب پور کمال آباد ہے

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    ملک میں مہنگائی اور بے روزگاری کے اچھے دن!

    طریقہ تعلیم پر اہل حدیث عالم کا نظریہ

    متحدہ قومیت پر اہل حدیث عالم مولانا عبد الوہاب آروی کا نظریہ

    اجلاس اور تجاویز

    محمد یاسین جہازی

    مسئلہ آسام اور جمعیت علمائے ہند

    وندے ماترم کی مخالفت پر ماتم کا مقصد

    بھارت میں فرقہ وارانہ اتحاد و انتشار کی راہ

    راشٹرواد(01)

    راشٹرواد

    راشٹرواد(01)

    راشٹرواد (15)۔ جہازی فارمولے

    Trending Tags

    • Golden Globes
    • Mr. Robot
    • MotoGP 2017
    • Climate Change
    • Flat Earth
  • اہم خبریں
    • All
    • اتر پردیش
    • دہلی
    • دیگر ریاستیں
    بسنترائے جمعیت علما کی مجلس منتظمہ کے دوسرے اجلاس کا انعقاد

    بسنترائے جمعیت علما کی مجلس منتظمہ کے دوسرے اجلاس کا انعقاد

    جمعیت علمائے بسنت رائے کی سکریٹری رپورٹ کا خلاصہ

    جمعیت علمائے بسنت رائے کی سکریٹری رپورٹ کا خلاصہ

    جمعیت علمائے بسنت رائے کی مجلس منتظمہ کے اجلاس میں منظور کردہ تجاویز

    جمعیت علمائے بسنت رائے کی مجلس منتظمہ کے اجلاس میں منظور کردہ تجاویز

    IMG-20261019-WA0106

    مدرسہ دارالعلوم انوارِ صحابہ، مکتاپور، چندن کیاری، بوکارو: ایک مختصر تعارف اور یادگار حاضری

    جمعیت علمائے ہند کے 106سال مکمل، تاسیس کی مستند کہانی

    جمعیت کے اعلامیہ کاظلم کے آگے نہ جھکنے کا اعلان

     آل انڈیا مسلم پرسنل لائ بورڈ کے پہلے اجلاس کی کارروائی رپورٹ

    ریس کورس مسجد کو انہدامی نوٹس غیر قانونی اور غیر دستوری ہے: آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈبی جے پی حکومتوں کے دور میں مساجد اور مدارس کو نشانہ بنانے کی کارروائیاں انتہائی تشویشناک ہیں

    آل انڈیا مسلم پرسنل لائ بورڈ کے پہلے اجلاس کی کارروائی رپورٹ

    وہی تنظیم قائم رہتی ہے، جو وقت کے ساتھ ہم آہنگ ہوتی ہے

    تو ہم کہہ دیں گے کہ یہ ملک ہندو اسٹیٹ بن گیا ہے

  • ترجمہ و تفسیر قرآن کریم

    تھورنا ڈائک(Edward Thorndike)  کا قانون تعلیم

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    Trending Tags

    • Sillicon Valley
    • Climate Change
    • Election Results
    • Flat Earth
    • Golden Globes
    • MotoGP 2017
    • Mr. Robot
No Result
View All Result
جہازی میڈیا۔۔۔ نظریوں کا نیٹ ورک
No Result
View All Result
Home متفرق مضامین

نتیش کمار کا راجیہ سبھا کا رخ: اقتدار سے فاصلہ یا نئی حکمت عملی!

by Md Yasin Jahazi
مارچ 7, 2026
in متفرق مضامین
0
نتیش کمار کا راجیہ سبھا کا رخ: اقتدار سے فاصلہ یا نئی حکمت عملی!
0
SHARES
10
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

