اتوار, اپریل 19, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Jahazi Media – Latest News, Articles & Insights
  • ہوم
  • جمعیۃ علماء ہند
  • اسلامیات
  • زبان و ادب
  • مضامین
    • All
    • جاوید اختر بھارتی
    • دیگر مضامین
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    باپ کا آشیانہ بکا تب بیٹی کا آشیانہ بسا

    باپ کا آشیانہ بکا تب بیٹی کا آشیانہ بسا

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    حضرت مولانا عبداللہ مغیثیؒ ایک عہد ساز شخصیت

    حضرت مولانا عبداللہ مغیثیؒ ایک عہد ساز شخصیت

    فرقہ وارانہ سیاست کا تاریخی پس منظر اور جمعیت علمائے ہند کا معقول اصولی موقف

    فرقہ وارانہ سیاست کا تاریخی پس منظر اور جمعیت علمائے ہند کا معقول اصولی موقف

    ہندستان فرقہ پرستی کی راہ پر

    وندے ماترم کی مخالفت پر ماتم کا مقصد

    امت مسلمہ پر یلغار

    ایرانی  قیادت کے استحکام کا راز ہے —موزیک سسٹم

    ایرانی  قیادت کے استحکام کا راز ہے —موزیک سسٹم

    فرقہ پرست ہندو استھان میں بدلتا بھارت

    عید کی رات آئیے کچھ خاص کرتے ہیں

    عید کی رات آئیے کچھ خاص کرتے ہیں

    ایران اسرائیل امریکہ جنگ میں کس کو کس کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے

    ایران اسرائیل امریکہ جنگ میں کس کو کس کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے

    Trending Tags

    • Golden Globes
    • Mr. Robot
    • MotoGP 2017
    • Climate Change
    • Flat Earth
  • اہم خبریں
    • All
    • اتر پردیش
    • دہلی
    • دیگر ریاستیں
    حضرت مولانا عبداللہ مغیثیؒ ایک عہد ساز شخصیت

    مدرسہ کے بچوں کو چائلڈ لائن کے حوالے کرنے کی مذمت

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    اتراکھنڈ و گجرات میں منظور یونیفارم سول کوڈ قطعی منظور نہیںآل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ

    آج یوم تاسیس تحریک تبلیغ ہے

    مبارک پور کی ایک پرنور شب: اہلِ دل کی صحبت میں

    باشندگان بہار سے ایک دردمندانہ و مخلصانہ اپیل و گزارش

    سابق چیف الیکشن کمیشن آف انڈیا  سے جہازی مکالمات

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    آؤ نسل کو سنواریں، مستقبل بنائیں

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    بھارت کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کا کردار: سیمینار اختتام پذیر

    باشندگان بہار سے ایک دردمندانہ و مخلصانہ اپیل و گزارش

    بہار کا فیصلہ — کانگریس کیلئے سخت پیغام

    مفتی اعظم ہند پر سیمنار 21-22نومبر کو نئی دہلی میں

    مفتی اعظم ہند پر سیمنار 21-22نومبر کو نئی دہلی میں

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کے 34ویں فقہی سمینار کی روداد

  • غزل
  • ترجمہ و تفسیر قرآن
    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    Trending Tags

    • Sillicon Valley
    • Climate Change
    • Election Results
    • Flat Earth
    • Golden Globes
    • MotoGP 2017
    • Mr. Robot
  • ہوم
  • جمعیۃ علماء ہند
  • اسلامیات
  • زبان و ادب
  • مضامین
    • All
    • جاوید اختر بھارتی
    • دیگر مضامین
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    باپ کا آشیانہ بکا تب بیٹی کا آشیانہ بسا

    باپ کا آشیانہ بکا تب بیٹی کا آشیانہ بسا

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    حضرت مولانا عبداللہ مغیثیؒ ایک عہد ساز شخصیت

    حضرت مولانا عبداللہ مغیثیؒ ایک عہد ساز شخصیت

    فرقہ وارانہ سیاست کا تاریخی پس منظر اور جمعیت علمائے ہند کا معقول اصولی موقف

    فرقہ وارانہ سیاست کا تاریخی پس منظر اور جمعیت علمائے ہند کا معقول اصولی موقف

    ہندستان فرقہ پرستی کی راہ پر

    وندے ماترم کی مخالفت پر ماتم کا مقصد

    امت مسلمہ پر یلغار

    ایرانی  قیادت کے استحکام کا راز ہے —موزیک سسٹم

    ایرانی  قیادت کے استحکام کا راز ہے —موزیک سسٹم

    فرقہ پرست ہندو استھان میں بدلتا بھارت

    عید کی رات آئیے کچھ خاص کرتے ہیں

    عید کی رات آئیے کچھ خاص کرتے ہیں

    ایران اسرائیل امریکہ جنگ میں کس کو کس کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے

    ایران اسرائیل امریکہ جنگ میں کس کو کس کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے

    Trending Tags

    • Golden Globes
    • Mr. Robot
    • MotoGP 2017
    • Climate Change
    • Flat Earth
  • اہم خبریں
    • All
    • اتر پردیش
    • دہلی
    • دیگر ریاستیں
    حضرت مولانا عبداللہ مغیثیؒ ایک عہد ساز شخصیت

    مدرسہ کے بچوں کو چائلڈ لائن کے حوالے کرنے کی مذمت

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    اتراکھنڈ و گجرات میں منظور یونیفارم سول کوڈ قطعی منظور نہیںآل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ

    آج یوم تاسیس تحریک تبلیغ ہے

    مبارک پور کی ایک پرنور شب: اہلِ دل کی صحبت میں

    باشندگان بہار سے ایک دردمندانہ و مخلصانہ اپیل و گزارش

    سابق چیف الیکشن کمیشن آف انڈیا  سے جہازی مکالمات

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    آؤ نسل کو سنواریں، مستقبل بنائیں

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    بھارت کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کا کردار: سیمینار اختتام پذیر

    باشندگان بہار سے ایک دردمندانہ و مخلصانہ اپیل و گزارش

    بہار کا فیصلہ — کانگریس کیلئے سخت پیغام

    مفتی اعظم ہند پر سیمنار 21-22نومبر کو نئی دہلی میں

    مفتی اعظم ہند پر سیمنار 21-22نومبر کو نئی دہلی میں

    تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

    اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کے 34ویں فقہی سمینار کی روداد

  • غزل
  • ترجمہ و تفسیر قرآن
    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    Trending Tags

    • Sillicon Valley
    • Climate Change
    • Election Results
    • Flat Earth
    • Golden Globes
    • MotoGP 2017
    • Mr. Robot
No Result
View All Result
Jahazi Media – Latest News, Articles & Insights
No Result
View All Result
Home اسلامیات

 نبی اکرم  ﷺ کا آخری حج (حجۃ الوداع)قدم بہ قدم، منزل بہ منزل

by Md Yasin Jahazi
اپریل 19, 2026
in اسلامیات
0
حضرت مولانا عبداللہ مغیثیؒ ایک عہد ساز شخصیت
0
SHARES
1
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter

