اتوار, مئی 31, 2026
  • Login
No Result
View All Result
NEWSLETTER
Jahazi Media – Latest News, Articles & Insights
  • ہوم
  • جمعیۃ علماء ہند
  • اسلامیات
  • زبان و ادب
  • مضامین
    • All
    • جاوید اختر بھارتی
    • دیگر مضامین
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی

    تاریخی مساجد کو مندر میں بدلنے کی مہم

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    ہندوستانی مسلمان اورمناسب حکمت عملی کی ضرورت!

    وندے ماترم کی مخالفت پر ماتم کا مقصد

    زہریلی تاریخ نگاری کا تدارک

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    ملک معاشی ایمرجنسی کی جانب تیزی سے بڑھ رہا ہے؟

    بنگال میں ایس آئی آر :نشانے پر مسلمان!

    حضرت مولانا عبداللہ مغیثیؒ ایک عہد ساز شخصیت

    ماں جی آخر سوکھی روٹی کون کھاتا ہے

    اسرائیل کا وجود ایک ظلم ہے

    اسرائیل کا وجود ایک ظلم ہے

    باپ کا آشیانہ بکا تب بیٹی کا آشیانہ بسا

    باپ کا آشیانہ بکا تب بیٹی کا آشیانہ بسا

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    حضرت مولانا عبداللہ مغیثیؒ ایک عہد ساز شخصیت

    حضرت مولانا عبداللہ مغیثیؒ ایک عہد ساز شخصیت

    Trending Tags

    • Golden Globes
    • Mr. Robot
    • MotoGP 2017
    • Climate Change
    • Flat Earth
  • اہم خبریں
    • All
    • اتر پردیش
    • دہلی
    • دیگر ریاستیں

    پچوا قطعہ میں ایمان و شعور کا محاسبہ — “گاؤں گاؤں بیداری پروگرام” کا مؤثر پیغام

    سیرتِ نبویؐ سے عملی وابستگی کی اپیل

    بجٹ، بیانیہ اور حقیقت کرناٹک میں اقلیتوں کے نام پر سیاست یا حقائق کی تحریف؟

    قربانی تقریبا 4300سال پرانی عبادت ہے۔جہاز قطعہ گڈا، جھارکھنڈ میں عید الاضحیٰ کا — دل کش منظر۔

    جھپنیاں بستی میں گاؤں گاؤں بیداری پروگرام کا دوسرا پروگرام منعقد

    جھپنیاں بستی میں گاؤں گاؤں بیداری پروگرام کا دوسرا پروگرام منعقد

    بلاک بسنترائے میں جمعیت علما کا گاؤں گاؤں بیداری پروگرام شروع، کیتھ پورا سے باضابطہ آغاز

    بلاک بسنترائے میں جمعیت علما کا گاؤں گاؤں بیداری پروگرام شروع، کیتھ پورا سے باضابطہ آغاز

    جھارکھنڈ کے ضلع گڈا میں واقع جمعیت علمائے بسنت رائے کی اراکینِ منتظمہ کا اہم مشاورتی اجلاس جامعۃ الہدیٰ جہاز قطعہ میں کامیابی کے ساتھ منعقد’’جمعیت علمائے ہند ہی کیوں؟‘‘، فکری و دستوری تربیت، حالاتِ حاضرہ، نوجوانوں کی رہنمائی اور گاؤں گاؤں بیداری مہم پر جامع غور و خوض

    جھارکھنڈ کے ضلع گڈا میں واقع جمعیت علمائے بسنت رائے کی اراکینِ منتظمہ کا اہم مشاورتی اجلاس جامعۃ الہدیٰ جہاز قطعہ میں کامیابی کے ساتھ منعقد’’جمعیت علمائے ہند ہی کیوں؟‘‘، فکری و دستوری تربیت، حالاتِ حاضرہ، نوجوانوں کی رہنمائی اور گاؤں گاؤں بیداری مہم پر جامع غور و خوض

    کمال مولا مسجد مقدمہ:حالیہ عدالتی فیصلے نے تاریخ، انصاف اور بھارتیہ سیکولرازم کے تئیں بھروسہ کو ختم کر دیا: ایم.ڈبلیو.انصاری -آئی پی ایس (ریٹائرڈ۔ڈی.جی)

