بتاریخ: 30 مئی 2026
پچوا قطعہ میں ایمان و شعور کا محاسبہ — “گاؤں گاؤں بیداری پروگرام” کا مؤثر پیغام
بتاریخ: 30 مئی 2026
بسنترائے بلاک (ضلع گڈا، جھارکھنڈ) کی سرحدی بستی پچوا قطعہ، جو گیروا ندی کے قریب واقع ہے، میں “گاؤں گاؤں بیداری پروگرام” کے تحت ایک نہایت اہم اور فکر انگیز نشست منعقد ہوئی، جس میں مقامی مسلمانوں نے اپنے ایمان، عقائد اور تعلیمی و سماجی حالات کا سنجیدہ جائزہ لیا۔
اس موقع پر مولانا محمد یاسین جہازی قاسمی نے بستی کا تفصیلی ڈیٹا پیش کرتے ہوئے ایک چونکا دینے والی حقیقت سامنے رکھی۔ انہوں نے بتایا کہ پچوا قطعہ کی مسلم آبادی تقریباً ایک ہزار نفوس پر مشتمل ہے، مگر دینی وابستگی کے عملی آثار نہایت محدود ہیں۔ بستی میں صرف ایک مکتب موجود ہے، جس میں تقریباً 75 بچے زیر تعلیم ہیں، جبکہ دو مساجد میں نماز ادا کرنے والوں کی اوسط تعداد تقریباً 100 فی مسجد کے حساب سے قریب 200 افراد بنتی ہے۔ اس طرح مکتب اور مساجد سے وابستہ افراد کی مجموعی تعداد تقریباً 300 تک پہنچتی ہے، جو کل آبادی کے مقابلے میں نہایت کم ہے۔
اس تجزیے سے واضح ہوتا ہے کہ ایک ہزار مسلمانوں میں سے صرف تقریباً 300 افراد ہی ایسے ہیں جو براہِ راست مسجد اور دینی اعمال سے جڑے ہوئے ہیں، جبکہ باقی تقریباً 700 افراد مسجد، مکتب، مدرسہ اور دعوتی سرگرمیوں سے عملاً دور ہیں۔ یہ صورتحال اس بات کی غماز ہے کہ بستی کی ایک بڑی اکثریت اپنے ایمان و عقیدہ کے تقاضوں سے غفلت کا شکار ہے، جو نہایت تشویشناک امر ہے۔
انہوں نے تعلیمی صورتحال پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ بستی کے نوجوان نہ دینی تعلیم سے آشنا ہیں اور نہ ہی عصری تعلیم سے۔ معاشی مجبوریوں کے باعث وہ پردیشوں میں مزدوری کرنے پر مجبور ہیں، جس کے نتیجے میں وہ نہ صرف اپنے بنیادی عقائد کی صحیح معلومات سے محروم رہتے ہیں بلکہ سیاسی شعور سے بھی کوسوں دور ہو جاتے ہیں۔
مولانا جہازی نے اپنے خطاب میں نہایت فکر انگیز انداز میں کہا کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو وہ وقت دور نہیں جب مسلمان اپنی دینی شناخت کے ساتھ ساتھ سیاسی وقار بھی کھو بیٹھیں گے۔ انہوں نے اس موقع کو “کرو یا مرو” کا مرحلہ قرار دیتے ہوئے زور دیا کہ اگر مسلمان اپنے ایمان و عقیدہ کے تحفظ کے لیے سنجیدگی سے کھڑے ہوں گے تو اللہ تعالیٰ کی مدد شامل حال ہوگی، ورنہ زوال یقینی ہوگا۔
اس کے بعد مفتی محمد نظام الدین قاسمی (صدر، جمیعت علماء بسنترائے) نے “ریل سے ریل تک” کے عنوان سے ایک بصیرت افروز پریزنٹیشن پیش کی، جس میں نوجوانوں کو وقت کی قدر، مقصدِ حیات کے تعین اور مسلسل جدوجہد کی اہمیت سے آگاہ کیا۔
اسی تسلسل میں مفتی محمد سرور صاحب نے نہایت جامع اور مدلل انداز میں ایک مسلمان کے سات بنیادی عقائد پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایمان کی بنیاد صرف زبانی اقرار نہیں بلکہ ان بنیادی عقائد—اللہ تعالیٰ پر ایمان، فرشتوں پر ایمان، آسمانی کتابوں پر ایمان، انبیاء علیہم السلام پر ایمان، یومِ آخرت پر ایمان اور تقدیر (اچھے اور برے دونوں پہلوؤں) پر ایمان—کو صحیح طور پر سمجھنا اور اپنی عملی زندگی میں اس کا اثر ظاہر کرنا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ جب تک یہ عقائد مضبوط نہیں ہوں گے، نہ عبادت میں روح پیدا ہوگی اور نہ ہی معاشرتی اصلاح ممکن ہوگی۔
ڈاکٹر سیف الاسلام نے نہایت سادہ اور مؤثر انداز میں وقت کی اہمیت اور مسلسل جدوجہد کے موضوع پر خطاب کیا۔