 نبی اکرم  ﷺ کا آخری حج (حجۃ الوداع)قدم بہ قدم، منزل بہ منزل

محمد یاسین جہازی

روانگی 

جب سورہ النصر نازل ہوئی، تو نبی اکرم ﷺ نے قدرت کا یہ اشارہ سمجھ لیا کہ اب رحلت کا وقت قریب آگیاہے، چنانچہ 10ھ، مطابق632ء میں یہ ارادہ فرمالیا کہ آخری حج کرلیا جائے۔ بڑا اہتمام کیا گیا۔ کوشش یہ کی گئی کہ کوئی عقیدت مند محروم نہ رہ جائے ، آس پاس کے قبائل میں ارادہ پاک کی اطلاع دی گئی۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ اس وقت یمن میں تھے، ان کو حج میں شرکت کی دعوت بھجوائی گئی۔ تمام ازواج مطہرات کو ساتھ چلنے کی خوش خبری سنائی گئی۔حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو تیاری کا حکم ملا۔24؍ ذی قعدہ 10ھ، مطابق 21؍فروری 632ء جمعہ کا دن تھا، مسجد نبوی میں جمعہ میں25؍ذی قعدہ 10ھ، مطابق22؍فروری 632ء کی روانگی کا اعلان ہوا۔

روانگی کا پہلا دن: 25؍ذی قعدہ 10ھ، مطابق22؍فروری 632ء ، بروز ہفتہ

25؍ذی قعدہ 10ھ، مطابق22؍فروری 632ء بروز سنیچر ، آپ ﷺ نے غسل فرمایا۔ لباس تبدیل کیے اور مسجد نبوی میں ظہر کی نمازکے لیے تشریف لائے ۔ نماز سے قبل آپ نے خطبہ دیا، جس میں مسائل حج بیان کیے۔ پھر نماز ادا فرمائی اور حمد و شکر کے ترانوں کے ساتھ مدینہ منورہ سے روانہ ہوئے۔ ملا علی قاری فرماتے ہیں کہ ایک لاکھ چوبیس ہزار سے زائد صحابہ کرام آپ ﷺ کے ہمرکاب تھے۔ جہاں تک نظر جاتی تھی ، ہر طرف انسانوں کا سیلاب نظر آتا تھا۔

پہلا مقام: ذو الحلیفہ

مدینہ منورہ سے9؍کلو میٹر کے فاصلے پر مقام ذوالحلیفہ(ابیار علی) ہے۔ آپ ﷺ یہاں پہنچے، تو عصر کا وقت ہوچکا تھا، اس لیے سب سے پہلے آپ ﷺ نے نماز عصر کی دو رکعت ادا کی اوررات بھی یہیں قیام فرمایا۔سبھی نوازواج مطہرات شریک سفر تھیں، اس رات سبھی سے صحبت فرمائی۔

روانگی کا دوسرا دن:26؍ ذی قعدہ10ھ، مطابق 23؍فروری 632ء، اتوار

دوسرے دن نبی اکرم ﷺ نے غسل فرمایا۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے جسم پاک پر اپنے ہاتھوں سے عطر لگائی۔سر پر تلبید(سر کے بالوں کو منتشر ہونے سے بچانے کے لیے) فرمائی ۔ قربانی کے63؍ جانوروں کو گلے میں جوتے پہناکر نشان زد کیا اور انھیں حضرت ناجیہ اسلمی رضی اللہ عنہ کے حوالے کیا۔ پھر آپﷺ نے احرام کی چادریں زیب تن فرمائیں۔ ظہر کی نماز مسجد ذوالحلیفہ(مسجد شجرہ ) میں ادا کی۔پھر بڑے دردو گداز سے دو رکعتیں پڑھیں اور مسجد سے باہر تشریف لاکر اپنی اونٹنی ’’قصویٰ‘‘ پر سوار ہوئے اورحج و عمرہ کے لیے احرام باندھتے ہوئے ترانہ لبیک بلند فرمایا: 

لبیک  اللھم لبیک ، لاشریک لک لبیک، ان الحمد والنعمۃ لک والملک، لاشریک لک۔

اس ایک صدائے لبیک کی اقتدا میں ہزارہا آوازیں ایک ساتھ بلند ہوئیں ، جن سے دشت وجبل ترانۂ توحید سے گونج اٹھے۔ 

دوسرا مقام: بیدا 

روانگی شروع ہوگئی اورمدینہ سے12؍کلو میٹر کے فاصلے پر واقعبیدا کی پہاڑی پر پہنچے۔یہاں کبھی آپ حج و عمرہ کے لیے تلبیہ پڑھتے تھے اور کبھی صرف حج کا۔ اور کبھی آپ یہ دعا پڑھتے تھے کہ :

اللھم اجعلہ حجا لا ریاء ا فیہ و لا سمعۃ۔

ائے اللہ! اسے دکھاوے اور شہرت سے پاک حج فرما۔

محمد ابن ابوبکر کی پیدائش

جب بیدا کی پہاڑی پر چڑھے، تو یہیں پر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی اہلیہ محترمہ حضرت اسماء بنت عمیس کے یہاں ایک بچے کی پیدائش ہوئی، جس کا نام محمد ابن ابوبکر رکھا گیا۔ پیدائش کے وقت حضرت جبرئیل علیہ الصلاۃ والسلام تشریف لائے اور یہ پیغام پہنچایا کہ آپ ﷺ صحابہ کو آواز بلند کرنے کا حکم دیں۔ یہاں حضور ﷺ نے زور سے لبیک کہا۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے بھی آپ کی آواز سے آواز ملائی، جس سے آسمان کا خلا حمد خدا سے لبریز ہوگیا۔

تیسرا مقام: ملل

قافلہ ٔ نبوی آگے بڑھتا رہا اور جب مدینہ سیتقریبا 45؍کلو میٹر دور مقام ملل پر پہنچے، تو آپ  ﷺنے یہاں پر پیر کے اپری حصہ پرحجامہ کرایا۔

چوتھا مقام: وادی روحا

 پھر آگے بڑھے اور وادی روحا پہنچے۔جو مدینہ سے تقریبا 74؍کلو میٹر دور ہے۔یہاں پر آپ ﷺ سواری سے اترے اور نماز ادا فرمائی۔ پھر ارشاد فرمایا کہ اس مقام پر 70؍ نبیوں نے نماز پڑھی ہے۔

پانچواں مقام: الاثایہ

 پھر قافلہ آگے کے لیے روانہ ہوا ۔ مدینہسے تقریبا 100؍کلو میٹر دور  الاثایہ پہنچا ۔ یہاں دیکھا کہ ایک ہرن شکار کی ہوئی پڑی ہے۔ چوں کہ محرم کے لیے شکار جائز نہیں ہے، اس لیے ایک شخص کو اس جگہ مقرر کردیا، تاکہ کوئی محرم اسے استعمال نہ کرے۔ 

چھٹا مقام: لحی جمل

اور قافلہ آگے بڑھتا رہا۔یہاں تک کہ مدینہ سے تقریبا 120؍کلو میٹر دور واقع لحی جمل آگیا۔ یہاں آپ ﷺ تھوڑی دیر ٹھہرے اور اپنے سر پر پچھنا لگوایا۔ بعد ازاں قافلہ آگے کے لیے روانہ ہوا۔