    کمال مولا مسجد مقدمہ:حالیہ عدالتی فیصلے نے تاریخ، انصاف اور بھارتیہ سیکولرازم کے تئیں بھروسہ کو ختم کر دیا: ایم.ڈبلیو.انصاری -آئی پی ایس (ریٹائرڈ۔ڈی.جی)

    فتنوں کے سدِّ باب میں علماءِ حق کا کردار: امت کی بقا کا ضامن

    اسلام کی بنیاد دوچیزوں پر قائم ہے،عقیدہ توحید،اور نبوت ورسالت:مولاناخالدسیف اللہ رحمانی

    اسلام کی بنیاد دوچیزوں پر قائم ہے،عقیدہ توحید،اور نبوت ورسالت:مولاناخالدسیف اللہ رحمانی

  • غزل
  • ترجمہ و تفسیر قرآن
    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    Trending Tags

    • Sillicon Valley
    • Climate Change
    • Election Results
    • Flat Earth
    • Golden Globes
    • MotoGP 2017
    • Mr. Robot
  • ہوم
  • جمعیۃ علماء ہند
  • اسلامیات
  • زبان و ادب
  • مضامین
    • All
    • جاوید اختر بھارتی
    • دیگر مضامین
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی

    تاریخی مساجد کو مندر میں بدلنے کی مہم

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    ہندوستانی مسلمان اورمناسب حکمت عملی کی ضرورت!

    وندے ماترم کی مخالفت پر ماتم کا مقصد

    زہریلی تاریخ نگاری کا تدارک

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    ملک معاشی ایمرجنسی کی جانب تیزی سے بڑھ رہا ہے؟

    بنگال میں ایس آئی آر :نشانے پر مسلمان!

    حضرت مولانا عبداللہ مغیثیؒ ایک عہد ساز شخصیت

    ماں جی آخر سوکھی روٹی کون کھاتا ہے

    اسرائیل کا وجود ایک ظلم ہے

    اسرائیل کا وجود ایک ظلم ہے

    باپ کا آشیانہ بکا تب بیٹی کا آشیانہ بسا

    باپ کا آشیانہ بکا تب بیٹی کا آشیانہ بسا

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    اظہار خیال کی آزادی کو سلب کرنے سوشل میڈیا کی نگرانی 

    حضرت مولانا عبداللہ مغیثیؒ ایک عہد ساز شخصیت

    حضرت مولانا عبداللہ مغیثیؒ ایک عہد ساز شخصیت

    Trending Tags

    • Golden Globes
    • Mr. Robot
    • MotoGP 2017
    • Climate Change
    • Flat Earth
  • اہم خبریں
    • All
    • اتر پردیش
    • دہلی
    • دیگر ریاستیں

    پچوا قطعہ میں ایمان و شعور کا محاسبہ — “گاؤں گاؤں بیداری پروگرام” کا مؤثر پیغام

    سیرتِ نبویؐ سے عملی وابستگی کی اپیل

    بجٹ، بیانیہ اور حقیقت کرناٹک میں اقلیتوں کے نام پر سیاست یا حقائق کی تحریف؟

    قربانی تقریبا 4300سال پرانی عبادت ہے۔جہاز قطعہ گڈا، جھارکھنڈ میں عید الاضحیٰ کا — دل کش منظر۔

    جھپنیاں بستی میں گاؤں گاؤں بیداری پروگرام کا دوسرا پروگرام منعقد

    جھپنیاں بستی میں گاؤں گاؤں بیداری پروگرام کا دوسرا پروگرام منعقد

    بلاک بسنترائے میں جمعیت علما کا گاؤں گاؤں بیداری پروگرام شروع، کیتھ پورا سے باضابطہ آغاز

    بلاک بسنترائے میں جمعیت علما کا گاؤں گاؤں بیداری پروگرام شروع، کیتھ پورا سے باضابطہ آغاز