پروگرام کے عنوان “تذکیرِ کلمہ” کے تحت مولانا شمس پرویز قاسمی نے “لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ” کا اجتماعی ذکر کرایا اور حاضرین کے قلوب کو تازہ کرنے اور ایمان کو جِلا بخشنے کی کوشش کی۔
فیڈبیک سیشن میں ماسٹر محمد زاہد نے اس پروگرام کو بے حد مفید قرار دیتے ہوئے اس کے تسلسل کی ضرورت پر زور دیا۔
ڈاکٹر نسیم صاحب نے اس بات کی طرف توجہ دلائی کہ ہمیں صرف مساجد تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ ان افراد تک بھی پہنچنا ہوگا جو دینی اداروں سے دور ہیں، اس لیے ایسے پروگراموں کا دائرہ اسکولوں اور کالجوں تک بڑھانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
پروگرام کا آغاز بعد نماز مغرب شام 7:30 بجے ہوا اور رات 9:20 بجے مولانا محمد یاسین جہازی کی دعاخوانی پر اختتام پذیر ہوا۔ تلاوتِ قرآن کریم ایک مقامی حافظ صاحب نے پیش کی، جبکہ ہدیۂ نعت مولانا محمد شمیم صاحب (مہتمم مدرسہ خیر الاسلام کریانہ) نے پیش کیا، جنہوں نے اپنے اشعار سے سامعین کے دلوں کو گرما دیا۔
اس موقع پر بھاگلپور سے مولانا سجاد ندوی، کریانہ سے مولانا شمیم صاحب اور کیتھ پورا سے مولانا شمس پرویز قاسمی سمیت مختلف علاقوں کے علماء نے شرکت کی۔
عشائیہ ضیافت کا اہتمام اور بستی کے مشہور ڈاکٹر نسیم صاحب نے کیا۔
اس پروگرام کی ایک خاص خصوصیت یہ بھی رہی کہ اس میں پردے کے اہتمام کے ساتھ خواتین کی بھی ایک تعداد نے شرکت کی۔
واضح رہے کہ 24 مئی 2026 کو منعقدہ اجلاس مجلس منتظمہ جمیعت علماء بسنترائے کے فیصلے کے تحت “گاؤں گاؤں بیداری پروگرام” کا سلسلہ جاری ہے۔ بلاک کی 83 بستیوں میں سے 55 مسلم بستیوں میں یہ تیسرا پروگرام تھا۔ اس سے قبل پہلا پروگرام کیتھ پورا اور دوسرا جھپنیاں میں منعقد ہو چکا ہے، جبکہ آئندہ پروگرام 31 مئی 2026 کو لوچنی اور یکم جون 2026 کو جامع مسجد جہاز میں منعقد ہوگا، ان شاء اللہ۔
(رپورٹ: نمائندہ جہازی میڈیا)
بسنترائے بلاک (ضلع گڈا، جھارکھنڈ) کی سرحدی بستی پچوا قطعہ، جو گیروا ندی کے قریب واقع ہے، میں “گاؤں گاؤں بیداری پروگرام” کے تحت ایک نہایت اہم اور فکر انگیز نشست منعقد ہوئی، جس میں مقامی مسلمانوں نے اپنے ایمان، عقائد اور تعلیمی و سماجی حالات کا سنجیدہ جائزہ لیا۔
اس موقع پر مولانا محمد یاسین جہازی قاسمی نے بستی کا تفصیلی ڈیٹا پیش کرتے ہوئے ایک چونکا دینے والی حقیقت سامنے رکھی۔ انہوں نے بتایا کہ پچوا قطعہ کی مسلم آبادی تقریباً ایک ہزار نفوس پر مشتمل ہے، مگر دینی وابستگی کے عملی آثار نہایت محدود ہیں۔ بستی میں صرف ایک مکتب موجود ہے، جس میں تقریباً 75 بچے زیر تعلیم ہیں، جبکہ دو مساجد میں نماز ادا کرنے والوں کی اوسط تعداد تقریباً 100 فی مسجد کے حساب سے قریب 200 افراد بنتی ہے۔ اس طرح مکتب اور مساجد سے وابستہ افراد کی مجموعی تعداد تقریباً 300 تک پہنچتی ہے، جو کل آبادی کے مقابلے میں نہایت کم ہے۔
اس تجزیے سے واضح ہوتا ہے کہ ایک ہزار مسلمانوں میں سے صرف تقریباً 300 افراد ہی ایسے ہیں جو براہِ راست مسجد اور دینی اعمال سے جڑے ہوئے ہیں، جبکہ باقی تقریباً 700 افراد مسجد، مکتب، مدرسہ اور دعوتی سرگرمیوں سے عملاً دور ہیں۔ یہ صورتحال اس بات کی غماز ہے کہ بستی کی ایک بڑی اکثریت اپنے ایمان و عقیدہ کے تقاضوں سے غفلت کا شکار ہے، جو نہایت تشویشناک امر ہے۔
انہوں نے تعلیمی صورتحال پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ بستی کے نوجوان نہ دینی تعلیم سے آشنا ہیں اور نہ ہی عصری تعلیم سے۔ معاشی مجبوریوں کے باعث وہ پردیشوں میں مزدوری کرنے پر مجبور ہیں، جس کے نتیجے میں وہ نہ صرف اپنے بنیادی عقائد کی صحیح معلومات سے محروم رہتے ہیں بلکہ سیاسی شعور سے بھی کوسوں دور ہو جاتے ہیں۔