جاوید جمال الدین

بہار کی سیاست میں کئی دہائیوں تک مرکزی کردار ادا کرنے والے نتیش کمار نے راجیہ سبھا جانے کا فیصلہ کر کے ایک بار پھر سیاسی حلقوں کو حیران کر دیا ہے۔ طویل عرصے تک ریاست کی سیاست کا محور رہنے والے نتیش کمار کا یہ قدم محض ایک عہدے کی تبدیلی نہیں بلکہ ان کے سیاسی سفر کا ایک اہم موڑ سمجھا جا رہا ہے۔ تقریباً دو دہائیوں تک بہار کی سیاست پر گہرا اثر رکھنے اور ریکارڈ دس مرتبہ وزیر اعلیٰ کے طور پر حلف لینے کے بعد ان کا یہ فیصلہ اس بات کا اشارہ دیتا ہے کہ وہ اب عملی حکمرانی سے کچھ فاصلے پر رہ کر ایک مختلف کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔نتیش کمار کا سیاسی سفر غیر معمولی رہا ہے۔ انہوں نے اپنے کیریئر کے مختلف مراحل میں قانون ساز اسمبلی، قانون ساز کونسل اور لوک سبھا کے رکن کے طور پر خدمات انجام دی ہیں۔ اب راجیہ سبھا میں جانے کے بعد وہ ان چاروں قانون ساز اداروں کا حصہ رہنے والے چند نادر سیاست دانوں میں شامل ہو جائیں گے۔ بظاہر یہ ان کی دیرینہ خواہش کی تکمیل بھی ہے اور ایک ایسا اعزاز بھی جسے وہ اپنے سیاسی سفر کی تکمیل کے طور پر پیش کر سکتے ہیں۔لیکن سیاسی مبصرین کے مطابق اس فیصلے کے پیچھے صرف آئینی یا علامتی پہلو ہی نہیں بلکہ کئی عملی اور سیاسی عوامل بھی کارفرما ہیں۔ 74 سال کی عمر میں نتیش کمار اب بھی سیاسی طور پر فعال ہیں، لیکن ریاست کی روزمرہ حکمرانی کی پیچیدگیاں اور دباؤ یقیناً تھکا دینے والے ہیں۔ بہار جیسی ریاست میں جہاں ذات پات کی سیاست، معاشی مسائل اور اتحاد کی سیاست ایک ساتھ چلتی ہے، وزیر اعلیٰ کا عہدہ ہمیشہ انتہائی چیلنجنگ رہا ہے۔اتحاد کی سیاست اور بدلتا طاقت کا توازنپچھلے چند برسوں میں بہار کی سیاست مسلسل اتحادوں کی تبدیلی سے گزری ہے۔ نتیش کمار کبھی جنتا دل یونائٹیڈ کے ساتھاین دی اے کا حصہ رہے، کبھی انہوں نے مہاگٹھ بندھن کے ساتھ ہاتھ ملایا اور پھر دوبارہ این ڈی اے میں واپس آ گئے۔ اس دوران ریاست کی سیاست میں طاقت کا توازن بھی بدلتا رہا۔حالیہ اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کی طاقت میں واضح اضافہ ہوا اور وہ اتحاد کے اندر سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری۔ اس پس منظر میں نتیش کمار کا راجیہ سبھا جانا ایک ایسے سیاسی قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جس کے ذریعے وہ اپنی شرائط پر اقتدار سے جزوی دستبرداری اختیار کر رہے ہیں۔سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ فیصلہ انہیں اس امکان سے بھی بچاتا ہے کہ مستقبل میں اگر بی جے پی ریاستی سیاست میں مکمل کنٹرول حاصل کر لے تو نتیش کمار کو حاشیے پر جانا پڑے۔ راجیہ سبھا میں جا کر وہ باضابطہ طور پر اقتدار چھوڑے بغیر ایک سرپرست یا رہنما کے طور پر اپنا کردار جاری رکھ سکتے ہیں۔نتیش کمار نے واضح کیا ہے کہ وہ بہار کی سیاست سے مکمل طور پر الگ نہیں ہوں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ نئی حکومت کو مکمل تعاون فراہم کریں گے اور پارٹی و اتحاد کے معاملات میں رہنمائی کرتے رہیں گے۔یہ کردار دراصل ایک ایسے بزرگ سیاست دان کا ہوگا جو روزمرہ انتظامی ذمہ داریوں سے آزاد ہو کر سیاسی سمت متعین کرتا ہے۔ دہلی میں راجیہ سبھا کے رکن کے طور پر وہ قومی سطح پر بھی زیادہ فعال ہو سکتے ہیں اور بہار کے مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھا سکتے ہیں۔بی جے پی کے لیے بھی یہ انتظام فائدہ مند نظر آتا ہے۔ ایک طرف اسے ریاست میں حکومت کی عملی قیادت کا موقع مل سکتا ہے اور دوسری طرف نتیش کمار کی موجودگی سے اتحاد کو استحکام کا تاثر بھی ملتا رہے گا۔ بہار کے ووٹرز کے ایک بڑے طبقے کے لیے نتیش کمار اب بھی استحکام اور انتظامی تجربے کی علامت ہیں۔تاہم اس تبدیلی سے سب سے بڑا چیلنج جے ڈی یو کے سامنے ہے۔ نتیش کمار اس جماعت کے بانی رہنما اور سب سے بڑی شناخت ہیں۔ اگر وہ ریاستی اقتدار کے مرکز سے دور ہو جاتے ہیں تو پارٹی کے کئی رہنماؤں کو یہ خدشہ لاحق ہے کہ کہیں ان کی سیاسی اہمیت کم نہ ہو جائے۔سیاسی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ اکثر علاقائی جماعتیں اپنے بانی رہنماؤں کے بعد کمزور ہو جاتی ہیں۔ اگر پارٹی کے اندر واضح دوسری قیادت نہ ہو تو دھڑے بندی یا بڑی جماعتوں میں ضم ہونے کا خطرہ بھی پیدا ہو جاتا ہے۔ اس لیے جے ڈی یو کے لیے آنے والے سال نہایت اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔نتیش کمار کے فیصلے کے بعد سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ بہار کی قیادت کس کے ہاتھ میں جائے گی۔ اگر بی جے پی ریاست میں وزیر اعلیٰ کا عہدہ سنبھالتی ہے تو یہ بہار کی سیاست میں ایک تاریخی تبدیلی ہوگی، کیونکہ اب تک زیادہ تر اتحادوں میں قیادت جے ڈی یو کے پاس رہی ہے۔سیاسی مبصرین کے مطابق ممکنہ قیادت کے لیے تین طرح کے نام سامنے آ سکتے ہیں۔ پہلا گروہ وہ سینئر رہنما ہیں جو طویل عرصے سے ریاستی سیاست میں فعال ہیں اور جن کے پاس انتظامی تجربہ بھی موجود ہے۔ دوسرا گروہ نسبتاً نوجوان رہنماؤں کا ہے جو پارٹی تنظیم میں مضبوط بنیاد رکھتے ہیں اور نظریاتی طور پر بھی بی جے پی کے قریب سمجھے جاتے ہیں۔ تیسرا امکان یہ ہے کہ پارٹی کسی ایسے رہنما کو آگے لائے جو سماجی اعتبار سے کسی اہم ذات یا برادری کی نمائندگی کرتا ہو، تاکہ ریاست میں وسیع تر سماجی توازن قائم رکھا جا سکے۔نتیش کمار کے بیٹے نشانے کمار کے بارے میں بھی سیاسی حلقوں میں کبھی کبھار قیاس آرائیاں سامنے آتی رہی ہیں۔ نشانت کمار پیشے کے اعتبار سے سافٹ ویئر انجینئر ہیں اور انہوں نے اب تک خود کو عملی سیاست سے دور رکھا ہے۔وہ 1975 میں پیدا ہوئے اور انہوں نے برلا انسٹی آف ٹیکنالوجی سے انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کی۔ اپنی والدہ کے انتقال کے بعد وہ زیادہ تر نجی زندگی میں مصروف رہے اور عوامی سیاست میں حصہ لینے سے گریز کرتے رہے۔اگرچہ ماضی میں بعض حلقوں نے یہ اندازہ لگایا تھا کہ وہ جے ڈی یو کے امیدوار کے طور پر انتخابات میں حصہ لے سکتے ہیں، لیکن پارٹی قیادت نے اس امکان کو بارہا مسترد کیا۔ اس کے باوجود نتیش کمار کے راجیہ سبھا جانے کے بعد ایک بار پھر یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ آیا مستقبل میں نشانت کمار کو سیاست میں لایا جا سکتا ہے یا نہیں۔نتیش کمار کے اس فیصلے کے اثرات صرف ایک عہدے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ اس سے بہار کی سیاست کا پورا منظرنامہ بدل سکتا ہے۔مختصر مدت میں اس کا سب سے بڑا اثر یہ ہوگا کہ ریاست میں بی جے پی کا سیاسی اثر مزید مضبوط ہو سکتا ہے۔ اگر نئی حکومت بی جے پی کی قیادت میں بنتی ہے تو وہ اپنی حکمرانی کے انداز اور پالیسیوں کو زیادہ واضح طور پر نافذ کرنے کی کوشش کرے گی۔دوسری طرف جے ڈی یو کے لیے یہ ایک آزمائش کا وقت ہوگا۔ اگر پارٹی نئی قیادت پیدا کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو وہ اتحاد میں اپنی جگہ برقرار رکھ سکتی ہے۔ لیکن اگر ایسا نہ ہوا تو اس کی سیاسی طاقت آہستہ آہستہ کم بھی ہو سکتی ہے۔نتیش کمار کی سیاست ہمیشہ صرف بہار تک محدود نہیں رہی۔ کئی مواقع پر انہیں قومی سطح پر اپوزیشن اتحاد کے ممکنہ رہنما کے طور پر بھی دیکھا گیا تھا۔ ان کی شبیہ ایک ایسے لیڈر کی رہی ہے جو پسماندہ طبقات کی نمائندگی بھی کرتا ہے اور حکمرانی کے تجربے کا حامل بھی ہے۔لیکن این ڈی اے کے ساتھ ان کی موجودہ وابستگی اور راجیہ سبھا میں ان کا نیا کردار اس امکان کو کمزور کر دیتا ہے کہ وہ مستقبل قریب میں کسی بڑے اپوزیشن اتحاد کی قیادت کریں گے۔نتیش کمار کے دور حکومت کو بہار کی سیاست میں ایک اہم مرحلے کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ ان کے دور میں سڑکوں کی تعمیر، بجلی کی فراہمی اور تعلیم کے شعبے میں کئی اصلاحات کی گئیں۔ امن و امان کے حوالے سے بھی ان کی حکومت کو ماضی کے مقابلے میں بہتر قرار دیا جاتا ہے۔اسی وجہ سے بہت سے لوگ انہیں بہار کی ترقی کی سیاست کا اہم معمار سمجھتے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ ان کے بعد آنے والی قیادت اس ترقیاتی ایجنڈے کو کس حد تک جاری رکھ پاتی ہے۔نتیش کمار کا راجیہ سبھا جانا دراصل بہار کی سیاست میں ایک نئے باب کی شروعات ہے۔ یہ فیصلہ بیک وقت کئی پیغامات دیتا ہے۔ ایک طرف یہ ایک تجربہ کار سیاست دان کی جانب سے اپنے سیاسی سفر کو نئی شکل دینے کی کوشش ہے، تو دوسری طرف یہ ریاستی سیاست میں نسلوں کی تبدیلی کی علامت بھی بن سکتا ہے۔آنے والے برسوں میں یہ واضح ہوگا کہ آیا یہ فیصلہ ایک دانشمندانہ سیاسی حکمت عملی ثابت ہوتا ہے یا نہیں۔ اگر نئی حکومت استحکام اور ترقی کے راستے پر آگے بڑھتی ہے تو نتیش کمار کا یہ قدم ایک کامیاب سیاسی منتقلی کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ لیکن اگر اس تبدیلی سے سیاسی عدم استحکام پیدا ہوتا ہے تو اسے ایک ایسا فیصلہ بھی سمجھا جا سکتا ہے جس نے بہار کی سیاست میں نئے تنازعات کو جنم دیا۔نتیش کمار نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ ہندوستانی سیاست کے ان رہنماؤں میں شامل ہیں جو وقت کے بدلتے حالات کے مطابق اپنے کردار کو نئی شکل دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان کا راجیہ سبھا کا سفر اسی سیاسی حکمت عملی کی ایک تازہ مثال ہے۔