    جھارکھنڈ کے ضلع گڈا میں واقع جمعیت علمائے بسنت رائے کی اراکینِ منتظمہ کا اہم مشاورتی اجلاس جامعۃ الہدیٰ جہاز قطعہ میں کامیابی کے ساتھ منعقد’’جمعیت علمائے ہند ہی کیوں؟‘‘، فکری و دستوری تربیت، حالاتِ حاضرہ، نوجوانوں کی رہنمائی اور گاؤں گاؤں بیداری مہم پر جامع غور و خوض

    جھارکھنڈ کے ضلع گڈا میں واقع جمعیت علمائے بسنت رائے کی اراکینِ منتظمہ کا اہم مشاورتی اجلاس جامعۃ الہدیٰ جہاز قطعہ میں کامیابی کے ساتھ منعقد’’جمعیت علمائے ہند ہی کیوں؟‘‘، فکری و دستوری تربیت، حالاتِ حاضرہ، نوجوانوں کی رہنمائی اور گاؤں گاؤں بیداری مہم پر جامع غور و خوض

    کمال مولا مسجد مقدمہ:حالیہ عدالتی فیصلے نے تاریخ، انصاف اور بھارتیہ سیکولرازم کے تئیں بھروسہ کو ختم کر دیا: ایم.ڈبلیو.انصاری -آئی پی ایس (ریٹائرڈ۔ڈی.جی)

    کمال مولا مسجد مقدمہ:حالیہ عدالتی فیصلے نے تاریخ، انصاف اور بھارتیہ سیکولرازم کے تئیں بھروسہ کو ختم کر دیا: ایم.ڈبلیو.انصاری -آئی پی ایس (ریٹائرڈ۔ڈی.جی)

    فتنوں کے سدِّ باب میں علماءِ حق کا کردار: امت کی بقا کا ضامن

    اسلام کی بنیاد دوچیزوں پر قائم ہے،عقیدہ توحید،اور نبوت ورسالت:مولاناخالدسیف اللہ رحمانی

    اسلام کی بنیاد دوچیزوں پر قائم ہے،عقیدہ توحید،اور نبوت ورسالت:مولاناخالدسیف اللہ رحمانی

  • غزل
  • ترجمہ و تفسیر قرآن
    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    اخلاقِ نبوی کی چند جھلکیاں (۱)

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    ترجمہ : تعریف، تقسیم اور طریقے

    Trending Tags

    • Sillicon Valley
    • Climate Change
    • Election Results
    • Flat Earth
    • Golden Globes
    • MotoGP 2017
    • Mr. Robot
No Result
View All Result
Jahazi Media – Latest News, Articles & Insights
No Result
View All Result
Home اہم خبریں

پچوا قطعہ میں ایمان و شعور کا محاسبہ — “گاؤں گاؤں بیداری پروگرام” کا مؤثر پیغام

by Admin
مئی 31, 2026
in اہم خبریں
0
0
SHARES
11
VIEWS
Share on FacebookShare on Twitter


بتاریخ: 30 مئی 2026

پچوا قطعہ میں ایمان و شعور کا محاسبہ — “گاؤں گاؤں بیداری پروگرام” کا مؤثر پیغام
بتاریخ: 30 مئی 2026

بسنترائے بلاک (ضلع گڈا، جھارکھنڈ) کی سرحدی بستی پچوا قطعہ، جو گیروا ندی کے قریب واقع ہے، میں “گاؤں گاؤں بیداری پروگرام” کے تحت ایک نہایت اہم اور فکر انگیز نشست منعقد ہوئی، جس میں مقامی مسلمانوں نے اپنے ایمان، عقائد اور تعلیمی و سماجی حالات کا سنجیدہ جائزہ لیا۔

اس موقع پر مولانا محمد یاسین جہازی قاسمی نے بستی کا تفصیلی ڈیٹا پیش کرتے ہوئے ایک چونکا دینے والی حقیقت سامنے رکھی۔ انہوں نے بتایا کہ پچوا قطعہ کی مسلم آبادی تقریباً ایک ہزار نفوس پر مشتمل ہے، مگر دینی وابستگی کے عملی آثار نہایت محدود ہیں۔ بستی میں صرف ایک مکتب موجود ہے، جس میں تقریباً 75 بچے زیر تعلیم ہیں، جبکہ دو مساجد میں نماز ادا کرنے والوں کی اوسط تعداد تقریباً 100 فی مسجد کے حساب سے قریب 200 افراد بنتی ہے۔ اس طرح مکتب اور مساجد سے وابستہ افراد کی مجموعی تعداد تقریباً 300 تک پہنچتی ہے، جو کل آبادی کے مقابلے میں نہایت کم ہے۔