مولانا جہازی نے اپنے خطاب میں نہایت فکر انگیز انداز میں کہا کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو وہ وقت دور نہیں جب مسلمان اپنی دینی شناخت کے ساتھ ساتھ سیاسی وقار بھی کھو بیٹھیں گے۔ انہوں نے اس موقع کو “کرو یا مرو” کا مرحلہ قرار دیتے ہوئے زور دیا کہ اگر مسلمان اپنے ایمان و عقیدہ کے تحفظ کے لیے سنجیدگی سے کھڑے ہوں گے تو اللہ تعالیٰ کی مدد شامل حال ہوگی، ورنہ زوال یقینی ہوگا۔
اس کے بعد مفتی محمد نظام الدین قاسمی (صدر، جمیعت علماء بسنترائے) نے “ریل سے ریل تک” کے عنوان سے ایک بصیرت افروز پریزنٹیشن پیش کی، جس میں نوجوانوں کو وقت کی قدر، مقصدِ حیات کے تعین اور مسلسل جدوجہد کی اہمیت سے آگاہ کیا۔
اسی تسلسل میں مفتی محمد سرور صاحب نے نہایت جامع اور مدلل انداز میں ایک مسلمان کے سات بنیادی عقائد پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایمان کی بنیاد صرف زبانی اقرار نہیں بلکہ ان بنیادی عقائد—اللہ تعالیٰ پر ایمان، فرشتوں پر ایمان، آسمانی کتابوں پر ایمان، انبیاء علیہم السلام پر ایمان، یومِ آخرت پر ایمان اور تقدیر (اچھے اور برے دونوں پہلوؤں) پر ایمان—کو صحیح طور پر سمجھنا اور اپنی عملی زندگی میں اس کا اثر ظاہر کرنا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ جب تک یہ عقائد مضبوط نہیں ہوں گے، نہ عبادت میں روح پیدا ہوگی اور نہ ہی معاشرتی اصلاح ممکن ہوگی۔
ڈاکٹر سیف الاسلام نے نہایت سادہ اور مؤثر انداز میں وقت کی اہمیت اور مسلسل جدوجہد کے موضوع پر خطاب کیا۔
پروگرام کے عنوان “تذکیرِ کلمہ” کے تحت مولانا شمس پرویز قاسمی نے “لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ” کا اجتماعی ذکر کرایا اور حاضرین کے قلوب کو تازہ کرنے اور ایمان کو جِلا بخشنے کی کوشش کی۔
فیڈبیک سیشن میں ماسٹر محمد زاہد نے اس پروگرام کو بے حد مفید قرار دیتے ہوئے اس کے تسلسل کی ضرورت پر زور دیا۔ ڈاکٹر نسیم صاحب نے اس بات کی طرف توجہ دلائی کہ ہمیں صرف مساجد تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ ان افراد تک بھی پہنچنا ہوگا جو دینی اداروں سے دور ہیں، اس لیے ایسے پروگراموں کا دائرہ اسکولوں اور کالجوں تک بڑھانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
پروگرام کا آغاز بعد نماز مغرب شام 7:30 بجے ہوا اور رات 9:20 بجے مولانا محمد یاسین جہازی کی دعا پر اختتام پذیر ہوا۔ تلاوتِ قرآن کریم ایک مقامی حافظ صاحب نے پیش کی، جبکہ ہدیۂ نعت مولانا محمد شمیم صاحب (مہتمم مدرسہ خیر الاسلام کریانہ) نے پیش کیا، جنہوں نے اپنے اشعار سے سامعین کے دلوں کو گرما دیا۔
اس موقع پر بھاگلپور سے مولانا سجاد ندوی، کریانہ سے مولانا شمیم صاحب اور کیتھ پورا سے مولانا شمس پرویز قاسمی سمیت مختلف علاقوں کے علماء نے شرکت کی۔
واضح رہے کہ 24 مئی 2026 کو منعقدہ اجلاس مجلس منتظمہ جمیعت علماء بسنترائے کے فیصلے کے تحت “گاؤں گاؤں بیداری پروگرام” کا سلسلہ جاری ہے۔ بلاک کی 83 بستیوں میں سے 55 مسلم بستیوں میں یہ تیسرا پروگرام تھا۔ اس سے قبل پہلا پروگرام کیتھ پورا اور دوسرا جھپنیاں میں منعقد ہو چکا ہے، جبکہ آئندہ پروگرام 31 مئی 2026 کو لوچنی اور یکم جون 2026 کو جامع مسجد جہاز میں منعقد ہوگا، ان شاء اللہ۔
(رپورٹ: نمائندہ جہازی میڈیا)




