ساتواں مقام:وادی عرج

چلتے چلتے وادی عرج پہنچے،جو مدینہ منورہ سے 140کلو میٹر دور ہے۔یہاں دیکھا، تو معلوم ہوا کہ سامان جس غلام کے سپرد تھا، وہ ابھی تک نہیں پہنچا ہے، لہذا اس کا انتظار فرمانے لگے۔ اس سفر میں حضور اکرم ﷺ اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا سامان ایک ہی اونٹ پر تھا۔ وہ غلام بہت دیر میں آیا اور وہ بھی خالی ہاتھ ۔ یہ دیکھ کرحضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ تمھارا اونٹ کہاں ہے؟ انھوں نے جواب دیا کہ صبح سے ہی گم ہوگیا ہے۔ یہ سن کر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کافی ناراض ہوئے اور غلام کی پٹائی کرنے لگے اور کہاکہ ایک ہی تو اونٹ تھا اور اسے بھی گم کردیا۔ حضور ﷺ نے یہ منظر دیکھا ،تو تبسم فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ:

انظروا الیٰ ھذا المحرم ما یصنع؟

ان محرم کو دیکھو کہ کیا کر رہے ہیں، یعنی حالت احرام میں مار پیٹ کر رہے ہیں۔

جب فضالہ اسلمی رضی اللہ عنہ اورصحابہ کو حضور ﷺ کے اونٹ کے گم ہونے کی اطلاع ملی، تو وہ آپﷺ کے لیے کھانا تیار کر کے لائے۔ حضور ﷺ نے حضرت ابوبکر کو آواز دی کہ آؤ اللہ تعالیٰ نے بہترین غذا عطا فرمائی ہے،مگر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کافی غصے میں تھے، اور غلام کو ڈانٹ ڈپٹ رہے تھے ۔حضور اکرم ﷺنے ان سے کہا: ائے ابوبکر! غصہ کو جانے دو۔کچھ دیر بعد اونٹنی مل گئی۔ کھانا تناول کرنے کے بعد حضرت سعد اور حضرت ابو قیس رضی اللہ عنہما خدمت نبوی میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! یہ سامان کی اونٹنی ہے، اسے قبول فرمالیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ: اللہ تمھیں برکت دے ، ہماری اونٹنی اللہ کے فضل سے مل گئی ہے۔

آٹھواں مقام: ابوا

 یہاں سے آگے کے لیے روانہ ہوئے۔ اور مقام ابوا پہنچے، جو مدینے سے230؍کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔یہ وہی جگہ ہے، جہاں آپ ﷺ کی والدہ محترمہ مدفون ہیں۔

حمار وحشی کا ہدیہ

اس مقام پر حضرت صعب ابن جثامہ رضی اللہ عنہ نے حمار وحشی آپﷺ کو بطور ہدیہ پیش کیا، جسے آپ ﷺ نے قبول کرنے سے منع کردیا؛ کیوں کہ محرم کے لیے شکار کا گوشت جائز نہیں ہے۔ 

انجش! تمھاری سواری شیشے ہیں

یہاں ایک اورواقعہ یہ پیش آیا کہ حضرت انجش رضی اللہ عنہ عورتوں کے اونٹوں کو ہنکا رہے تھے اور اونٹوں کو تیز چلانے کے لیے نغمے بھی گاتے جارہے تھے، تو نبی اکرم ﷺ نے ان سے کہا کہ انجش! تمھاری سواری میں شیشے، یعنی عورتیں ہیں، تھوڑا آہستہ ہنکاؤ۔ 

ام المومنین حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کا اونٹ بیمار ہوجانا

قافلہ چل ہی رہا تھا کہ حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کا اونٹ بیمار ہوگیا۔ وہ بہت زیادہ رونے لگیں۔ آپ ﷺ کو اطلاع ہوئی۔ آپﷺ تشریف لائے، تو انھیں تسلی دی اور اپنے دست مبارک سے ان کے آنسو پوچھے، لیکن وہ مزید رونے لگیں۔ اس پر نبی اکرم ﷺ نے انھیں ڈانٹا اور لوگوں کو قیام کرنے کا حکم دیا۔ حالاں کہ یہاں آپﷺ کے ٹھہرنے کا ارادہ نہیں تھا۔ نبی اکرم ﷺ اپنے خیمے میں آرام فرمانے لگے۔ یہ دن خود حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کی باری کا دن تھا۔ نبی اکرم ﷺ کی ڈانٹ سے انھیں یہ احساس ہوا کہ رسول اللہ ﷺان سے ناراض ہوگئے ہیں۔ چنانچہ وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئیں اور کہاکہ اگر رسول اللہ ﷺ کی مجھ سے ناراضگی دور کرادیں، تو میں اپنی باری تمھیں دے دوں گی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا کہ ٹھیک ہے۔ انھوں نے اپنا دوپٹہ لیا، لباس پہنی اور رسول اللہ ﷺ کے خیمہ کے پاس جاکر خیمہ کا کنارہ اٹھاکر اندر جھانکا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو دیکھ کر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ کیا ہوا عائشہ ! آج تو تمھاری باری نہیں ہے، تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا کہ اللہ اپنا فضل جسے چاہتا ہے، عنایت کرتا ہے۔ دوپہر کا وقت تھا ، اس لیے نبی اکرم ﷺ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ قیلولہ فرمایا۔ 

ام المومنین حضرت زینب رضی اللہ عنہا سے ناراضگی

بعد ازاں آپ ﷺ نے حضرت زینب رضی اللہ عنہا سے فرمایا کہ ایک اونٹ صفیہ کو دے دو ، تو حضرت زینب رضی اللہ عنہا نے جواب دیا کہ میں اپنا اونٹ یہودیہ کو دوں گی؟ ! یہ جواب سن کر نبی اکرم ﷺ شدید ناراض ہوئے؛ حتیٰ کہ پورے سفر میں اور مدینہ لوٹنے کے بعد ربیع الاول تک ان سے بات چیت نہیں کی۔ پھر یہاں سے قافلہ آگے بڑھا۔

نواں مقام: قدید

بعض سیرت کی کتابوں میںقافلہ نبوی کا مدینہ منورہ سے 300؍کلو میٹر دور قدید سے گذرنے کا بھی تذکرہ ملتا ہے؛ لیکن کسی خاص واقعہ کا ذکر نہیں ملتا۔

دسواں مقام: جحفہ

اسی طرح مدینہ منورہ سے 330؍ کلو میٹر دور واقع جحفہ سے بھی یہ قافلہ گذرا، لیکن کسی واقعہ کا علم نہیں ہوسکا۔ 

گیارھواں مقام: وادی عُسفان 

چلتے چلتے  مدینہ سے360؍ کلو میٹر دور واقع وادی عسفان پہنچے۔ یہاں پر آپﷺ نے قیام فرمایا۔

حضرات ہود وصالح علیہما السلام کا تلبیہ حج 

اسی مقام پر نبی اکرم ﷺ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ یہ کونسی وادی ہے؟ تو حضرت ابوبکررضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ یہ وادی عسفان ہے۔ پھر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ اسی مقام سے حضرت ھود اور حضرت صالح علیہما السلام حج کے لیے تلبیہ پڑھتے ہوئے تشریف لے گئے تھے۔

