از فضیل اختر قاسمی بھیروی
آج 27 رمضان المبارک بروز منگل شب ایک نہایت ضروری امر کے پیشِ نظر مبارک پور کی جانب حاضری کا اتفاق ہوا۔ مغرب کے بعد ہی گھر سے روانگی ہوئی، اور اس مختصر مگر بامقصد سفر میں میرے ہمراہ برادرم مولوی محمد اسید عزیز سلمہ بھیروی بھی شریکِ رفاقت رہے۔ بحمد اللہ عشاء سے قبل ہی مبارک پور پہنچ گئے، اور جونہی اس بابرکت سر زمین پر قدم رکھا، ایک دیرینہ شوق تازہ ہوگیا کہ مسواک حاصل کی جائے، اور ساتھ ہی ایک دیرینہ رفیقِ مکرّم سے شرفِ ملاقات بھی میسر آئے۔ چنانچہ جامع مسجد بازار کے قرب میں واقع رفیقم مولوی محمد یوسف قاسمی مبارک پوری کی دکان پر حاضری ہوئی۔ ملاقات نہایت گرمجوشی، خلوص و محبت اور بے تکلف انسیت کی لطیف کیفیات سے مزین ایک نہایت دلنشیں تصویر بن کر ابھری۔ مسواک لینے کے بعد جب قیمت دریافت کی، تو انہوں نے نہایت عقیدت و محبت کے ساتھ اسے بطورِ ہدیہ پیش کیا اور اصرار فرمایا کہ اسے قبول کیجیے؛ یہ ہماری جانب سے ایک ادنیٰ نذرانہ ہے۔ ان کے اس خلوص آمیز جذبۂ ایثار نے دل کو بے حد متاثر کیا اور ان کی سادہ مگر پُرمعنی شخصیت کا ایک روشن پہلو نمایاں کردیا۔ اسی اثنا میں اذانِ عشاء کی دل نشیں صدائیں فضا میں گونجنے لگیں، تو فوراً خیال آیا کہ جامع مسجد ہی میں حضرت مولانا مفتی محمد یاسر صاحب قاسمی دامت برکاتہم العالیہ ناظمِ اعلیٰ جامعہ عربیہ احیاء العلوم مبارک پور تراویح کی نماز پڑھاتے ہیں۔ دل میں اشتیاق پیدا ہوا کہ نہ صرف ان کی امامت میں نماز ادا کرنے کی سعادت حاصل ہو بلکہ بالمشافہ ملاقات کا شرف بھی نصیب ہو۔ چنانچہ مسجد میں حاضر ہوکر حضرت کی اقتدا میں نمازِ عشاء ادا کی گئی۔ ان کی تلاوت میں جو حُسنِ ادا، روانی، تجوید کی لطافت اور صوتی وقار دیکھنے کو ملا وہ سامعین کے اذہان کو معطر اور قلوب کو منوّر کرنے والا تھا۔ آیاتِ قرآنی گویا ایک خاص تاثیر کے ساتھ دلوں میں اترتی محسوس ہو رہی تھیں؛ لہجے کی حلاوت، وقف و ابتداء کی رعایت اور مخارج کی صفائی نے قراءت کو ایک روحانی لذت اور وجد آفریں کیفیت سے ہمکنار کر دیا۔ اس کے بعد نمازِ تراویح کی ادائیگی بھی اسی خشوع و خضوع کے ساتھ عمل میں آئی۔ نماز کے بعد حضرت سے بالمشافہ ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔ حضرت کی جانب سے جو خندہ پیشانی، شفقت آمیز التفات اور محبت بھرا استقبال دیکھنے کو ملا، وہ میرے لیے باعثِ مسرت و سعادت تھا؛ اس لیے کہ اب تک تعلق تحریری نوعیت کا تھا، اور یہ پہلا موقع تھا کہ بالمشافہ مصافحہ نصیب ہوا۔ اسی اثنا میں حضرت مولانا محمد یوسف قاسمی ندوی دامت برکاتہم العالیہ استاذِ تحفیظ القرآن سکٹھی مبارک پور بھی تشریف لے آئے۔ ان سے بھی نہایت محبت و عقیدت کے ساتھ سلام و مصافحہ ہوا۔ بعد ازاں انہوں نے نہایت شفقت کے ساتھ دعوت دی کہ باہر چل کر کچھ نشست و ضیافت کا اہتمام کیا جائے۔ چنانچہ ان کی معیت میں مسجد سے باہر تشریف لے گئے، جہاں ان کی جانب سے جو ضیافت پیش کی گئی یقینا اس کے پسِ پردہ ان کا خلوص، وسعتِ قلب اور مہمان نوازی کا اعلیٰ ذوق نمایاں تھا۔ نشست کا ہر لمحہ ان کی محبت، شفقت اور حسنِ سلوک کا آئینہ دار تھا۔ حضرت مولانا محمد یوسف قاسمی ندوی دامت برکاتہم العالیہ کی شخصیت واقعی نہایت دلنشیں، ملنسار، خوش اخلاق اور متواضعانہ اوصاف کی حامل ہے۔ ان کی گفتگو میں شائستگی اور برتاؤ میں خلوص کی جھلک نمایاں تھی۔ دورانِ گفتگو انہوں نے بتایا کہ گزشتہ تین برسوں سے وہ ہر رمضان المبارک میں یہاں مکمل تراویح کی ادائیگی کے لیے تشریف لاتے ہیں۔ مزید گفتگو کے دوران انہوں نے راجستھان سے واپسی کے متعلق دریافت فرمایا، اور جب میں نے عرض کیا کہ گھریلو ماحول میں مطالعہ و تحریر کا تسلسل قائم رکھنا دشوار ہوجاتا ہے، تو انہوں نے بھی اس امر کی تائید کرتے ہوئے فرمایا کہ واقعی گھر میں علمی انہماک برقرار رکھنا ایک صبر آزما مرحلہ ہوتا ہے۔ اسی دوران انہوں نے میری تحریروں کا تذکرہ فرمایا اور نہایت حوصلہ افزا کلمات کے ساتھ دعاؤں سے نوازا۔ جب ان کے استفسار پر میں نے عرض کیا کہ اب تک الحمدللہ بیس سے زائد مقالات و کتب لکھنے کی سعادت حاصل ہوئی ہے اور یہ سب اساتذۂ کرام کی نگرانی میں انجام پایا۔ تو انہوں نے بے حد مسرت کا اظہار فرمایا، بھرپور حوصلہ افزائی کی اور نہایت قیمتی دعاؤں سے نوازا۔ صناعِ لاثانی و منعمِ حقیقی سے دعا ہے کہ ان حضرات کی دعاؤں کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے، اور راقم کو اخلاص، استقامت اور دوام کے ساتھ پوری زندگی دینِ متین کی خدمت کی توفیق نصیب فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔


