اس تجزیے سے واضح ہوتا ہے کہ ایک ہزار مسلمانوں میں سے صرف تقریباً 300 افراد ہی ایسے ہیں جو براہِ راست مسجد اور دینی اعمال سے جڑے ہوئے ہیں، جبکہ باقی تقریباً 700 افراد مسجد، مکتب، مدرسہ اور دعوتی سرگرمیوں سے عملاً دور ہیں۔ یہ صورتحال اس بات کی غماز ہے کہ بستی کی ایک بڑی اکثریت اپنے ایمان و عقیدہ کے تقاضوں سے غفلت کا شکار ہے، جو نہایت تشویشناک امر ہے۔

انہوں نے تعلیمی صورتحال پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ بستی کے نوجوان نہ دینی تعلیم سے آشنا ہیں اور نہ ہی عصری تعلیم سے۔ معاشی مجبوریوں کے باعث وہ پردیشوں میں مزدوری کرنے پر مجبور ہیں، جس کے نتیجے میں وہ نہ صرف اپنے بنیادی عقائد کی صحیح معلومات سے محروم رہتے ہیں بلکہ سیاسی شعور سے بھی کوسوں دور ہو جاتے ہیں۔

مولانا جہازی نے اپنے خطاب میں نہایت فکر انگیز انداز میں کہا کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو وہ وقت دور نہیں جب مسلمان اپنی دینی شناخت کے ساتھ ساتھ سیاسی وقار بھی کھو بیٹھیں گے۔ انہوں نے اس موقع کو “کرو یا مرو” کا مرحلہ قرار دیتے ہوئے زور دیا کہ اگر مسلمان اپنے ایمان و عقیدہ کے تحفظ کے لیے سنجیدگی سے کھڑے ہوں گے تو اللہ تعالیٰ کی مدد شامل حال ہوگی، ورنہ زوال یقینی ہوگا۔

اس کے بعد مفتی محمد نظام الدین قاسمی (صدر، جمیعت علماء بسنترائے) نے “ریل سے ریل تک” کے عنوان سے ایک بصیرت افروز پریزنٹیشن پیش کی، جس میں نوجوانوں کو وقت کی قدر، مقصدِ حیات کے تعین اور مسلسل جدوجہد کی اہمیت سے آگاہ کیا۔

اسی تسلسل میں مفتی محمد سرور صاحب نے نہایت جامع اور مدلل انداز میں ایک مسلمان کے سات بنیادی عقائد پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایمان کی بنیاد صرف زبانی اقرار نہیں بلکہ ان بنیادی عقائد—اللہ تعالیٰ پر ایمان، فرشتوں پر ایمان، آسمانی کتابوں پر ایمان، انبیاء علیہم السلام پر ایمان، یومِ آخرت پر ایمان اور تقدیر (اچھے اور برے دونوں پہلوؤں) پر ایمان—کو صحیح طور پر سمجھنا اور اپنی عملی زندگی میں اس کا اثر ظاہر کرنا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ جب تک یہ عقائد مضبوط نہیں ہوں گے، نہ عبادت میں روح پیدا ہوگی اور نہ ہی معاشرتی اصلاح ممکن ہوگی۔

ڈاکٹر سیف الاسلام نے نہایت سادہ اور مؤثر انداز میں وقت کی اہمیت اور مسلسل جدوجہد کے موضوع پر خطاب کیا۔

پروگرام کے عنوان “تذکیرِ کلمہ” کے تحت مولانا شمس پرویز قاسمی نے “لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ” کا اجتماعی ذکر کرایا اور حاضرین کے قلوب کو تازہ کرنے اور ایمان کو جِلا بخشنے کی کوشش کی۔

