ملاحظات،
مولانا عبدالحمید نعمانی
ہندو، ہندوتو کے نام پر بات کہاں تک پہنچ چکی ہے، یہ اہل ملک کے سامنے ہے، اگر ہندو، ہندوتو یہی ہے جس کا اظہار و اثبات ہیمنت بسوا سرما، دھامی، یوگی، یتی نرسنہا نند اور دیگر ہندوتو وادی پنکی چوہدری، دکش چوہدری، جیسے لوگ کرتے ہیں تو ہندو اور ہندوتو وادی سماج، انسانی سماج کے لیے کبھی اور کسی معنی میں بھی قابل اختیار فکر و عمل اور طرز حیات نہیں بن سکتا ہے، ہندوتو وادیوں کی شدت پسندی اور برہمن وادی عناصر کی طرف سے تحریف و ترمیم اور حذف و اضافہ نے تمام تر معاملات کو مشکوک و غیر معتبر بنا دیا ہے، دیگر بہت سے اشاعتی اداروں کے علاوہ گیتا پریس گورکھ جیسا معروف اشاعتی ادارہ بھی برہمن دھرم کے اصل بیشتر متون کو شائع نہیں کر رہا ہے، اور سنسکرت متن کے بغیر شائع کرتا ہے یا من پسند طریقے پر خلاصے شائع کر رہا ہے، اس کا واحد مقصد بہت سے اصل حقائق پر پردہ ڈالنے اور قدیم اصل فکر و عمل کے برخلاف ہندوتو وادی سماج کی تشکیل ہے، آج کی تاریخ میں سچ تو یہ ہے کہ ہندوتو کی سمت کا پتا لگانا مشکل ہو گیا ہے، مطلب ہندوتو بے سمت فکر و عمل اور طرز حیات بن کر رہ گیا ہے، ایک مدت سے بلکہ کہیے کہ جب سے ہندوتو کی اصطلاح بہ طور سیاسی، سماجی و تہذیبی نظریے و روایات کے، ایجاد ہوئی ہے تب سے وہ سوال و شک اورتنازعہ کے گھیرے و دائرے سے باہر نہیں نکل سکی ہے، سپریم کورٹ سے لے کر، آر ایس ایس حتی کہ وزیراعظم مودی جی بھی ہندو، ہندوتو کو دھرم نہیں مانتے ہیں، ان کے نزدیک ہندو، ہندوتو زیادہ سے زیادہ ایک طرز حیات ہے، جہاں تک طرز حیات کی بات ہے تو یہ ہندو ہندوتو کی کوئی خصوصیت نہیں ہے ہر چھوٹے بڑے مذہب کا ایک طرز حیات اور نظام زندگی ہے، جس کے مطابق اس کے ماننے والے زندگی گزارتے ہیں اور فکر و عمل کو مربوط و منظم کر کے مذہب کی راہ پر گامزن رہتے ہیں، سپریم کورٹ کے فیصلے میں ہندو، ہندوتو کو ایک طرز حیات قرار دینا اور آر ایس ایس کا اسے تسلیم کرتے ہوئے موقع بہ موقع بہ طور بیانیہ و نعرہ کے سماج کے سامنے پیش کرنا، سیاست اور انتخابی کامیابی کے لیے سیکولر بھارت میں دھرم کے استعمال پر اعتراض سے بچنے کے لیے، مبہم و مجہول، ہندو، ہندوتو کے لفظ کو ایسا معنی دینا ہے کہ جسے عمل میں لانا خاصا مشکل ہے، دنیا کو تو چھوڑیے، بھارت میں ہی ان گنت طرزہائے حیات پائے جاتے ہیں، ملک میں کوئی ایک طرز حیات تو ہے نہیں کہ متعین طور پر کہا اور بتایا جا سکے کہ یہ طرز حیات ہندو، ہندوتو ہے، اور جس کے مطابق بھارت کے تمام باشندوں کو فکر و عمل اختیار کرنا ہو گا، بہ صورت دیگر وہ بھارت کے شہری نہیں ہو سکتے ہیں اور ان کو بہ طور شہری کے کوئی اختیار و حق حاصل نہیں ہو گا، جیسا کہ ساورکر و گولولکر نے کہا ہے، اسی کے مد نظر ہندوتو وادی کہتے ہیں کہ مسلمان بھارت سے چلے جائیں، کیوں کہ بھارت صرف ہندوؤں کا ہے، یہ ایک غیر آئینی و