مسائل حج کی تعلیم

یہاں آپﷺ آرام فرمارہے تھے کہ حضرت سراقہ بن جعشم رضی اللہ عنہ نے آپﷺ سے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ! ہمیں حج کا طریقہ اس طرح سکھا دیجیے جیسے کہ ہم آج ہی پیدا ہوئے ہیں، یعنی اس طرح سکھائیں کہ گویا ہمیں پہلے سے کچھ معلوم نہیں ہے، چنانچہ سرکار دو عالم ﷺ نے انھیں حج کا مکمل طریقہ سکھایا۔

بارھواںمقام :سرف

پھر وہاں سے آگے بڑھے اورمدینہ سے تقریبا 390؍کلو میٹر دور مقام سرف پہنچے۔یہاں ایک شرعی مسئلہ یہ پیش آیا کہ اماں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو عورتوں والا معاملہ پیش آگیا، تو وہ کافی رونے لگیں کہ میرا تو سفر ہی بے کار ہوگیا اور حج کا وقت کا قریب ہے اور میں ناپاک ہوں۔ یہ سن کر حضور ﷺ نے انھیں تسلی دی اور بتایا کہ یہ تو سبھی عورتوں کو پیش آتا ہے۔

 پھر حضور ﷺ نے صحابہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جن کے پاس ہدی نہیں ہے ، وہ مکہ مکرمہ میں داخلے کے بعد عمرہ کریںگے اور عمرہ کے بعد احرام کھول دیں گے۔ اور چوں کہ آپ صلیٰ اللہ علیہ وسلم قربانی کے جانور ساتھ لائے تھے، اس لیے آپ ﷺ نے احرام نہیں کھولا اور حج مکمل ہونے تک حالت احرام میں ہی رہے۔

تیرھواں مقام: ذو طویٰ

قافلہ آگے بڑھتا رہا یہاں تک کہ مکہ کے قریب، مدینہ سے 430؍کلو میٹر دور ’’ ذو طویٰ‘‘ پہنچے۔ شام ہوگئی تھی ، اس لیے رات یہیں قیام فرمایا۔یہ سنیچرکی شام اوراتوارکی رات اور تاریخ 3؍ذی الحجہ10ھ، مطابق29؍فروری 632ء تھی۔ 

4 ؍ ذی الحجہ 10ھ، مطابق یکم مارچ 632ء، اتوار کی صبح ہوئی، تو مکہ معظمہ کی عمارتیں نظر آنے لگیں۔آپﷺ نے سب سے پہلے غسل فرمایا اور مکہ میں داخلے کی تیاری کرنے لگے اور وادی ازرق کا راستہ اختیار کیا۔

چودھواں مقام: وادی ازرق

جب  مدینہ سے 430 کلو میٹر دور اور مکہ سے تقریبا 20کلو میٹر کے فاصلے پر واقع وادی ازرق پہنچے ، تو ایک لمحہ کے لیے حضور ﷺ یہاں رک گئے اور ارشاد فرمایا کہ اس وقت میرے سامنے وہ منظر ہے جب حضرت موسیٰ علیہ السلام حج کے لیے آئے تھے اورجب اس مقام سے گزرے، تو انھوں نے اپنی انگلیاں کانوں میں ڈال کر زور سے زور سے ترانہ حج پڑھنے لگے۔

پندرھواں مقام: منزل مقصود:مکہ میں داخلہ

جوں جوں آپﷺ مکہ سے قریب ہوتے جارہے تھے ، توں توں ہاشمی خاندان کے افراد حضور اکرم ﷺ کے استقبال کے لیے بے تابانہ بے خود ہوئے جارہے تھے اور معصوم بچے سراپا شوق بنے ہوئے اپنے گھروں سے دوڑتے نکل رہے تھے۔ چنانچہ جب ان کی نگاہیں سرورکائنات ﷺ پر پڑیں، تو بچے آپﷺ کی سواری کے ارد گرد اکٹھے ہوگئے ۔ ادھر سرکار دوجہاں ﷺکی شفقت کا یہ عالم تھا کہ ان کے معصوم چہروں کو دیکھ کر جوش محبت سے جھک گئے اور کسی کو اپنی سواری کے آگے اور کسی کو پیچھے بیٹھالیا۔جب اور آگے بڑھے ، تو کعبۃ اللہ کی عمارت نظر آنے لگی، جس پر آپﷺ کی زبان سے یہ ارشاد عالی مقام صادر ہوا کہ: 

اللھم زد بیتک ھذا تشریفا و تعظیما و تکریما و مھابۃ!

ائے اللہ خانہ کعبہ کو اور زیادہ شرف و امتیاز عطا فرما۔

عمرہ کی ادائیگی

آپﷺ باب بنی شیبہ سے مسجد حرام میں داخل ہوئے ۔ سب سے پہلے حجر اسود کو بوسہ دیا۔ بعدہ طواف فرمایا۔ جب طواف مکمل ہوگیا ، تو مقام ابراہیم پر آئے اور دوگانہ ادا فرمایا ، اس وقت زبان اقدس و اطہر پر یہ آیت جاری تھی کہ: 

واتخذوا من مقام ابراھیم مصلیٰٰ (البقرۃ:125)

نماز سے فراغت کے بعد پھر حجر اسود کو بوسہ دیا ۔پھر زمزم کے پاس آئے ۔ کچھ نوش فرمایا اور کچھ اپنے سر پر ڈالا۔اور باب الصفا سے نکل کر صفا کے قریب پہنچے، تو آپ ﷺکی زبان پر یہ آیت تھی کہ :

ان الصفا والمروۃ من شعائر اللّٰہ۔ (البقرۃ:158)

صفا اور مروہ دونوں اللہ کی نشانیاں ہیں۔ پھر ارشاد فرمایا کہ جس کے ذکر سے اللہ نے شروعات کی ہے ، میں بھی اسی سے شروع کرتا ہوں، چنانچہ پہلے صفاپہاڑی پر تشریف لے گئے۔پہاڑی پر اتنا اوپر چڑھے کہ کعبۃ اللہ نظر آنے لگا۔ یہاں تھوڑی دیر تکبیر و تحمید میں مشغول رہے ۔اس کے بعد صفا و مروہ کے درمیان سعی کی سات چکریں پوری فرمائیں۔ جب مروہ پر سعی پوری ہوئی، تو آپ ﷺ نے حج کی تعلیم دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ جن لوگوں کے پاس ہدی نہیں ہے ، وہ اپنا احرام کھول دیں اور جن کے پاس ہدی ہے، وہ بدستور حالت احرام میں ہی رہیں۔پھر آپﷺ نے حلق یعنی سرمنڈوانے والے کے لیے تین مرتبہ اور قصر کرنے والوں کے لیے ایک مرتبہ مغفرت کی دعا فرمائی۔

چوں کہ سرور کائنات ﷺ نے حج قرآن کی نیت کی تھی، اس لیے آپ ﷺ نے احرام نہیں کھولا۔  اور المسجد الحرام سے  4؍کلو میٹر دور واقع اپنی قیام گاہ: بطحا (وادی محصب ) تشریف لائے اور یہاں پر از 4؍تا 7؍ ذی الحجہ 10ھ، مطابق یکم تا 4؍مارچ632ء (اتوار، پیر، منگل،بدھ) چار دن قیام فرمایا۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ کی آمد اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے ناراضگی