فیڈبیک سیشن میں ماسٹر محمد زاہد نے اس پروگرام کو بے حد مفید قرار دیتے ہوئے اس کے تسلسل کی ضرورت پر زور دیا۔
ڈاکٹر نسیم صاحب نے اس بات کی طرف توجہ دلائی کہ ہمیں صرف مساجد تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ ان افراد تک بھی پہنچنا ہوگا جو دینی اداروں سے دور ہیں، اس لیے ایسے پروگراموں کا دائرہ اسکولوں اور کالجوں تک بڑھانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

پروگرام کا آغاز بعد نماز مغرب شام 7:30 بجے ہوا اور رات 9:20 بجے مولانا محمد یاسین جہازی کی دعاخوانی پر اختتام پذیر ہوا۔ تلاوتِ قرآن کریم ایک مقامی حافظ صاحب نے پیش کی، جبکہ ہدیۂ نعت مولانا محمد شمیم صاحب (مہتمم مدرسہ خیر الاسلام کریانہ) نے پیش کیا، جنہوں نے اپنے اشعار سے سامعین کے دلوں کو گرما دیا۔

اس موقع پر بھاگلپور سے مولانا سجاد ندوی، کریانہ سے مولانا شمیم صاحب اور کیتھ پورا سے مولانا شمس پرویز قاسمی سمیت مختلف علاقوں کے علماء نے شرکت کی۔
عشائیہ ضیافت کا اہتمام اور بستی کے مشہور ڈاکٹر نسیم صاحب نے کیا۔
اس پروگرام کی ایک خاص خصوصیت یہ بھی رہی کہ اس میں پردے کے اہتمام کے ساتھ خواتین کی بھی ایک تعداد نے شرکت کی۔
واضح رہے کہ 24 مئی 2026 کو منعقدہ اجلاس مجلس منتظمہ جمیعت علماء بسنترائے کے فیصلے کے تحت “گاؤں گاؤں بیداری پروگرام” کا سلسلہ جاری ہے۔ بلاک کی 83 بستیوں میں سے 55 مسلم بستیوں میں یہ تیسرا پروگرام تھا۔ اس سے قبل پہلا پروگرام کیتھ پورا اور دوسرا جھپنیاں میں منعقد ہو چکا ہے، جبکہ آئندہ پروگرام 31 مئی 2026 کو لوچنی اور یکم جون 2026 کو جامع مسجد جہاز میں منعقد ہوگا، ان شاء اللہ۔

(رپورٹ: نمائندہ جہازی میڈیا)

بسنترائے بلاک (ضلع گڈا، جھارکھنڈ) کی سرحدی بستی پچوا قطعہ، جو گیروا ندی کے قریب واقع ہے، میں “گاؤں گاؤں بیداری پروگرام” کے تحت ایک نہایت اہم اور فکر انگیز نشست منعقد ہوئی، جس میں مقامی مسلمانوں نے اپنے ایمان، عقائد اور تعلیمی و سماجی حالات کا سنجیدہ جائزہ لیا۔

اس موقع پر مولانا محمد یاسین جہازی قاسمی نے بستی کا تفصیلی ڈیٹا پیش کرتے ہوئے ایک چونکا دینے والی حقیقت سامنے رکھی۔ انہوں نے بتایا کہ پچوا قطعہ کی مسلم آبادی تقریباً ایک ہزار نفوس پر مشتمل ہے، مگر دینی وابستگی کے عملی آثار نہایت محدود ہیں۔ بستی میں صرف ایک مکتب موجود ہے، جس میں تقریباً 75 بچے زیر تعلیم ہیں، جبکہ دو مساجد میں نماز ادا کرنے والوں کی اوسط تعداد تقریباً 100 فی مسجد کے حساب سے قریب 200 افراد بنتی ہے۔ اس طرح مکتب اور مساجد سے وابستہ افراد کی مجموعی تعداد تقریباً 300 تک پہنچتی ہے، جو کل آبادی کے مقابلے میں نہایت کم ہے۔