غیر تاریخی سوچ ہے، لیکن اسے ہندوتو وادی عناصر بڑھانے اور عمل میں لانے کی کوشش کرتے نظر آ رہے ہیں، وہ کچھ سڑکوں، راستوں کے بارے میں لکھ دیتے ہیں کہ یہ مسلمانوں کے لیے نہیں ہیں، ساتھ ہی وہ کھلے عام مختلف قسم کے بائیکاٹ کا بھی اعلان کرتے رہتے ہیں، اس سے ڈاکٹر بھاگوت کے دعوے کی تردید و تکذیب ہوتی ہے کہ ہندوتو کشادگی و آزادی سے عبارت ہے، شیو سینا کے منوہر جوشی کی انتخابی مہم میں رائے دہندگان کو ہندو، ہندوتو کے نام پر ووٹنگ کی اپیل کے تناظر میں معاملہ سپریم کورٹ گیا تھا اور اسی کی شنوائی کرتے ہوئے چیف جسٹس جے ایس ورما نے، ہندو، ہندوتو کو ایک طرز حیات قرار دینے والا فیصلہ دیا تھا، اس فیصلے کے تمام ضروری حصے کو آر ایس ایس نے” ہندوتو کے بارے میں کیا کہتا ہے سپریم کورٹ ” کے نام و عنوان سے کتابی شکل میں شائع کر کے پھیلانے کا کام کیا تھا، آج کی تاریخ میں کوئی دو رائے نہیں ہو سکتی ہیں کہ ہندوتو اپنے آپ میں محض ایک طرز حیات نہیں ہے بلکہ فرقہ وارانہ سطح پر دیگر باشندگان ملک کی مختلف قسم کی مذہبی ،تہذیبی و سماجی شناخت اور آئینی آزادی کو ختم کر کے پورے ملک پر ایک مخصوص قسم کے برہمن وادی فکر و عمل کا تسلط قائم کر کے، طاقت اور زور زبردستی، اس کے مطابق سماج کی تشکیل بھی ہے، اسی کا حصہ اپنے گھروں میں بھی مذہبی و تہذیبی اعمال و مراسم، نماز وغیرہ کی ادائیگی سے روکنا بھی ہے، حالاں کہ عدالت کا واضح فیصلہ ہے کہ اپنے گھروں اور نجی زمین پر کسی بھی مذہبی و تعلیمی عمل پر روک کا سرکاری، غیر سرکاری طور پر کوئی حق نہیں ہے، ہندوتو، ایک جارحانہ منفی سیاسی نظریہ سے آگے جا کر، عملی جارحیت، غنڈہ گردی اور خصوصا مسلمانوں سے نفرت کرتے ہوئے ان کو نشانہ بنانے اور ذلیل کرنے میں بدل چکا ہے، ہندوتو وادی عناصر پاکستان، بنگلہ دیش وغیرہ میں غیر مسلم اقلیتوں کے ساتھ ہونے والے چند انفرادی واقعات کا حوالہ دے کر ہندستانی مسلمانوں کے خلاف مظالم اور ان کا نسلی صفایا اور قتل عام کا عام اعلان کیا جاتا ہے، بنگلہ دیش سمیت دنیا کے کسی مسلم ملک میں ہندوؤں اور دیگر غیر مسلموں کے ساتھ، کھلے عام ایسی زیادتیاں نظر نہیں آتی ہیں، بھارت کا کوئی مسلمان کس مسلم میں غیر مسلم اقلیت کے ساتھ کسی زیادتی کی حمایت نہیں کرتا ہے، جیسا کہ بھارت کے فرقہ پرست ہندوتو وادی، مسلمانوں کے زیادتی اور اسرائیل کی طرف سے فلسطینیوں کے قتل اور ظلم و بربریت کی حمایت و مسرت کا اظہار کرتے ہیں، پنکی چوہدری اور دیگر کئی سارے لوگ مسلمانوں اور اسلام کو کینسر قرار دے کر ان کو ختم کر دینے کی بات کرتے ہیں، اس کی وجہ سے ٹرین، جہاز، گاؤں، قصبوں، شہروں میں بری طرح نفرت کا زہر پھیل گیا ہے، مسلمانوں خصوصا داڑھی، ٹوپی والے کو دیکھتے ہی فرقہ پرست ہندوتو وادیوں کے ہاتھ پاؤں اور منھ میں کھجلی پیدا ہو جاتی ہے ایسا بی جے پی اقتدار والی ریاستوں میں زیادہ دیکھنے