نبی اکرم ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو یمن بھیجا تھا۔ جب ان کو نبی اکرم ﷺ کے ارادہ حج کی اطلاع ملی، تو آپ رضی اللہ عنہ براہ راست یمن سے مکہ کے لیے روانہ ہوگئے۔ مکہ پہنچ کرسب سے پہلے اپنی بیوی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے۔ انھوں نے دیکھا کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا حالت احرام میں نہیں ہیں، تو وہ بہت غصہ ہوئے۔ جس پر حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ ایسا انھوں نے اس لیے کیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ایسا کرنے کا حکم دیا ہے۔ 

بما اھللت یا علی؟ 

پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ، نبی اکرم ﷺ سے ملاقات کے لیے تشریف لے گئے۔ اس وقت سرور کائنات  ﷺ ابطح میں ہی تھے۔ ملاقات کے بعد ان سے پوچھا کہ بما اھللت یا علی؟ ائے علی کس چیز کا احرام باندھے ہو؟ تو انھوں نے جواب دیا کہ جس چیز کا احرام نبی اکرم ﷺ نے باندھا ہے۔ تو آپ ﷺنے حکم دیا کہ پھر حالت احرام میں ہی رہو، کیوں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ یمن سے قربانی کے جانورلے کر آئے تھے۔

صحابۂ کرام کی عدیم النظیر جاں نثاری

اسی مقام پر صحابہ کی حضور اکرم ﷺ پر وارفتگی اور جاں نثاری کا وہ عدیم النظیر واقعہ پیش آیا، جس کی مثال تاریخ پیش کرنے سے قاصر ہیکہ آپﷺ نے وضو فرمایا، تو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم  اجمعین کی وارفتگی کا یہ عالم تھا کہ آپﷺ کے وضو کے پانی کو زمین پر گرنے نہیں دیا، اس سے پہلے ہی ہاتھوں میں اٹھا لیا او ر برکت حاصل کرنے کے لیے اپنے چہروں پر ملنے لگے۔

بطحا سے مکہ تشریف آوری

7؍ذی الحجہ10ھ، مطابق 4؍مارچ 632ء، بروز بدھ ، آپ ﷺ بطحا سے مکہ تشریف لائے اور ایک درد انگیز خطبہ ارشاد فرمایا کہ:

یا معشر المسلمین! قیامت کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ لوگ نماز کو مار ہی ڈالیںگے۔ اسی طرح آپ ﷺنے اس خطبہ میں قیامت کی مزید نشانیاں بیان فرمائیں۔

حج کے لیے منیٰ روانگی

8؍ ذی الحجہ 10ھ، مطابق 5؍مارچ بروزجمعرات، چاشت کے وقت آپﷺ حج کے لیے، بطحا سے 3؍کلو میٹر کے فاصلے پر واقع: منیٰ تشریف لائے۔ سبھی صحابہ کرام بھی ساتھ تھے۔یہ دن اور رات یہیں گزاری۔ اور ظہر سے لے کر فجر کی پانچ نمازیں یہیں ادا فرمائیں۔

میدان منیٰ میں سانپ

 اسی دن منیٰ کے میدان میں ایک سانپ نکلا، جسے صحابہ نے مارنا چاہا، لیکن وہ بل میں گھس گیا۔

میدان عرفات میں

9؍ ذی الحجہ 10ھ، مطابق بروز6؍مارچ 632ء، بروز جمعہ بعد نماز فجر، منیٰ سے تقریبا 14؍کلو میٹر دور’’ میدان عرفات‘‘ تشریف لائے اور مقام ’’نمرہ‘‘ پر اپنے خیمے میں زوال تک آرام فرمایا۔ بعد زوال اپنی اونٹنی ’’قصویٰ‘‘ پر سوار ہوئے اور ’’بطن عرنہ‘‘ آئے اور ایک طویل خطبہ دیا ۔ 

خبرادار! میرا چہرہ سیاہ مت کرنا!

حمد و صلاۃ کے بعد آپ نے ارشاد فرمایا کہ ائے لوگو! یہ ہمارا آخری اجتماع ہے ، شاید آج کے بعد کبھی دوبارہ ہم اس طرح جمع نہ ہوسکیںگے۔ یہ درد انگیز جملہ سننا تھا کہ صحابہ کرام کی آنکھیں بے اختیار ہوگئیں، کیوں کہ اس جملے نے اس اجتماع کا مقصد واضح کردیا تھا ۔خطبہ میں آپ ﷺ نے گمراہ نہ ہونے اور آپس میں ایک دوسرے کی گردن نہ مارنے کی تلقین کی۔ بعدہ اپنی بیویوںاور غلاموں کے حقوق کی پاسداری کی توجہ دلائی۔ پھر عرب میں فساد و خون ریزی کے سب سے بڑے دو اسباب: ادائے سود کے مطالبات اور مقتولوں کے انتقام کو باطل فرمایا اور سب سے پہلے اپنے خاندانی مقتول ربیعہ بن حارث کے خون سے اور اپنے خاندانی سود عباس بن مطلب کے سود سے دستبرداری کا اعلان عام فرمایا۔رنگ و نسل کی بنیاد پر امتیاز و تفریق کی بیخ کنی فرمائی اور اتحاد ملت، نماز پنجگانہ کی پابندی ، رمضان کے روزے رکھنے اور خوش دلی سے زکوٰۃ دینے کی تاکید کی۔پھر فرمایا :

 الا و انی فرطکم علیٰ الحوض و اکاثر بکم الامم فلاتسودوا وجھی۔

 خبردار !میں حوض کوثر پر تمھارا منتظر رہوں گا اور تمھارے ذریعے سے دیگر امتوں پر فخر کروں گا، اس لیے بد عملی کرکے میرا چہرہ سیاہ مت کرنا( مجھے رسوا مت کرنا)۔اور سب سے آخر میں فرمایا: 

و انتم تسالون عنی فما انتم قائلون؟

تم سے میرے متعلق سوال کیا جائے گا، تو تم کیا جواب دوگے؟

اس پر مجمع سے پرجوش صدائیں بلند ہوئیں کہ:

 انک قد بلغت و ادیت و نصعت

 بلاشبہ آپ نے تبلیغ کا حق ادا کردیا۔ آپ نے تبلیغ کی تکمیل فرمادی۔

اس وقت حضور پر نور محمد عربی  ﷺ نے اپنی انگشت شہادت آسمانی کی طرف اٹھائی اور ارشاد فرمایا:

 اللھم اشھد! ائے اللہ! خلق خدا کی گواہی سن لے۔ اللھم اشھد!۔ ائے اللہ! مخلوق خدا کا اعتراف سن لے۔ اللھم اشھد! ائے اللہ! گواہ ہوجا۔اس کے بعد یہ اعلان فرمایا کہ:

 فلیبلغ منکم الشاھد الغائب۔

کہ تم سے موجود شخص غیر موجود تک یہ پیغام پہنچادے۔

خطبہ سے فارغ ہوئے، تو جبرئیل امین وہیں تکمیل دین اور اتمام نعمت کا پیغام لے کر آئے اور یہ آیت اتری کہ:

 الیوم اکملت لکم دینکم و اتممت علیکم نعمتی و رضیت لکم الاسلام دینا۔(المائدہ:3)

یہ خدا کے مہمانی کا دن ہے

اسی دوران حضرت ام فضل رضی اللہ عنہا نے آپﷺ کا روزہ معلوم کرنے کے لیے دودھ بھیجا ، جسے سرکار دوعالم ﷺ نے سارے مجمع کے سامنے نوش فرمایا، تاکہ امت کو یہ معلوم ہوجائے کہ یہ دن روزہ رکھنے کے نہیں؛ بلکہ خدا کی مہمانی سے لطف اندوز ہونے کا دن ہے۔ 

