اتوار, اگست 9, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Jahazi Media – Latest News, Articles & Insights
  • ہوم
  • جمعیت علمائے ہند
  • اسلامیات
  • زبان و ادب
  • متفرق مضامین
    • All
    • جاوید اختر بھارتی
    • دیگر مضامین
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی

    بچوں کو کھیل کھیل میں تعلیم کے 27 طریقے: سید الملت حضرت مولانا محمد میاں صاحب نور اللہ مرقدہ

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    بھارت کی موجودہ حکومت،ایسٹ انڈیا کمپنی کی راہ پر!

    محمد یاسین جہازی

    تدریس کے 35 جدید طریقے

    ایجوکیشن کمیشن اور مدارسِ اسلامیہ

    ایجوکیشن کمیشن اور مدارسِ اسلامیہ

    نسلِ جدید

    آج یوم تاسیس تحریک تبلیغ ہے

    حضرت العلامہ معین الدین اجمیری رحمۃ اللہ علیہ

    سابق چیف الیکشن کمیشن آف انڈیا  سے جہازی مکالمات

    جناب منورزماں سر کی نصیحت آموز باتیں

    جناب منورزماں سر کی نصیحت آموز باتیں

    اصلاح معاشرہ کانفرنس لوگائیں گڈا (22مئی 2009ء)کی ایک رپورٹ

    محمد یاسین جہازی

    پاکستان اور ہندستانی مسلمان

    Trending Tags

    • Golden Globes
    • Mr. Robot
    • MotoGP 2017
    • Climate Change
    • Flat Earth
  • اہم خبریں
    • All
    • اتر پردیش
    • دہلی
    • دیگر ریاستیں

    بھارت چھوڑو تحریک” کا سبق – صرف ماضی کی یاد نہیں، حال کی رہنمائی بھی ہےایم. ڈبلیو. انصاری (آئی.پی. ایس) ریٹائرڈ، ڈی. جی

    قانون کو ہاتھ میں لینے کی کسی کو اجازت نہیں، قصورواروں کو فوری گرفتار کیا جائے: جمعیۃ علماء جھارکھنڈ

    قانون کو ہاتھ میں لینے کی کسی کو اجازت نہیں، قصورواروں کو فوری گرفتار کیا جائے: جمعیۃ علماء جھارکھنڈ

    وندے ماترم کو قانونی لزوم دینا مذہبی و آئینی آزادی پر حملہ ہےآل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ

    اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کا ایک سہ روزہ سمر کیمپ کا افتتاحی پروگرام

    اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کا ایک سہ روزہ سمر کیمپ کا افتتاحی پروگرام

    مہاراشٹر میں یکساں سول کوڈ کے نفاذ کی مخالفت کی جائے گی: مولانا حلیم اللہ قاسمی

    مہاراشٹر میں یکساں سول کوڈ کے نفاذ کی مخالفت کی جائے گی: مولانا حلیم اللہ قاسمی

    بسنت رائے میں ” گلوبل ٹریول” حج و عمرہ دفتر کا شاندار افتتاح

    بسنت رائے میں ” گلوبل ٹریول” حج و عمرہ دفتر کا شاندار افتتاح

    آج یوم تاسیس تحریک تبلیغ ہے

    فرقہ پرستوں کا ایک اہم اعتراض اور اس کا جواب

    آج یوم تاسیس تحریک تبلیغ ہے

    ہماری مساجد کی تعمیر ہماری ذمہ داری

    عورت کا وقار، قانون کی تعبیر اور انصاف کا امتحان

    عورت کا وقار، قانون کی تعبیر اور انصاف کا امتحان

  • ترجمہ و تفسیر قرآن کریم
    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    Trending Tags

    • Sillicon Valley
    • Climate Change
    • Election Results
    • Flat Earth
    • Golden Globes
    • MotoGP 2017
    • Mr. Robot
  • ہوم
  • جمعیت علمائے ہند
  • اسلامیات
  • زبان و ادب
  • متفرق مضامین
    • All
    • جاوید اختر بھارتی
    • دیگر مضامین
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی

    بچوں کو کھیل کھیل میں تعلیم کے 27 طریقے: سید الملت حضرت مولانا محمد میاں صاحب نور اللہ مرقدہ

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    بھارت کی موجودہ حکومت،ایسٹ انڈیا کمپنی کی راہ پر!