میں آتا ہے، بدایوں کا واقعہ چند دنوں پہلے کا ہے، فرقہ پرستی اور نفرت و جارحیت پر مبنی ہندوتو کی کوئی ایک شکل نہیں ہے اور نہ صرف آر ایس ایس کے مخصوص حلقے تک محدود ہے بلکہ کئی ساری شکلیں ہیں اور دیگر تنظیموں اور طبقات میں بھی بہت گہرائی تک اس کا زہر سرایت کر گیا ہے ،یہ امید افزا اور خوش آئند بات ہے کہ بہت سے صاف ذہن انصاف پسند غیر مسلم بھی اس کی مزاحمت کرتے نظر آتے ہیں، اس کی اچھی مثال دیپک کمار اور لکھنؤ یونیورسٹی میں نماز ادا کرتے ہوئے مسلمانوں کی حفاظت کرنے والے غیر مسلم طلبہ ہیں، غیر مسلموں کی بڑی تعداد جارحانہ ہندوتو کے خلاف، اور سیکولرازم اور انصاف و انسانیت کے ساتھ کھڑی نظر آتی ہے، عدالتوں کے کچھ فیصلے بھی امید جاتے ہیں، یہ اور بات ہے کہ کئی بار عدالتیں حتی کہ سپریم کورٹ بھی سیاسی حالات کے دباؤ میں نظر آتا ہے، جیسا کہ آسام، اتر کھنڈ، یوپی کے وزرائے اعلی کے اشتعال انگیز بیانات و خطابات کے معاملے میں نظر آتا ہے، اس کی طرف گزشتہ دنوں جمیعتہ علماء ہند کے صدر مولانا محمود مدنی نے اشارہ کیا تھا، یو جی سی حتی کہ کتوں تک کے معاملے میں جس تیزی اور ازخود توجہ دے کر فیصلے کیے گئے ،ویسا اشتعال انگیز بیانات کے معاملے میں نظر نہیں آتا ہے، عدالتیں ہی عوام و خواص کی آخری امید اور پناہ گاہ رہ گئی ہیں، ایسی صورت حال میں ان کی ذمہ داریاں سوا ہو گئی ہیں، ہندوتو اور ہندو راشٹر قائم کرنے کی جس طور سے پورے ملک میں باتیں اور سرگرمیاں جاری ہیں، ان سے ہندوتو کی سمت اور رفتار کا بہ خوبی اندازہ ہو رہا ہے، ہندوتو وادی بیک وقت مسلمانوں، دلتوں اور ان کی رہنما شخصیات کے خلاف جس طرح اشتعال انگیزی اور برہنہ گفتاری کا کھلے عام مظاہرہ کر رہے ہیں اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ذہن و دل میں کس قدر نفرت کا زہر بھر گیا ہے اور گزرتے دنوں کے ساتھ اس میں اضافہ ہی ہوتا جا رہا ہے، یہ افسوس ناک معاملہ ہے کہ تخریبی سرگرمیوں اور مار پیٹ، قتل و فساد اور انتہائی توہین آمیز بیانات اور کارروائیوں پر روک لگانے کے لیے بی جے پی اقتدار والی ریاستوں میں کوئی سنجیدہ موثر کوشش ہوتی نظر نہیں آتی ہے، بسا اوقات تو ریاست اور ضلع پولیس، فسادیوں اور تخریب کاروں کے ساتھ کھڑی نظرآتی ہے جب کہ کسی مسلم ملک بنگلہ دیش تک میں بھی حکومت، پولیس وغیرہ غیر مسلم اقلیتوں کے ساتھ اور فسادیوں کے خلاف نظر آتی ہے، ویسے بھی اقلیتوں کے جان و مال کی حفاظت کی اولین ذمہ داری، ایک انصاف پسند اور جمہوری حکومت کی ہوتی ہے، اس حوالے سے دیکھا جائے تو بی جے پی قیادت والی مرکزی و ریاستی سرکاریں ،اپنی ذمہ داریوں اور فرائض کی ادائیگی میں ناکام ہیں، اس سلسلے میں سنگھ اور دیگر ہندوتو وادی تنظیموں کے کلیدی عہدے داروں کی باتیں بالکل ہوا ہوائی سی لگتی ہیں، سنگھ، شاکھاؤں کی تعداد اور طاقت میں اضافے کی بات کرتا ہے، ڈاکٹر