اس تجزیے سے واضح ہوتا ہے کہ ایک ہزار مسلمانوں میں سے صرف تقریباً 300 افراد ہی ایسے ہیں جو براہِ راست مسجد اور دینی اعمال سے جڑے ہوئے ہیں، جبکہ باقی تقریباً 700 افراد مسجد، مکتب، مدرسہ اور دعوتی سرگرمیوں سے عملاً دور ہیں۔ یہ صورتحال اس بات کی غماز ہے کہ بستی کی ایک بڑی اکثریت اپنے ایمان و عقیدہ کے تقاضوں سے غفلت کا شکار ہے، جو نہایت تشویشناک امر ہے۔

انہوں نے تعلیمی صورتحال پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ بستی کے نوجوان نہ دینی تعلیم سے آشنا ہیں اور نہ ہی عصری تعلیم سے۔ معاشی مجبوریوں کے باعث وہ پردیشوں میں مزدوری کرنے پر مجبور ہیں، جس کے نتیجے میں وہ نہ صرف اپنے بنیادی عقائد کی صحیح معلومات سے محروم رہتے ہیں بلکہ سیاسی شعور سے بھی کوسوں دور ہو جاتے ہیں۔

مولانا جہازی نے اپنے خطاب میں نہایت فکر انگیز انداز میں کہا کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو وہ وقت دور نہیں جب مسلمان اپنی دینی شناخت کے ساتھ ساتھ سیاسی وقار بھی کھو بیٹھیں گے۔ انہوں نے اس موقع کو “کرو یا مرو” کا مرحلہ قرار دیتے ہوئے زور دیا کہ اگر مسلمان اپنے ایمان و عقیدہ کے تحفظ کے لیے سنجیدگی سے کھڑے ہوں گے تو اللہ تعالیٰ کی مدد شامل حال ہوگی، ورنہ زوال یقینی ہوگا۔

اس کے بعد مفتی محمد نظام الدین قاسمی (صدر، جمیعت علماء بسنترائے) نے “ریل سے ریل تک” کے عنوان سے ایک بصیرت افروز پریزنٹیشن پیش کی، جس میں نوجوانوں کو وقت کی قدر، مقصدِ حیات کے تعین اور مسلسل جدوجہد کی اہمیت سے آگاہ کیا۔

اسی تسلسل میں مفتی محمد سرور صاحب نے نہایت جامع اور مدلل انداز میں ایک مسلمان کے سات بنیادی عقائد پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایمان کی بنیاد صرف زبانی اقرار نہیں بلکہ ان بنیادی عقائد—اللہ تعالیٰ پر ایمان، فرشتوں پر ایمان، آسمانی کتابوں پر ایمان، انبیاء علیہم السلام پر ایمان، یومِ آخرت پر ایمان اور تقدیر (اچھے اور برے دونوں پہلوؤں) پر ایمان—کو صحیح طور پر سمجھنا اور اپنی عملی زندگی میں اس کا اثر ظاہر کرنا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ جب تک یہ عقائد مضبوط نہیں ہوں گے، نہ عبادت میں روح پیدا ہوگی اور نہ ہی معاشرتی اصلاح ممکن ہوگی۔

ڈاکٹر سیف الاسلام نے نہایت سادہ اور مؤثر انداز میں وقت کی اہمیت اور مسلسل جدوجہد کے موضوع پر خطاب کیا۔

پروگرام کے عنوان “تذکیرِ کلمہ” کے تحت مولانا شمس پرویز قاسمی نے “لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ” کا اجتماعی ذکر کرایا اور حاضرین کے قلوب کو تازہ کرنے اور ایمان کو جِلا بخشنے کی کوشش کی۔

فیڈبیک سیشن میں ماسٹر محمد زاہد نے اس پروگرام کو بے حد مفید قرار دیتے ہوئے اس کے تسلسل کی ضرورت پر زور دیا۔ ڈاکٹر نسیم صاحب نے اس بات کی طرف توجہ دلائی کہ ہمیں صرف مساجد تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ ان افراد تک بھی پہنچنا ہوگا جو دینی اداروں سے دور ہیں، اس لیے ایسے پروگراموں کا دائرہ اسکولوں اور کالجوں تک بڑھانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