Md Yasin Jahazi

Md Yasin Jahazi

Next Post
وندے ماترم کی مخالفت پر ماتم کا مقصد

ہندوتو کی سمت اور رفتار

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

منتخب کردہ

اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

بھارت کی موجودہ حکومت،ایسٹ انڈیا کمپنی کی راہ پر!

3 مہینے ago
قلمِ رواں کی ایک اور روشن کاوش

قلمِ رواں کی ایک اور روشن کاوش

12 مہینے ago

مقبول

  • بسنترائے جمعیت علما کی مجلس منتظمہ کے دوسرے اجلاس کا انعقاد

    بسنترائے جمعیت علما کی مجلس منتظمہ کے دوسرے اجلاس کا انعقاد

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • جمعیت علمائے بسنت رائے کی سکریٹری رپورٹ کا خلاصہ

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • جمعیت علمائے بسنت رائے کی مجلس منتظمہ کے اجلاس میں منظور کردہ تجاویز

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • ارتداد کی روک تھام کے لیے دو اہم اور قابلِ عمل طریقے

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • تجاویز: آٹھواں فقہی سیمینار مجلس تحقیقات شرعیہ ندوة العلماء، لکھنؤ

    0 shares
    Share 0 Tweet 0

ہم سے جڑیے

ہمارا خبری نامہ حاصل کریں

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetuer adipiscing elit. Aenean commodo ligula eget dolor.
SUBSCRIBE

زمرہ جات

اہم روابط

  • لاگ ان کریں
  • Entries feed
  • Comments feed
  • WordPress.org

ہمارے بارے میں

جہازی میڈیا باشعور افراد کی ایک ایسی تحریک ہے، جو ملت اسلامیہ کی نشاۃ ثانیہ کے لیے اپنی فکری و عملی خدمات پیش کرنے کے لیے عہدبند ہوتے ہیں۔ اس لیے ہر وہ شخص اس تحریک کا ممبر بن سکتا ہے، جو اس نظریہ و مقصد سے اتفاق رکھتا ہے۔

  • ہمارے بارے میں
  • قوائد و ضوابط
  • کاپی رائٹس
  • پرائیویسی پالیسی
  • رابطہ

© 2025 Jahazi Media Designed by Mehmood Khan 9720936030.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • ہوم
  • اسلامیات
  • جمعیت علمائے ہند
  • زبان و ادب
  • قومی و بین الاقوامی
  • اہم خبریں
    • دہلی
    • اتر پردیش
    • کرناٹک
    • مہاراشٹر
  • غزل
  • متفرق مضامین
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • دیگر مضامین
  • ترجمہ و تفسیر قرآن کریم

© 2025 Jahazi Media Designed by Mehmood Khan 9720936030.