جمع تقدیم بین الصلاتین

بعد ازاں حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو تکبیر کہنے کا حکم فرمایا اور ظہر و عصر کی نماز ظہر ہی کے وقت پڑھائیں۔ نماز سے فارغ ہوئے، تو بطن عرنہ سے میدان عرفات کے مقام موقف پر تشریف لائے ۔اور مغرب تک اپنی اونٹنی ہی پر دعا میں مشغول رہے ۔

ایک صحابی کی شہادت

اسی دوران ایک صحابی اونٹ سے گر کر شہید ہوگئے، تو انھیں احرام ہی کے کپڑوں میں دفنانے کا حکم دیا اور ارشاد فرمایا کہ یہ شخص کل قیامت تک لبیک پڑھتے ہوئے اٹھے گا۔

 حج عرفہ میں ٹھہرنے کا نام ہے

 اس جگہ نجد کی ایک جماعت پہنچی ،اس نے حج کے بارے میں سوال کیا ، جس پر آپ  ﷺ نے جواب دیا کہ حج عرفہ میں ٹھہرنے کا نام ہے، جو شخص دس ذی الحجہ کی صبح سے پہلے پہلے یہاں پہنچ جائے ، اس کا حج ہوگیا۔

مزدلفہ کو روانگی اور جمع تاخیر بین الصلاتین

غروب آفتاب کے بعد نماز مغرب سے قبل عرفات سے تقریبا 10؍کلو میٹر کے فاصلے پر واقع مزدلفہ کی روانگی کا حکم فرمایا۔ مجمع کثیر تھا ، کثرت ہجوم کی وجہ سے اضطراب کی ایک کیفیت پیدا ہورہی تھی ، اس وقت حضور اکرم  ﷺ کی زبان اقدس و اطہر پر یہ الفاظ جاری تھے کہ:

 السکینۃ ایھا الناس!۔ السکینۃ ایھا الناس!

راستے میں اسنتجا کا تقاضا ہوا، تو آپ ﷺنے استنجا کیا اور وضو فرمایا۔ حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ نے نماز مغرب کی یاد دہانی کرائی، تو ارشاد فرمایا کہ آگے چلو، یہاں تک کہ آپﷺ مزدلفہ پہنچے اور پہنچتے ہی سب سے پہلے مغرب اور عشا کی نماز ایک ساتھ پڑھائیں۔اس کے بعد دعا میں مشغول ہوگئے ۔ دعا سے فراغت کے بعد آپﷺ صبح تک آرام فرماتے رہے ، یہاں تک کہ زندگی میں پہلی بار آپﷺ نے نماز تہجد بھی ادا نہیں فرمائی۔

مزدلفہ سے منیٰ کی واپسی

10؍ ذی الحجہ10ھ، مطابق 7؍مارچ 632ء، بروز سنیچر بعد نماز فجر طلوع آفتاب سے قبل آپ  ﷺ مزدلفہ سے پھر منیٰ کے لیے روانہ ہوئے۔جب ’’بطن محسر‘‘ کے پاس پہنچے ، تو سواری کی رفتار تیز کردی۔ 

کیا میں اپنے کمزور باپ کی طرف سے حج کرسکتی ہوں؟

راستے میں ایک واقعہ یہ پیش آیا کہ قبیلہ خثعم کی ایک خوب صورت نوجوان لڑکی نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک مسئلہ دریافت کرنے آئی کہ کیا میں اپنے کمزور باپ کی طرف سے حج کرسکتی ہوں؟ آپ  ﷺنے ہاں میں جواب دیا۔

 حضرت فضل ابن عباس رضی اللہ عنہ آپﷺ کے ہمراہ تھے، وہ اس عورت کو دیکھ رہے تھے ، توآپ ﷺ نے ان کا چہرہ اپنے دست مبارک سے دوری طرف پھیر دیا کہ نامحرم نہ دیکھیں۔

رمی جمرہ عقبہ 

آپ ﷺمزدلفہ سے سیدھے جمرہ عقبہ پر پہنچے۔ شیطان کو سات کنکریاں ماریں اور واپس منیٰ کے میدان میں تشریف لائے۔

شاید ہم دوبارہ جمع نہ ہوسکیں

 دھوپ تیز تھی ۔ حضرت اسامہ بن زید ؓ نے کپڑا تان کر سایہ کیا۔ حضرت بلال حبشی ؓ آپﷺ کے ناقہ کے مہار تھامے کھڑے تھے۔ آگے پیچھے، دائیں بائیں مہاجرین و انصار ، قریش اور دیگر قبائل کھڑے تھے۔ ایسے میں زبان اقدس و مطہر سے یہ جملے ارشاد ہوئے کہ:

 اس وقت حج کے مسائل سیکھ لو ، شاید اس کے بعد دوبارہ اس کی نوبت نہ آئے۔ 

پھر ارشاد فرمایا کہ: آج کونسا دن ہے؟

 حسب معمول صحابہ نے جواب دیا کہ: 

اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں۔

 طویل خاموشی کے بعد پھر سوال کیا کہ: کیا آج قربانی کا دن نہیں ہے؟ 

صحابہ کا جواب تھا کہ:

بے شک آج قربانی کا دن ہے۔

 پھر سوال ہوا کہ: یہ کونسا مہینہ ہے؟

 حسب دستور صحابہ کا وہی جواب تھا کہ: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں۔

 طویل خاموشی کے بعد ارشاد ہوا کہ:

 کیا یہ ذی الحجہ کا مہینہ نہیں ہے؟

 مسلمانوں کا جواب تھا کہ بے شک یہ ذی الحجہ کا مہینہ ہے۔

 پھر سوال ہوا کہ: یہ کونسا شہر ہے؟

 صحابہ کا وہی جواب تھا ۔

 طویل خاموشی کے بعد پیغمبر انسانیت ﷺنے کہا کہ:

 کیا یہ بلدۃ الحرام نہیں ہے؟ 

مجمع کا بیک زبان یہی جواب تھا کہ: بے شک یہ بلدۃ الحرام ہے۔

 اس کے بعد ارشاد عالی مقام ہوا کہ:

 مسلمانو! تمھارا خون، تمھارا مال، تمھاری آبرواسی طرح قابل حرمت ہیں، جس طرح یہ دن، یہ مہینہ اور یہ شہر محترم ہیں۔ دیکھو تم میرے بعد گمراہ نہ ہوجاناکہ آپس میں ایک دوسرے کی گردن مارنے لگو۔

افعل ولاحرج

خطبہ میںسرکار دوعالم ﷺ نے مزید چند باتیں ارشاد فرمائیں۔ خطبہ کی تکمیل کے بعد کئی صحابہ نے الگ الگ مسائل دریافت کیے، سب کے جواب میں آپ ﷺنے یہی ارشاد فرمایا کہ افعل ولا حرج، کرو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔

63؍اونٹوں کی قربانی

 خطبہ سے فراغت کے بعد قربانی کی جگہ پر تشریف لائے او100؍ اونٹوں کی قربانی فرمائی، جس میں اپنی عمر کے مطابق 63؍اونٹوں کو خود ذبح فرمایا۔ بقیہ 37؍ اونٹوں کو حضرت عل رضی اللہ عنہ نے قربان کیا۔قربانی کے بعد اعلان کرادیا کہ جس کاجی چاہے ، ان قربانیوں سے گوشت لے جائے اور حضرت علی ؓ کو حکم دیا کہ ان میں سے ہر ایک قربانی سے ایک ایک بوٹی لے کر آؤ۔ چنانچہ حکم کی تعمیل کی گئی ۔ حضورﷺ نے اس سالن کا شوربا نوش فرمایا۔

گائے کی قربانی

 اس سفر میں چوں کہ9؍ ازواج مطہرات ساتھ تھیں، اس لیے ان کی طرف سے آپ ﷺ نے گائے کی قربانی پیش کی۔

حلق

قربانی سے فراغت کے بعد حضرت معمر رضی اللہ عنہ،یا حضرت خراش رضی اللہ عنہ کو بلایا گیا اور سرمنڈوائے اور ناخن ترشوائے، جنھیں بطور تبریک حاجیوں میں تقسیم کردیا گیا۔اس کے بعد احرام کی چادریں اتار دیں اور کپڑے زیب تن فرمالیے اور خوشبو بھی لگائی۔

طواف زیارت

جب ظہر کا وقت ہوا، تومنیٰ سے تقریبا 7؍کلو میٹر دورخانہ کعبہ تشریف لائے۔ یہاں نماز ظہر ادا کی اور طواف فرمایا۔ اس کے بعد زمزم کے کنویں پر تشریف لائے اور زمزم نوش فرمایا اور واپس منیٰ ٰ تشریف لے آئے۔

منیٰ میں تین دن

 بعدہ تین دن: 11-12-13؍ ذی الحجہ 10ھ، مطابق 8-9-10؍ مارچ 632ء، بروز اتوار، پیر، منگل منیٰ ہی میں قیام فرمایا، جس میں روزانہ زوال کے بعد رمی جمار کیا کرتے تھے۔

منیٰ سے بطحا کی طرف

13؍ ذی الحجہ10ھ، مطابق 10؍مارچ 632ء، بروز منگل زوال کے بعد آخری رمی سے فارغ ہو کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم منیٰ سے روانہ ہوئے اور بطحا تشریف لائے۔ ظہر سے عشا تک کی چار نمازیںیہاں ادا فرمائیں اور عشا کے بعد تھوڑی دیر آرام فرمایا۔

 طواف وداع

تھوڑی دیر آرام فرما کر مکہ مکرمہ تشریف لائے  اور طواف وداع فرمایا۔ فجر تک یہیں قیام فرما رہے۔ ساتھ میں زمزم کا پانی نوش فرماتے رہے۔

پھر بعد نماز فجر یعنی14؍ ذی الحجہ 10ھ، مطابق 11؍مارچ 632ء، بروز بدھ مکہ مکرمہ سے واپس بطحا تشریف لا آئے ۔

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا عمرہ

 اسی رات یعنی 13؍ ذی الحجہ10ھ، مطابق 10؍مارچ 632ء، منگل کی رات میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو ان کے بھائی کے ساتھ عمرہ کا احرام باندھنے کے لیے تنعیم بھیجا، جسے آج کل مسجد عائشہ کہا جاتا ہے اور خانہ کعبہ سے 15 کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے، اور عمرہ کرایا۔

مدینہ واپسی کا حکم

جب حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا عمرہ سے فارغ ہو کر بطحا پہنچ گئیں، تو حضورﷺنے  14؍ ذی الحجہ 10ھ، مطابق 11؍مارچ 632ء بروز بدھ قافلہ کومدینہ طیبہ کی طرف روانگی کا حکم فرمایا۔

مکہ مکرمہ سے واپسی سفر کے پانچویں دن

جب قافلہ نبوی  14؍ ذی الحجہ 10ھ، مطابق 11؍مارچ 632ء بدھ کے روز وادی بطحا سے روانہ ہوا، تو مختلف راستوں سے گذرتے ہوئے، پانچویں دن،18؍ ذی الحجہ 10ھ، مطابق 15؍مارچ632ء، اتوار کے روز، مکہ مکرمہ سے تقریبا 200؍کلو میٹر کے فاصلے پر واقع غدیر خم پہنچا ۔ یہاں سرور کائنات ﷺ نے ایک درخت کے نیچے قیام فرمایا ۔

غدیر خم کا خطبہ

 بعد نماز ظہر آپ ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر ایک طویل خطبہ ارشاد فرمایا۔ جس میں آپﷺ نے یہ تاریخی جملہ ارشاد فرمایا کہ:

 کیا میں تمام مومنین سے افضل نہیں ہوں؟

 سب نے جواب دیا کہ: کیوں نہیں؟ آپ تمام مومنین سے اعلیٰ و افضل ہیں۔

 پھر فرمایا کہ:

 من کنت مولاہ ، فعلی مولاہ

 کہ میں جس کا محبوب ہوں، علی بھی اس کے محبوب ہیں۔ 

خطبہ کا سبب 

اس خطبہ کی وجہ یہ تھی کہ حضرت خالد ابن ولید رضی اللہ عنہ یمن کو فتح کرچکے تھے ۔ یمن کے جہاد میں مسلمانوں کو کافی مالی غنیمت حاصل ہوا تھا، اس کو تقسیم کرنے اور خمس لینے کے لیے نبی اکرم ﷺ نے حضرت علیؓ کو یمن بھیجا۔ قیدیوںمیں کئی لونڈیاں بھی تھیں، جن میں سے بطور خمس ایک لونڈی حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنے لیے رکھ لی۔ اور ان سے اگلے ہی دن صحبت فرمائی ۔ فراغت کے بعد جب غسل کرکے نکل رہے تھے، توحضرت خالد رضی اللہ عنہ نے دیکھ لیا۔ حضرت خالدؓ نے حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ کیا آپ نے دیکھا کہ اس شخص نے کیا کیا؟ کہنے کا مطلب یہ تھا کہ جب حضرت علیؓ نے خمس لیا، تو خمس تو نبی اکرم ﷺ کے لیے ہوتا ہے، تو یہ باندی نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں پیش کی جانی چاہیے تھی، اس کو حضرت علیؓ نے خود کیوں استعمال کیا؟ حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ مجھے علی رضی اللہ عنہ سے نفرت ہے ۔ پھر حضرت بریدہ ؓنے حضرت علیؓ سے سوال کیا کہ ائے حسن کے ابا! یہ سب کیا ہے؟ تو حضرت علیؓ نے جواب دیا کہ یہ لونڈی خمس کا حصہ ہے اور خمس نبی اور آل نبی کے لیے ہوتا ہے اور میں آل نبی میں سے ہوں، اس لیے میں نے اس سے صحبت کی۔لیکن اس جواب سے حضرت بریدہؓ مطمئن نہیں ہوئے ۔ پھر جب حج کے لیے بلاوا آیا ، تو یہ سبھی حضرات یہاں سے سیدھے مکہ چلے گئے۔ اور حج و عمرہ میں مشغول ہوگئے۔ واپسی پر غدیر خم پر حضرت بریدہؓ نے نبی اکرم ﷺ سے حضرت علیؓ کی شکایت کی اور معاملہ کو بڑھا کر پیش کیا، جسے سن کر نبی اکرم ﷺ کا چہرہ غصے سے متغیر ہوگیااور حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر ایک جامع خطبہ ارشاد فرمایا ، جس میں پہلے حضرت علیؓ کے فضائل اور ان کے انصاف پسند ی کی تعریف کی ۔ بعدہ ارشاد فرمایا کہ 