    محمد یاسین جہازی

    تدریس کے 35 جدید طریقے

    ایجوکیشن کمیشن اور مدارسِ اسلامیہ

    ایجوکیشن کمیشن اور مدارسِ اسلامیہ

    نسلِ جدید

    آج یوم تاسیس تحریک تبلیغ ہے

    حضرت العلامہ معین الدین اجمیری رحمۃ اللہ علیہ

    سابق چیف الیکشن کمیشن آف انڈیا  سے جہازی مکالمات

    جناب منورزماں سر کی نصیحت آموز باتیں

    جناب منورزماں سر کی نصیحت آموز باتیں

    اصلاح معاشرہ کانفرنس لوگائیں گڈا (22مئی 2009ء)کی ایک رپورٹ

    محمد یاسین جہازی

    پاکستان اور ہندستانی مسلمان

    Trending Tags

    • Golden Globes
    • Mr. Robot
    • MotoGP 2017
    • Climate Change
    • Flat Earth
  • اہم خبریں
    • All
    • اتر پردیش
    • دہلی
    • دیگر ریاستیں

    بھارت چھوڑو تحریک” کا سبق – صرف ماضی کی یاد نہیں، حال کی رہنمائی بھی ہےایم. ڈبلیو. انصاری (آئی.پی. ایس) ریٹائرڈ، ڈی. جی

    قانون کو ہاتھ میں لینے کی کسی کو اجازت نہیں، قصورواروں کو فوری گرفتار کیا جائے: جمعیۃ علماء جھارکھنڈ

    قانون کو ہاتھ میں لینے کی کسی کو اجازت نہیں، قصورواروں کو فوری گرفتار کیا جائے: جمعیۃ علماء جھارکھنڈ

    وندے ماترم کو قانونی لزوم دینا مذہبی و آئینی آزادی پر حملہ ہےآل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ

    اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کا ایک سہ روزہ سمر کیمپ کا افتتاحی پروگرام

    اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کا ایک سہ روزہ سمر کیمپ کا افتتاحی پروگرام

    مہاراشٹر میں یکساں سول کوڈ کے نفاذ کی مخالفت کی جائے گی: مولانا حلیم اللہ قاسمی

    مہاراشٹر میں یکساں سول کوڈ کے نفاذ کی مخالفت کی جائے گی: مولانا حلیم اللہ قاسمی

    بسنت رائے میں ” گلوبل ٹریول” حج و عمرہ دفتر کا شاندار افتتاح

    بسنت رائے میں ” گلوبل ٹریول” حج و عمرہ دفتر کا شاندار افتتاح

    آج یوم تاسیس تحریک تبلیغ ہے

    فرقہ پرستوں کا ایک اہم اعتراض اور اس کا جواب

    آج یوم تاسیس تحریک تبلیغ ہے

    ہماری مساجد کی تعمیر ہماری ذمہ داری

    عورت کا وقار، قانون کی تعبیر اور انصاف کا امتحان

    عورت کا وقار، قانون کی تعبیر اور انصاف کا امتحان

  • ترجمہ و تفسیر قرآن کریم
    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    Trending Tags

    • Sillicon Valley
    • Climate Change
    • Election Results
    • Flat Earth
    • Golden Globes
    • MotoGP 2017
    • Mr. Robot
No Result
View All Result
Jahazi Media – Latest News, Articles & Insights
No Result
View All Result
Home متفرق مضامین

نتیش کمار کا راجیہ سبھا کا رخ: اقتدار سے فاصلہ یا نئی حکمت عملی!