بھاگوت بھی کئی طرح کی باتیں، آئے دن کرتے رہتے ہیں اور کچھ دنوں سے تو ان کے بیانات کی سونامی سی آ گئی ہے لیکن نہ تو ملک کے حالات میں بہتری نظر آتی ہے اور نہ ہی ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی و اتحاد کی راہ ہموار ہوئی ہے، اس سلسلے میں، کانگریس اور دیگر اپوزیشن سیاسی پارٹیاں بھی کوئی موثر رول ادا نہیں کر پا رہی ہیں، ان میں بھی کئی سارے سنگھی ذہن کے ہندوتو وادی عناصر اپنا کھیل کرتے رہتے ہیں، وہ پارٹیوں میں رہ کر سنگھ کی آئیڈیا لوجی کے مطابق کام کرتے ہیں اور موقع ملتے ہی پالا بدل کر بی جے پی وغیرہ میں جا کر اپنا نمبر بڑھوانے کے چکر میں پرانے سنگھیوں سے بھی زیادہ فرقہ پرست ہو جاتے ہیں یا اس کا دکھاوا کرتے ہیں، ہیمنت بسوا سرما اور آچاریہ پرمود کرشنم وغیرہ ایسے ہی لوگوں کے زمرے میں آتے ہیں، آچاریہ صاحب بھی راجیہ سبھا جانے کی خواہش کے تحت، کسی بھی حد تک جانے کے لیے آمادہ ہیں، وہ بھی ڈاکٹر بھاگوت اور دیگر ہندوتو وادی نمائندوں کی طرح راگ الاپ رہے ہیں کہ بھارت میں رہنے والے مسلمانوں کے پروج ہندو تھے، یہ کہنے کا کوئی معنی و مطلب نہیں ہے ، مسلمان ہونے اور قبول اسلام کی راہ میں اپنے پرانے آبا۶واجداد سے رشتہ و تعلق، کوئی رکاوٹ نہیں ہے، اسلام تو کچھ مخصوص عقائد و اعمال سے عبارت ہے نہ کہ نسلی رشتہ و تعلق، مسلمانوں کی بڑی اکثریت کا مبینہ ہندو پروجوں سے رشتہ ہونے کے باوجود مشرف بہ اسلام ہونے کا معاملہ، برہمن وادی سماج پر سوال کھڑا کرتا ہے کہ آخر وہ ہندوتو وادی اکثریتی سماج سے نکل کر مسلمان، عیسائی کیوں ہو گئے، یوپی اسمبلی میں چودھری چرن سنگھ نے ایک مسلم رکن اسمبلی کو جواب دیتے ہوئے کہا تھا تمہارے باپ دادا، مسلم حکمرانوں کے ڈر سے مسلمان ہو گئے تھے، اس کا آج کے کئی ہندوتو وادی مزے لے لے کر ذکر کرتے ہیں، جب کہ چودھری صاحب کا دعوٰی سراسر مفروضات پر مبنی من گھڑت بیانیہ ہے، اس کا تاریخی سچائی سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہے، اسلام قبول کرنے والے مسلمانوں کے آبا۶واجداد نے ہندوتو کی خامیوں، عدم مساوات اور مذہبی توہمات کو مسترد کرتے ہوئے اسلام کی سچائی کو قبول کرنے میں جرآت و شجاعت کا ثبوت دیا تھا، ایسا ڈرپوک، بزدل، ادنی مفادات سے جڑے افراد نہیں کر سکتے تھے، اور نہ آج کرتے ہیں، جیسا کہ آچاریہ پرمود کرشنم، دنیا میں آچکے انتم رشی، کلکی اوتار آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو رسول اللہ کہتے ہوئے بھی قبول کرنے کی جرآت نہیں کر سکے ہیں اور کچھ مفادات کے مد نظر ایک مفروضہ آئندہ کے کلکی اوتار کی بات کرتے رہتے ہیں لیکن یہ نہیں بتاتے ہیں کہ پرانوں کے مطابق کلکی اوتار ختنہ کیا ہوا، بغیر چوٹی کے داڑھی والا ہے، اس طرح کی کئی ساری باتیں ہیں جن کو لے کر ہندوتو کی سمت اور رفتار بے سمتی کا شکار ہو گئی ہے،


