من کنت مولاہ، فعلی مولاہ 

کہ میں جس کا محبوب ہوں، علی بھی اس کے محبوب ہیں، اور جو علی سے دشمنی رکھے، وہ میرا بھی دشمن ہے۔ حضرت بریدہؓ کا ہی بیان ہے کہ: 

 عَنْ بُرَیْدۃ َ قَالَ: غَزَوْتُ مَعَ عَلِيٍّ الْیَمَنَ فَرَأَیْتُ مِنْہُ جَفْوَۃً، فَلَمَّا قَدِمْتُ عَلی رَسُولِ اللہِ صَلی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ذکَرْتُ عَلِیًّا فَتَنَقَّصْتہُ، فَرَأَیْتُ وَجہَ رَسُولِ اللہِ صَلی اللہ عَلَیہِ وَسَلَّمَ یَتَغَیَّرُ فَقَالَ: یَا بُرَیْدَۃُ أَلَسْتُ أَوْلی بِالْمُؤْمِنِینَ مِنْ أَنْفُسِھِمْ؟  قُلْتُ: بَلَی یَا رَسُولَ اللہِ۔ قَالَ: مَنْ کُنْتُ مَوْلَاہُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاہُ (مسند احمد ، حدیث بریدۃ الاسلمی)

المختصر تاریخی شہادت کے مطابق غدیرخم کے موقع پر نبی اکرم ﷺ نے حضرت علیؓ کے متعلق لوگوں کی غلط فہمی کو دور کیا۔

وادی روحا میں: ہاں اور ماں کو ثواب ملے گا

 پھر قافلہ غدیر خم سے روانہ ہوا۔ اور جب غدیر خم سے تقریبا 160کلو میٹر دور وادی روحا پہنچا، تو گھڑسواروں کا ایک گروہ آیا۔ اس میںسے ایک عورت چھوٹے بچے کو لے کر نکلی اور نبی اکرم ﷺ سے دریافت کیا کہ کیا اس پر بھی حج ہے؟ تو نبی اکرم ﷺ نے جواب دیا کہ ہاں اس پر حج ہے اور اسے حج کرانے پر تمھیں ثواب ملے گا۔

قافلہ نبوی ذوالحلیفہ میں 

قافلہ پھر آگے بڑھتا رہا اور چلتے چلتے 22؍ذی الحجہ 10ھ، مطابق 19؍مارچ 632ء، بروز  جمعرات  ذو الحلیفہ پہنچا۔ یہاں رات قیام فرمایا اور صبح ہونے کا انتظار کرنے لگے ۔

مدینہ منورہ میں داخلہ 

جب 23؍ذی الحجہ 10ھ، مطابق 20؍مارچ 632ء کو جمعہ کے دن کا سورج نکلا، تو  معرس کے راستے سے مدینہ میں داخل ہوئے ۔ اس وقت زبان اقدس و اطہر پر یہ کلمات جاری تھے کہ:

 آئبون، تائبون، عابدون،ساجدون، لربنا حامدون۔

حجۃ الوداع کا مکمل سفر مبارک 27؍ دن رہا۔ 23؍فروری632ء کو مدینہ منورہ سے روانہ ہوئے۔اور اٹھویں دن یکم مارچ 632ء کو مکہ مکرمہ پہنچے۔ اور4تا11؍مارچ 632ء حج و عمرہ کی ادائیگی میں مصروف رہے۔ فراغت کے بعد 11؍مارچ 632ء کو مدینہ منورہ کے روانہ ہوئے اور دسویں دن20؍مارچ 632ء ، بروز جمعہ علی الصباح مدینہ منورہ میں داخل ہوئے۔ 

مآخذ: حجۃ الوداع و جزء عمرات النبی ﷺ ، مصنفہ حضرت علامہ شیخ زکریا کاندھلوی نور اللہ مرقدہ ۔ ثمیری کلینڈر: مولانا ثمیر الدین قاسمی چئیرمین ہلال کمیٹی لندن۔

دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ اس ناچیز کو بھی اس تحریر کی برکت سے دیار مقدس کی حاضری نصیب فرمائے۔ آمین۔ 

Md Yasin Jahazi

Md Yasin Jahazi

Next Post
باپ کا آشیانہ بکا تب بیٹی کا آشیانہ بسا

باپ کا آشیانہ بکا تب بیٹی کا آشیانہ بسا

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

منتخب کردہ

تحریک خلافت کی ابتدا کیسے ہوئی؟

اردو املا: چند ضروری اصول

3 مہینے ago
پاکستان کے متعلق حضرت مولانا شاہ عطاء اللہ بخاری ؒ کی پوری ہوتی پیشین گوئیاں

پاکستان کے متعلق حضرت مولانا شاہ عطاء اللہ بخاری ؒ کی پوری ہوتی پیشین گوئیاں

7 مہینے ago

مقبول

  • باپ کا آشیانہ بکا تب بیٹی کا آشیانہ بسا

    باپ کا آشیانہ بکا تب بیٹی کا آشیانہ بسا

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  •  نبی اکرم  ﷺ کا آخری حج (حجۃ الوداع)قدم بہ قدم، منزل بہ منزل

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • نبی اکرم ﷺ کا آخری حج (حجۃ الوداع): قدم بہ قدم ، منزل بہ منزل

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • مدرسہ کے بچوں کو چائلڈ لائن کے حوالے کرنے کی مذمت

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • حقیقی گھر کی طرف واپسی

    0 shares
    Share 0 Tweet 0

ہم سے جڑیے

ہمارا خبری نامہ حاصل کریں

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetuer adipiscing elit. Aenean commodo ligula eget dolor.
SUBSCRIBE

زمرہ جات

اہم روابط

  • لاگ ان کریں
  • Entries feed
  • Comments feed
  • WordPress.org

ہمارے بارے میں

جہازی میڈیا باشعور افراد کی ایک ایسی تحریک ہے، جو ملت اسلامیہ کی نشاۃ ثانیہ کے لیے اپنی فکری و عملی خدمات پیش کرنے کے لیے عہدبند ہوتے ہیں۔ اس لیے ہر وہ شخص اس تحریک کا ممبر بن سکتا ہے، جو اس نظریہ و مقصد سے اتفاق رکھتا ہے۔

  • ہمارے بارے میں
  • قوائد و ضوابط
  • کاپی رائٹس
  • پرائیویسی پالیسی
  • رابطہ

© 2025 Jahazi Media Designed by Mehmood Khan 9720936030.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • ہوم
  • اسلامیات
  • جمعیۃ علماء ہند
  • زبان و ادب
  • قومی و بین الاقوامی
  • اہم خبریں
    • دہلی
    • اتر پردیش
    • کرناٹک
    • مہاراشٹر
  • غزل
  • مضامین
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • دیگر مضامین
  • ترجمہ و تفسیر قرآن

© 2025 Jahazi Media Designed by Mehmood Khan 9720936030.