by Md Yasin Jahazi
مارچ 7, 2026
in متفرق مضامین
0
نتیش کمار کا راجیہ سبھا کا رخ: اقتدار سے فاصلہ یا نئی حکمت عملی!
0
SHARES
10
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

جاوید جمال الدین

بہار کی سیاست میں کئی دہائیوں تک مرکزی کردار ادا کرنے والے نتیش کمار نے راجیہ سبھا جانے کا فیصلہ کر کے ایک بار پھر سیاسی حلقوں کو حیران کر دیا ہے۔ طویل عرصے تک ریاست کی سیاست کا محور رہنے والے نتیش کمار کا یہ قدم محض ایک عہدے کی تبدیلی نہیں بلکہ ان کے سیاسی سفر کا ایک اہم موڑ سمجھا جا رہا ہے۔ تقریباً دو دہائیوں تک بہار کی سیاست پر گہرا اثر رکھنے اور ریکارڈ دس مرتبہ وزیر اعلیٰ کے طور پر حلف لینے کے بعد ان کا یہ فیصلہ اس بات کا اشارہ دیتا ہے کہ وہ اب عملی حکمرانی سے کچھ فاصلے پر رہ کر ایک مختلف کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔نتیش کمار کا سیاسی سفر غیر معمولی رہا ہے۔ انہوں نے اپنے کیریئر کے مختلف مراحل میں قانون ساز اسمبلی، قانون ساز کونسل اور لوک سبھا کے رکن کے طور پر خدمات انجام دی ہیں۔ اب راجیہ سبھا میں جانے کے بعد وہ ان چاروں قانون ساز اداروں کا حصہ رہنے والے چند نادر سیاست دانوں میں شامل ہو جائیں گے۔ بظاہر یہ ان کی دیرینہ خواہش کی تکمیل بھی ہے اور ایک ایسا اعزاز بھی جسے وہ اپنے سیاسی سفر کی تکمیل کے طور پر پیش کر سکتے ہیں۔لیکن سیاسی مبصرین کے مطابق اس فیصلے کے پیچھے صرف آئینی یا علامتی پہلو ہی نہیں بلکہ کئی عملی اور سیاسی عوامل بھی کارفرما ہیں۔ 74 سال کی عمر میں نتیش کمار اب بھی سیاسی طور پر فعال ہیں، لیکن ریاست کی روزمرہ حکمرانی کی پیچیدگیاں اور دباؤ یقیناً تھکا دینے والے ہیں۔ بہار جیسی ریاست میں جہاں ذات پات کی سیاست، معاشی مسائل اور اتحاد کی سیاست ایک ساتھ چلتی ہے، وزیر اعلیٰ کا عہدہ ہمیشہ انتہائی چیلنجنگ رہا ہے۔اتحاد کی سیاست اور بدلتا طاقت کا توازنپچھلے چند برسوں میں بہار کی سیاست مسلسل اتحادوں کی تبدیلی سے گزری ہے۔ نتیش کمار کبھی جنتا دل یونائٹیڈ کے ساتھاین دی اے کا حصہ رہے، کبھی انہوں نے مہاگٹھ بندھن کے ساتھ ہاتھ ملایا اور پھر دوبارہ این ڈی اے میں واپس آ گئے۔ اس دوران ریاست کی سیاست میں طاقت کا توازن بھی بدلتا رہا۔حالیہ اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کی طاقت میں واضح اضافہ ہوا اور وہ اتحاد کے اندر سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری۔ اس پس منظر میں نتیش کمار کا راجیہ سبھا جانا ایک ایسے سیاسی قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جس کے ذریعے وہ اپنی شرائط پر اقتدار سے جزوی دستبرداری اختیار کر رہے ہیں۔سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ فیصلہ انہیں اس امکان سے بھی بچاتا ہے کہ مستقبل میں اگر بی جے پی ریاستی سیاست میں مکمل کنٹرول حاصل کر لے تو نتیش کمار کو حاشیے پر جانا پڑے۔ راجیہ سبھا میں جا کر وہ باضابطہ طور پر اقتدار چھوڑے بغیر ایک سرپرست یا رہنما کے طور پر اپنا کردار جاری رکھ سکتے ہیں۔