پروگرام کا آغاز بعد نماز مغرب شام 7:30 بجے ہوا اور رات 9:20 بجے مولانا محمد یاسین جہازی کی دعا پر اختتام پذیر ہوا۔ تلاوتِ قرآن کریم ایک مقامی حافظ صاحب نے پیش کی، جبکہ ہدیۂ نعت مولانا محمد شمیم صاحب (مہتمم مدرسہ خیر الاسلام کریانہ) نے پیش کیا، جنہوں نے اپنے اشعار سے سامعین کے دلوں کو گرما دیا۔

اس موقع پر بھاگلپور سے مولانا سجاد ندوی، کریانہ سے مولانا شمیم صاحب اور کیتھ پورا سے مولانا شمس پرویز قاسمی سمیت مختلف علاقوں کے علماء نے شرکت کی۔

واضح رہے کہ 24 مئی 2026 کو منعقدہ اجلاس مجلس منتظمہ جمیعت علماء بسنترائے کے فیصلے کے تحت “گاؤں گاؤں بیداری پروگرام” کا سلسلہ جاری ہے۔ بلاک کی 83 بستیوں میں سے 55 مسلم بستیوں میں یہ تیسرا پروگرام تھا۔ اس سے قبل پہلا پروگرام کیتھ پورا اور دوسرا جھپنیاں میں منعقد ہو چکا ہے، جبکہ آئندہ پروگرام 31 مئی 2026 کو لوچنی اور یکم جون 2026 کو جامع مسجد جہاز میں منعقد ہوگا، ان شاء اللہ۔

(رپورٹ: نمائندہ جہازی میڈیا)

Admin

Admin

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

منتخب کردہ

لڑکی ہے تو گلا کاٹ دیں کیا

لڑکی ہے تو گلا کاٹ دیں کیا

8 مہینے ago
مولانا حکیم الدین صاحب قاسمی

مولانا حکیم الدین صاحب قاسمی

4 مہینے ago

مقبول

  • پچوا قطعہ میں ایمان و شعور کا محاسبہ — “گاؤں گاؤں بیداری پروگرام” کا مؤثر پیغام

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • سیرتِ نبویؐ سے عملی وابستگی کی اپیل

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • قربانی تقریبا 4300سال پرانی عبادت ہے۔جہاز قطعہ گڈا، جھارکھنڈ میں عید الاضحیٰ کا — دل کش منظر۔

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • گوشت خوری اور مختلف مذاهب كی تعلیمات!

    0 shares
    Share 0 Tweet 0
  • جھپنیاں بستی میں گاؤں گاؤں بیداری پروگرام کا دوسرا پروگرام منعقد

    0 shares
    Share 0 Tweet 0

ہم سے جڑیے

ہمارا خبری نامہ حاصل کریں

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetuer adipiscing elit. Aenean commodo ligula eget dolor.
SUBSCRIBE

زمرہ جات

اہم روابط

  • لاگ ان کریں
  • Entries feed
  • Comments feed
  • WordPress.org

ہمارے بارے میں

جہازی میڈیا باشعور افراد کی ایک ایسی تحریک ہے، جو ملت اسلامیہ کی نشاۃ ثانیہ کے لیے اپنی فکری و عملی خدمات پیش کرنے کے لیے عہدبند ہوتے ہیں۔ اس لیے ہر وہ شخص اس تحریک کا ممبر بن سکتا ہے، جو اس نظریہ و مقصد سے اتفاق رکھتا ہے۔

  • ہمارے بارے میں
  • قوائد و ضوابط
  • کاپی رائٹس
  • پرائیویسی پالیسی
  • رابطہ

© 2025 Jahazi Media Designed by Mehmood Khan 9720936030.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • ہوم
  • اسلامیات
  • جمعیۃ علماء ہند
  • زبان و ادب
  • قومی و بین الاقوامی
  • اہم خبریں
    • دہلی
    • اتر پردیش
    • کرناٹک
    • مہاراشٹر
  • غزل
  • مضامین
    • مولانا خالد سیف الله رحمانی
    • محمد نظام الدین قاسمی
    • سرفرازاحمدقاسمی
    • دیگر مضامین
  • ترجمہ و تفسیر قرآن

© 2025 Jahazi Media Designed by Mehmood Khan 9720936030.