نتیش کمار نے واضح کیا ہے کہ وہ بہار کی سیاست سے مکمل طور پر الگ نہیں ہوں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ نئی حکومت کو مکمل تعاون فراہم کریں گے اور پارٹی و اتحاد کے معاملات میں رہنمائی کرتے رہیں گے۔یہ کردار دراصل ایک ایسے بزرگ سیاست دان کا ہوگا جو روزمرہ انتظامی ذمہ داریوں سے آزاد ہو کر سیاسی سمت متعین کرتا ہے۔ دہلی میں راجیہ سبھا کے رکن کے طور پر وہ قومی سطح پر بھی زیادہ فعال ہو سکتے ہیں اور بہار کے مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھا سکتے ہیں۔بی جے پی کے لیے بھی یہ انتظام فائدہ مند نظر آتا ہے۔ ایک طرف اسے ریاست میں حکومت کی عملی قیادت کا موقع مل سکتا ہے اور دوسری طرف نتیش کمار کی موجودگی سے اتحاد کو استحکام کا تاثر بھی ملتا رہے گا۔ بہار کے ووٹرز کے ایک بڑے طبقے کے لیے نتیش کمار اب بھی استحکام اور انتظامی تجربے کی علامت ہیں۔تاہم اس تبدیلی سے سب سے بڑا چیلنج جے ڈی یو کے سامنے ہے۔ نتیش کمار اس جماعت کے بانی رہنما اور سب سے بڑی شناخت ہیں۔ اگر وہ ریاستی اقتدار کے مرکز سے دور ہو جاتے ہیں تو پارٹی کے کئی رہنماؤں کو یہ خدشہ لاحق ہے کہ کہیں ان کی سیاسی اہمیت کم نہ ہو جائے۔سیاسی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ اکثر علاقائی جماعتیں اپنے بانی رہنماؤں کے بعد کمزور ہو جاتی ہیں۔ اگر پارٹی کے اندر واضح دوسری قیادت نہ ہو تو دھڑے بندی یا بڑی جماعتوں میں ضم ہونے کا خطرہ بھی پیدا ہو جاتا ہے۔ اس لیے جے ڈی یو کے لیے آنے والے سال نہایت اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔نتیش کمار کے فیصلے کے بعد سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ بہار کی قیادت کس کے ہاتھ میں جائے گی۔ اگر بی جے پی ریاست میں وزیر اعلیٰ کا عہدہ سنبھالتی ہے تو یہ بہار کی سیاست میں ایک تاریخی تبدیلی ہوگی، کیونکہ اب تک زیادہ تر اتحادوں میں قیادت جے ڈی یو کے پاس رہی ہے۔سیاسی مبصرین کے مطابق ممکنہ قیادت کے لیے تین طرح کے نام سامنے آ سکتے ہیں۔ پہلا گروہ وہ سینئر رہنما ہیں جو طویل عرصے سے ریاستی سیاست میں فعال ہیں اور جن کے پاس انتظامی تجربہ بھی موجود ہے۔ دوسرا گروہ نسبتاً نوجوان رہنماؤں کا ہے جو پارٹی تنظیم میں مضبوط بنیاد رکھتے ہیں اور نظریاتی طور پر بھی بی جے پی کے قریب سمجھے جاتے ہیں۔ تیسرا امکان یہ ہے کہ پارٹی کسی ایسے رہنما کو آگے لائے جو سماجی اعتبار سے کسی اہم ذات یا برادری کی نمائندگی کرتا ہو، تاکہ ریاست میں وسیع تر سماجی توازن قائم رکھا جا سکے۔نتیش کمار کے بیٹے نشانے کمار کے بارے میں بھی سیاسی حلقوں میں کبھی کبھار قیاس آرائیاں سامنے آتی رہی ہیں۔ نشانت کمار پیشے کے اعتبار سے سافٹ ویئر انجینئر ہیں اور انہوں نے اب تک خود کو عملی سیاست سے دور رکھا ہے۔وہ 1975 میں پیدا ہوئے اور انہوں نے برلا انسٹی آف ٹیکنالوجی سے انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کی۔ اپنی والدہ کے انتقال کے بعد وہ زیادہ تر نجی زندگی میں مصروف رہے اور عوامی سیاست میں حصہ لینے سے گریز کرتے رہے۔اگرچہ ماضی میں بعض حلقوں نے یہ اندازہ لگایا تھا کہ وہ جے ڈی یو کے امیدوار کے طور پر انتخابات میں حصہ لے سکتے ہیں، لیکن پارٹی قیادت نے اس امکان کو بارہا مسترد کیا۔ اس کے باوجود نتیش کمار کے راجیہ سبھا جانے کے بعد ایک بار پھر یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ آیا مستقبل میں نشانت کمار کو سیاست میں لایا جا سکتا ہے یا نہیں۔نتیش کمار کے اس فیصلے کے اثرات صرف ایک عہدے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ اس سے بہار کی سیاست کا پورا منظرنامہ بدل سکتا ہے۔مختصر مدت میں اس کا سب سے بڑا اثر یہ ہوگا کہ ریاست میں بی جے پی کا سیاسی اثر مزید مضبوط ہو سکتا ہے۔ اگر نئی حکومت بی جے پی کی قیادت میں بنتی ہے تو وہ اپنی حکمرانی کے انداز اور پالیسیوں کو زیادہ واضح طور پر نافذ کرنے کی کوشش کرے گی۔دوسری طرف جے ڈی یو کے لیے یہ ایک آزمائش کا وقت ہوگا۔ اگر پارٹی نئی قیادت پیدا کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو وہ اتحاد میں اپنی جگہ برقرار رکھ سکتی ہے۔ لیکن اگر ایسا نہ ہوا تو اس کی سیاسی طاقت آہستہ آہستہ کم بھی ہو سکتی ہے۔نتیش کمار کی سیاست ہمیشہ صرف بہار تک محدود نہیں رہی۔ کئی مواقع پر انہیں قومی سطح پر اپوزیشن اتحاد کے ممکنہ رہنما کے طور پر بھی دیکھا گیا تھا۔ ان کی شبیہ ایک ایسے لیڈر کی رہی ہے جو پسماندہ طبقات کی نمائندگی بھی کرتا ہے اور حکمرانی کے تجربے کا حامل بھی ہے۔لیکن این ڈی اے کے ساتھ ان کی موجودہ وابستگی اور راجیہ سبھا میں ان کا نیا کردار اس امکان کو کمزور کر دیتا ہے کہ وہ مستقبل قریب میں کسی بڑے اپوزیشن اتحاد کی قیادت کریں گے۔نتیش کمار کے دور حکومت کو بہار کی سیاست میں ایک اہم مرحلے کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ ان کے دور میں سڑکوں کی تعمیر، بجلی کی فراہمی اور تعلیم کے شعبے میں کئی اصلاحات کی گئیں۔ امن و امان کے حوالے سے بھی ان کی حکومت کو ماضی کے مقابلے میں بہتر قرار دیا جاتا ہے۔اسی وجہ سے بہت سے لوگ انہیں بہار کی ترقی کی سیاست کا اہم معمار سمجھتے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ ان کے بعد آنے والی قیادت اس ترقیاتی ایجنڈے کو کس حد تک جاری رکھ پاتی ہے۔نتیش کمار کا راجیہ سبھا جانا دراصل بہار کی سیاست میں ایک نئے باب کی شروعات ہے۔ یہ فیصلہ بیک وقت کئی پیغامات دیتا ہے۔ ایک طرف یہ ایک تجربہ کار سیاست دان کی جانب سے اپنے سیاسی سفر کو نئی شکل دینے کی کوشش ہے، تو دوسری طرف یہ ریاستی سیاست میں نسلوں کی تبدیلی کی علامت بھی بن سکتا ہے۔آنے والے برسوں میں یہ واضح ہوگا کہ آیا یہ فیصلہ ایک دانشمندانہ سیاسی حکمت عملی ثابت ہوتا ہے یا نہیں۔ اگر نئی حکومت استحکام اور ترقی کے راستے پر آگے بڑھتی ہے تو نتیش کمار کا یہ قدم ایک کامیاب سیاسی منتقلی کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ لیکن اگر اس تبدیلی سے سیاسی عدم استحکام پیدا ہوتا ہے تو اسے ایک ایسا فیصلہ بھی سمجھا جا سکتا ہے جس نے بہار کی سیاست میں نئے تنازعات کو جنم دیا۔نتیش کمار نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ ہندوستانی سیاست کے ان رہنماؤں میں شامل ہیں جو وقت کے بدلتے حالات کے مطابق اپنے کردار کو نئی شکل دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان کا راجیہ سبھا کا سفر اسی سیاسی حکمت عملی کی ایک تازہ مثال ہے۔

Md Yasin Jahazi

Md Yasin Jahazi

Next Post
وندے ماترم کی مخالفت پر ماتم کا مقصد

ہندوتو کی سمت اور رفتار

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

منتخب کردہ

حضرت مولانا عبداللہ مغیثیؒ ایک عہد ساز شخصیت

اقتدار کی منتقلی سے حکمرانی کے امتحان تککرناٹک میں نئی قیادت کے سامنے سیاسی استحکام اور سماجی توازن کا چیلنج

2 مہینے ago
الیکشن میں مسلمانوں کے لئے ترجیحات

گرمائی تعطیل بچوں كی بنیادی دینی تعلیم كا زریں موقع!

4 مہینے ago

مقبول

  • کیا یورپ واقعی سونے کی چڑیا ہے؟

    کیا ہم نے اپنے وطن کی قدر کرنا چھوڑ دیا ہے؟

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • بھارت چھوڑو تحریک” کا سبق – صرف ماضی کی یاد نہیں، حال کی رہنمائی بھی ہےایم. ڈبلیو. انصاری (آئی.پی. ایس) ریٹائرڈ، ڈی. جی

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • کھلونا پر مبنی تدریس (Toy-Based Learning)

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • طرحی غزل

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • ویں صدی سے دیار حبیب صلی اللہ علیہ وسلم (سعودی عرب) سے ہندستانی مسلمانوں کے روابط

    0 shares
    Share 0 Tweet 0

ہم سے جڑیے

ہمارا خبری نامہ حاصل کریں

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetuer adipiscing elit. Aenean commodo ligula eget dolor.
SUBSCRIBE

زمرہ جات

اہم روابط

  • لاگ ان کریں
  • Entries feed
  • Comments feed
  • WordPress.org

ہمارے بارے میں

جہازی میڈیا باشعور افراد کی ایک ایسی تحریک ہے، جو ملت اسلامیہ کی نشاۃ ثانیہ کے لیے اپنی فکری و عملی خدمات پیش کرنے کے لیے عہدبند ہوتے ہیں۔ اس لیے ہر وہ شخص اس تحریک کا ممبر بن سکتا ہے، جو اس نظریہ و مقصد سے اتفاق رکھتا ہے۔

  • ہمارے بارے میں
  • قوائد و ضوابط
  • کاپی رائٹس
  • پرائیویسی پالیسی
  • رابطہ

© 2025 Jahazi Media Designed by Mehmood Khan 9720936030.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • ہوم
  • اسلامیات
  • جمعیت علمائے ہند
  • زبان و ادب
  • قومی و بین الاقوامی
  • اہم خبریں
    • دہلی
    • اتر پردیش
    • کرناٹک
    • مہاراشٹر
  • غزل
  • متفرق مضامین
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • دیگر مضامین
  • ترجمہ و تفسیر قرآن کریم

© 2025 Jahazi Media Designed by Mehmood Khan 9720936030.